قُدس کسوٹی ———- احمد الیاس

0
  • 46
    Shares

شہرِ یروشلم، حرمِ قدسی، گنبدِ صخرة‎۔ ۔ ۔ ہم جانتے ہیں کہ ان جگہوں کی ہمارے دین میں ایک خاص اہمیت ہے۔ مگر یہ اہمیت کس قدر مرکزی اور بامعنی ہے، اس کے بارے میں ہمارے تصورات اکثر اس طرح واضح نہیں ہوتے جس طرح مکہ و مدینہ، حرمِ کعبہ و حرمِ نبوی اور خانہِ کعبہ و گنبدِ خضریٰ کی اہمیت کے بارے میں اکثر مسلمان جانتے ہیں۔ حرمِ قدسی کو اسلام کا تیسری مقدس ترین مقام کہا جاتا ہے اور یہ بات بجا ہے لیکن اگر اسے تیسرا مقدس مقام کہنے کی بجائے اسلام کے تین مقدس ترین مقامات میں سے ایک کہا جائے تو شاید یہ اس کی اہمیت اجاگر کرنے میں زیادہ معاون ہوگا۔

بنی اسرائیل کون ہیں؟ اسلامی تناظر میں اس بات کا جواب یہ ہوگا کہ بنی اسرائیل سابق امتِ مُسلمہ ہیں جو موجودہ امتِ مسلمہ یعنی امتِ محمدیہ کے پیشرو تھے۔ یروشلم کیا ہے؟ یروشلم مکہ مکرمہ کا پیش رو ہے۔ حرمِ قدسی کیا ہے؟ حرمِ قدسی حرمِ کعبہ کا پیش رو ہے۔

حرمِ قدسی جسے ٹیمپل ماؤنٹ بھی کہا جاتا ہے۔ گنبدِ صخرہ اور مسجدِ اقصیٰ اس حرم/کمپلیکس کے دو حصے ہیں۔

صخرة‎ کیا ہے؟ صخرة‎ کعبہ کا پیش رو ہے۔ سوال ہے، کیسے؟
انسانوں کے درمیان روحانی بھائی چارے کی چار تہیں ہیں۔ آدمیہ جس نسبت سے تمام انسان ایک برادری ہیں۔ ابراہیمیہ جس کی نسبت سے تمام اہلِ کتاب ایک برادری ہیں۔ مسیحیہ جس کی نسبت سے مسلمان اور مسیحی ایک برادری ہیں۔ اور محمدیہ جس کی نسبت سے تمام مسلمان بھائی بھائی قرار پاتے ہیں۔ گویا سیدنا ابراہیم علیہ الصلوة و السلام ایک بہت بڑی روحانی برادری کے جدِ امجد ہیں۔ ان کی یہ برادری دو شاخوں بنی اسرائیل اور بنی اسماعیل میں تقسیم ہوئی۔ پہلے مرحلے میں نبوت کو بنی اسرائیل میں رکھا گیا اور امت کا اصول نسلی رہا۔ انسانی ارتقاء کی ایک منزل تب طے ہوئی جب امت کا اصول نسلی نہیں رہا بلکہ خالص انسانی و اصولی ہوگیا اور اس مرحلے پر نبوت بنی اسماعیل کے ایک فرد پیغمبرِ آخر و اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کو منتقل ہوگئی۔ یوں ابراہیمی برادری میں دو امتِ مسلمہ ہوئیں۔ پہلی امت جو نسلی اصول پر مبنی تھی، جس کی طرف متعدد پیغمبر بھیجے گئے۔ جب کہ دوسری امتِ مسلمہ عالمی انسانی اصول پر مبنی ہے، اس کے پیغمبر ایک ہی ہیں یعنی پیغمبرِ آخر و اعظم۔

دیوارِ گریہ، حرمِ قدسی کی مغربی دیوار جو دوسرے ہیکل سلیمانی کا بچا ہوا بیرونی حصہ اور یہود کا مقدس ترین مقام ہے۔ یہود عموماً خلیفہِ داؤد کے آنے تک حرمِ قدسی میں داخل ہونا حرام تصور کرتے ہیں

ان دونوں مسلم امتوں کے دو قبلے ہوئے۔ پہلا یروشلم میں اور دوسرا مکہ مکرمہ میں۔ قبلہِ اول کی تعمیر سیدنا سلیمان علیہ السلام کے دور میں ہوئی مگر آثارِ قدیمہ بتاتے ہیں کہ ان سے پہلے بھی یہاں عبادت گاہیں موجود رہیں تھیں اور تباہ ہوچکی تھی۔ اس کے علاوہ اسرائیلی آثار و عقائد کے مطابق سیدنا سلیمان علیہ الصلوة والسلام کی مسجد (ہیکلِ سلیمانی) کی تعمیر سے قبل بھی آلِ اسرائیل کا قبلہ یہی مقام تھا۔ (یہودیوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ الصلوة والسلام نے سیدنا اسماعیل کی نہیں بلکہ سیدنا اسحاق کی قربانی دینے کا ارادہ فرمایا اور انہیں صخرة‎ پر لٹایا، اگرچہ اسلامی نکتہ نظر سے یہ ایک غلط عقیدہ ہے)۔

پیغمبرِ آخر و اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کے امتیوں کو پہلے پہل باقاعدہ طور پر علیحدہ امت کی شکل اختیار کرنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ مگر ہجرتِ مدینہ کے کچھ عرصے بعد بنی اسرائیل کی جانب حجت تمام ہوجانے اور اسلام کے ایک تہذیبی اور سیاسی اکائی بن جانے پر تحویلِ قبلہ کا حکم جاری ہوا۔ یہ حکم دراصل مصطفویوں کے نئی امتِ مسلمہ ہونے اور اسرائیلیوں سے یہ مقام چھن جانے کا اعلانِ عام تھا۔ یہ تبدیلی نسل پر مبنی امت سے خالصتاً انسانی اصول پر مبنی برادری کی سطح پر انسان کی ترقی تھی۔ خلیفۃ اللہ تو زمین پر موجود ہر انسان ہے مگر وقت کی امتِ مسلمہ کی حیثئیت اس خلافت پر شاہد اور داعی ہونے کی ہوتی ہے۔

یہاں یہ سوال ابھرتا ہے کہ اس پس منظر کی بنیاد پر ہمارا یعنی مسلمانوں کا یروشلم اور وہاں موجود گزشتہ قبلے سے کیا تعلق؟ یہی سوال اس حوالے سے مغالطے کو جنم دیتا ہے۔ اس سوال کے دو بہت واضح جواب ہیں۔

قبلہِ اول صخرہ، اسریٰ و معراج کے موقع پر مسجدِ اقصیٰ کے مقام پر ادا کی جانے والی نماز میں قبلہ حرمِ قدسی ہی میں موجودہ سنہری گنبد کے نیچے موجود یہ مقدس پتھر تھا، اسی لتھر سے اسلامی عقائد کے مطابق سیدیّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سفرِ معراج شروع ہوا

پہلا جواب معراجِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ معراج پیغمبرِ آخر و اعظم کی حیاتِ طیبہ کا اہم ترین واقعہ ہے۔ یہ دراصل صرف محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معراج نہ تھی بلکہ انسانیت کی معراج تھی اور سیدیّ رسول اللہ انسانیت کے نمائندے۔ اسی نسبت سے امتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا حرمِ قدسی سے بہت اہم تعلق بن جاتا ہے کیونکہ یہ ہمارے پیغمبر کی سیادت کی علامت ہے۔ حرمِ قدسی کے ایک حصے یعنی مسجد نبوی میں امام الانبیاء نے تمام انبیاء و رسل کی امامت فرمائی۔ اور اسی حرم کے دوسری حصے صخرة‎ سے وہ عرش کی جانب ملاقاتِ الٰہی کی خاطر روانہ ہوئے۔

ہیکلِ سلیمانی (اول)

دوسرا اور عموماً نظر انداز کردیا جانے والا جواب یہ ہے کہ اسلامی عقیدے کے مطابق سیدنا سلیمان علیہ الصلوة و السلام سمیت بنی اسرائیل کے تمام پیغمبروں کے حقیقی روحانی وارث ہم ہیں نہ کہ بنی اسرائیل۔ بنی اسرائیل یہودی تو ہوسکتے ہیں مگر یوسفی قطعاً نہیں۔ بنی اسرائیل نے ان انبیاء کے پیش کردہ اصولوں کو اول تو مسخ کردیا ہے اور مزید یہ کہ اپنی شناخت اور برادری میں ان اصولوں کو ثانوی حیثئیت دے دی ہے۔ یہود اپنے پیغمبروں کو معصوم عن الخطاء بھی تصور نہیں کرتے بلکہ ان کی حیثئیت زیادہ سے زیادہ قومی تاریخ کی اہم روحانی و فکری شخصیات کی رہ جاتی ہے۔ یوں اُس امت کی بنیاد ان انبیاء کی تعلیمات سے کہیں زیادہ صرف اسرائیلی اور یہودی ہونے کی شناخت پر رہ گئی ہے۔ لہذا پیغمبرانِ بنی اسرائیل کی تعلیم کے علم بردار ہونے کے ناطے سے پیغمبرانِ بنی اسرائیل کے حقیقی وارث بھی مصطفوی ہیں۔ اس دعوے کی توثیق ہمارے اس عقیدے سے بھی ہوتی ہے کہ بعثتِ محمدی کے بعد سیدنا عیسیٰ مسیح علیہ الصلوة و السلام سمیت تمام اسرائیلی پیغمبر سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی بن چکے ہیں۔ (اسلامی روایات کے مطابق سیدنا عیسیٰ مسیح علیہ الصلوة و السلام بہ طور مسلمان اور امتیِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی واپس تشریف لائیں گے، نہ کہ بہ طور اسرائیلی پیغمبر)۔

گویا موجودہ مسجدِ اقصیٰ اور حرمِ قدسی ہی دراصل تیسرا ہیکلِ سلیمانی ہی جسے کئی یہودی تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ سیدنا سلیمان علیہ الصلوة و السلام کے حقیقی وارث یعنی مسلمان سیدنا سلیمان علیہ السلام کی اس عبادت گاہ کی تعمیرِ نو مسجد اقصیٰ اور گنبدِ صخرہ کی شکل میں کرچکے ہیں۔ اب تنازعہ صرف یہ ہے کہ سیدنا سلیمان علیہ الصلوة و السلام کا حقیقی وارث کون ہے اور قرآن و بائبل میں مذکور ان کی عبادت گاہ کے متولی ہونے کا حق کون رکھتا ہے۔ فی الوقت مسجدِ سلیمانی کے متولی مسلمان ہیں۔ مگر ہمارے اس استحقاق اور اعزاز پر خطرات منڈلا رہے ہیں۔

صخرہ کا سنہری گنبد دراصل ملتِ بیضا کے سر کا سنہری تاج ہے۔ اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ جب بھی یروشلم ہمارے قبضے میں ہوتا ہے ہم قدرے متحد اور آزاد رہتے ہیں۔ جب یروشلم صلیبیوں یا صیہونیوں کے قبضے میں جاتا ہے، ہم منتشر اور خوار و زبوں ہوجاتے ہیں۔ اگر یروشلم کا دل یعنی حرمِ قدسی ہمارے ہاتھ سے نکل گیا تو شاید ہماری داستان اور ہمارا وجود ہی مٹنے لگے۔

یہی وجہ ہے کہ فلسطین دنیا کے لیے بالعموم اور ہمارے لیے بالخصوص اہم ترین مسئلہ ہی نہیں ہے بلکہ حقیقی مسئلہ ہی یہی ہے۔ اگر ہم اس کشمکش کو ہارجاتے ہیں یعنی حرمِ قدسی کو کھو دیتے ہیں تو ہم صرف ایک سیاسی حقوق کی جنگ نہیں ہاریں گے بلکہ عقیدے اور الٰہیات کی سطح پر بھی بہت کچھ ہار جائیں گے۔ امتِ محمدیہ کے امتِ مسلمہ ہونے پر ہی ایک سوالیہ نشان لگ جائے گا۔

مگر اس بیان سے یہ نہ سمجھا جائے کہ مسئلہ فلسطین صرف مسلم یہودی تنازعہ ہے۔ یہ دراصل ایک اصولی لڑائی ہے قوم پرستی اور نسل پرستی کی طاقتوں کی انسانیت اور اخوت کی طاقتوں سے۔ صیہونیت یہودیت سے مختلف ہے۔ یہ فقط مغربی طرز کی قوم پرستی ہے اور قوم پرستی ایک جدید مغربی نظریہ ہے۔ بہت سے جدید مغربی نظریات میں سے یہ نظریہ غالباً اسلام کے انسان دوستی اور اخوت و مساوات کے اصول سے سب سے زیادہ متضاد ہے۔ یوں یہ صرف الٰہیاتی یا سیاسی لڑائی نہیں رہ جاتی بلکہ اصولوں اور نظریات کی لڑائی بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ویٹیکن سٹی سے ساؤتھ افریقہ اور لاطینی امریکہ سے فلپائن تک بہت سے مذہبی کیتھولک مسیحی فلسطینیوں کے حقوق کے زبردست حامی ہیں کیونکہ مسیحیت کو ہٹا کر آنے والی مادہ پرستی کی کوکھ سے ہی اس قوم پرستی نے جنم لیا جو اسلام ہی نہیں، مسیحیت سے بھی متصادم ہے۔ صیہونیت دراصل تمام قوم پرستیوں کی نمائندہ ہے۔

فلسطین ایک اخلاقی کسوٹی بھی ہے۔ دنیا کے ہر مذہب و ملت کے افراد میں اس حوالے سے تقسیم پائی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ خود یہودیوں کے اندر اخلاقی طور پر مضبوط جڑیں رکھنے والے طبقات صیہونیت کے مخالف ہیں۔

ہمارے ہاں کے سیکولرسٹ طبقات میں بھی اس اخلاقی کسوٹی کی کارفرمائی دیکھنے کو ملتی ہے۔ ایک طرف فیض احمد فیض اور اقبال احمد جیسے دانشور ہیں جن کی پہچان کا ایک بڑا حصہ فلسطینیوں کا پرجوش وکیل ہونا ہے۔ دوسری طرف وہ طبقات ہیں جو اس طرح کی باتیں کرتے نظر آتے ہیں کہ فلسطین ہمارا مسئلہ ہی نہیں اور ہمیں عالمی معاملات میں ‘حقیقیت پسند’ (خود غرض) ہوکر اسرائیل کی حمایت کرنی چاہیے۔

گویا مذہب سے سیاست اور نظریات سے اخلاقیات تک، ہر میدان میں اسرائیل اور فلسطین کی کشمکش خیر و شر اور امتیاز و اخوت کی کشمکش ہے۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم اس کشمکش میں کہاں کھڑے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: