فاٹا کا انضمام: عجلت، پر اچھا کام —- رئیس احمد صمدانی

0
  • 37
    Shares

نون لیگ کی حکومت اب جب کے آخری سانسیں لے رہی ہیں، اس کا اختتام 31 مئی کی شب رات بارہ بجے ہو جائے گا اور ملک میں عام انتخابات 2018ء کے لیے نگراں حکومت وجود میں آجائے گی۔ نون لیگ کی حکومت ایک سال سے بھنور میں پھنسی ہوئی ہے۔اقتدار کی تین باریاں لینے کی ہیٹرک تو کرلی پر دوسری جانب یہ بھی ریکارڈ بنایا کہ ان کو تینوں بار اقتدار سے نکالا گیا، تینوں مرتبہ اپنی مدد پوری نہ کر سکے۔ میاں صاحب کا یہ معاملہ سوچ و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ جامعات کی سطح پر علم سیاسیات، ماس کمیونی کیشن، بین الاقوامی تعلقات عامہ اور پاکستان اسٹڈیز کے طلبہ کے لیے یہ پی ایچ ڈی کی سطح کا تحقیقی موضوع ہے۔ اس موضوع پر تحقیق کی جاسکتی ہے۔ محقق غیر جانب رہتے ہوئے علمی و تحقیقی اعتبار سے صرف میاں نواز شریف کے اس عمل پر تحقیق کرے کہ آخر کونسی ایسی وجوہات ہیں کہ صرف میاں صاحب کو ہی تینوں مرتبہ اقتدار سے الگ کیا گیا۔ ایک بار ملک کے صدر نے نکال باہر کیا، دوسری مرتبہ فوج کے سربراہ نے حکومت سے بے دخل کیا اور تیسری مرتبہ سپریم کورٹ نے نا اہل قرار دیا۔ یقینا مستقبل کا محقق، کالم نگار، لکھاری اس موضوع پر ضرور قلم اٹھائے گا اور حقیقت لوگوں کے سامنے آئے گی۔ لیکن اس تحقیق کے لیے ضروری ہے کہ نواز شریف سیاست سے دستبردار ہوچکے ہیں۔سچ بولنے لگ جائیں۔ اس لیے کہ یہ راز انہی کے سینے میں ہیں کہ وہ ایسا کیا عمل کرتے رہے کہ اقتدار کے ایوان سے ان کی رخصی عمل میں آتی رہی۔ نون لیگ کی حکومت جو 2013ء کے انتخابات کے نتیجے میں معرض وجود میں آئی تھی، آخری سال پاناما لیکس پھر ڈان لیکسن کے نرغے میں آگئے، جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد سپریم کورٹ کی جانب سے میاں صاحب کو نا اہل قراردیا جانا حتیٰ کہ میاں صاحب کو اپنی پارٹی کی صدارت سے بھی بے دخل کر دیا گیا۔ سب کچھ ہونے کے باوجود نون لیگ کی حکومت قائم رہی، پارٹی صدارت اپنے بھائی کو دیدی اور وزیراعظم کے لیے قرعہ فعال شاہد خاقان عباسی کے نام نکلا۔ وہ وزیر اعظم بنے، لیکن انہوں نے اپنی مختصر مدت یہ کہتے ہوئے گزاری کہ ہمارے وزیر اعظم تو میاں نواز شریف ہی ہیں۔ عجیب سی بات معلوم ہوتی تھی لیکن وہ اور نون لیگ کے سارے درباریوں اور بقول چودھری نثار علی خان پیادوں کی ایک ہی زبان تھی اور ہے۔ اس وقت موضوع فاٹا کا انضمام ہے۔میاں صاحب کی سیاست، ان کے بیانیوں پر بہت کچھ لکھا اور مزید لکھا جائے گا۔

ملک کا قبائلی علاقہ ’فاٹا‘ برس ہا برس سے خصوصی اختیارات اور ایف سی آر کے تحت اس کا نظام چلایا جاتا رہا۔ فوجی حکومت اور جمہوری حکومتیں فاٹا کو الگ صوبہ بنانے یا اس علاقے کو خیبر پختونخواہ میں ضم کر نے کی باتیں تو کیا کرتی تھیں لیکن کسی حکومت نے بھی اس پر عمل نہیں کیا۔ جب بھی انتخابات ہوئے ہر سیاسی جماعت فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں انضمام کا مطالبہ اپنے منشور میں رکھا کرتے لیکن جو بھی اقتدار میں آیا ا س نے اس اہم مسئلہ کی جانب توجہ نہیں دی۔ نون لیگ کی تینوں بار کی حکومتوں میں فاٹا کے انضمام کی باتیں ہوتی رہیں لیکن اس پر عمل نہیں کیا گیا۔ اب جب نون لیگ کی حکومت سسک رہی ہے، آخری سانسیں لے رہی ہے، پارٹی کا شیرازہ بکھرتا ہوا نظر آرہا ہے۔ اس کے منتخب نمائندے دیگر پارٹیوں خاص طور پر تحریک انصاف میں شامل ہورہے ہیں، میاں نواز شریف عدالتوں کے چکر لگارہے ہیں، انہوں نے عدالتوں کے علاوہ دیگر اداروں کو بھی نہیں بخشا ان کے خلاف بھی عجیب عجیب قسم کے بیانات دے رہے ہیں، ان کے بیانیے نئے سے نئے انداز میں سامنے آرہے ہیں۔ نون لیگ پر مشکل وقت ہے۔ اس مشکل میں اضافہ دوسرے نہیں کر رہے بلکہ میاں صاحب اور ان کی بیٹی از خود اپنے آپ کو، پارٹی کو اور پارٹی کے وفاداروں کو مشکل میں ڈال رہے ہیں۔ اس وقت وہ ایسے کام کرنا چاہتے ہیں کہ جن سے انہیں لوگوں کی ہمدردیاں ملیں۔ جنوبی پنجاب کے منتخب نمائندوں نے نون لیگ کو خیر بات کہہ دیا ہے وہ تمام کے تمام تحریک انصاف میں شامل ہوچکے ہیں۔ ان کا مطالبہ بھی جنوبی پنجاب صوبے کا قیام ہے۔ تحریک انصاف نے ان کی دکھتی نس پر ہاتھ رکھتے ہوئے جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کا وعدہ کر لیا، فاٹا کے عوام کا عرصہ دراز سے یہ مطالبہ تھا کہ فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں ضم کیا جائے یا نیا صوبہ تشکیل دیا جائے۔ میاں صاحب کی حکومت انہیں لالی پاپ دے کر کام چلا رہی تھی۔ ان سے پہلے پیپلز پارٹی نے بھی یہی کچھ کیا۔

نون لیگ کی حکومت نے اپنے آخری دنوں میں فاٹا بل کو حتمی شکل دے کر پہلے کابینہ سے اس کی منطوری لی اور 24مئی2018ء کوقومی اسمبلی سے بل منظور کرالیا۔ قومی اسمبلی کا اجلاس جس میں فاٹا بل منطور ہوا عمران خان نے شرکت کی حالانکہ وہ سالوں سے قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں شرکت نہیں کر رہے تھے۔ کیونکہ اس سیاسی ایشو سے انتخابات میں فائدہ ہونا ہے۔ باوجود اس کے کہ موجودہ سیشن اسمبلی کا آخری سیشن ہے، منتخب نمائندوں کی دلچسپی کم ہی نہیں بلکہ ختم ہوچکی ہے۔ اس بل کو منظور کرانے میں نون لیگ، تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی اور اے این پی دلچسپی رکھتی تھیں۔ ایوان میں منظوری کے لیے 228 ووٹ درکار تھے، صرف ایک ووٹ زیادہ ملا، 229 ووٹ بل کی حمایت میں پڑے، ایک ووٹ مخالفت میں ڈالا گیا۔مولانا فضل الرحمٰن اسمبلی اجلاس میں موجود نہیں تھے، ان کی جماعت جے یو آئی، پختونخوا میپ، داور کنڈی اور فاٹا رکن نے مخالفت کی۔ محمود خان اچکزئی بھی اجلاس میں موجود نہیں تھے۔ اگلے ہی روز اجلت میں سینٹ میں بھی فاٹا کو مکمل طور پر صوبہ خیبر پختون خوا میں ضم کرنے کے 31ویں دستور (ترمیمی) بل 2018ء کی دوتہائی اکثریت سے منظوری دے دی گئی۔ آئینی ترمیم کو 71ووٹوں سے منظور کر کیا گیا پانچ سینیٹرز نے مخالفت میں ووٹ دیا، مولانا فضل الرحمٰن کی جماعت نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔ سینٹ میں اس آئینی ترمیم کو پاکستان مسلم لیگ (ن)، تحریک انصاف، پاکستان پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی، عوامی نیشنل پارٹی، فاٹا اراکین اور متحدہ قومی موومنٹ اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کی حمایت سے منظور کیا گیا۔ ترمیم کے تحت آئین سے فاٹا کے الفاظ نکال دیے گئے۔ اس آئینی ترمیم کے نتیجے میں کچھ مسائل بھی ہوں گے۔ کچھ کے مفاد پر ذد بھی پڑے گی۔ بلوچستان کے قبائلی علاقے بھی صوبہ بلوچستان میںشامل ہوجائیں گے۔ فاٹا کی 12نشستوں میں 6کی کمی کے ساتھ قومی اسمبلی کی نشستیں 342 سے کم ہوکر 336 رہ جائیگی۔ فاٹا کی 8 سینٹ نشستیں ختم ہوجائیگی جس پر سینٹ کی104 نشستیں کم ہوکر 96 رہ جائینگی۔ اسی طرح خیبر پختون خوا اسمبلی کی نشستیں 145ہوجائیں گی۔ خیبر پختون خوا سے قومی اسمبلی کی نشستوں کی تعداد میں 6کا اضافہ ہوگا اور وہ تعداد اب 45 ہو جائے گی۔ اسی طرح اس آئینی ترمیم سے فاٹا کو مراعات دی جارہی تھیں وہ بھی ختم ہوجائیں گی، ٹیکسوں کا استثنیٰ ختم ہوجائے گا، تمام طرح کے ٹیکسوں کا نفاذ عمل میں آجائے گا، انتظامی امور صوبے کے پا س ہوں گے۔ صدر اور گورنر کے خصو صی اختیارات ختم ہوجائیں گے، ایف سی آر کا بھی مکمل خاتمہ ہوجائے گا، جب این ایف سی ایوارڈ کے تحت فاٹا کو 24 کھرب روپے کے ساتھ سالانہ سوا ارب روپے اضافی ملیں گے اور دس سال کے لیے ایک ہزار ارب (10 کھرب) روپے کا خصوصی فنڈ ملے گا جو کسی اور جگہ استعمال نہیں ہوگا۔

ترمیمی بل میں سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کا دائرہ اختیار فاٹا تک بڑھا دیا جائے گا۔ جب کہ فاٹا اور پاٹا کو پانچ سال تک ٹیکس استثنا دیا جائے گا۔ بڑ ے مقصد کے حصول کے بعد کچھ تو فاٹا کو دینا ہی ہوگا۔ اب اگر اس مسئلہ کو بنیاد بنا کر مالاکنڈ یا کوئی اور احتجاج کرتا ہے یا تحریک چلانے کی بات کرتا ہے تو وہ سراسر زیادتی ہوگی۔ فاٹا کو صوبہ بنایا جاتا یا اسے خیبر پختونخواہ میں ضم کردیا جاتا، ان دونوں میں سے ایک پر عمل ضروری معلوم ہوتا ہے۔ فاٹا کے عوام کی طویل جدوجہد کے نتیجے میں فاٹا قانونی طور پر خیبر پختونخواہ کا حصہ بن گیا۔ فاٹا کے اراکین جو منتخب ایوان میں اپنی الگ پہچان رکھتے تھے وہ اب نہیں رہے گی، فاٹا کے خیبر پختونخواہ میں انضمام کو فاٹا صوبہ کی جانب ابتدائی قدم قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس فیصلے سے فاٹا کے عوام کی وہ حیثیت تو ختم ہوئی اب وہ خیبر پختونخواہ کا حصہ ہوں گے اور مستقبل میں ضرورت محسوس ہوئی تو اسے صوبہ بھی بنایا جاسکتا ہے۔ فاٹا کا خیبر پختون خوا میں انضمام اس قدر طویل عرصہ تک کس وجہ سے التوا میں پڑا رہا سمجھ سے باہر ہے۔ نظر یہی آتا ہے کہ بر سراقتدار حکومت اگر چاہیے تو اجلت میں بھی بڑے بڑے کام کر سکتی ہے اور اگر کام نہ کرنا ہوتا اس کے بے شمار جوازپیش کردیے جاتے ہیں۔ فاٹا رقبے کے اعتبار سے 27 ہزار مربع میل پر مشتمل ہے اس کی آباد 40 لاکھ افراد پر مشتمل بتائی جاتی ہے۔ یہ علاقہ اتنے طویل عرصے تک کیسے حکومت، وفاق اور عدلیہ کے اختیارات سے باہر رہا اور براہ راست صدارتی حکم تحت اس کا نظام چلا یا جاتا رہا۔ وقت کے ساتھ ساتھ آبادی بڑھ رہی ہے، وسائل محدود ہیں، مسائل میں اضافہ ہورہا ہے، انتظامی دشواریاں بھی بڑھ رہی ہیں۔ انتظامی ماہرین اور سیاسی ماہرین کی رائے ہے کہ معاملات کو سینٹرلائز طریقہ کار سے چلانے کے بجائے ڈی سینٹرالائز کردیا جائے تاکہ انتظامی امور بہتر طور پر ادا کیے جاسکے۔

مستقبل میں جنوبی پنجاب الگ صوبہ بن سکتاہے، ہزارہ صوبہ کی آواز بہت زمانے سے چلی آرہی ہے اسی طرح سندھ میں بھی انتظامی اعتبار سے صوبہ بنانے کی بات عرصہ دراز سے چل رہی ہے۔ پورا ملک پاکستانی عوام کا ہے، سب پاکستانی ہیں، زبانیں الگ الگ بولتے ہیں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس مسئلہ کو سیاست دانوں نے جذباتی بنادیا ہے۔ اس مسئلہ کو جذبات سے نہیں بلکہ عقل و سمجھ سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ سندھ ‘ سندھ میں رہنے والوں کو ہے، اس کی حیثیت کسی صورت ختم نہیں ہوسکتی۔ انتظامی اعتبار سے، نام کچھ بھی دیا جاسکتا ہے، آج جتنے اضلاع ہیں پہلے نہیں تھے ضرورت ہوئی تو نئے اضلاع بنائے گئے، اسی طرح بہتر انتظام کے لیے کچھ نا کچھ کرنا پڑے گا۔ دنیا بہتری کی جانب جارہی ہے۔ملک و عوام کی بہتری کے لیے جو ممکنا اقدامات ہوسکتے ہیں انہیں کرنا ضروری ہے۔ ہمارے ہاں عجب روایت ہے کہ جب صو بہ کی بات آتی ہے جذبات غالب آجاتے ہیں، صوبہ نہ ہوا موت و زندگی ہوگئی۔ دنیا کے بعض ممالک، ان کی آبادی اور صوبوں کی تعداد کا تقابلی جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ایران 8 کروڑ آبادی والا ملک ہے یہاں 31صوبے ہیں، ترکی 8 کروڑ آبادی81 صوبے ہیں، ملائیشیا 3 کروڑ آبادی والا ملک ہے اس میں 24صوبے ہیں،جاپان 13کروڑ آبادی والا ملک ہے یہاں47 صوبے ہیں جب کہ پاکستان کی آبادی 18کروڑ سے زیادہ ہے اور4صوبے ہی ہیں۔ 70 سال میں آبادی، عوام کی ضروریات کہاں سے کہاں پہنچ چکیں لیکن ہم اسی قدیم نظام کے تحت اپنے ملک کو چلارہے ہیں۔ مختصر یہ کہ فاٹا کا خیبر پختون خوا میں ضم ہونا ایک اچھا قدم ہے گو یہ عجلت میں کیا گیا ہے، سیاسی مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ سیاست اسی کا نام ٹہرا۔ اس وقت تمام جماعتیں ایک دوسرے پر گولا باری کررہی ہیں۔ لیکن اس اہم قومی مسئلہ پر ایک ہوگئیں سوائے مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے۔ یہ دانش مندی ہے، ملک و قوم کے مفاد میں اپنے ذاتی اختلافات کو بالائے طاق رکھنا عقل مندی تھی جس کا عملی مظاہرہ ہماری سیاسی جماعتوں نے کیا اورفاٹا کے انضمام میں سب ایک نظر آئے۔ اللہ کرے ہمارے یہ سیاسی پنڈت دیگر اہم امور پر بھی ایک دوسرے کے ساتھ اسی طرح تعاون کریں۔ اسی میں ملک و قوم کی بھلائی ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: