اسلام, جنّت اور لائبریری — صوفی نعمان ریاض

0
  • 1
    Share

ایک دین اِسلام ہے،
جسکی باقاعدہ تبلیغ و اشاعت کا آغاز لفظ “اقراء” سے ہوتا ہے.
جِسکے مُکمّل استدلال اور تشریحات پر مبنی بلامُبالغہ لاکھوں بار ٹیسٹ کیا جانے والا خُدائی مقالہ سینکڑوں سال قبل جاہلوں اور عالموں کا فرق”قُل ھل یستوی الذین یعلمون لایعلمون” کی صُورت میں واضح کرتا ہے،
جس کے کورس میں پے در پے امتحانات کے بعد انعام و اکرام کی مدّ میں ملنے والی جنّت کے حوالے سے سرچشمہ عُلوم قُرآن حکیم میں ارشاد ہوتا ہے کہ “لا یسمعون فیہا لغو ولا کذابا” یعنی جنّتی جنّت میں کوئی لغو بات (خرافات) نہیں سُنیں گے.
جہاں مومنین کی عقل زائل نہیں کی جائیگی.
جہاں تمنّا کرنے والوں کو ہر نعمت (بشمُول لائبریری) بدہن اظہارِ خواہش سے پہلے عطا کر دی جائیگی،
جہاں ماحول بھی معتدل درجہ حرارت (لایرون فیھا شمسا ولا زمھریرا)، متوازن روشنی اور بھرپُور سکُوت سے مُزیّن ہوگا (یقینا مُطالعے کے لیے سازگار)،
جہاں تفکّر و تدبّر کی تلقین پر مبنی آیاتِ بنیّات پر عمل کرنے والے اکٹھے ہونگے،
جہاں “فارجع البصر” جیسی دعوتوں کے لیے مدعُو کیے جانے والے تجزیہ نگار جمع ہونگے،
جہاں جمع کردہ افراد کا مِشن علم، منطق اور احسن البیانی کی کسوٹی (بالحکمتہ والموعظتہ الحسنتہ) پر دعوت بعد از بحث و تمحیص رہا ہوگا.

وہاں علم، کتاب یا مکتب کا وُجود عدم ہونے کا جواز مُحض یہ ہے کہ شراب و شباب کی کثرت ہو گی؟
ارے تُمہیں گر مغرب کی جھوٹی شراب اور زیر استعمال شباب، مُطالعے سے منحرف نہیں کرسکا تو وہاں تو موجود ہی اپنے اپنے مضمون کے ماہر ہونگے، وہاں تو شراب بھی طہور ہو گی، وہاں تو شباب بھی فرسٹ ہینڈ ہوگا. وہاں کی لائبریری اگر براہ راست زیر تذکرہ نا دکھائی دی تو تشویش کیسی؟

تُمہارے انداز میں جواب دُوں؟ میں تو بچّہ ہُوں، پھر بھی نُقطہ نکال رہا ہُوں، مانو کہ دین میں سقم تلاشنے کی مُشکل کوششوں نے تُمہیں اندھا ہی تو کردیا ہے، وگرنہ امتحانات پاس کرنے کے بعد بھی کوئی کبھی مکتب میں گیا ہے؟ صرف بالوں کی سفیدی تک محدُود بزرگی سے لبریز بابا جی ہم تو پیپرز دے کر “عیاشیاں” ہی کرتے ہیں، ہونا بھی یہی چاہیے، حُور و قصور
لیکن تُم نے بہرکیف بلّی تھیلے سے باہر نکال دی، کہ
مقصد آزادی اظہار رائے نہیں،
مقصد ہے ضمیر فروشی
مقصد ہے الحاد
مقصد ہے فروغِ بے یقینی

انکل کنفیوژ!!!!

کیا واقعے مُطالعے کی عادت اپنانے کے بعد آپ نے ازدواجی زندگی اور مے کدے کو بائے بائے بول دیا؟

ایک یہ دانشور ہیں۔

جنہیں Prerequisite پر ایمان نہیں لانا، نتیجتا ملنے والے انعامات میں شراب اور سیکس ڈُھونڈنا ہے، نظریہ اسلام کو معاذ اللہ بدنام کرنا ہے، مولوی (جس سے ہماری بھی جنگ ہے) کی چڑ میں اصلی دیسی گھی کو جعلی (خاکم بدہن) بولنا ہے. لگے رہو، لگے رہو.

“فبایّ حدیث بعدہ یُومنون”

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: