اسلامی بینکاری اور اعتراضات ۔ بنیادی حقائق — جاوید اقبال راؤ

0
  • 13
    Shares

اسلامی بینکاری پر بہت سے اعتراضات ہیں اور رہیں گے۔ کسی بھی مذہبی، سماجی یا معاشی ادارے پر اعتراضات ہوتے ہیں۔ ایسے اعتراضات کو دور کرنے کی کوششیں بھی جاری رہتی ہیں۔ لیکن یہ یاد رہے کہ اسلامی ادارے بنانے کا ایک مقصد ہے اور وہ یہ کہ غیر اسلامی اداروں کے مقابلے میں اسلامی ادارے موجود ہوں۔ اگر اسلامی اداروں کو کسی غیر قانونی یا نامناسب پابندی کا سامنا ہے تو اسے دور کردیا جائے۔ لیکن یہ ادارے وقت کیساتھ ساتھ ہی ترقی کریں گے۔ انکے اندر موجود خامیاں بھی وقت کیساتھ ساتھ ہی دور ہوں گی۔ یکدم اور فوری طور پر خامیاں دور کرنے کا کوئی طریقہ موجود نہیں۔

بنک کی اس ہیئت پر مسلمان دانشوروں نے کئی دہائیاں لکھا۔ اسکے طریقہ کار پر بحث کی۔ اس کے مسائل کی طویل بحثیں موجود ہیں۔ اس لئے یہ ایک ادارہ ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اسلامی بنک بھی مغربی بنک ہی کی مانند ایک غیر اسلامی ادارہ ہے ہے۔ یہ صرف ایک مشروب کا نام بدلنا ہے۔ اندر موجود مواد اور انداز وہی ہے۔ ایسے لوگ جلد بازی میں ایک اسلامی ادارے کو الزام دے رہے ہیں۔ اگر اس الزام میں کوئی حقیقت ہوتی تو اس پر پہلے سے کام ہوچکا ہوتا۔ کوئی نہ کوئی دوسری قسم کا مالیاتی اسلامی ادارہ وجود میں آجاتا۔ اب اس تنقید کے نتیجے میں ممکن ہے کہ کوئی نہ کوئی اس پر کام کرلے اور کوئی نئی طرح کا مکمل اسلامی اور باصول طریقہ کار یا ادارہ وجود میں آجائے۔ لیکن ایسا کہنا آسان اور کرنا مشکل ہے۔ جنہیں تنقید کرناہے، وہ تنقید کرتے ہی رہتے ہیں۔ پروفیسر خورشید، ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی اور عمر چھاپرا نے اس موضوع پر چار دہائیاں قبل ابتدائی کام کیا۔ مولانا تقی عثمانی صاحب نے بھی اسلامی بنک کی تائید کی۔ اسلامی بنک پر موجودہ تنقید 2008 میں شروع ہوئی۔ یہ تنقید نئی ہے۔ اس کے نتائج آنا باقی ہیں۔ نتائج سے مراد مسلم معاشرے میںایسے ادارے وجود میں آنا جنہیں بچتوں کے استعمال، سرمایہ کاری، پیداوار و تجارت میں مدد دینے کیلئے مثالی مانا جاسکے۔ ایسے ادارے وجود میں آئیں تو ان پر تنقید کی جاسکتی ہے۔ اداروں کے وجود میں آنے سے قبل یہ فقط ایک نظریاتی بحث ہے۔ عملی اداروں پر حقیقی تنقید کرنا ممکن ہے۔ دراصل بچتیں ہر معاشرے میں بڑھوتری کی بنیاد ہیں۔ جس بھی جینئیس نے لوگوں کی بچتوں کو درست انداز میں استعمال کیا وہ کامیاب ٹھہرا۔ موجودہ دور میں ہی بچتوں کو بنکوں کی شکل میں استعمال نہیں کیا گیا۔ اس سے قبل بھی اسکی عظیم الشان مثالیں موجود ہیں۔

ہمارے پیغممبر نبی کریم ﷺ نے مسلم معاشرے کے افراد کو اپنی بچتیں جمع کرنے کا جب بھی حکم دیا تو تمام معاشرے نے مکمل بچتیں ہی نہیں بلکہ اپنی ضرورت کی اشیاء تک مکمل طور پر لاکر حوالے کردیں۔ اسکی ایک مثال قل العفو ہے۔ اسکی ایک وجہ تو تمام معاشرے کا اعتماد تھا۔ دوسری جانب معاشرے کی بچتوں کے بہترین استعمال نے تمام میدانوں میں کامیابی دلوانے اپنا کردار ادا کیا۔ یہ یاد رہے کہ بچتوں کے استعمال پر فوری وعدہ کوئی نہیں تھا۔ نہ سود اور نہ ہی منافع۔ تمام وصولی اﷲ کے نام پر فی سبیل اﷲ کی جاتی تھی۔ اس پر وصول ہونے والا تمام منافع برابر تقسیم نہیں کیا جاتا تھا۔ جس نے رقم صرف کی ہوتی تھی، اس کو واپس کچھ ملنے کی ضمانت نہیں تھی۔ یہ توکل علیٰ اﷲ کا نظام تھا جس میں مکمل یقین رکھنے کے بعد کامیابی حاصل ہوتی تھی۔ اگر وصولی جنگ کیلئے ہوتی تھی تو واپسی پر مالِ غنیمت وصول ہوتا تھا۔ مالِ غنیمت کی تقسیم کے اپنے اصول ہیں۔ انکا دولت سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں تھا۔ پھر اسکا بیسواں حصہ (خمس) مخصوص مدّات میں صرف ہوتا تھا۔ یہ طریقہ کار اہم تھا۔ اس پر یقین کرلینے کے بعد کامیابی کی صورت میں کچھ حاصل ہوتا تھا، لیکن وہ حاصل حصول تمام معاشرے میں اسلامی بنیادوں پر تقسیم کیا جاتا تھا۔ امیر طبقات ایسے مالِ غنیمت پر اپنا حق نہیں جتا سکتے تھے۔ غریب افراد کو زکوٰۃ کی وصولی میں سے زیادہ حصہ ملتا تھا۔ اس بناء پر معاشرہ برابر کی ترقی کرتا رہا۔ مکمل معاشرہ پھیلا۔ لیکن ایسا نہیں ہؤا کہ اسلامی مقاصد کیلئے صرف ایک ہی بار وصولی کی مہم چلائی گئی ہو۔ بارہا ایسا کیا گیا۔ بعض اوقات ایک ہی سال میں بار بار ایسا کرنا پڑا۔ اس کے نتیجے میں مکمل معاشرے کی تمام بچتیں قریب قریب استعمال ہوگئیں۔ کسی کے پاس شاید ہی کچھ بچا ہو۔ اس کا ایک اہم نتیجہ یہ تھا کہ معاشرے میں صرف اسلامی یا ریاستی مقاصد ہی کیلئے رقم کی بڑی مقدار استعمال ہوجاتی تھی۔ ذاتی، گروہی یا قبائلی مقاصد کیلئے استعمال نہیں ہوتا تھا۔ اس بناء پر اسلامی مقاصد حاصل ہوتے چلے گئے۔ ذاتی مقاصد کی قربانی دینا پڑی۔ بچتوں کے استعمال کا ایسا جینئس یا نابغۂ روزگار استعمال اس سے قبل کم ہی ہؤا تھا۔ بعد میں بھی ایسی مثالیں کم ہی مل پائیں گی۔

بنکوں کا آغاز بھی بچتوں کے استعمال کا ایک طریقہ ہے۔ یہ طریقہ کار اسلامی انداز کی طرح سے مثالی نہیں لیکن اس کے نتیجے میں بچتوں کو استعمال میں لانے کا موقع ملتا ہے۔ خصوصاً جمہوری معاشروں میں جہاں بہت سے معاشی مسائل انفرادیت کی وجہ سے وجود پاتے ہیں، انہیںمعاشہ طور پر اس انداز میںحل کرنا ممکن ہوتا ہے۔ معاشروں میں لوگوں نے خود ہی سوچ سمجھ کر اپنی بچتیں جمع کیں اور بنکوں پر اعتماد کیا۔ جسکے نتیجے میں بچتوں کو استعمال میں لانے کا ایک فطرتی ذریعہ حاصل ہؤا۔ اس ذریعے سے سرمایہ کاری کی گئی اور پیداوار میں اضافہ ہؤا۔ وسائل کو استعمال میں لایا گیا۔

اگر اس طریقہ کار میں سے سود اور غرر (دھوکے بازی) کے عنصر کو نکا ل دیا جائے تو نامناسب وناجائزبینکاری ختم ہوجاتی ہے۔ مسلم معیشت دانوں نے ناجائز طریقہ کار کو ختم کرنے کیلئے اسلامی اصولوں کو سمجھنے اور انہیں بچتوں کے جدید طریقۂ استعمال پر آزمانے کیلئے سفارشا ت پیش کیں، جنہیں معاشی ماہرین نے تسلیم کرلیا۔ یہ بہت سست لیکن مناسب اندازِ اصلاح تھا جس سے معیشت کے بتدریج سلجھنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔ اس عمل پر تنقید ضرور ہونی چاہئیے۔ لیکن تنقید کے عمل میں اسلامیت کی کوششوں پر مسلم معیشت دانوں کو خراجِ تحسین بھی پیش کرنا چاہئیے۔

کچھ علماء نے اسلامی بنک کے خلاف فتوے جاری کئے ہیں۔ ان کی رائے کے مکمل احترام کیساتھ یہ انتظار کرنا ہوگا کہ اسکے نتیجے میں عملی میدان میں کونسا ادارہ وجود میں آتا ہے اور اسکے کیا اثرات و نتائج ہونگے اور وہ موجودہ اسلامی بنک سے کیسے مختلف ہوگا۔ مسلمانوں ہی کے بنائے گئے ادارے کو رد کردینا آسان ہے۔ ایسے علماء سے امید ہے کہ وہ عمل کے میدان میں جلد قدم رکھیں گے۔ دراصل ایسے کسی حقیقی اسلامی ماڈل کو موجودہ اسلامی بنک سے قبل وجود میں آنا چاہئیے تھا۔ یاکم از کم اب وجود میں آجانا چاہئیے۔ علماء کی موجودہ تنقید کو دیکھا جائے تو اس میں مدینہ ہی کے اسلامی ماڈل کو اپنانے کا ذکر ہے۔ اگر ویسا ماڈل اپنالیاجائے تو بہت اچھا ہوگا۔ لیکن اس ماڈل کے مکمل طور پر وجود میں آنے سے قبل موجودہ اسلامی تجربے کے فوائد کو بھی سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئیے۔

اب اسلامی بنک پر دوسری تنقید کی جانب آتے ہیں۔ مسائل پر بحث ہونا اچھی نشانی ہے۔ جیسے اسلامی بنک ایک ادارہ ہے، اسی طرح سے مدارس اور مساجد بھی دینی ادارے ہیں۔ پاک و ہند میں یہ دونوں اپنے بالمقابل اداروں؛ مندر اور آشرم کے مقابل بنائے گئے۔ لیکن کسی نے مندر کو زبردستی ختم نہیں کیا۔ مندر موجود رہے۔ مندر آج بھی پاکستان اور مشرقی پاکستان کے مسلم معاشرے میں موجود ہیں۔ جب جنرل ضیاء الحق کی اسلامی حکومت موجود تھی، جس نے روس کیساتھ کھل کر جہاد کیا، تب بھی یہ موجود رہے۔ اورنگ زیب عالمگیر کے عہد میں ادارے بند نہیں ہوئے۔ نہ ہی شمس الدین التمش نے ایسا کوئی اقدام کیا۔ یہ یاد رہے کہ التمش، عالمگیر اور ضیاء الحق، ان تمام کے ادوار میں انہیں عمل سے روکنے والی کوئی عالمی طاقت و قوت کارگر نہیں تھی۔ ان مسلمان سلاطین کے اقدامات دراصل مسلم اندازِ عمل کا حصہ ہیں۔ لیکن مدارس کے وجود میں آنے کے بعد مدارس کو کسی نے واحد ذریعہ تعلیم قرار دیا اور نہ ہی بند کیا۔ یہ تمام اداراتی مہم جوئی ہے۔ جس ادارے کا نتیجہ ملک و قوم کیلئے زیادہ فائدہ مند ہوگا، وہ ترقی کریگا۔ پھلے پھولے گا اور ناکام ادارہ بند ہوجائیگا۔ یہی اسکا کل علاج ہے۔ کوئی ایک ادارہ یہ کہہ ہی نہیں سکتا کہ باقی ادارے بند کردئیے جائیں۔ ادارے قائم رہے اور رکھے گئے۔ یہ قائم رکھے جائیں گے۔

یہاں یہ بھی یاد رہے کہ مغربی ممالک کے کہنے پر کسی ایک ادارے کے خلاف کاروائی کرنا ظلم اور زبردستی ہی شمار ہوگا۔ ایسا کرنے والوں کے خلاف کیا کیجئیے کہ اپنی طاقت اور عالمی حمایت کی بناء پر ایک ادارے کو نامناسب طور پر تنگ کیا گیاہے۔ کاش اداراتی تھانے ہوتے تو ایسے اداروں کیخلاف بھی کوئی کاروائی کی جاسکتی جنہوں نے اپنی اداراتی حیثیت میں راتوں رات اضافے کے نتیجے میں دوسرے اداروں کو دبانے کا ناجائز ہتھکنڈہ استعمال کیا۔ یا کم ازکم ایف آئی آر ہی جمع کروادی جاتی۔ کہ جب بااثر اور طاقتور کا زور کم ہوجائے تو ایف آئی آر پر عمل درآمد ہوسکے۔

دوسری جانب اسلامی بنک کیلئے عجیب و غریب طرزِ فکر ہے۔ کچھ لوگ تو چاہتے ہیں کہ غیر اسلامی بنک یکلخت بند کردئیے جائیں۔ یہ عجیب و غریب انداز ہے۔ اسلامی بنک اپنی رفتار سے بڑھتے رہیں گے اور ایک دن سودی بنک خود ہی بک جائیں گے یا بند ہوجائیں گے۔ ایسا فقط اسلامی بنکوں کی کارکردگی کی بنیاد پر ہوگا۔ عوامی شعور و آگہی کی مہمات چلانے کے نتیجے میں ہوگا۔ جس سے لوگوں کو اسلامی معیشت اور سود کی خرابیوں کا اندازہ ہوسکے۔ ایسا ہونا ممکن ہے۔ ایسا کیا جاسکتا ہے اور ایسا کیا جانا چاہئیے۔

اسلامی بنک پر اعتراض ہے کہ وہ شرعی معیار کاکام نہیں کرتے۔ اسلامی بنک بالکل ہی رسمی ہیں۔ وہاں غیر اسلامی اور غیردینی بنکاری کی جارہی ہے۔ یہ بھی نادرست ہے۔ اسلامی بنکوں میں خرابیاں ہونگی۔ لیکن اسلامی بنک بطور ادارہ تسلیم کرلئے گئے ہیں۔ یہ بڑی کامیابی ہے۔ اسلامی اصول ہائے معیشت کو عالمی سطح پر بطور قانونی و عملی روایت مقام مل چکا ہے۔ یہ بطور ادارہ وجود میں آئے ہیں۔ اب اس ادارے میں بہتری، اس کے مسائل میں کمی اور اسکے معیار میں اضافے کیلئے کوششیں ضرور کرنی چاہئیں۔ اگر اس میں کوتاہی کی جائیگی تو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ ہاں اس کام کی تکمیل کیلئے کئی دہائیاں یا شاید اس سے بھی طویل عرصہ درکار ہوگا۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: ربا اور سود میں فرق (پہلی قسط) ۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد انور عباسی 

 

اداروں کا قیام مشکل ہوتا ہے لیکن انہیں انہیں درست راستے پر لانا اور درست رکھنا مشکل تر ہوتا ہے۔ جیسے مدارس بہت پہلے قائم ہوگئے تھے۔ پہلے پہل عربوں نے ساتویں صدی عیسوی میں ہی مالابار کے ساحلوں پر اترتے ہی مکتب قائم کردئیے۔ سندھ کے علاقے میں مدارس آٹھویں اور دسویں صدی میں قائم ہوئے۔ یہ آج تک قائم ہیں۔ کچھ مدارس کئی صدیاں پرانے ہیں۔ اساتذہ و علماء کی کئی نسلیں ان مدارس میں کام کرچکی ہیں۔ مدارس کے انتظام میں مسائل رہے۔ لیکن انکی بہتری کی تجاویز بھی موجود رہیں۔ یہ آج بھی موجود ہیں اور انکی بہتری کی تجاویز ختم ہونے میں نہیں آرہیں۔ مدارس کی بہتری کیلئے ڈیڑھ سو سال قبل قائم ہونے والے ادارے دیوبند نے غیرمعمولی کردار ادا کیا۔ لیکن اس پر بس نہ ہوئی۔ پھر جماعت اسلامی اور ندوۃ العلماء نے اس پر کام کیا۔ اپنے اپنے مدارس قائم کئے بلکہ مدارس کے سلسلے قائم کئے۔ لیکن یہ بھی اختتام نہ تھا۔ ڈاکٹر اسرار اور انکے علاوہ منہاج القرآن کے اصحاب نے اس پر کام کیا۔ اپنے اپنے ادارے بنائے۔ انکے بعد جدید دور میں سکولوں کی طرز پر مدارس اور سکول کے امتزاج کے ساتھ ادارے قائم کئے جارہے ہیں۔ کہیں اقراء روضۃ الاطفال ہے تو کہیں دارِ ارقم۔ ہر دور میں مدارس کی ایک نئی شکل اور انداز سامنے لایا گیا۔ کوالٹی کو بہتر سے بہتر کرنے اور مسائل کو کم سے کم کرنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن کسی نے سابقہ پر اطمینان کا اظہار نہیں کیا۔ نئے مدارس کیساتھ تحقیقاتی ادارے بھی قائم کئے گئے۔ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے پروگرام بھی لائے گئے۔ طلبہ کو زیادہ سے زہادہ سہولیات دی گئیں۔

ایسے ہی بنکوں کیساتھ بھی ہوگا۔ یہ بنک بطور ادارہ کام کرتے رہیں گے۔ اسلامی بنکوں پر اعتراضات ہوتے رہیں گے۔ یہ اعتراضات حقیقی بھی ہونگے۔ ان اعتراضات کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ اسلامی بنک بند کردئیے جائیں۔ یہ ناکام ہوچکے ہیں۔ یا انکے ذریعے سے اسلام کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ یا سیکولر لابی یہ کہے کہ اسلامی بنکوں سے جان چھڑائی جائے۔ ہرگز نہیں۔ اسلامی بنکوں کو کام کرنے کی اجازت ملی۔ یہ نئے ادارے ہیں اور ان اداروں کو وقت کیساتھ بڑھنا اور پھیلنا ہے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: اسلامی بینکنگ: مسئلہ کیا ہے؟ انور عباسی کا جواب

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: