سلیم احمد اور صحرا کی اذان —– فرحان کامرانی

0
  • 135
    Shares

سلیم احمد کی شخصیت اور فکر کے تعارف کے لئے دانش پہ اس سے پیشتر بھی کئی تحاریر شایع ہوچکی ہیں۔ ذیل کی تحریر مرحوم سلیم احمد کے دوست مرحوم شاہد کامرانی کے جوانسال صاحبزادے کی نئی کاوش ہے۔


’’سلیم احمد کون؟‘‘ شاید یہ سوال آج بہت سے لوگوں کے اذہان میں اس مضمون کا عنوان پڑھ کر آئے۔ اس لئے کہ ہمارے معاشرے کی یادداشت کمزور ہے اور علم و ادب ویسے بھی ہمارے یہاں غیر ضروری چیزوں کا درجہ رکھتے ہیں۔ شاعر یا ادیب ہونا تو ہمارے معاشرے میں ایک ایسی چیز ہے کہ اگر کسی کو معلوم ہو کہ فلاں شخص شاعر یا ادیب ہے تو لوگوں کے چہروں پر طنزیہ مسکراہٹ نمودار ہو جاتی ہے۔ مگر اسی معاشرے میں فنون لطیفہ دکھاوے کی چیز بھی ہیں۔ بڑے بڑے لوگ (سرمایہ دار، جرنیل، سیاستدان اور سفارتکار) اپنی تخلیقات چھپوا کر ان کی تقریبات رونمائی کراتے ہیں۔ اخباروں میں ان پر تبصرے ہوتے ہیں اور ٹی وی پر ان تقریبات کے احوال بھی نشر ہوتے ہیں مگر یہ کتابیں کیونکہ اکثر محض انائی مقصد کی تکمیل کے لئے تحریر ہوتی ہیں اس لئے یا تو گوداموں میں پڑے پڑے سڑ جاتی ہیں یا پھر خود ہی ان کے مصنف ان کتابوں کو لوگوں میں تقسیم کرتے رہتے ہیں۔

اس تناظر میں محض چند شاعر، چند ادیب اور چند مفکر ہی ایسے ہیں جو حقیقی معنوں میں ادب، علم و فن سے منسلک ہیں مگر ان میں سے اکثر کے لئے بھی ادب اور علم و فن، ٹوپی، چھتری یا سائباں ہی ہے۔ یہ ادب، ادب کے علاوہ سب کچھ ہے۔ مثلاً شیر شاہ سید کے افسانے یا آصف فرخی کے افسانے ایک نوع کی صحافت ہیں۔ پھر ایک طبقہ ہے جو ڈائجسٹوں کے ذریعہ عوام میں مقبول ہوا ہے۔ ایسے افسانے اور ناول بڑی حد تک اشفاق احمد، بانو قدسیہ، نسیم حجازی وغیرہ کے ادب کے ٹکڑوں کو جوڑ کر بنائے گئے فرینکسٹائن کے علاوہ اور کیا ہیں؟ مگر ان ادیبوں، شاعروں اور اخباری مفکروں کا قصور ہی کیا ہے؟ اگر گھر میں کوئی آئینہ نہ ہو اور کوئی بغیر کسی آئینے کے ہی کنگھی کرے تو مانگ صحیح نہ نکلنے پر ہم اس کو مورد الزام تو نہیں ٹھہرا سکتے۔ سلیم احمد ہمارے معاشرے کا ایسا مستند آخری آئینہ تھے۔

وہ شاعر بھی تھے، میں نے غلط کہا، وہ شاعر ہی تھے۔ میں نے یہ بھی شائد غلط کہا، کیونکہ اگر وہ شاعر ہی تھے تو وہ عظیم ادبی تنقید کس کی تخلیق ہے؟ پھر وہ ڈرامہ نگار سلیم احمد کون ہے؟ اور فلم نگار سلیم احمد کون ہے اور وہ سلیم احمد کون ہیں جن کے مضامین اخبارات میں شائع ہوتے تھے؟ سلیم احمد یہ سب کچھ تھے مگر اس سب سے بڑھ کر وہ اپنی ذات کے سچے راہی تھے۔ سلیم احمد کی کتاب ’’غالب کون‘‘ ادبی تنقید میں عجیب ترین کتاب معلوم ہوتی ہے۔ یہ کتاب شروع نفسیات کے بیان سے ہوتی ہے۔ ابتدا کے کئی ابواب میں سلیم احمد اپنا اصول تنقید واضح کرتے ہیں، وہ اتنے سادہ، اتنے شفاف طور سے ذات، شخصیت، کردار، شعور، اسلوب اور اس نوع کے دیگر تصورات اور ان کے باہمی تعلق کو واضح کرتے ہیں کہ بحیثیت ماہر نفسیات میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ علم نفسیات پر ایسی ایک بھی تحریر اردو زبان میں ہی موجود نہیں۔ یہ تحریر بڑی حد تک خود سگمنڈ فرائیڈ کی تحریر کی طرح معلوم ہوتی ہے۔ اگر آپ کو اس دعوے پر شک ہو تو فرائیڈ کی کتاب ’’روزمرہ کے نفسیاتی عوارض‘‘ اور ’’غالب کون‘‘ ساتھ رکھ کر پڑھئے۔ یہ سچا اسلوب اگر عالم میں فرائیڈ کے بعد کسی کو میسر آیا ہے تو وہ سلیم احمد ہی تو ہیں۔ یہ ایسا اسلوب ہے جس میں کوئی بناوٹ نہیں جو کل سچ بولنے والے کا اسلوب ہے، یہ ایسے افرا دکا لہجہ ہے جو کچھ بول رہے ہیں وہ ہی ان کے لئے موضوعی سچائی ہے۔ یہ سوچتا ہوا لہجہ اردو میں کسی کو سلیم احمد کے سوا میسر نہیں آیا۔ سلیم احمد کی کتب بھی سگمنڈ فرائیڈ کی کتب ہی کی طرح طوفان برپا کر دیتی تھیں۔  بزدل آدمی سچی تنقید کیونکر لکھے؟ پھر ہماری علمی دنیا بدقسمتی سے پروفیسروں کی دنیا ہے۔ راقم الحروف کیونکہ خود ایسی پروفیسر برادری سے تعلق رکھتا ہے اس لئے یہ کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا کہ یہ بے چارے تنخواہ دار لوگ ادب اور تنقید کی چھتری تلے بھی اپنے سماجی احساس محرومی اور اپنے 18 سے 21 گریڈ تک کے طوق کے وزن سے نڈھال ہو کر ہی بیٹھتے ہیں۔ ادب ان کے حصول ذات کا ذریعہ نہیں بلکہ بقول فرائیڈ، تلافی (Compensation) کے دفاعی نظام کا ایک عمل ہے۔

سلیم احمد کی شاعری کو اس دور سے آج تک اس معاشرے نے تسلیم نہیں کیا مگر اس شاعری کو سنجیدہ ادب کا کوئی بھی طالب نظر اندا ز بھی نہیں کر پایا۔ میں نے آج کے زندہ ہزاروں لوگوں کی پیشانی پر لکھا ہوا دیکھا ہے،

ہر طرف سے انفرادی جبر کی یلغار ہے ۔۔۔ کن محاذوں پر لڑے تنہا دفاعی آدمی؟
میں سمٹتا جا رہا ہوں ایک نقطے کی طرح ۔۔۔ میرے اندر مر رہا ہے اجتماعی آدمی

مجھے حیرت ہوتی ہے کہ یہ نوشتہ سلیم احمد نے لکھا تھا؟ یا سب سے پہلے پڑھ لیا تھا؟ میں اپنے آپ سے پوچھتا ہوں،

کیا تمہیں یاد کبھی آتا ہے؟
شام کو چائے پیا کرتے تھے
تھا کبھی ذائقہ زندہ اپنا
ایک ایک گھونٹ جیا کرتے تھے

مگر یہ بات تو سلیم احمد نے مجھ سے پوچھی تھی (خود سے پوچھی تھی؟) سلیم احمد نے کہا تھا،

کہاں تک ہو گی غم کی پاسداری؟
لہو اپنا بھلا کب تک پئیں گے؟
کئے تھے جب کسی سے عہد و پیماں
یہ اندازہ نہ تھا اتنا جئیں گے

سلیم احمد سے جھوٹ برداشت نہیں ہوتا، وہ اس قدر سچے ہیں کہ مروت میں انہوں نے چند دوستوں کی کتب پر تعریفی تبصرے تحریر کر دیے تو ان کو باقاعدہ ایک مضمون لکھ کر اپنی اس غلطی کا اعتراف کرنا پڑا اور اس خوفناک اعتراف کے نتائج بھگتنے پڑے۔ جب سلیم احمد نے اقبال پر کتاب تحریر کی تو مکھی کے عین اوپر مکھی مارنے والے اقبالیات کے ماہرین کی صفوں میں زلزلہ برپا ہو گیا مگر یہ سارے ہی اور ان کے انڈے بچیٓ آ ج تک اس کتاب کا کوئی جواب نہ لا پائے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: سلیم احمد بنام احمد جاوید : تاریخی خطوط

سلیم احمد معرفت کے سچے راہی تھے۔ وہ حضرت ذہین شاہ تاجیؒ کے پاس ہاتھ باندھ کر حضرت محی الدین ابن عربیؒ کے فصوص الحکم پر درس حاصل کیا کرتے مگر اس سادہ شخص نے کبھی اپنی ذات کے اس رخ کا پرچار نہیں کیا۔ نہ کبھی سبھا سجا کر اشفاق احمد کی طرح ’’زاویہ‘‘ اور ’’رباط‘‘ یا ڈیروں کا ماحول طاری کیا، نہ قدرت اللہ شہاب کی طرح ساری زندگی اقتدار و اختیار کے مزے لوٹ کر آخر میں اپنے روحانی مکاشفات لکھ کر رحمت اللہ علیہ بن گئے، ان لوگوں کی ایجاد، بابا محمد یحییٰ آج بھی زندہ ہیں جو روحانیت کو ’’نرالہ‘‘ کا تھیٹر بنائے ہوئے ہیں۔ سلیم احمد کو کسی ڈھونگ اور دعوے کی ضرورت نہیں۔ اس لئے کہ خو بصور تی کو کسی غازے اور پائوڈر کی کبھی ضرورت رہی ہی نہیں۔

یہ سماج، یہ جھوٹوں، ڈھونگیوں، ملمع کاروں، آدھے دھڑ کے بھوتوں، روحانیت کا انکار کرنے والے یا جعلی روحانیت پر سر دھننے والوں کا یہ کسری سماج سلیم احمد سے ڈرتا ہے۔

سلیم احمد کی تحریر کا تو ہر ہر لفظ ہی معرفت کے ایک راہی کی روداد ہے۔ سلیم احمد کا قلم، قلم بھی ہے اور نشتر بھی۔ یہ قلم ایک جانب سماج کے زخموں کی جراحی کرتا ہے، کبھی جھوٹی رومانی ادبی فضا کے غبارے میں یہ قلم نما نشتر ہوا نکالتا ہے، کبھی یہ قلم ادب کی صحیح تصویر کھینچ کر ظالم آئینہ بن جاتا ہے۔ مگر یہ سماج، یہ جھوٹوں، ڈھونگیوں، ملمع کاروں، آدھے دھڑ کے بھوتوں، روحانیت کا انکار کرنے والے یا جعلی روحانیت پر سر دھننے والوں کا یہ کسری سماج سلیم احمد سے ڈرتا ہے۔ یہ تحریریں جب شائع ہوئی تھیں بالکل اسی دن کی طرح آج بھی بالکل Relevant ہیں۔ اتنی ہی تازہ ہیں اور اتنی ہی ضروری ہیں۔ سلیم احمد جانتے تھے کہ وہ اندھوں کی بستی میں آئینے فروخت کر رہے ہیں، میں نے غلط کہہ دیا، وہ آئینے فروخت نہیں کر رہے (آئینے کا عوض دینے کی اوقات کس کی ہے بھلا؟) وہ تو خود واحد سچا آئینہ ہیں، اندھوں، بہروں کی بستی میں وہ حق گوئی سے گھبراتے نہیں۔ اس لئے کہ وہ جانتے ہیں کہ ان پر اس حق بیان کر دینے کی ذمہ داری ہے، وہ اس کے ذمہ دار نہیں کہ لوگ بھی اس حق کو حق مانیں۔ وہ تو اپنے منصب سے اچھی طرح واقف ہیں:

شائد کوئی بندۂ خدا آئے ۔۔۔ صحرا میں آذان دے رہا ہوں

اطہر نفیس کے ساتھ

سلیم احمد کو ہم سے بچھڑے 35 سال بیت گئے مگر جب سے میں نے ان کی تحریریں پڑھی ہیں، وہ ہر پل میرے ساتھ ہیں، جب بھی میں حق و باطل میں تمیز کھونے لگتا ہوں تو میں تصور میں سلیم احمد کو لاتا ہوںاور میرے دل کا راستہ سارے وسیلوں اور واسطوں سے اجمیر، حرا، مدینہ، مکہ اور ہر ہر اس علامت سے جو حق ہے اور حق سے جڑی ہے، جڑ جاتا ہے۔ پھر میں باطل کو اور حق کو پہچان لیتا ہوں، قلب تو رب کا آئینہ ہے، اس آئینے میں تو نور حق اور نور محمدیﷺ جلوہ گر ہے۔ بس اس پر جو گرد جمی ہے وہ صاف کرنے کی ضرورت ہے، ذات کا ہر راہی تو جانتا ہی ہے کہ یہ سفر اندر کا ہے، ساری دنیا گھوم کر جب راہی خود تک پہنچتا ہے تو میرؔ کی طرح بے ساختہ کہتا ہے

پہنچا جو خود تلک تو میں پہنچا خدا کے تئیں ۔۔۔ معلوم یہ ہوا کہ بہت میں بھی دور تھا

ذات لفظ اردو میں بڑے ہمہ گیر معنی رکھتا ہے، اس کی اتنی سطحیں ہیں کہ صرف اس لفظ پر غور کرنے سے ہی انسان ششدر رہ جاتا ہے۔ یہ لفظ انسان کی ذات کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے اور اگر اپنی کلیت میں استعمال ہو تو یہ صرف رب العالمین کا منصب ہے، اسی لئے ذات کے راہی حضرت فرید الدین عطارؒ کی طرح آخر میں خود تک پہنچتے ہیں مگر اب خود ’’خود‘‘ کہاں ہے؟ پروانہ شمع کے گرد رقص کرتے کرتے آخر میں خود روشنی بن جاتا ہے

اک پتنگے نے یہ اپنے رقص آخر میں کہا ۔۔۔ روشنی کے ساتھ رہئے روشنی بن جائیے


یہ بھی پڑھئے:
کاغذ کے سپاہیوں سے لشکر بنانے والا: سلیم احمد

قطب شمالی: سلیم احمد (خاکہ) حصہ اول

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: