کُتّا نہ کاٹے تو بھی خبر —– محمد عثمان جامعی

0
  • 41
    Shares

خبر کی بڑی گِھسی پِٹی تعریف ہے کہ ”خبر یہ نہیں کہ کُتے نے آدمی کو کاٹ لیا، بل کہ خبر یہ ہے کہ آدمی نے کُتے کو کاٹ لیا۔“ جب تک یہ تعریف چلتی رہی اس وقت تک کُتے فائدے میں رہے، وہ بے فکری سے لوگوں کو کاٹتے رہے اور جو رہی سو بے خبری رہی۔ اگر آدمی کے کُتے کو کاٹنے جیسے واقعات ہی کو خبر کا درجہ حاصل ہو جاتا تو روزنامے نہیں سالنامے شایع ہوا کرتے۔ صحافت اس مشکل سے تو بچ گئی لیکن خبر کی تعریف کا دائرہ اس طرح پھیل چکا ہے کہ اسے دیکھ کر ہم سوچتے ہیں کہ آدمی کے کُتے کے جسم میں دانت گاڑدینے جیسے شاذ و نادر ہونے والے واقعات ہی خبر کی تعریف پر پورے اُترتے تو ناظر اور قاری تو بہت سی فضول گوئی سے بچ جاتے لیکن ہمارے چینلز کا کیا ہوتا؟ اساتذہ¿ صحافت نے میڈیا خاص طور پر ٹی وی چینلوں کو اس مشکل سے نکالنے کے لیے خبر کی تعریف کو وسعت دیتے ہوئے اسے آوارہ کُتے کی طرح کُھلا چھوڑ دیا ہے۔ کچھ نئی تعریفیں یہ ہیں:

کتے کا آدمی کو کاٹ لینا تو خبر ہے ہی، اگر وقت کی تنگی یا کسی اور مصروفیت کے باعث کتا کاٹ نہ پائے تو بھی خبر ہے۔
اگر کوئی کُتا اپنی پوری زندگی نہ کاٹے تب تو نہ صرف خبر ہے بلکہ اس کا انٹرویو اور اس پر خصوصی پروگرام بھی بنتا ہے۔

اگر کُتا آدمی پر بھونک دے تب بھی خبر ہے۔
کُتا کُتے پر بھونک دے، پھر بھی خبر ہے۔
کُتا آدمی کو دیکھ کر نہ بھونکے، یہ بھی خبر ہے۔
کُتا کُتے کو دیکھ کر نہ بھونکے تو خبر ہے، جو اسے خبر نہ مانے اس کی ایسی کی تیسی۔

لیجیے بھئی، اچھی نسل کے کُتے کا انتخاب اور پاگل کُتے کی پہچان سے کہیں زیادہ آسان اب کسی بھی واقعے کو خبر سمجھ لینا ہے۔

جدید علمائے صحافت کی ان تعریفوں کی رو سے کسی کی شادی اور عدت تو کیا خواتین کی ”مُدت“، کسی صاحب کی حُسن کا نظارہ کرکے آنکھوں میں آنے والی حدت، کسی کی مردانگی میں شدت اور میاں بیوی کے تعلقات میں کوئی ”جدت“ بھی خبر کے مقام پر فائز ہوسکتی ہے۔

خبر کا معروضی اور حقائق پر مبنی ہونا بھی اب ماضی کا قصہ قرار پایا، جس پر آج کی میڈیا بازی اور خبرسازی راضی نہیں۔ اب آپ خبر کو اصناف ادب میں شامل سمجھیں۔ کوئی دہکتا پھڑکتا مچلتا خیال، جذبات کا اُبال، احساسات کا بھونچال، کچھ نیا کہنے کا جنجال، ریٹنگ کم ہونے کا وبالخبر میں ڈھل سکتا ہے۔ خواب، تصور، وہم، گمان خبر بلکہ مصدقہ خبر کا روپ دھار لیتا ہے، وہ بھی اس دعوے کے ساتھ کہ ”خبر غلط ثابت ہو تو پھانسی لگا دینا۔“ یہ الگ بات ہے کہ قانون کا پھندا اور خطرے میں دھندا نظر آئے تو خبر دینے والا ”ہم سے بھول ہوگئی ہم کا معافی دے دو“ کی تصویر بن جاتا ہے۔ لیکن معافی، خجالت اور ندامت کی یہ تصویر بند کمرے میں لگی ہوتی ہے، بڑا اور اکڑا صحافی کبھی اپنی غلط خبر پر معافی مانگتا ہے نہ شرمندہ ہوتا ہے، سو ناظرین اور قارئین کے سامنے تاویلات کا ڈھیر اور تشریحات کا انبار ہوتا ہے، جن میں اصل بات ”ڈبردھوس“ کرنے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے۔

خبروں کی نئی تعریفوں کی روشنی میں اب خبریں دینے کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے، جس کے بعد بعض چینل تو محلے کا تھڑا بن گئے ہیں، اور تھڑوں پر ”ابے وِس لمڈیا کا وِس لمڈے سے چکر چل ریا ہے“ جیسی بریکنگ نیوز ہی چلتی ہیں۔ وہ دن زیادہ دور نہیں جب خبر کی نئی تعریفوں کے مطابق آپ کو اس طرح کی خبریں اور بریکنگ نیوز سُننے، دیکھنے اور جھیلنے کو ملیں گی:

”صاف شفاف پارٹی کے سربراہ سدانوجوان خان کے بارے میں حیرت انگیز انکشاف، سدا نوجوان خان کی ختنہ نہیں ہوئی۔ ہمارے رپورٹر گھر کھوجی کے مطابق عین ختنہ کے وقت وہ روتے ہوئے بھاگ گئے تھے۔ گھر کھوجی کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اس خبر کے تحریری اور تصویری ثبوت موجود ہیں۔“

اس خبر کے بعد علمائے کرام سے رائے لی جائے گی کہ آیا غیرمختون شخص کسی اہم عہدے پر فائز ہوسکتا ہے؟ سیاست دانوں سے ان کا خیال پوچھا جائے گا۔ اس کے بعد یہ اہم ترین ایشو ٹاک شوز میں زیربحث آئے گا۔

”برسی برتھ ڈے پارٹی کے چیئرمین تیزی طرّاری بالوں میں خضاب لگاتے ہیں، یہ دیکھیے خضاب کے ڈبوں کی تصاویر، ایکسکلوسیو رپورٹ۔ اس تہلکہ خیز خبر پر جب ہم نے تیزی طراری اور ان کی پارٹی کے راہ نماوں سے بات کرنے کی کوشش کی تو ان میں سے کسی نے کال ریسیو نہیں کی۔“

”ملزم لیگ کے قائد نیا آغازشریف لڑکپن میں مجھے تاڑا کرتے تھے، ایک بار ’اوئےچھی چھی“ کرکے بلایا بھی تھا۔ مجھے گول گَپے کھانے کی پیشکش کی تھی۔
نیا آغازشریف کی ماضی کی پڑوسن شکیلہ ہلچل کا انکشاف۔ شکیلہ ہلچل سے تفصیلی گفتگو آج شب ہمارے پروگرام ’بَک بَک بانگڑو کے ساتھ“ میں ملاحظہ کیجیے۔“

”جمعیت غلمائے اقتدار کے سربراہ مولانا فضل ہی فضل نے ایوان میں کرتا سرکا کر پیٹ کھجایا۔ ان کے اس عمل سے قومی اسمبلی کی خاتون ارکان سراسیمہ، ایک رکن بی بی سیما تو بے ہوش ہوتے ہوتے بچیں۔ “

”محلہ وار قومی موومنٹ کے بھینس کالونی گروپ کے سربراہ رشید الدین اور محلہ وار قومی موومنٹ کے ایک اور دھڑے گیڈر کالونی گروپ کے چیئرمین حمید الدین کی لنگر کی بریانی لوٹتے ہوئے اچانک ملاقات، بریانی کی تھیلیوں کا آپس میں تبادلہ، ایک دوسرے کو دیکھ کر دھاڑیں مار کر روپڑے، پھر پیٹ پکڑ کر ہنستے ہنستے دوہرے ہوگئے۔ بھینس کالونی گروپ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس گروپ کے سربراہ روئے نہیں ان کے صرف آنسو نکلے تھے، وہ بھی اس لیے کے بریانی میں مرچیں تیز تھیں۔ گیدڑ کالونی گروپ کے راہ نما اشفاق مینٹل نے اسے اچانک بھوک لگنے کے باعث ہونے والی اتفاقیہ ملاقات قرار دے دیا۔ ہم تجزیہ کار جناب گالی گفتار سے پوچھتے ہیں کہ کیا محلہ وار قومی موومنٹ بھینس کالونی گروپ اور گیدڑ کالونی گروپ کا انضمام ہونے جارہا ہے اور آئندہ وہ مل کر لنگر لوٹیں گے؟“

یہ خبریں تو بس اس دیگ کے کچھ چاول ہیں جو میڈیا پر پکنے والی ہے، کچھ پتا نہیں کہ ایسی خبریں اور ایسی نجی تفصیلات بھی خبرناموں کا حصہ بن جائیں کہ خبرنامے سے پہلے اعلان نشر ہو ”صرف بالغان کے لیےبچوں کو سُلا دیں اور لائٹیں بجھا دیں، کیوں کہ خبریں دیکھتے ہوئے آپ دوسرے سے نظریں نہیں ملا پائیں گے۔“

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: