مولانا طارق جمیل: فیملی پلاننگ ایجنڈہ اور ساس سسر کی خدمت — نبیلہ کامرانی

0
  • 110
    Shares

تبلیغی جماعت سے میری پہلی ملاقات آٹھ برس کی عمر میں ہوئی۔ وہ سادگی کا زمانہ تھا، کسی کسی گھر میں ڈش انٹینا ہوا کرتا تھا باقی عام لوگ پی ٹی وی اور ایس ٹی این پے گزارا کیا کرتے تھے۔ ہمارا تعلق بھی عام لوگوں سے ہی تھا۔ رات دس بجے ایس ٹی این سے اُردو یا انگریزی فیچر فلم آیا کرتی تھی۔ ہم سارے گندے بچے فلم دیکھ رہے ہوتے تو کہیں سے ہمارے سب سے بڑے بھائی ہاتھ میں “فضائل اعمال” نامی تبلیغی نصاب کی کتاب لیے کمرے میں آتے، ٹی وی بند کیا جاتا اور ہماری “تعلیم” شروع ہو جاتی، دس منٹ کا درس پھر دعا کے بعد تعلیم اختتام پذیر ہو جاتی۔ بھائی صاحب ہمارے نزدیک ایک مہمان کی حیثیت رکھتے ان کے شب و روز دعوت تبلیغ کے لیے بٹے ہوئے تھے۔

بعد نماز عشاء تعلیم، عصر تا مغرب بیرونی گشت، ہر ہفتے وہ جمعرات کی رات مدنی مسجد میں گزارنے جاتے جسے شب جمعہ کہتے، ہر مہینہ میں ایک سہ روزہ، سالانہ چلہ ایک سال بعد چار مہینے کا اندرون ملک دورہ جس میں مختلف قصبوں اور دیہاتوں میں تشکیل ہوتی اس دوران علاقے کے لوگ مہمان جماعت کا اکرام کرتے اور یوں سارے ملک میں دعوت تبلیغ کے دورے، گویا کوئی چھ سات برس وہ گھر کے علاؤہ ہر جگہ موجود ہوتے۔ چار ماہ لگانے کے بعد بیرون ملک سات ماہ لگانے کی باری سے پہلے ہی ان پے شادی واجب ہو گئی۔ جونہی بھائی کی زندگی میں گلیمر آیا تو ہمارا تبلیغی جماعت سے تعلق ٹوٹ گیا۔

اس زمانے میں تبلیغی جماعت ٹی وی پہ آنے کے خلاف ہوا کرتی تھی۔ ایک روز ہمارے ایک محلے دار نے اپنے گھر کے ٹیلی ویژن کی اسکرین پر ہتھوڑے کی ضرب لگا کے ٹیلی ویژن جہنم واصل کیا۔ ایک عزیز نے پانی ڈال کے ٹیلی ویژن خراب کر دیا۔

چند برس قبل تبلیغی جماعت پہ ٹیلیویژن حلال ہوا، تو مولانا طارق جمیل صاحب کے بیان سننے کا موقع ملا۔ پی ٹی وی پے انکا پروگرام “روشنی کا سفر” پورے رمضان رات کے آٹھ بجے نشر ہوتا، جو اس سال بھی جاری ہے۔ میں نے تقریباً بیس پروگرام دیکھے اور بہت غور سے دل لگا کے انکی باتوں کو سنا۔ انکا بیان بے حساب علم اور ریسرچ پے مبنی ہوتا ہے جو دل پے اثر کرتا، دماغ میں اتر جاتا ہے۔ وہ پروگرام کسی سیٹ پر ریکارڈ نہیں ہوتا بلکہ مختلف قصبوں اور شہروں کی مساجد میں ریکارڈ کیا جاتا ہے۔۔

اس برس پروگرام روشنی کا سفر کے کچھ درس خیبر پختونخوا کے کسی دور افتادہ گاؤں کی مسجد میں دیےجانے والے بیان کی ریکارڈنگ تھے، جسے سننے کے لیے لوگ دور دور سے جمع ہوئے تھے۔ مسجد میں جگہ کی کمی کے باعث مسجد کے باہر بھی لوگ درختوں کے نیچے خشوع و خضوع سے بیان سننے میں مشغول۔ بیان گھومتے پھرتے خواتین کے حقوق پہ پہنچا اور مولانا صاحب نہایت ہی دوستانہ انداز میں درس سے نصیحت کی طرف گھوم گئے۔

مولانا صاحب نے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تم لوگ اپنی بیویوں سے گھر کے کام لیتے ہو، اور ان کو اپنے ماں باپ کی خدمت کے لئے مجبور کرتے ہو! او اللہ کے بندے تمہاری بیوی پے تمہارے ماں باپ اور خاندان کی خدمت فرض نہیں، اسے الگ گھر دو، آسانی دو، آسایش دو اور اگر نہیں کر سکتے تو جب تک تم یہ سب کرنے کے قابل نہیں ہو جاتے روزہ رکھو اور شاد ی مت کرو مت کرو مت کرو !!!!!
اس کے بعد مولانا صاحب نے رقت آمیز لہجے میں دعا کی اور درس کا اختتام آنسووں پہ ہوا۔

یہاں مولانا نے دو موضوعات چھیڑے۔ ایک تو بیوی کے حقوق اور دوسرا خاندانی منصوبہ بندی۔

بحثیت عمرانیات کے طالب علم میں نے بہت سے نظریات پڑھے جو آبادی کی روک تھام کے حوالے سے تھے۔ ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ اگر شادی دیر سے کی جائے تو بھی آبادی کے بڑھنے کی رفتار سست کی جا سکتی ہے، دوئم یہ کہ مشترکہ یا روایتی خاندانی نظام کو چھوڑ کے انفرادی خاندان تشکیل دیے جائیں تو بھی آبادی کے بڑھنے کی رفتار سست ہو سکتی ہے۔ گویا مولانا کی طرف سے دیر سے شادی کی تلقین بالواسطہ آبادی میں کمی کی تدبیر کے طور پہ سامنے آئی۔

اب آتے ہیں بہو کی طرف سے ساس سسر کی خدمت کے حوالے سے مولانا کی جانب سے پیش کئے گئے “اسلامی” نقطہ نظر اور حقوق نسواں کے اسلامی ماڈل کی طرف۔

گزشتہ سال رمضان ہی کی خصوصی نشریات میں ایک ٹی وی شو میں ایک خاتون نے سوال کیا کہ کیا بہو اور داماد پہ ساس سسر کی خدمت فرض ہے؟ وہاں موجود تمام مکاتب کے علماء کرام نے فرمایا کہ ساس اور سسر ماں باپ ہی ہوتے ہیں اور شوہر اور بیوی پے ایک دوسرے کے ماں باپ کی خدمت ویسے ہی فرض ہے جیسے اپنے ماں باپ کی۔

اب سوال یہ ہے کہ اگر فیملی پلاننگ اور انفرادی خاندانی نظام کو پھیلانا ہی تھا تو مذہب کو استعمال کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ محض ایجنڈے کو پھیلانے کے لیے روزہ رکھنے کی تلقین کیوں؟ اسلام میں تو جوان ہوتے ہی شادی کرنے کا حکم ہے، پھر آپ بھی کھل کے ایجنڈے کی بات کریں اور مرکز بہبود آبادی چلائیں۔

ویسے محترم طارق جمیل صاحب خراجِ تحسین کے مستحق ہیں کیونکہ یہی پیغام اگر کسی اور طریقے سے پہنچایا جاتا تو شاید کبھی بھی نہیں پہنچتا، نا ہی کوئی کان دھرتا، لیکن پاکستان کے کونے کونے میں اور پختونخوا کے ایک دور افتادہ گاؤں میں یہ پیغام مولانا صاحب کے درس کے ذریعہ سے بہتر نہیں پہنچ سکتا تھا۔ سوچنے کی بات ہے نا؟

یہ بھی ملاحظہ فرمائیے: تبلیغی جماعت کا اندرونی بحران اور اکابر کا لائحہ عمل : محمد اسرار مدنی

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: