میک مرفی اور منا بھائی — ڈاکٹر فرحان کامرانی

0
  • 70
    Shares

لیوٹالسٹائی نے دنیا کو محض عظیم ترین ناول ہی نہیں دیا بلکہ اس کے فلسفے نے بھی ایک عالم کو متاثر کیا۔ ٹالسٹائی کا ناول ’’جنگ و امن‘‘ تو تاریخ کو شخصیات کے بجائے تاریخی قوتوں کے ذیل میں دیکھتا ہے مگر بعد میں جو نظریہ ٹالسٹائی نے پیش کیا وہ بڑا ہی منفرد تھا۔ یہ نظریہ برائی سے عدم مزاحمت Non Resistance to Evil کے عنوان سے جانا جاتا ہے۔ اگر آسان لفظوں میں بیان کیا جائے تو یہ نظریہ حضرت عیسیٰ ؑکی اُس تلقین سے برآمد ہوا ہے جس میں وہ ایک گال پر تھپڑ مارنے والے کے سامنے دوسرا گال پیش کر دینے کو کہتے ہیں۔ ٹالسٹائی سے اِس نظریے پر نوجوان گاندھی جی نے کافی خط و کتابت کی اور اسی سے گاندھی جی کا ’’آہنسا‘‘ یعنی عدم تشدد کا نظریہ برآمد ہوا۔ خیر گاندھی جی تو رہتے بھی ’’ٹالسٹائی نواس‘‘ میں تھے مگر ان کا ٹالسٹائی کے نظریے کا ہندی ترجمہ ہندوستان کی تاریخ اور خود گاندھی جی کی اپنی انڈین نیشنل کانگریس کے ہی معاملات میں کبھی بھی ظاہر نہیں ہوا۔ اس تناظر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ جدید ہند کو باہر کے آدھ کچے نظریات کو بنا سمجھے سینے سے لگا لینے کی عادت ہے اور جو عظیم نظریات بھی یہاں وارد ہوئے ان میں بھی ہندوستان نے اپنی ’’ہلدی‘‘ ملا کر انہیں بھی بڑی حد تک بے ڈھنگا ہی بنا دیا۔

ہندوستان میں جمہوریت اور بادشاہت کا جو ملغوبہ (ہندی میں کہیں تو ’’مشٹرن‘‘) تیار ہوا وہ تو مزاحیہ ہے ہی۔ ساتھ ہی نہرو جی اور بھارتی سوشلسٹوں نے اشتراکیت کی جو ٹانگ توڑی وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں مگر اب بھارت بڑی تیزی سے جدید سرمایہ داری بلکہ سرمایہ پرستی میں فاشسٹ قسم کی ’’بی جے پی برانڈ ‘‘ مذہبیت ملا کر ایک نئی کھچڑی بنا رہا ہے۔ خیر بھارت میں صرف ان بڑے بڑے نظریات پر ہی بھارتی ’’چمک پٹی‘‘ نہیں لگائی گئی بلکہ اس کا ایک نسبتاً چھوٹا شکار بھی ہے۔ مگر وہ غریب ہماری توجہ کا مستحق ہے اس لئے کہ اس کے ساتھ بھارت میں ایک عجیب قسم کا مذاق جاری ہے۔ یہ مستحق توجہ دراصل امریکی مصنف کین کسے (Ken Kesy) کا تحریر کردہ مشہور کردار ’’میک مرفی‘‘ ہے۔

میک مرفی کین کسے کے شہرہ ٔ آفاق ناول اور بعد ازاں آسکر ایوارڈ یافتہ فلم ’’ون فلیو اوور دا کوکوز نسٹ‘‘ (One Flew over the Coco’s Nest) میں ظاہر ہوا ہے۔ مرفی ایک چھوٹا مجرم ہے جو چوری اور زنا جیسے جرائم کے الزام میں قید ہے۔ اُسے نفسیاتی تشخیص و علاج کے غرض سے ایک نفسیاتی علاج گاہ بھیجا جاتا ہے۔ اس ادارے میں کئی نفسیاتی مریض مستقلاً رہتے ہیں۔ اس صورت حال میں وہ خوفناک کہانی جنم لیتی ہے جو اپنے اندر سارے ہی معاشرے پر بہت بڑا سوالیہ نشان لگا دیتی ہے۔ مرفی مجرم ہے، چالاک ہے (کیونکہ محض قانونی فوائد حاصل کرنے کی غرض سے پاگل ہونے کا ڈرامہ رچا رہا ہے) مگر اِس شخص میں ایک طرح کی انسانیت ہے۔ وہ علاج گاہ میں موجود کسی بھی مریض کو پاگل ماننے کو تیار نہیں بلکہ اس کی نظر میں یہ لوگ بھی بالکل عام لوگوں کی ہی طرح ہیں جن سے عام انسانوں کی طرح برتائو کیا جانا چاہیے۔ مرفی کی یہ سوچ اور رویہ کرامات برپا کرنے لگتا ہے اور نفسیاتی مریض صحت مند ہونے لگتے ہیں۔ مگر علاج گاہ کی انتظامیہ جو نرس ریڈچٹ کی صورت میں ظاہر ہوئی ہے اِس تبدیلی کو ماننے کو تیار نہیں اور بالآخر میک مرفی کو ’’خاموش‘‘ کرادیتی ہے۔ ثابت یہ ہوتا ہے پاگل خانہ اور نام نہا د بہبودی مراکز (Rehabilitation Centers) دراصل کسی فرد کے علاج کے لئے بنے ہی نہیں بلکہ یہ تو دراصل انسانوں کے ایک طبقے کو پاگل قرار دے کر قید کر دینے کے لئے موجود ہیں۔ معاشرہ کچھ بنیادی سوالات کو برداشت ہی نہیں کر سکتا اور جو انسان ان سوالات کے ساتھ اسٹیٹس کو چیلنج کرتے ہیں معاشرہ ان کو پاگل خانوں میں بند کر کے ایسا انتظام کر دیتا ہے کہ یہ افراد سدا ان پاگل خانوں میں ہی قید رہیں۔ مگر مرفی مجرم ہوتے ہوئے بھی انسان ہے۔ جب کہ معاشرہ پاکیزہ ہوتے ہوئے بھی حیوان ہے اور اس کا باطن سیاہ ہے۔ شاید یہ ندا فاضلی نے میک مرفی کے لئے ہی کہا تھا کہ:

شائستہ محفلوں کی فضائوں میں زہر تھا
زندہ بچے ہیں ذہن کی آوارگی سے ہم

مرفی اپنے اندر ایک انقلاب ہے اور وسیع تر معانی میں یہ سماج کے ’’اسٹیٹس کو‘‘ سے ٹکرا جانے کا استعارہ ہے۔ کین کسے نے مرفی کو کوئی مسیحا نہیں دکھایا، وہ تو ایک مجرم ہے مگر یہ مجرم اپنے اندر ایک انسانی جہت رکھتا ہے۔ یہ مجرم، ہو سکتا ہے کہ چارپیسوں کے واسطے کسی پر گولی چلا سکتا ہو، ہو سکتا ہے کہ کسی لڑکی کی عزت دری کر سکتا ہو مگر یہ مجرم ہوتے ہوئے بھی، سماج کے ایک طبقے کے ساتھ ہونے والے جبر کو برداشت نہیں کر سکتا۔ کین کسے کو اپنے ہیرو میں کوئی اوتار تراشنے کی ضرورت پیش نہیں آئی اس لئے کہ وہ رومانویت یا معکوس رومانویت کا شکار نہیں۔ (رومانیت میں منفی کردار خالص شیطان اور مثبت کردار خالص فرشتے ہوتے ہیں اور معکوس رومانیت میں طوائفوں، دلالوں، ڈاکوئوں میں فرشتے تلاش کئے جاتے ہیں۔ مشتاق احمد یوسفی صاحب کے بقول معکوس رومانویت کا شکار سعادت حسن منٹو اور بیدی وغیرہ تھے)۔ مگر ہندوستان میں کین کسے کے اِس کردار کی بڑی عجیب درگت بنی ہے۔ یہ کردار بالی وڈ کی چار فلموں میں اب تک ظاہر ہو چکا ہے جن میں سے ایک پریا درشن کی فلم ’’کیونکہ‘‘ ہے جب کہ دیگر تین فلمیں راج کمار ہیرانی کی ہیں: یعنی منا بھائی MBBS، لگے رہو منا بھائی اور تھری ایڈیٹس۔ پریا درشن کی فلم پر تو بات کرنا ہی بیکار ہے، اس لئے کہ وہ تو میک مرفی کے کردار یا اُس کے ناول کو سمجھنے سے صریحاً قاصر رہا ہے۔ راج کمار ہیرانی کی فلمیں اگر میک مرفی کے تناظر کو ہٹا کر دیکھی جائیں تو بہت اچھی ہیں مگر میک مرفی کے ساتھ اِن فلموں میں بھی انصاف نہیں کیا گیا۔ منا بھائی سیریز کی دونوں فلموں میں میک مرفی (یعنی منا) ہے تو مجرم ہی مگر اتنا اچھا مجرم ہے کہ بس سمجھ لیجئے کہ فرشتہ ہی ہے۔ وہ تو بس لوگوں کے پیسے ریکور کرواتا ہے یا عمارتوں پر قبضہ کرواتا ہے۔ مگر اس سے کسی کو کوئی تکلیف تھوڑی ہوتی ہے۔ اس کے ساتھیوں کی پستولوں میں تو گولیاں بھی نقلی ہوتی ہیں۔ یہ’’میک مرفی ‘‘پہلی فلم میں ایک ’’پاکیزہ‘‘ اور بقول ندا فاضلی ’’شائستہ‘‘ ڈاکٹر کے ظلم کا شکار ہوتا ہے اور اس سے ٹکرا جاتا ہے اور یہ ٹکر دراصل طب کی دنیا کے ’’اسٹیٹس کو‘‘ سے ٹکر ثابت ہوتی ہے۔ مگر طب کی دنیا کا یہ اسٹیٹس کو ’’ڈاکٹر استھانا‘‘ اوپر سے برا مگر اندر سے بڑے شاندار آدمی نکلتا ہے۔ منا بھائی سیریز کی دوسری فلم میں ’’میک مرفی‘‘ اپنی محبت کو پانے کے لئے گاندھی جی کے نظریات کا مطالعہ شروع کرتا ہے اور یہاں سے گاندھی جی کے ہیولے کے منہ سے گزرتے ہوئے لیوٹالسٹائی کے نظریات مناکے دل میں اتر جاتے ہیں۔ اب منا ہر ہر بات کو گاندھی جی کے نظریات کی روشنی میں کرنا چاہتا ہے اور یوں وہ اپنے ماضی یعنی جرائم کے ’’اسٹیٹس کو‘‘ سے ٹکرا جاتا ہے۔ مگر جرائم کے ’’اسٹیٹس کو‘‘ کے پیچھے بھی بظاہر ایک برا مگر اندر سے معصوم اور اچھا انسان ’’لکی سنگھ‘‘ کھڑا ہے۔ راج کمار ہیرانی کی تیسری فلم میں میک مرفی نام نہاد مجرم بھی نہیں رہتا بلکہ ایک ذہین طالب علم رینچو (رنچھوڑ داس چھاچھڑ) بن جاتا ہے۔ اب ’’رینچو‘‘ تعلیمی دنیا کے ’’اسٹیٹس کو‘‘ سے ٹکر لیتا ہے مگر اب بھی ظلم کا باطل (جو اب کی بار کالج کا ڈین ویرو سہاستر بدھے یا وائرس ہے) اوپر سے سخت اور برا لیکن اندر سے بہت اچھا انسان ہی ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اچھے اچھے انسانوں کی یہ ہنستی کھیلتی لڑائی بڑے ہی اچھے طور سے ختم ہوتی ہے۔ باطل کی قلب ماہیت ہو جاتی ہے اور وہ حق کو مان لیتا ہے۔ راج کمار ہیرانی اچھے فلم ساز ہیں مگر وہ بڑی حد تک پی ٹی آئی کے کارکن زوہیر طورو کی طرح انقلاب برپا کرنا چاہتے ہیں جو احتجاج کے دوران پولیس کے ڈنڈے کھا کر بلبلا کر بولا تھاکہ ’’اگر ہماری اپنی پولیس ہم کو ڈنڈے مارے گی تو ہم انقلاب کیسے لائیں گے؟‘‘

ہیرانی اگر میک مرفی کو خالص حق بنا ہی دینا چاہتا تھا، اگر انہیں مرفی کی صورت میں دیوتا، اوتار تراشنے ہی تھے تو اس کے مخالف میں تو شیطان، راکھشس یا خالص باطل دکھانا ضروری تھا۔ ، مرفی مجرم ضرور تھا مگر پاگل خانے کی ہیڈ نرس ریڈچٹ شائستگی کے پردے میں خالص باطل تھی۔ وہ اقبال کے مصرعے کے صداق ’’چہرہ روشن، اندروں چنگیز سے تاریک تر‘‘ کی جیتی جاگتی مثال تھی۔ اس نرس کو ’’ویرو سہاستر بدھے‘‘ یا ’’ڈاکٹر استانہ‘‘ کی طرح کسی سخت Persona کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ کاش ہندوستان میں میک مرفی کو بار بار لانے والے ایک مرتبہ اس کے سامنے خالص باطل کو لانے کی ہمت بھی کریں۔ مگر ہندوستان کے یہ فلم ڈائریکٹر بھی ’’اسٹیٹس کو‘‘ سے ٹکرانے میں کس قدر سنجیدہ ہیں اس کا اندازہ اس بات سے ہی باآسانی کیا جا سکتا ہے کہ یہ تینوں فلمیں مزاحیہ ہیں۔ میک مرفی کو ’’اسٹیٹس کو‘‘ نے سینے سے لگا کر تصویر نہیں کھنچوائی تھی بلکہ اسکا آپریشن کر کے اسے ایک لوتھ (vegetable) بنا دیا تھاجو نہ سوچ سکتاتھا نہ بول سکتا تھا، یعنی ایک زندہ لاش۔ مگر میک مرفی نے بھی تو ’’اسٹیٹس کو‘‘ کی گردن توڑنے کی سعی کی تھی اس لئے کہ وہ مجرم تھا؟ شائستہ نہیں تھا، پاکیزہ نہیں تھا، اس لئے کہ وہ انسان تھا، دیوتا نہیں تھا، وہ کوشش کر سکتا تھا اور کہتا تھا کہ ’’کم از کم میں نے کوشش تو کی‘‘ وہ ’’اسٹیٹس کو‘‘ سے جیت نہیں سکا مگر آزاد ہو گیا اور آزادی کا راستہ اپنے دوست چیف کو بھی سکھا گیا۔ میک مرفی کے کردار کا خالق کن کسے رومانویت پسند نہیں تھا۔ اس لئے میک مرفی انسان تھا، نہ وہ اوتار تھا، نہ کوئی اسے کہتا تھا کہ ’’تم God ہو!‘‘۔ مگر کن کسے کا میک مرفی باطل سے ٹکرا کر پاش پاش ہو گیا جبکہ ہندوستان کے میک مرفی تو اوتار اور دیوتا نما ہیں مگر ان کی ٹکر یرقان زدہ کمزور باطل سے ہوتی ہے جو حق کی معصوم محنت سے صحت یاب ہو کر حق کو گلے لگا کر اعلان کر تا ہے کہ وہ سدھر گیا ہے۔ ان دیوتا نما میک مرفیوں کو سلیم احمد (اور یقینا خود کین کسے کا بھی) مشورہ شائد یہ ہوتا کہ

دیوتا بننے کی حسرت میں معلق ہو گئے
اب ذر انیچے اتریے، آدمی بن جائیے!

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: