نواز شریف کا بیانیہ —- سلمان عابد کا تجزیہ

0
  • 6
    Shares

پاکستان کے اہل دانش میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے بیانیہ کی مخالفت اور حق دونوں حوالوں سے اپنا اپنا نکتہ نظر پایا جاتا ہے۔ دونوں اطراف کے لوگ اپنے اپنے دلائل کے ساتھ اپنا مقدمہ پیش کررہے ہیں۔ بنیادی طو رپر معاشرے میں پہلے سے موجود سیاسی تقسیم نے ان معاملات میں دلیل کے مقابلے میں جذباتیت کے رنگ کو زیادہ نمایاں کیا ہے اور یہ ہی وجہ ہے کہ بعض اوقات سچ کا عمل پیچھے رہ جاتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ نواز شریف کا جمہوریت او رقانون کی حکمرانی کے حق سمیت سول حکمرانی اور فوجی مداخلت کو ختم کرنے کا یہ بیانیہ ایسے موقع پر سامنے آیا جب وہ اپنے سیاسی کیرئیر کے بدترین بحران کے عمل سے گزررہے ہیں۔مسئلہ محض قانونی محاذ تک ہی محدود نہیں بلکہ سیاسی محاذ پر بھی ان کی جماعت کے بیشتر ارکان اسمبلی ان کی سیاست کو خیرباد کہہ کر تحریک انصاف کا حصہ بن گئے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ نواز شریف کے بقول جن لوگوں نے ان کی پارٹی کو چھوڑا ہے وہ دھونس اور دباو کا نتیجہ ہے جو پس پردہ قوتوں کی مدد سے ان کے خلاف کھیل کھیلا جارہا ہے۔نواز شریف نے حالیہ دنوں میں جس انداز سے پاکستان کی سیاسی تاریخ اور بالخصوص ان سے جڑی ہوئی فوجی مداخلتوں کی کہانی کو بے نقاب کیا ہے وہ سیاسی و عسکری حلقوں میں کافی زیر بحث ہے۔

بنیادی طور پر نواز شریف اتنا سچ بول رہے ہیں جتنی ان کی سیاسی ضرورت ہے۔ عمومی طور پر مکمل سچ کا اظہار مشکل ہوتا ہے،کیونکہ یہ سب جانتے ہیں او رہماری سیاسی تاریخ کا حصہ ہے کہ نواز شریف کی مجموعی سیاست اسٹیبلیشمنٹ کی مدد اور حمایت سے ہی آگے بڑھی ہے۔اگرچہ وہ اب عمران خان کو اسٹیبلیشمنٹ کا لاڈلا کہہ رہے ہیں، اگر یہ بات درست بھی ہے تو اس سے قبل وہ خود اسی اسٹیبلیشمنٹ کے لاڈلے کے طور پر اپنا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ اسٹیبلیشمنٹ بے نظیر کی مخالفت میں نواز شریف کارڈ کی ماضی میں حمایت کرتی رہی ہے۔ شہباز شریف اور چوہدری نثار وہ لوگ ہیں جو نواز شریف اور فوج کے درمیان بہت سے معاملات میں ضامن کا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ اس لیے نواز شریف کو چاہیے کہ وہ حالیہ بیانیہ سے قبل اس بات کا بھی اعتراف کریں کہ وہ اسی اسٹیبلیشمنٹ کی مدد سے اپنا سیاسی کھیل کھیل کر مخالفین کو شکست دیتے رہے ہیں۔

دراصل نواز شریف کا حالیہ بیانیہ ان کی سیاسی مجبوری ہے، کیونکہ ان پر سنگین نوعیت کے کرپشن او ربدعنوانی کے الزامات ہیں۔ ان کے خلاف مقدمات عدالتوں میں ہیں او رکسی بھی وقت ان کے خلاف فیصلے بھی آسکتے ہیں۔ اس لیے یہ ضروری تھا کہ نواز شریف کرپشن کے تناظر میں ملنے والی سزاوں کو سیاسی انتقام اور اسٹیبلیشمنٹ عدلیہ گٹھ جوڑ سے جوڑ کر خود کو سیاسی شہید بنا کر پیش کرے۔ یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ پچھلے دو برسوں میں وہ عدالتوں میں اپنی بے گناہی کے وہ تمام بنیادی نوعیت کے ثبوت پیش نہیں کرسکے جو ان کی بے گناہی کو ثابت کرسکے۔

یہ بھی ذہن نشین رہے کہ نواز شریف سول بالادستی کی بات تو کرتے ہیں لیکن جب بھی ان کواقتدار ملا اسی سول بالادستی کو انہوں نے اپنے سیاسی طرز عمل سے شدید نقصان پہنچایا۔ وہ سیاست میں فوجی مداخلت کے خلاف ہیں، لیکن اگر یہ ہی مداخلت ان کے حق میں ہو تو اس پر ان کو کوئی اعتراض نہیں۔پارلیمانی جمہوری سیاست میں وزیر اعظم پوری پارلیمنٹ سمیت تمام اداروں کو جوابدہ بھی ہوتا ہے۔ لیکن نواز شریف کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ کسی کو جوابدہی کے لیے تیار نہیں۔ فوج کو بھی وہ ویسے ہی چلانے کے خواہش مند ہیں جیسے وہ پنجاب کی پولیس کو چلاتے ہیں۔

نواز شریف کا حالیہ بیانیہ کسی جمہوری سیاست کی مضبوطی سے نہیں بلکہ عملی طور پر اپنے خلاف ہونے والی سیاست کے شدید ردعمل کا نتیجہ ہے۔ وہ اداروں کے خلاف جس شدت سے بات چیت کررہے ہیں اس میں ان کے غصہ کا پہلو خاص طو رپر نمایاں ہے۔نواز شریف کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ سول بالادستی کا عمل کبھی بھی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوتا۔ اس کے لیے عملی طور سول حکومت کو اپنی داخلی جمہوریت اور حکمرانی کے نظام کو مضبوط بنا کر خارجی مسائل سے نمٹنا ہوتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ نواز شریف سمیت کئی سیاست دان خارجی مسائل یا مداخلت کا رونا تو روتے ہیں، لیکن اپنے داخلی مسائل اور تضاد کا اعتراف کرنے کے لیے تیار نہیں۔

ہمارے جو دوست نواز شریف کی مزاحمت کو جمہوری مزاحمت سے جوڑتے ہیں ان کو سب سے پہلے نواز شریف کی اب تک کی سیاست اور جمہوریت کا تقابلی جائزہ لینا چاہیے۔ کیا واقعی نواز شریف کی حالیہ لڑائی جمہوریت کے حق کے لیے ہے یا اس کے پیچھے ماضی کی طرح اب بھی ان کی ذاتی اور خاندانی سیاست کے مفادات اہم ہیں۔ اگرو اقعی نواز شریف کی یہ لڑائی حقیقی ہوتی تو وہ اپنے بھائی شہباز شریف کو آج بھی فوج کے رحم و کرم پر نہ چھوڑتے کہ وہ اب بھی ان سے مصالحت کا کوئی راستہ نکالے۔ نواز شریف اور شہباز شریف کا سیاسی طرز عمل ظاہر کرتا ہے کہ دونوں ایک پیچ پر ہیں اور باہمی رضا مندی سے اپنے اپنے حصہ کا کردار ادا کررہے ہیں۔

جو لوگ یہ کہتے تھے کہ نواز شریف کی پارٹی تقسیم نہیں ہوگی، اس کا منظر بھی سب دیکھ رہے ہیں کہ پارٹی کا شیرازہ بکھر رہا ہے او رآنے والے دنوں میں اس میں اور زیادہ بحران کا سامنا شریف برادران کو دیکھنا پڑے گا۔ کیونکہ قانونی اور سیاسی محاذ پر ان کی ساری لڑائی تضادات سے جڑی ہوئی ہے۔ اس پانامہ کے مقدمہ میں جس انداز سے نواز شریف نے بڑی تعداد میں یوٹرن لیے ہیں وہ سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ ان کے پاس اپنی صفائی کے لیے کچھ نہیں۔ اب منطق دی جارہی ہے کہ ووٹر ان کے ساتھ کھڑ ا ہے۔ اس کے لیے بھی ہمیں ماضی کی سیاست اور مسلم لیگ کے ووٹ بینک کا تجزیہ کرنا چاہیے جو ہمیشہ سے طاقت کی سیاست کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ نواز شریف کے حالیہ بیانیہ پر ان کی مجموعی جماعت بھی ان کے ساتھ نہیں۔ کیونکہ یہ بیانیہ محض نواز شریف کے حق میں ہے اور پارٹی اس کو اپنی مخالفت کے طور پر لیتی ہے۔پارٹی میں چند لوگ ہیں جو نواز شریف کے ساتھ ہیں اور اس میں بھی ان کے باہمی مفادات موجود ہیں۔اس لیے جو لوگ پارٹی چھوڑ رہے ہیں اس کی وجہ محض اسٹیبلشمنٹ نہیں بلکہ نواز سریف کا یہ بیانیہ بھی ہے جو طاقت ور سیاسی امیدوار اپنے خلاف سمجھتے ہیں۔ا س میں کوئی شک نہیں کہ سیاست میں فوجی مداخلت کا خاتمہ ہونا چاہیے، لیکن جو طور طریقہ نواز شریف نے اختیار کیا ہوا ہے اس سے فوجی مداخلت کمزور نہیں بلکہ اداروں میں ٹکراو بڑھے گا۔ نواز شریف خود کو بند گلی میں لے جارہے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنی پارٹی کو بھی ایسی صورتحال سے دوچار کر رہے ہیں جو انتخابات میں ان کو اور زیادہ پیچھے دھکیل دے گی۔

salmanabidpk@gmail.com

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: