پاکستان میں ’’ہیش ٹیگ می ٹو‘‘ اور جنسی ہراسگی کی نفسیات — خرم سہیل

0
  • 68
    Shares

گزشتہ برس امریکا کے معروف اخبار ’’نیو یارک ٹائمز‘‘ کی دو خواتین صحافیوں ’’جوڈی کینٹور‘‘ اور’’میگن ٹوہے‘‘ کی مشترکہ تحقیق شایع ہونے کے بعد، مغرب میں ایک کہرام مچ گیا، یہ تحقیقی رپورٹ ہالی ووڈ کے معروف فلم ساز ’’ہاروی وائنسٹن‘‘ کے جنسی استحصال پر تھی، جس کا مظاہرہ اس نے اپنے فنی کیرئیر کے دوران کیا۔ اس کہرام کو ’’ہیش ٹیگ می ٹو‘‘ کا نام دیا گیا، پھر یہ تحریک پوری دنیا میں پھیل گئی، اس کے نتیجے میں جن ممالک میں خواتین نے اس کے حق یا مخالفت میں ردعمل دیا، ان میں پاکستان بھی شامل ہے۔

میں نے پچھلے سال اپنی لکھی ہوئی تحریر میں اس سارے تصفیے کو بہت تفصیل سے بیان کیا تھا، جس کو دوبارہ پڑھنے سے آپ اس معاملے کی باریکی سمجھ لیں گے، لیکن سب سے اہم بات، جس کی طرف اشارہ کیا تھا، وہ یہ تھی کہ پاکستان میں جہاں ہر معاملے میں مغرب کی تقلید کی جاتی ہے، وہاں شوبز کے حلقوں میں اتنی خاموشی کیوں ہے؟ اس سوال کا جواب ملنے میں تقریباً ایک برس لگ گیا، علی ظفر اور میشا شفیع کے حالیہ تنازعہ پر پاکستانی ثقافتی حلقوں کی نفسیات کھل کر سامنے آگئی ہے۔ پاکستان کے صحافتی حلقوں میں تو موجودہ سال اس پر بہت کچھ لکھا اور بولا گیا، میں اس تمام بحث میں جائے بغیر سیدھا نکتے کی بات پر آنا چاہوں گا۔

پاکستان میں ان مخصوص حلقے کی عورتوں کو نظر انداز کر دیا جائے، تو ایک عام عورت شاید ہی ہیش ٹیگ می ٹووالی چالاکیوں سے واقف ہوگی، وہ تواپنی بقا اور عزت کی خاطر بعض اوقات خاموشی بھی اختیار کر لیتی ہے، اس قدر ڈھٹائی سے واویلا کرنا اس کے بس کی بات نہیں ہے

گزشتہ ماہ، اپریل میں معروف گلوکار علی ظفر اور گلوکارہ میشا شفیع کا تنازعہ سامنے آیا، جس میں خاتون گلوکارہ نے اپنے ہم عصر مرد گلوکار پر جنسی ہراسگی کا الزام لگا رہی ہیں۔ اس بات میں تو کوئی دو رائے نہیں ہیں، اگر دنیا میں کہیں بھی کسی خاتون کے ساتھ حقیقی طور پر جنسی ہراسگی کا واقعہ ہو تو اس پر مجرم کو کڑی سے کڑی سزا ملنی چاہیے، لیکن یہ کیسے طے ہوگا کہ الزام میں صداقت کتنی ہے۔ اس کے لیے زمینی حقائق، الزام لگانے والے کا طرز زندگی، بودو باش اور دیگر پہلوئوں کا جائزہ لینا پڑے گا۔

مرد گلوکار علی ظفر دودھ کے دھلے نہیں ہیں، مگر خاتون گلوکارہ میشا شفیع کا فنی پس منظر بھی کافی ہوشربا ہے۔ یہ خاتون، جس نے فیشن کی دنیا سے اپنے فنی کیرئیر کی ابتدا کی، فیشن کی بے باک طرز زندگی اور کیرئیر میں ہر طرح کے رنگوں میں رنگی اس خاتون نے، جہاں دل چاہا، بدتمیزی کی، واویلا کیا، علی ظفر پہلا متاثرہ مرد نہیں ہے، اس سے پہلے یہ خاتون ایک بینڈ ’’اوور لوڈ‘‘ کا حصہ تھیں، یہی سے ان کی گلوکاری کا فنی سفر شروع ہوا تھا۔ اس بینڈ کی تشکیل فرہاد ہمایوں نے کی تھی، جو ایک باصلاحیت موسیقار ہیں، ان کی پہلی البم کی ریلیز کے بعد یہ خاتون انہیں چھوڑ کر چلتی بنیں، جب انہوں نے اپنے گانوں کے حقوق کے سلسلے میں ان سے باز پرس کرنے کی کوشش کی، تو انہوں نے اس سے بھی لے دے کی۔ اب علی ظفر پر دوران ریکارڈنگ جنسی ہراسگی کا بھونڈا الزام ان کی دیدہ دلیری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ بہت ممکن ہے، علی ظفر سے اس خاتون نے کوئی فرمائش کی ہو، وہ پوری نہ ہونے کی صورت میں اس پر الزام دھر دیا ہو، کیونکہ یہ اپنے کیرئیر میں خاصی ڈیمانڈنگ رہی ہیں۔ ایک طرف یہ بھی کہا جا رہا ہے، موسیقی کے ایک نجی شو کی میزبانی میں علی ظفر کے برابر معاوضہ لینا چاہتی تھیں، جب ان کی ڈیمانڈ پوری نہ کی گئی، تو حسد کے مارے یہ ردعمل دیا۔

لنک: https://tribune.com.pk/story/120420/no-more-musical-chairs/

پاکستانی شوبز کے اصل چہرے سے جو لوگ واقف ہیں، وہ جانتے ہیں کہ یہاں جنسی ہراسگی کی نوبت ہی نہیں آتی، اکثریت طے کرتی ہے، کس کے ساتھ تعلقات میں کہاں تک جانا ہے، اس کے لیے انگریزی میں ایک اصطلاح ’’کاسٹنگ کائوچ‘‘ استعمال ہوتی ہے، جس کا مطلب ’’جنسی تعلقات کے بدلے کام‘‘ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ یہ سمجھوتے پوری دنیا کے شوبز حلقوں میں ہوتے ہیں، دور نہ جائیے، پڑوسی ملک بھارت میں دیکھ لیں، وہاں کی بدنام زمانہ اور منہ پھٹ اداکارہ ’’راکھی ساونت‘‘ نے کھل کر کہا ’’شوبز میں باہمی رضا مندی سے جنسی تعلقات قائم ہوتے ہیں۔‘‘ پاکستانی فنکاروں میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ اس طرح کھل کر بات کہہ سکیں، مگر یہاں کے حالات بھارتی شوبز انڈسٹری سے زیادہ مختلف نہیں ہیں۔ استحصال کی اتنی کریہہ شکلیں ہیں، اگر ان پر سے پردہ اٹھایا جائے تو فن و فنکار کے نام سے ہی نفرت ہو جائے، لیکن بظاہر یہ سارے بہت نفیس اور کلچر کے دلدادہ بنے پھرتے ہیں، وہ دن لد گئے، جب فنکار تہذیب کی آبرو ہوا کرتے تھے۔

میشا شفیع کا خاندانی پس منظر دیکھیں تو یہ معروف اداکارہ صبا حمید کی بیٹی اور حمید اختر کی نواسی ہیں، وہی حمید اختر جنہوں نے فیض احمد فیض، سجاد ظہیر، ساحرلدھیانوی جیسی شخصیات کے درمیان اپنی زندگی گزاری، ساری زندگی بائیں بازو کی نظریاتی جدوجہد کرتے رہے، سادہ اور درویش زندگی بسر کی، مگر پاکستان میں دائیں اور بائیں دونوں طرف کے لوگوں نے اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کچھ انداز پر کی، جس سے وہ اپنی ثقافت اور تہذیب سے دور ہوئے، میشا شفیع بھی ان روشن خیال بزرگوں کی نظریاتی شکست کا ایک پر تو ہیں، جنہوں نے دنیا میں انقلاب لانے کی بات کی، لیکن اپنے گھر میں، اولاد سے ہار گئے۔

یہ قصہ صرف حمید اختر کا نہیں ہے، ان کے ہم عصروں میں، بلکہ بعد میں آنے والے ان لوگوں کی زندگیاں بھی چھان کے دیکھ لیں جو تہذیب، زبان و ادب کے نام پر غلغلے مچاتے آئے ہیں، ان کی اپنی نسلیں قومی زبان اور پاکستانی تہذیب سے تقریباً ناواقف ہیں، یقین نہ آئے تو اپنے طور پر چھان بین کر دیکھیے، وہاں راوی چین لکھتا ہے۔ شین قاف درست کرنے والوں کی نسل میں اکثریت کے ہاں اردو زبان رخصت ہو چکی۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: جنسی ہراسانی میں لڑکیوں کا کردار — محمودفیاض

 

اس تمام صورتحال کے باوجود علی ظفر اور میشا شفیع کے تنازعے سے بہرحال کچھ عرصے کے لیے سہی، مگر پاکستانی شوبز کے حلقوں میں دبے دبے لفظوں میں بات شروع ہوئی، لیکن یہ معاملہ یہاں زیادہ سنجیدہ نہ ہوسکا کیونکہ ایک حمام میں سب ننگے ہیں۔ کبھی کبھی مذاق میں البتہ بہت ساری سنجیدہ باتیں نکل کر سامنے آجاتی ہیں، جس طرح کچھ عرصے سے یوٹیوب پر ایک پاکستانی فلم ہدایت کار وجاہت رئوف نے انٹرویو لینے کا سلسلہ شروع کیا ہے، ان کے سوالوں اور گفتگو میں ہم جنس پرستی، جنسی ہراسگی، کاسٹنگ کائوچ سمیت کئی طرح کے غیر روایتی سوال براہ راست پوچھے جاتے ہیں، مگر مزاحیہ انداز میں، تاکہ حقائق کی بدصورتی زیادہ بری نہ لگے، کیونکہ منافق اور کریہہ شکل معاشرے میں آئینہ دیکھنے سے گھبراتے ہیں، یہاں حوالے کے طور پر اداکارہ حریم فاروق اور ماہرہ خان کے انٹرویوز ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں۔

لنک: https://www.youtube.com/watch?v=XSk7fsxu8g8

لنک: https://www.youtube.com/watch?v=ZYKD0GQtobQ

پاکستان میں ڈالر گرل کے نام سے شہرت حاصل کرنے والی ماڈل’’ایان علی‘‘ تو یاد ہوگی، جرم ثابت ہونے کے باجود اسے سزا نہیں ہوسکی، پاکستانی شوبز میں محض فنی مصروفیات کے علاوہ بہت ساری ایسی پیشہ ورانہ سرگرمیوں میں بھی یہ خواتین ملوث ہوتی ہیں کہ تفصیلات دہلا دیں۔ یہ خواتین کیا جانیں، اس اذیت کے بارے میں، جو ایک عام خاتون کو واقعی جنسی ہراسگی کی صورت میں جھیلنا پڑتی ہے۔

پاکستان میں ان مخصوص حلقے کی عورتوں کو نظر انداز کر دیا جائے، تو ایک عام عورت شاید ہی ہیش ٹیگ می ٹووالی چالاکیوں سے واقف ہوگی، وہ تواپنی بقا اور عزت کی خاطر بعض اوقات خاموشی بھی اختیار کر لیتی ہے، اس قدر ڈھٹائی سے واویلا کرنا اس کے بس کی بات نہیں ہے۔۔۔۔ مگر شوبز کا حلقہ ہو یا این جی او زدہ ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ والی مخلوق، ان کے منہ سے جنسی ہراسگی والی بات بھلی نہیں لگتی۔

خرم سہیل  khurram.sohail99@gmail.com


یہ بھی پڑھئے:
جنسی ہراسانی: مذہب کا اخلاقی و قانونی زاویہ نظر — عمار خان ناصر

کیا مرد بھی ’می ٹو‘ Me Too کہہ سکتے ہیں؟ — سمیع کالیا

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: