فیس بک کے سیاسی مجاہدین — امیر معاویہ

0
  • 9
    Shares

2013ء کے عام انتخابات کے نتیجہ میں تشکیل پانے والی موجودہ سیاسی حکومت اپنی آئینی مدت کی تکمیل کے بعد گھر جانے کو ہے اور یوں ملک میں ایک بار پھر سے عام انتخابات کی آمد آمد ہے۔ انتخابات کی آمد کا بگل بجتے ہی سیاستدانوں کی انکساری اور عاجزی میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ ہر انتخابی امیدوار اپنے اپنے حلقے میں یوں ڈیرے جمائے بیٹھا ہے جیسے آج کل کے ڈیجیٹل دور سے پہلے کا ایک چھوٹا بچہ ماں کی ڈانٹ سے سہم کر ایک کونے میں دبک جاتا تھا اور پھر اگلے کئی گھنٹوں تک گھر سے با ہر نکلنے کا نام نہ لیتا تھا۔ ووٹروں کے شکوے اور شکایتیں چہرے پر بغیر کوئی شکن لائے یوں سنے جارہے ہیں کہ بندے کو بھلے وقتوں کی ان وضعدار بیبیوں کا گمان گزرتا ہے جو اپنے مجازی خدا کی جلی کٹی سن کر حتٰی کہ مار کھا کر بھی بدمزہ نہیں ہوتی تھیں اور چہرے کو چادر میں چھپائے چپ چاپ گھر کے کام نمٹائے جاتی تھیں۔

مصنف

خیر یہ تو وہ منظر نامہ ہے جو ہر الیکشن سے قبل ملک کے گلی کوچوں میں دہرایا جاتا ہے اور آئندہ نہ جانے کتنے برسوں تک یہ جمہوری نمائندے یوں ہی قوم سے بہترین انتقام لیتے رہیں گے۔ مگر تحریر ہذا کا موضوع اس سیاسی ہنگامے کا ایک اور اہم کردارہے یعنی سیاسی پارٹیوں اور انتخابی امیدواروں کے سپورٹرز۔ ان میں دو طرح کے گروہ پائے جاتے ہیں: اول، وہ جن کے گروہی و کاروباری مفادات سیاست سے وابستہ ہوتے ہیں اور ان کی الیکشن میں دلچسپی کی وجہ اپنے مفادات کا حصول ہوتا ہے۔ دوم، وہ طبقہ جس کا سیاست میں دلچسپی کا بظاہر کوئی بلا واسطہ مفاد وا بستہ نہیں ہوتا مگر یہ صرف وطنِ عزیز کی محبت میں، ملک و قوم کی بہتری کے لیے جس سیاسی جماعت اور سیاستدان کو موزوں خیال کرتے ہیں، اس کی حمایت میں دن رات ایک کیے رکھتے ہیں۔

درج بالا ہر دو طبقات کی زمینی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ آج کل یہ سیاسی مجاہدین سوشل میڈیا پر بھی دن رات سرگرمِ عمل نظر آتے ہیں۔ اس تحریر میں سوشل میڈیا کے اہم ترین ستون فیس بک پر ان سیاسی سپورٹران کی سرگرمیوں کا ایک ایک لطیف سا جائزہ لیا گیا ہے۔

اس ضمن میں راقم کے مشاہدے کے مطابق فیس بک پر سرگرم مختلف سیاسی جماعتوں کے کے سپورٹرز کو چار مختلف اقسام میں تقسیم کیا جاسکتا ہے جن کی تفصیل حسبِ ذیل ہے:

1- اندھے مقلدین
ہر سیاسی جماعت کو ایسے سپورٹرز کی ایک کثیر تعداد میسر ہے جو ایمان کی حد تک یقین رکھتے ہیں کہ ان کی پسندیدہ سیاسی جماعت ہی واحد جماعت ہے جو اس ملک کے تمام مسائل راتوں رات حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور ان کا پسندیدہ سیاسی لیڈر تحریکِ آزادی کے قائدین کے بعد اس قوم کو میسر آنے والا واحد بے لوث اور مخلص سیاسی راہنما ہے۔ یہ اپنے اپنے سیاسی بتوں کے غیر مشروط حامی ہوتے ہیں اور ایمان کی حد تک یقین رکھتے ہیں کہ ان کے پسندیدہ سیاسی لیڈر سے کسی غلطی کا سرزد ہوجاناسورج کے مغرب سے طلوع ہوجانے سے بھی زیادہ ناممکن ہے۔ اسی یقین کے باعث یہ حضرات اپنے لیڈر سےدانستہ یا نادانستہ سرزد ہوجانے والی ہر بونگی کا دفاع اس شدو مد سے کرتے ہیں کہ راقم کے ناقص خیال کے مطابق ایسے افلاطون قسم کے حامی اگر آل انڈیا کانگرس کو میسر آئے ہوتے تو شاید یہ ملک کبھی معرضِ وجود میں ہی نہ آتا۔

اپنے طریقہ واردات کے لحاظ سے ان غیر مشروط حامیوں کو مزید دو ضمنی اقسام میں تقسیم کیا جاسکتا ہے جو درج ذیل ہیں:

(الف) یہ وہ سیاسی مجاہدین ہیں جو اپنے موقف کے حق میں کسی دلیل کے پیش کرنے پر کماحقہ یقین نہیں رکھتے اور لٹھ مار انداز میں آپ کو اپنے موقف کی حمایت کی تلقین کرتے ہیں بصورت دیگر آپ کو ایک لایعنی قسم کی بحث کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کا حتمی نتیجہ گالیوں کی صورت برآمد ہوگا۔ لطیفہ یہ ہے کہ ان مجاہدین کے پاس مخالفین پر حملہ آور ہونے کے لیے ترکش میں کوئی ذاتی تیر موجود نہیں ہوتا بلکہ یہ سارا دن مانگے کے ہتھیاروں کے ساتھ ہی میدانِ فیس بک پر سرگرم رہتے ہیں یعنی ان کی وال پر آپ کو اپنی پارٹی کے سوشل میڈیا پیجز سے شئیر کی گئی تصاویر اور دوسروں کی چرائی گئی بے نام کاپی پیسٹ تحریروں کے سوا کوئی چیز نظر نہیں آتی۔

(ب) اس دانشور نما مخلوق کا المیہ یہ ہے کہ یہ اپنے موقف کے حق میں دلائل کا ایک نہ ختم ہونے والا ذخیرہ رکھتے ہیں اورکسی بھی قسم کی بحث کی صورت میں ان دلائل کے بے دریغ استعمال کی صلاحیت سے مالا مال ہوتے ہیں۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ دلائل کی موجودگی یقیناً ایک خوشگوار چیز ہوگی مگر یہی وہ غلط فہمی ہے جس کا شکار ہو کر آپ ان حضرات کے ساتھ بحث شروع کر بیٹھتے ہیں اور ان کے دئیے گئے دلائل علمی نعمت ہیں یا ذہنی کوفت، اس بات کا احساس بندے کو تب ہوتا ہے جب دو تین گھنٹے برباد کرنے کے بعد پتا چلتا ہے کہ جس موضوع پر بحث کا آغاز ہوا تھا وہ تو کب کا پیچھے رہ گیا اور آپ گزشتہ دو گھنٹوں سے مسلسل دائرے میں حرکت کر رہے ہیں۔ مختصر یہ کہ آپ ان حضرات کے ساتھ کہیں کسی بحث میں الجھ بیٹھیں تو سمجھیں خاردار تاروں کا ایک لامتناہی سلسلہ آپ سے چمٹ گیا ہے اور بحث میں اپنی شکست کا اعتراف کیے بنا آپ کے پاس کوئی چارہ نہیں ہے۔

علاوہ ازیں یہ حضرات ان لاجواب کردینے والے دلائل کو اپنی وال تک ہی محدود نہیں رکھتے بلکہ سارا دن دوسروں کی پوسٹوں پر کمنٹ کی صورت چپکا نے میں بھی مصروف رہتے ہیں۔ اس سلسلہ میں کمنٹ کا پوسٹ کے موضوع کے ساتھ ہم آہنگ ہونا یا نہ ہونا ان کے نزدیک ایک غیر ضروری امر ہے جس پر سوچنا ان کے نزدیک صرف وقت کا ضیاع ہے۔

درج بالا ہر دوطبقات اپنی ہر پوسٹ میں تیس سے چالیس بندوں کو ٹیگ کرنا بھی لازم سمجھتے ہیں جبکہ ان کا پیغامِ محبت آپ کو دن میں کئی بار اپنے انباکس میں چمکتا بھی نظر آئے گا۔ ان تما م حرکات کے بعد اگر آپ انہیں ان فرینڈ یا بلاک کرنے کی غلطی کر بیٹھیں گے تو آپ کے دوستوں میں آپ کی کم ظرفی یا انا پرستی کے قصے مشہور کردئیے جائیں گے۔ سو کسی کمزور لمحے میں آپ کی فہرستِ دوستاں میں شامل ہوجانے والے یہ مجاہدین وہ ہڈی ہیں جو نہ تو نگلی جاسکتی ہے اور نہ ہی اگلی جاسکتی ہے۔

2- وڈے اور مہان دانشور
یہ فیس بک پر آجکل بکثرت پائی جانی والی اپنی طرز کی انوکھی مخلوق ہے۔ یہ اپنی طویل اور الجھا دینے والی تحاریر کے لیے جانے جاتے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ ان تحاریر میں سے کام کی بات ڈھونڈ پانا آپ کے لیے درجن بھر مشکوک تربوزوں میں سے ایک سوہا لال ہدوانہ ڈھونڈنے سے زیادہ مشکل امر ثابت ہوتاہے۔ جبکہ اکثر تحریر کی طوالت کے باعث ان کی تحریر کا اختتامی پیراگراف تحریر کے آغاز سے ایک سو اسی ڈگری کے زاویے پر مڑ چکا ہوتا ہے۔ تحریر کے ان تضادات یا تحریر کے مواد سے کسی بھی قسم کا اختلاف کرنے والا اپنی تمام تر احتیاط پسندی کے باوجود بدتمیزکا لقب وصول کرکے ایک دو بار کی مبینہ بدتمیزی کے بعد بلاک کی سعادت حاصل کرلیتا ہے۔ جبکہ وہ افراد جو تہذیب اور شائستگی کا دامن چھوڑے بغیر مسسلسل مدلل اور علمی اختلاف میں ملوث پائے جائیں، انہیں مطالعہ پاکستان سے باہر نکلنے اور عالمی سیاسی تاریخ کا مطالعہ بڑھانے کی تلقین کے ساتھ خاموش کروا دیا جاتا ہے۔ یوں اکادکا اختلافی تبصروں کے سوا ان کی پوسٹوں پر آپ کو تحریر کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملانے والے مریدین ہی نظر آتے ہیں۔ جن کے تعریفی تبصروں سے صاحبِ تحریر اگلی بار مزید وڈی چول مارنے کے لیے تازہ دم ہوجاتے ہیں۔

گوکہ ان حضرات کی ہر تحریر کسی ایک سیاسی شخصیت کی محبت میں ڈوبی ہوئی اور کسی دوسری سیاسی شخصیت کے بغض میں لتھڑی ہوئی ہوتی ہے مگر اس کے باوجود ہفتے میں کم از کم ایک بار اپنی غیر جانبداری کا اعلان کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ ان دانشوروں کو بھی دو بنیادی طبقات میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

(الف) دانشوارانِ ملت کا ایک طبقہ وہ ہے جس کے نزدیک خلائی مخلوق کا وجود سراسر ایک افسانہ ہے اور فوجی جرنیل بیرکوں پر مصروفِ عمل جوانوں کی حوصلہ افزائی اور فارغ اوقات میں گولف کھیلنے کے سوا کوئی دوسرا کام نہیں کرتے۔ ازبسکہ ملک کے تمام مسائل کی جڑ صرف اور صرف سیاستدان ہیں اور اسی جذبے کے تحت یہ روزانہ پنڈی کی طرف رخ کرکے ایک اورایسے انقلاب کی راہ تکتے رہتے ہیں جس سے ملک میں ترقی کا جام ہوچکا پہیہ ایک بار پھر سے سپر سونک رفتار سے بگٹٹ بھاگنا شروع کردے گا۔

(ب) دانشواروں کے دوسرے طبقے کو راقم کی رائے میں غیر مشروط جمہوریت پسند وں کا لقب عطا کیا جا سکتا ہے جن کے خیال میں ملک کی ترقی کا راز صرف اس بات میں مضمر ہے کہ اگلے کم ازکم چالیس برس کے لیے سیاستدانوں کو کھل کھیلنے کا موقع دے دیا جائے اور اس دوران احتساب کے تمام اداروں اور عدالتوں کو تالے لگا دیئے جائیں۔ اس دوران منتخب وزیرِاعظم، وزراء اور دیگر منتخب نمائندے پارلیمنٹ میں آنے کا تکلف کریں یا نہ کریں اس سے کسی کو بھی سروکار نہیں ہونا چاہیے۔ ان حضرات کے نزدیک ملک میں سول سپرمیسی اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتی جب تک آرمی چیف دن میں کم ازکم ایک بار وزیرِاعظم کے سامنےدست بدستہ پیش ہوکر کورنش نہ بجالایا کرے، رہے نام اللہ کا۔

3- سنجیدہ اور متوان سیاسی کارکنان
یہ فیس بک بلکہ ملک بھر میں پائے جانے والے دانشوروں کی سب سے کمیاب قسم ہے۔ یہ حضرات جس سیاسی جماعت اور لیڈر کو ملک کےمفاد میں بہتر سمجھتے ہیں، ڈنکے کی چوٹ پر اس کی حمایت کرتے ہیں اور جس ایشو پر اپنی جماعت کے کسی بھی لیڈر کو غلط سمجھتے ہیں وہاں تنقید کرنے سے بھی نہیں چوکتے۔ کسی بھی ایشو پر اگر آپ ان سے اختلاف رکھتے ہیں توآپ کم علمی کا طعنہ ملنے یا بلاک ہوجانے کے خوف کے بغیر اس اختلاف کا برملا اظہار کرسکتے ہیں اور اس کے جواب میں آپ کو حتی المقدور صفائی بھی دی جائے گی۔ اگر آپ کا اعتراض مدلل اور درست ہو تو ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ جہاں ان حضرات نے بھرپور علمی رویہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی رائے سے رجوع کرتے ہوئے باقاعدہ معذرت کی۔ اپنی رائے کو حرفِ آخر نہ ماننے اور غلطی کا احساس ہونے پر سرِ عام معذرت کرلینے کا رویہ ہی راقم کے خیال میں ان حضرات کے جغادری قسم کے دانشور نہ بن پانے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ اللہ ان حضرات کو فی زمانہ انتہائی غیر دانشوارانہ سمجھے جانے والے اس رویے پر قائم و دائم رکھے، آمین۔

4- جگت قبیلہ
یہ وہ افراد ہیں جن کی فیس بک پر موجودگی کا پہلا اور آخری مقصد سیاست نہیں ہوتی مگر رسمِ دنیا نبھانے کو یہ کسی نہ کسی سیاسی جماعت کے ساتھ ہمدردی ضرور رکھتے ہیں۔ اس کے باوجود اس جماعت اور اس کے لیڈر کے ایجنڈے کی ترویج و دفاع ان کی اولین ترجیح نہیں ہوتی۔ سوشل میڈیا پر ان کی موجودگی کا سب سے بڑا مقصد ہر طرف پھیلی کشیدگی میں سے مزاح کشید کرنا ہوتا ہے۔ کسی بھی بڑے سیاسی و اقعے پر جہاں اوپر بیان کیے گئے تمام سیاسی سپورٹران اپنے اپنے سیاسی بتوں کے دفاع کی تیاری کررہے ہوتے ہیں، یہ قبیلہ چموٹا ہاتھ میں پکڑے میدانِ فیس بک میں کود پڑتا ہے اور جگتوں سے کشتوں کے پشتے لگاتا چلا جاتا ہے۔ یہ افراد عموماً اس بات میں فرق کرنا درخور اعتناء نہیں سمجھتے کہ ان کے جگتانہ حملوں کی زد میں آنے والی سیاسی شخصیت ان کی پسندیدہ سیاسی جماعت سے ہے یا مخالف سیاسی جماعت سے۔ دریں اثناء یہ کسی بھی جگہ پر ہورہی انتہائی سنجیدہ گفتگو کا اپنے ایک غیر سنجیدہ جملے سے بیڑہ غرق کرنے کی صلاحیت سے مالامال ہوتے ہیں اور کسی بھی فورم پر اپنی اس صلاحیت کا استعمال کرنے میں کسی قسم کی کنجوسی کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ تجربے سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ جہاں دلیل کام نہ آئے، وہاں برجستہ جگتوں کا ہتھیار خاصا فائدہ مند ثابت ہوتا ہے کہ اگر آپ اگلے بندے کو قائل کرنے میں کامیاب نہ بھی ہوئے اور فریقِ مخالف گالیاں دینے پر اتر آیا تو یہ آپ کے لیے اخلاقی فتح کے ساتھ ساتھ اخروی ثواب کا بھی باعث ہوگا۔

علاوہ ازیں، قوم کے عمومی رویے کے پیشِ نظر اور متضاد سیاسی نظریات کے باوجود آپس میں جگت بازی کے مضبوط تعلق کے باعث راقم کے خیال میں فیس بک پر موجود تمام افراد میں اس طبقے کے نمائندہ افرادکی تعداد سب سے زیادہ ہے۔
وما علینا الاالبلاغ۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: