ادیبوں کے نوحہ گر —- لالہ صحرائی

0
  • 134
    Shares

کبھی یہاں شاعری کے علاوہ دوسری کوئی ادبی صنف نہیں ہوتی تھی سوائے کہانی کے جس کی تاریخ بہت قدیم ہے، پھر مونتَین نے اپنی گفتگو پہنچانے کے لئے ایک نئی صنف کی بنیاد رکھی جسے مضمون نگاری کہا جاتا ہے، *مونتین سولہویں صدی کا فرانسیسی ادیب تھا، اس کی کتاب کا نام *ایسےز تھا۔
*Montaigne, *Essais

کہانی ایک سیدھی سادھی سی واقعاتی داستان ہوتی ہے لیکن مضمون میں مناسب جگہ پر ادیب اپنی فکر کا رنگ بھی بھرتا ہے جس سے پڑھنے والے کو محسوس ہوتا ہے کہ یہ احساس تو اس کا اپنا ہے۔

افلاطون اپنی کتاب “جمہوریت” میں بیوقوفوں اور غیر مہذب لوگوں سے بحث کرنے سے منع کرتا ہے، وجہ آپ کو معلوم ہے، لیکن مونتین نے محسوس کیا کہ وہ فلسفیانہ باتیں جو عموماً سماج نہیں سمجھ سکتا وہ مضمون کے ذریعے خشکی سے نخلستان میں ڈھل جاتی ہیں اور قارئین کیلئے بعض اوقات ایسا تاثر چھوڑ جاتی ہیں جیسے کھویا ہوا بچہ مل جائے۔

تاثر کی اسی گہرائی و گیرائی کو دیکھتے ہوئے برطانیہ کے ہمعصر ادیب بیکن نے بھی اس صنف کو فوراً اپنا لیا اور اپنے کام میں مونتین سے بھی کچھ آگے بڑھ گیا، بیکن کے بعد ایڈیسن، جانسن، چارلس لیمب اور ورجینیا وولف نے اسے اوج ثریا تک پہنچا دیا۔

انگریزی ادب میں مونتین اور بیکن کا موازنہ کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ:

مونتین نے اپنے ایسےز آتشدان کے سامنے آرام کرسی پر لیٹے لیٹے لکھے ہیں اور بیکن نے بڑے غور و خوض کے بعد اپنے خیالات کو مرتب کرکے جیسے دفتر میں بیٹھ کر باقاعدگی سے لکھا ہے، یعنی پہلے میں دوستانہ گفتگو اور دوسرے میں سنجیدگی ہے۔

مضمون کی ایجاد کے بعد وہ کہانی بتدریج غائب ہوتی گئی جس میں اپنے دور کی شہرۂ آفاق کتابیں آج بھی موجود ہیں، ان میں اریبئین نائٹس یا الف لیلےٰ سر فہرست رہے گی جس نے الہ دین، علی بابا اور سند باد جہازی جیسے لافانی کردار دیئے ہیں۔

پھر ہندوستان میں سرسید احمد خان نے پہلی بار اپنے رسالے تہذیب الاخلاق میں مضمون نگاری کی بنیاد رکھی، اس میں طنزومزاح بھی شروع ہوا جو ابتداء میں مضمون نگاری کا حصہ تھا بعد میں ایک علیحدہ صنف قرار پایا۔

محمد حسین آزاد صاحب نے اپنی کتاب “نیرنگ خیال” میں ایڈیسن، جانسن اور دیگر مغربی ادیبوں کے مضامین کو اس سحر بیانی اور جدت طرازی کیساتھ اردو میں ڈھالا کہ یہ ترجمے کی بجائے ایک متوازی تخلیق پر مبنی کلاسیکی ادب کی ایک شاہکار کتاب قرار پائی ہے، بعد میں اسی سے افسانے اور ناول کے سوتے پھوٹے ہیں۔

پھر ملا وجہی نے جدت طرازی کی جستجو میں ایک نئی صنف کی بنیاد رکھی جسے انشاء پردازی کا نام دیا گیا، یہ عنصر بھی سرسید کے مضامین سے ہی نکلا تھا مگر ملا وجہی کا کام بیکن کی ٹکر کا تھا اسلئے انہیں “دکن کا بیکن” قرار دیا گیا۔

ان کے بعد سجاد حیدر یلدرم، مرزا فرحت اللہ بیگ، عظیم بیگ چغتائی، پطرس بخاری، کنہیا لال کپور، رشید احمد صدیقی اور شوکت تھانوی، مولوی نذیر احمد دہلوی، الطاف حسین حالی، مولوی ذکاء للہ دہلوی، رتن ناتھ سرشار، وحید الدین سلیم، عبدالحلیم شرر، نیاز فتحپوری، خواجہ حسن نظامی، ابوالکلام آزاد اور بے شمار ادیبوں نے اپنے اپنے رنگ میں اپنا اپنا سکہ جمایا ہے۔

پھر ماضی قریب میں مضمون نگاری اور انشاء پرادزی کی نئی صورت گری کرکے ڈاکٹر وزیر آغا نے انشائیہ کو ایک علیحدہ صنف کے طور پہ متعارف کرایا جو افسانے کے بعد میری فیورٹ صنف ہے، انشائیہ ایک کمپینڈئیم ہے جس نے کہانی، مضمون، فلسفہ، انشاء پردازی، افسانہ، جدت طرازی اور طنز و مزاح سب کو ایک حسن تناسب کیساتھ اپنے اندر سمو لیا ہے، میں اسے مضمون نگاری کی انتہا قرار دیتا ہوں، اس کا ایک تقابلی جائزہ بھی آخر میں پیش کروں گا۔

ایک ادیب کے مطابق

“انشائیہ نثر کا ایک ایسا ٹکڑا ہے جس میں مصنف دنیا کے کسی بھی موضوع کے باب میں اپنی ذات کا انکشاف کرتا ہے”۔

اپنی ذات یعنی علمی اور تخلیقی قابلیت کے اظہار میں کوئی ایک بندہ دوسرے جیسا ثابت ہو، یہ ممکن ہی نہیں، ہاں ایک بندہ دوسرے سے کم یا زیادہ ہو سکتا ہے مگر یہ طے کرنا سرے سے ایک فضول کام ہے اسلئے کہ بیشک عمارت کا حسن اس کی پیشانی سے ظاہر ہوتا ہے مگر اس کی بقا ان اینٹوں پر ہے جو اس کی بنیادوں اور دیواروں میں لگی ہوئی ہیں۔

اوپر جتنے ادیبوں کا بھی تزکرہ کیا گیا ہے ان سب کو آپ علیحدہ علیحدہ پڑھیں تو کسی ایک کی اہمیت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا، ہر ایک کے اسلوب اور معنی کا ایک اپنا ہی لطف، ذائقہ، اثر، مقام اور جداگانہ اہمیت ہے، لیکن اگر انشائیہ کے آئینے میں دیکھا جائے تو یہ سب طبع آزمائی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، مگر ہم ایسا کہہ نہیں سکتے اسلئے کہ ہر ادیب اپنی ذات میں ایک انجمن ہے اور جس ادیب کا نام بھی آج زندہ ہے وہ اس کے فنی محاسن کی بدولت ہی زندہ ہے۔

ہندوستان میں جاسوسی ادب کی بنیاد بھی تقسیم ہند سے پہلے کی ہے لیکن پاکستان میں اس کے بانی بلاشبہ ابن صفیؒ ہیں، اشتیاق احمدؒ بھی کسی سے کم نہیں۔

عمران سیریز کی تخلیق ابن صفی صاحبؒ نے کی تو اسے اوج ثریا تک مظہر کلیم صاحبؒ نے ہی پہنچایا ہے، ابن صفی کے بعد بہت سوں نے اس چیز کو زندہ رکھنے کی کوشش کی مگر ناکام ہوئے ان حالات میں مظہر کلیم نے عمران سیریز کو نہ صرف ایک نئی زندگی دی بلکہ اس میں تنوع بھی پیدا کیا اور کل تک اس کردار کی بقا کا ضامن بھی صرف مظہر کلیم صاحب ہی کا قلم تھا۔

یہ کہنا بھی بہت مشکل ہے کہ ابن صفی کا عمران نسبتاً ایک مجہول کردار تھا اسلئے کہ اس کی قابلیت اور ہردلعزیزی ہی وہ دو بنیادی عناصر ہیں جو اسے زندہ رکھنے کی ترغیب بنے البتہ مظہر کلیم کا عمران پہلے سے زیادہ بہتر ہو کر سامنے آیا، یہ فرق قلم کی تبدیلی کا لازمی نتیجہ ہوتا ہے، کچھ لوگ اس جیسا کردار بھی پیش نہیں کر سکے جو پہلے سے موجود تھا اور کسی نے اس کو متنوع کرکے چار چاند لگا دیئے۔

کور ذوق لوگوں کا مسئلہ یہ نہیں ہے کہ کون چھوٹا یا بڑا ادیب ہے، مسئلہ دراصل یہ ہے کہ سماجی تقسیم کے اعتبار سے یہ اپنے مخالف طبقے کے پسندیدہ ادیب کو لامحالہ چھوٹا قرار دینا چاہتے ہیں

جاسوسی ادب میں ابن صفی اور مظہر کلیم میں بس وہی فرق ہے جو مضمون نگاری میں مونتین، بیکن، ایڈیسن، جانسن کے ایسےز اور محمد حسین آزاد صاحب کی نیرنگ خیال میں ہے یا سرسید کے مضامین اور دیگر ہندی ادیبوں کے مضامین میں ہے۔

ابن صفی

پھر اسے انتہائی شکل میں دیکھنا ہو تو ملا وجہی کی انشاء پردازی اور ڈاکٹر وزیر آغا کے انشائیے میں دیکھ سکتے ہیں، جہاں ملا وجہی مضمون نگاری کا بیکن ہیں تو آغا صاحب ہر صنف کا کمپینڈئیم ہیں، اسی طرح ابن صفی کا کام بیکن، جانسن، ایڈیسن یا اسٹیل جیسا ہے تو مظہر کلیم کا کام ایک کمپینڈئیم ہے جس میں انسانی قابلیت کی ہر صفت شامل ہے۔

یہ مصنفین کا ذاتی سفر ہی نہیں بلکہ ادب کا ایک ارتقائی سفر بھی ہے، یہ ایک رِیلے ریس کی طرح سے ہے جس میں آخری بندے کی کامیابی پہلا قدم اٹھانے والے کی کامیابی ہوتی ہے۔

آپ وزیر آغا صاحب کا انکار کریں گے تو ملاوجہی کا انکار خود بخود ہو جائے گا اسلئے کہ اس صنف کی بنیاد ہی ملا صاحب ہیں، آپ مظہر کلیم صاحب کا انکار کریں گے تو ابن صفی صاحب کا انکار خود بخود ہو جائے گا اسلئے کہ اس صنف کی بنیاد ہی ابن صفی صاحب ہیں۔

آگے چلنے سے قبل مضمون یا سادہ نثر پارے اور انشائیے کا ایک ایک نمونہ دیکھئے۔

منشی پریم چند صاحب کا مضمون، گالیاں:

اس سے بڑھ کر ہمارے کمینہ پن اور نامردی کا ثبوت نہیں مل سکتا کہ جن گالیوں کو سن کر ہمارے خون میں جوش آ جانا چاہئے ان گالیوں کو ہم دودھ کی طرح پی جاتے ہیں۔

قومی پستی دلوں کی عزت اور خود داری کا احساس مٹا کر آدمیوں کو بے غیرت اور بے شرم بنا دیتی ہے، غصہ میں گالی بکیں، دل لگی میں گالی بکیں، گالیاں بک کر زور لیاقت ہم دکھائیں، گیت میں گالی ہم گائیں، زندگی کا کوئی کام اس سے خالی نہیں، حد تو یہ کہ ابھی تک ہمارے رہنماؤں نے اس وبا کی بیخ کنی کرنے کیلئے کوئی سرگرم کوشش بھی نہیں کی۔

اس امر کے اعادہ کی ضرورت نہیں کہ گالیوں کا اثر ہمارے اخلاق پر بہت خراب پڑتا ہے، گالیاں ہمارے نفس کو مشتعل کرتی ہیں اور خود داری اور پاس عزت کا احساس دلوں سے کم کرتی ہیں جو ہمیں دوسروں قوموں کی نگاہوں میں وقیع بنانے کیلئے ضروری ہے۔

اس مضمون کے تقریباً ستر سال بعد اسی موضوع پر ڈاکٹر غلام جیلانی اصغر صاحب کا انشائیہ دیکھیں۔

گالی دینے کا یہ فائدہ ہے کہ آدمی گالی دے کر فارغ ہو جاتا ہے اور ذہنی طور پر ایک خوشگوار آسودگی محسوس کرتا ہے، اعصاب کا کھنچاؤ دور ہو جاتا ہے اور دل کی گہرائیوں میں سرُور کا عالم ہوتا ہے۔

پنجاب میں جو آپ کو ہشاش بشاش مونچھیں، پُروقار پیٹ اور بڑکیں مارتے ہوئے چہرے نظر آتے ہیں تو دراصل اس کی وجہ منہ نہار کی وہ گالی ہے جس پر تمام ملا اور حکیم زور دیتے ہیں۔

گالی جتنی سقیم اور کمزور ہوگی گالی دینے والے کی شخصیت اتنی ہی گھٹی گھٹی ہوگی، گالی جتنی پر وقار اور پر زور ہوگی شخصیت میں اتنا ہی وقار اور کشادگی ہوگی۔

چھوٹا آدمی ڈرتے ڈرتے چھوٹی سی گالی دیتا ہے اور پھر فوراً اپنی ذات کے ڈربے میں چھپ جاتا ہے لیکن بڑا آدمی موٹی سی گالی کی کمند پھینک کر اسے اس ڈربے سے باہر کھینچ لاتا ہے۔

گالی دینے سے جمہوریت کو فروغ ملتا ہے، آمریت صرف اس دور میں پنپ سکتی ہے جب گالیوں پر قدغن لگا دی جائے، اس لئے ایک اچھے نظام میں یہ خوبی ہوتی ہے کہ وہ اپنے اندر ہائیڈ پارک کی گنجائش رکھتا ہے۔

منشی پریم چند صاحب کا مضمون اپنے اندر حسن اسلوب رکھنے والی ایک اصلاحی تحریر ہے لیکن ڈاکٹر صاحب کا انشائیہ اپنے اندر فلسفہ، احساس، طنز، انشاءپرادزی، سماجی منظرنامہ اور شگفتگی رکھنے کے باوجود اصلاح اور فکر کا مادہ بھی رکھتا ہے، اسیلئے ایک ادیب کا کہنا ہے کہ:

“ہر مصنف گفتار کا وہ غازی ہے جسے سات خون معاف ہیں، یہ بزم نشاط کا وہ ساقی ہے جسے شراب میں “کچھ ملانے” کی اجازت ہے، اس کی عذر مستی باتوں کی سمّیت یا سنگینی کو کافور کر دیتی ہے”۔

یعنی ہر مصنف دائرۂ ادب کا ایک جوہر ہے، بس یہی ایک بیان ہے جو مصنفین کے بارے میں حتمی اور ان کے شایان شان ہے یا پھر ایک دوسری بات جو پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے وہ صرف یہ ہے کہ:

زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا
ہمی سو گئے داستاں کہتے کہتے

مظہر کلیم

کسی کام کی بنیاد رکھنے والے کے پاس سکوپ کم ہوتا ہے بعد میں آنے والوں کے سامنے سکوپ زیادہ ہوتا ہے، جیسے جنگ عظیم کے ہیرو پائلٹ کے سامنے آج کے پائلٹ کے مقابلے میں ایک سادہ سا ڈیش بورڈ ہوتا تھا مگر ٹارگیٹ حاصل کرنے کی قابلیت دونوں کا خاصا ہے۔

لہذا میرا یہ کہنا ہے کہ:

خمخانۂ ادب میں موجود ہر مئے جسے مئے ناب نہ لگے ایسے بدشغف قارئین سے ادیبوں کی تنقیص پر مشتمل غل غپاڑے کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہو سکتا اور یہ غل غپاڑہ آپ نے دیکھ ہی لیا ہے۔

قہقہہ گر میں “جہاں قدر چغتائی” صاحب کہتے ہیں:

ہم نے استاد سے ہمت کر کے اتنا پوچھا کہ جناب یہ نوحہ گر کون ہوتا ہے جس کو غالب صاحب اے۔ڈی۔سی کی طرح اپنے ساتھ رکھنا چاہتے تھے، استاد کو غصہ آگیا، کہا نویں جماعت میں آگیا پر اتنی سی بات نہیں جانتا کہ رونے پیٹنے والے کو نوحہ گر کہتے ہیں۔

سمجھ گیا جناب کہہ کر میں اپنی جگہ پر بیٹھ گیا، یہ محض اتفاق ہے کہ غالبؔ بیچارے ایک نوحہ گر کو ترستے رہے جبکہ ہمارے گھر میں دو دو نوحہ گھر موجود تھے اور ہمیں خبر نہ تھی، ہمارے والد کی بات پر والدہ نوحہ گری کرتی تھیں تو ہماری والدہ کی باتوں پر والد صاحب نوحہ گر بن جاتے تھے۔

کور ذوق لوگوں کا مسئلہ یہ نہیں ہے کہ کون چھوٹا یا بڑا ادیب ہے، مسئلہ دراصل یہ ہے کہ سماجی تقسیم کے اعتبار سے یہ اپنے مخالف طبقے کے پسندیدہ ادیب کو لامحالہ چھوٹا قرار دینا چاہتے ہیں، والد اور والدہ کی طرح ایک دوسرے کی بات پر یہ نوحہ گری محض اپنی انانیت کی تسکین کیلئے ہے ادبی فہم کی مثال ہرگز نہیں۔

About Author

میں، لالہ صحرائی، ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: