کبھی تھپڑ، کبھی جوتا، کبھی سیاہی —- رئیس احمد صمدانی

0
  • 48
    Shares

سیاست میں کوئی بات حرف آخر نہیں ہوتی، سیاست داں اپنی بات سے پیچھے ہٹنے میں دیر نہیں لگاتے۔ جھوٹ گوئی گایا ان کے لیے عام سے بات ہے۔ پاکستان میں سیاست کا چلن عرصہ دراز سے اسی قسم کا چلا آرہا ہے۔ کنگ پارٹی کی اصطلاح اس سیاسی پارٹی کے لیے استعمال ہوتی ہے جس کے بارے میں گمان ہوجائے کہ یہ پارٹی مستقبل قریب میں ہونے والے انتخابات میںاکثریت حاصل کرلے گی۔ انتخابات 2018ء کی گہما گہمی شروع ہوچکی ہے۔ سیاسی جماعتوں نے باقاعدہ الیکشن مہم شروع کردی ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ تویہ بتاتی ہے کہ انتخابات کے قریب سیاسی ہوا کا رخ معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کا رخ کس جانب ہے۔ چنانچہ سیاسی بٹیرے ہوا کا رخ دیکھ اپنی اڑان کی سمت بدلنے میں دیر نہیں لگاتے۔ جنرل ایوب خان اقتدار پر قابض ہوئے، کچھ عرصہ وردی کی چمک کے ساتھ حکومت کی، آخر الیکشن کا رخ کیا مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح سے مقابلہ ہوا، چوٹی کے سیاسی بٹیروں مادر ملت کے خلاف ایوب خان سے جاملے، اس لیے کہ انہیں نظر آرہا تھا کہ ایوب خان نے ہی اقتدار میں رہنا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ایوب خان کو للکارا اور سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی بنائی، ادھر بھٹو صاحب تھے ادھر شیخ مجیب الرحمٰن، مغربی خطہ بھٹو صاحب نے فتح کیا جب کہ مشرقی میں شیخ مجیب الرحمٰن کو فتح حاصل ہوئی، اس تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں کہ اقتدار کس کو ملنا چاہیے تھا کس کو ملا، جمہوری نظام سے ملک ایک بار پھر فوجی ڈکٹیٹر کے ہاتھوں میں چلا گیا، ہر فوجی ڈکٹیٹر ابتدا میں ملک اور قوم کی فلاح و بہبود کے گن گاتا ہے، جانے والوں کو دنیا کا کرپٹ ترین بتا تے نہیں تھکتا، کچھ عرصہ بعدجمہوریت کی جانب واپسی کا خیال آتا ہے، کسی نے غیر جماعتی بنیاد پر انتخابات کرائے، کسی نے سیاسی پارٹی بنائی، کسی نے سیاسی پارٹی پر ہاتھ رکھا اور اس کی سربراہی سے اقتدار کو طول دیا گیا۔ جنرل ضیاء الحق نے بھی یہی کچھ کیا، بھٹو اور پارٹی دنیا کی خراب ترین سیاسی جماعت قرار دینے کے بعد، نوے دن کا کہا اورپھر کوشش کی امیر المومنین بننے کی، پر خواہش دل کی دل میں ہی رہ گئی، سارے سیاسی بٹیرے ضیاء الحق کے پیچھے لگ گئے، ان میں میاں نواز شریف بھی تھے۔ سب سے پہلے پنجاب کے وزیر خزانہ بنائے گئے۔ کہاں کی جمہو ریت، کہاں کے اصول اور کہاں کی عوام۔ ضیاء ا لحق کے بعد باریاں لگنے لگیں۔ بے نظیر، نواز شریف، آصف زرداری، نواز شریف، ایک دوسرے کوفیسی لیٹیٹ کرتے رہے۔ نواز شریف پہلی بار مدت پوری نہ کر سکے، صدر مملکت کے ہاتھوں اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑا، دوسری بار فوجی جنرل نے انہیں نکال باہر کیا، پرویز مشرف نے انہیں کال کوٹھری میں ڈالا پر ان کے سعودی دوست کام آئے اور وہ سعودی عرب چلے گئے۔ واپسی ہوئی، 2008ء کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کو حکومت ملی تو نون لیگ نے انہیں سہارا دیا، 2013کے انتخابات میں نواز شریف کو حکومت ملی چار سال تک زرداری صاحب میاں صاحب کے دوست رہے، حکومت قائم رہنے میں مددفراہم کرتے رہے۔ تیسری مرتبہ نواز شریف پانامالیکس میں دھر لیے گئے، سپریم کورٹ نے انہیں نا اہل قرار دے دیا۔ کہتے ہیں کہ بکرے کی ماں کب تک خیر مناتی۔ میاں صاحب تل ملا کر رہ گئے، کبھی ایک بیانیہ، کبھی دوسرا اور کبھی تیسرا، دونوں باپ بیٹی کے سمجھ میںکچھ نہیں آرہا کہ کیا کریں۔ ڈرا کر دھمکا کر دیکھ لیا، بیانیہ بدل بدل کر دیکھ لیا، کچھ حاصل نہیں، ان کے پیادے الگ باولے ہوگئے، کہنا کچھ ہے کہہ کچھ رہے ہیں، نہال ہاشمی کا انجام سب کے سامنے، دانیال عزیز، طلال چودھری، عابد شیر علی، توہین عدالت کا کاروئی میں پیشیاں بھگت رہے ہیں۔ گالی گلوچ، برا بھلا کہنا، کھلم کھلا اداروں کی توہین کرنا، مارپیٹ دھکم پیل، کسی کے منہ پر سیاہی ملی گئی تو کسی پر جوتا اچھالا گیا، اب تو نوبت ٹی وی ٹاک شو میں تھپڑ تک پڑنے لگے۔ تھپڑ مارنے والے نے غلط کیاافسوس ناک بات ہے، سیاہی پھینکنے والے نے بھی کچھ اچھا نہیں کیا اور نہ ہی جوتا اچھالنے والے نے کوئی کارنامہ انجام دیا، تحریک انصاف کے نعیم الحق نے ٹی وی ٹاک شو میں نون لیگ کے کے دانیال عزیز کے انہیں چور کہنے پر ایک عدد تھپڑ رسید کردیا۔ لیکن تھپڑ کھانے والے کا حوصلہ تو دیکھیں کہ نہ ندامت، نہ شرمندگی، نہ غیرت، جواب میں اب مار کے دیکھ، اب مارکے دیکھ والی کیفیت تھی۔ معروف شاعرہ عشرت معین سیماؔ جو ہیں تو پاکستانی پر عرصہ دراز سے جرمنی میں مقیم ہیں نے سیاست میں تھپڑ، جوتا اور سیاہی کے حوالے سے خوب قطعہ کہا ؎

میعارِسوچ و عمل کی عجب گواہی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کبھی تھپڑ کبھی جوتا کبھی سیاہی ہے
ہے جاہلوں کو بٹھا یا جو تاج پہنا کر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہی عوام کی خودساختہ تباہی ہے

سیاسی ہوا کا رخ اس وقت تبدیل ہوا جب پاناما کیس سامنے آیا اور نواز شریف کو نا اہل قراردے دیا گیا۔ پھر ڈان لیکس کے بعد نا اہلی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ایک کے بعد ایک نا اہلی یہاں تک کہ وہ پارٹی کے صدارت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔ اب بادشاہ سلامت اور ان کے درباریوں کو محل سے باہر نکال دیا جائے تو ان کی کیفیت تو اس مچھلی کی ہونی ہی تھی جسے پانی سے نکال کر خشکی پر پھینک دیا جائے۔ اب میاں صاحب کے پاس دو ہی راستے تھے، کہ وہ چپ کر کے اقتدار سے الگ ہوجاتے، سیدھے سیدھے عدالتوں میں اپنی بے گناہی ثابت کر تے، عدالت کو جو چیز درکار ہے وہ پیش کرتے، وہ آئیں بائیں شائیں کر کے، ادھر ادھر کی باتیں کر کے، کبھی ججیز کو کبھی عدالت کو کبھی فوج کو نشانہ بنانے لگے۔ انہوں نے اپنا کیس شروع ہی سے خراب کردیا، غلط بیانی کر کے، جھوٹ بول کر، اسمبلی میں کچھ، عدالت میں کچھ، عدالت کے باہر ان کا رنگ کچھ اور پریس کانفرنسیز میں وہ لال پیلے۔ غصے کو حرام کہا گیا ہے۔ غصہ ناجائز مذموم اسی وقت ہے جب کہ وہ ناحق ہو یا اپنی برتری ظاہر کرنے کے لیے ہو۔ میاں صاحب کا عمل یہ بتا تا ہے کہ وہ غصہ کی کیفیت میں ہیں۔ اسی کیفیت میں انہوں نے اپنے بیانیے بدلے، اسی کیفیت میں انہوں نے عدالت کے بارے میں منفی خیالات کا اظہار کیا، اسی کیفیت میں انہوں ریاست کے اہم ادارے کو خلائی مخلوق سے تعبیر کیا۔ اب کہتے ہیں کہ’ میرا جرم مشرف کے خلاف مقدمہ قائم کرنا ہے۔ میں نے سر جھکا کر نوکری کرنے سے انکار کردیا‘۔ وہاں میاں صاحب آپ کتنے بہادر ہیں اس کا اندازہ پوری قوم کو ہے۔ پرویز مشرف نے جب آپ کو کال کوٹھری میں ڈالا تو آپ سے وہ برداشت نہیں ہوا، سعودی دوستوں کے سفارش پر جدہ کی راہ لی۔ دس سال کا معاہدہ کیا، آپ مسلسل اس سے انکاری رہے۔ آپ میں غلط بیانی کی عادت شروع ہی سے ہے۔ اگر آپ یہ کچھ نہ کرتے اور سیدھے سیدھے عدالت کو منی ٹریل بتا دیتے، معاملہ ختم ہوجانا تھا، لیکن آپ سب ہر موضوع پر بات کرتے ہیں منی ٹریل کی بات آتی ہے تو کنی کاٹ جاتے ہیں۔ ایسے کس طرح معاملہ چلے گا، این آر او کے امکانات دور دور نظر نہیں آرہے۔ اب فیصلے کا وقت قریب سے قریب تر ہے۔ کیا ہوگا سوچئے، اس غلط بیانیے نے آپ کو کہا لاکھڑا کیا ہے۔ آپ کے اپنے آپ کے ساتھ دل سے نہیں ہیں، آپ کے بھائی کا بیانیہ آپ سے مختلف ہے، چودھری نثار آپ سے اختلاف رکھتے ہیں۔ کئی نون لیگی خاموش ہیں اس لیے کہ وہ آپ سے اختلاف رکھتے ہیں۔ آپ کی کیفیت میر تقی میر کے اس شعر کی سی ہے ؎

الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا

خلائی مخلوق والے بیانیے سے نون لیگ کی صفوں میں ہل چل مچ گئی۔ نواز شریف کے ایم این اے، ایم پی اے اور سینیٹر جو گزشتہ ساڑے چار سال کے عرصے میں نواز شریف کے سامنے سر جھکائے ہوئے تھے، سینہ تان کر، گردنوں کو اکڑا کر مستقبل کے ’ونگ ہارس‘ جماعت کے گھونسلے کا رخ کر رہے ہیں۔ نواز شریف کا یہ بیانیہ فوج کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ اس نے نون لیگیوں کو اپنی جماعت سے بددل کردیا ہے۔ اس بیانیے کو کالم نگار منصور آفاقی نے ’’کانگریس بیانیہ‘‘، حسن نثار نے ’’شیطانیہ‘‘ اور ہارون الرشید نے ’’خدائی کا نشہ ‘‘ قرار دیا ہے۔ بیانیوں کے نتیجے میاں صاحب تنہا ئی کا شکار ہوگئے ہیں۔ ان کی بیٹی جس کی سیاسی عمرکچھ بھی نہیں، سوچ اور گفتار میں پختگی کا فقدان پایا جاتا ہے۔ میاں صاحب کے حق میں خوب جذباتی تقریریں کررہی ہے۔ نون لیگی کنارہ کش ہوتے جارہے ہیں، کچھ خاموش ہیں، متعدد سینہ ٹھوک کر پی ٹی آئی میں شامل ہوگئے ہیں۔ کچھ دبے دبے الفاظ میں میاں صاحب کی حمایت میں بول جاتے ہیں۔ جیسے جیسے انتخابات قریب آرہے ہیں، نون لیگیوں کو اپنی جماعت کا مستقبل تاریک دکھائی دے رہا ہے، ان کی سیاسی سوچ کا دھارا کپتان کی جانب جا تا نظر آرہا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ مستقبل کا حکمراں کپتان ہی ہوگا۔ سیاسی ہوا کا رخ یہی کچھ بتا رہا ہے حتمی طور پر کچھ کہا نہیں جاسکتا، فیصلہ عوام کو کرنا ہے، سب اچھے اور برے اعمال سے عوام اچھی طرح آگاہ ہیں یقینا وہ جو بھی فیصلہ کریں گے وہ ملک و قوم کے مفاد میں ہوگا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: