طلباء وطالبات چھٹیوں کو کیسے فائدہ مند بنائیں؟ — محمد ریحان

0
  • 91
    Shares

وقت اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے۔ گرمیوں کی چھٹیاں عام طور پر زیادہ تر طالبعلم سو کر اور ویڈیو گیمز کھیل کر گزارتے ہیں۔گر یجوایشن کرنے والے طالب علم کی زندگی میں تقریباً سولہ دفعہ چٹھیاں آتی ہیں۔ یعنی 48 ماہ (1440) دن۔ ہر گرمیوں کی چھٹیوں میں ایک سرگرمی /مہارت activity /skillکا انتخاب کریں۔مثال کے طو ر پر kg1,2 3 میں لکھائی بہتر کروائی جا سکتی ہے۔ یوٹیوب سے انگلش، اردو کی نظمیں یاد کروائ جا سکتی ہیں۔اردو، انگلش کا ذخیرہ الفاظ بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ بچوں کے متعلقہ نیشنل جیوگرافی چینل سے معلوماتی ویڈیوز دکھائی جا سکتی ہیں۔ مسلم کڈز چینل دکھایا جا سکتا ہے۔

گریڈ ون میں English Reading skill کی نشوونما کے لیے اوکسفرڈ ریڈنگ سرکل (ون) کا مطالعہ بہت سود مند ہو سکتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ مذکورہ بالا چیزوں سے بھی کمزور رہ جانے والی مہارت کی دہرائی کروائی جا سکتی ہے۔

گریڈ ٹو کے لیے اوکسفرڈ ریڈنگ سرکل( ٹو) کا مطالعہ کروائیں۔ کمپیوٹر سے واقف کروائیں ۔اسی طرح اردو کی بہتری کے لیے بچوں کو ماہنامہ نونہال، پھول، ساتھی، طفلی پڑھ کر سنائیں تاکہ اردو زبان و ادب لکھنے پڑھنے کا ذوق و شوق پیدا ہو۔بہتر ہو گھر کا ایک کونا بچوں کی چھوٹی سی لائبریری کے لیے مختص کر دیا جا ئے۔

گریڈ تھری کے لیے اردو، انگلش کی ریڈنگ کے لیے تین گھنٹے مختص کریں اور اس کے ساتھ لیپ ٹاپ پر ٹائپنگ گیمز کھلائیں۔ اگر بچہ کمپیوٹر میں زیادہ دلچسپی لے رہا ہے تو مائیکرو سافٹ وئیر کی بیسک سرٹیفیکیشن کروا دیں۔

گریڈ فور میں بھی اردو، انگلش کی ریڈنگ کے لیے تین گھنٹے مختص کریں۔ یہاں پیراکی سکھانے کا اہتمام کریں۔بڑے شہروں میں تو سوئمنگ پولز پر ماہر پیراک پیراکی سکھاتے ہیں۔ دیہاتوں میں پتہ نہیں کیوں اس کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ لڑکے بالے والدین سے چوری چھپے نہروں، راجباؤں پر نہانے جاتے ہیں۔ پیراکی سنت بھی ہے اور پوری زندگی کام آنے والی مہارت بھی۔

جماعت پنجم کے طلبا کو گرمیوں کی چھٹیوں میں انگلش گریمرکی بہتری اور، ذ خیرہ الفاظ بڑھانے کی بنیادی اور اچھی کتابیں / Grammar in use /vocabulary in use (ناشر کیمرج یونیورسٹی پریس) کا پہلا لیول پڑھائیں۔ یہ کتابیں اپنی مدد آپ کی اصول کے تحت لکھی گئ ہیں۔ اس لیے کسی ٹیوٹر کی ضرورت نہیں ہے۔ اردو کی بہتری کے لیے اردو ڈائجسٹ کا مطالعہ بہت سود مند رہے گا۔ اردو ڈکشنری (جیبی سائز) خرید کر دیں اور مختصر وقت میں معنی ڈھونڈنے کا طریقہ بھی سمجھائیں اور عملی مشق بھی کروائیں۔

جماعت ششم، ہفتم اور ہشتم کے طلبا کے لیے روزانہ دو سے تین گھنٹے اردو،انگلش کی سرگرمیوں کے علاوہ قرآن مجید کا دس، دس پاروں کا ترجمہ پڑھایا جاسکتا ہے۔ میری ذاتی رائے کا مطابق جدید انگلش میں لکھا ہوا ترجمہ اردو ترجمے کی نسبت زیادہ فائدہ مند رہے گا۔متبادل سرگرمیوں کے طور پر ایم ایس آفس میں ورڈ، ایکسل، پاور پوائنٹ کے کورسز بھی کروائے جا سکتے ہیں۔ یہ کورسز آن لائن مفت بھی دستیاب ہیں۔ جیسا کہ www.homeandlearn.uk.com وغیرہ پر۔

چھٹی ساتویں آٹھویں جماعت میں پڑھائ کے ساتھ ساتھ سیلف ڈیفنس کی تر بیت بھی عملی زندگی میں بہت کام آتی ہے۔ کراٹے، تیکووانڈو وغیرہ صحت کے ساتھ ساتھ کالج،یونیورسٹی میں کھیلوں کی بنیاد پر داخلہ لینے میں بہت کام آتے ہیں۔

نہم کلاس میں بورڈ کا امتحان ہونے کی وجہ سے زیادہ توجہ درسی کتابوں پر ہی دی جا نی چاہیے۔ تا ہم اردو، انگلش اخبار کا مطالعہ بہت ضروری ہے۔ کیونکہ امتحانی نقطہ نگاہ سے اسکی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ ایڈیٹر کے نام خط جب تک طلبا اصلی حالت میں نہیں پڑھیں گے وہ امتحان میں اپنا مافی الضمیر اچھی طرح بیان نہیں کر سکیں گے۔ حالات حاضرہ کا ضروری حد تک علم طلبا کے لیے اشد ضروری ہے۔ جماعت نہم کے بورڈ کے امتحان کے بعد طلبا کو بنیادی کو کنگ سکھائی جائے۔ وگرنہ ہوسٹل لائف میں بہت مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اسکے ساتھ دیگر بنیادی گھریلو مہارتیں سکھائی جائیں تا کہ بوقت اچھا خاوندبننے کے کام آسکیں۔

جماعت دہم کے سالانہ امتحان کے بعد طلبا کو ڈرائیونگ سکھائی جائے اور لرننگ لائسنس بھی بنوا کر دیا جا ئے۔جسمانی صحت کے لیے اگر آسانی سے ممکن ہو ہیلتھ کلب میں داخلہ کروائیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ طلبا کو کسی نہ کسی جسمانی سرگرمی میں ضرور مشغول رکھ جائے۔یہ انکی جسمانی اور جذباتی صحت کے لیے بہت ضروری ہے۔
عام طور پر طلبا اس عمر میں سگریٹ اور نوشی سے متعارف ہوتے ہیں اس لیے وضاحت کیساتھ دونوں کے نقصانات بارے آگاہ کیا جائے۔

گیارہویں جماعت کے امتحان کے بعد طلبا کو برٹش کونسل سے یا کسی مستند ادارے سے انگریزی بول چال کا کورس کرنا چاہیے۔دوسرا انتخاب IELTS بھی ہو سکتا ہے جوکہ دو سال تک کارآمد ہوتاہے اور اسکی بنیاد پر آپ اعلی تعلیم کے لیے بیرون ملک جا سکتے ہیں۔یہ کورس تقریباً تمام بڑے شہروں میں موجود ہے۔

بارہویں جماعت کے امتحان کے بعد طلبا کو عملی زندگی کی مہارتیں سیکھنی چاہیے۔ جیسا کہ پرسنیلٹی ڈویلپمینٹ کے شارٹ کورسز، ٹریننگ ورکشاپس میں ضرور شرکت کرنی چاہیے۔ اگر یہ سہولت آسانی سے دستیاب نہ ہو تو udemy سے آن لائن کورسز بھی کیے جا سکتے ہیں۔اس ویب سائٹ پر 55,000 کورسز موجود ہیں۔ زیادہ تر کورسز کی قیمت محض دس ڈالر ہے۔ کہیں بھی ،کسی بھی وقت ان کورسز کو پڑھا جا سکتا ہے۔ وقت اور عمر کی کوئی قید نہیں ہے۔

مغربی ممالک میں طلبا آٹھویں جماعت کے بعد عملی زندگی میں جزوی طور پر قدم رکھ دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں اس کا بہت فقدان ہے۔ ہمارے ملک کے حالات واقعات کے مطابق بارہویں جماعت کے بعد طلبا کو ضرور پارٹ ٹائم ملازمت کرنی چاہیے۔اپنے ذوق شوق کے مطابق کسی بھی ملازمت کا انتخاب کیا جا سکتا ہے۔لیکن بیرون ملک جانے والے طلبا کے لیے پیزا ہٹ، کے ایف سی، مکڈونلڈ وغیرہ کی ملازمت زیادہ سود مند رہتی ہے اور ان ممالک میں جا کر آسانی سے ملازمت مل جاتی ہے۔

تیرہویں اور چودہویں جما عت کے بعد بھی مزکورہ بالا مہارتوں کی بہتری کے لیے گزارا جائے۔ انٹرنیشنل ڈرائیونگ لائسنس حاصل کیا جائے تاکہ بیرون ملک کام آسکے۔

بین الاقوامی طور پر مانے ہوئے تحریکی مقررین کو باقاعدگی سے سنیں۔فائز حسن سیال، برائن ٹریسی، ووک بندرا وغیرہ سننے اور عمل کرنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ انکی کتابیں اور لیکچرز انسان میں نئ روح پھونک دیتے ہیں۔

وقت کی اہمیت کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ایک دفعہ ملی ہوئی زندگی کا ایک ایک لمحہ منظم انداز میں گزارنا بہت ضروری ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: