کارپوریٹ کلچر کا بدمست ہاتھی، تاریخی تناظر اور اختر علی سید صاحب کے سوالات

0
  • 33
    Shares

نت نئے خیالات اور سوالات کسی سماج میں ہونے والے آزادانہ مکالموں کا ایندھن ہوتے ہیں۔ ایسے ہی مکالمے کسی سماج کو بالآخر ترقی کی راہ پر گامزن کرتے ہیں۔ چند دن قبل جناب اختر علی سید صاحب نے اپنی تحریر میں کچھ سوالات اٹھا کر ہمیں ایک بار پھر سوچنے پر مجبور کر دیا۔ ان کی تحریر میں وہی درد محسوس ہوتا ہے جو ہر محب وطن سمندر پار پاکستانی کے دل میں موجود ہے۔ انہوں نے ترقی یافتہ ممالک میں رائج جمہوری اور سرمایہ دارانہ نظام کے حوالے دیتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ کیا پاک فوج خود کو ایک لڑنے والی فوج سے ایک ایسی کارپوریشن میں تبدیل کر سکتی ہے جو ملک کی معیشیت میں انقلاب لے آئے۔ درج ذیل عبارت آرائی کا مقصد ان کے سوالات کے جوابات ڈھونڈنا نہیں بلکہ گزشتہ صدی کے واقعات اور مباحث کی تناظر میں ان سوالات کو دیکھنا ہے۔ راقم ان کے پیش کردہ اس بنیادی مقدمے سے اپنے آپ کو متفق پاتا ہے کہ موجودہ دور میں جمہوریت اور سرمایہ دارانہ نظام سے مفر نہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاک فوج ایک عظیم قوت ہے جس کی سیاسی بساط میں موجودگی سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ مگر ساتھ ہی ساتھ یہ خاکسار کچھ نکات پر اپنے آپ کو خدشات میں گھرا ہوا پاتا ہے۔

گزشتہ صدی کے اوراق کا مطالعہ کیا جائے تو سرمایہ دارانہ اور اشتراکی نظام باہم برسر پیکار نظر آتے ہیں۔ نوے کی دہائی میں کمیونزم کے انہدام کے بعد سرمایہ دارانہ نظام فاتح قرار پایا۔ کمیونزم کی جو بچی کچی صورتیں کییوبا اور کوریا میں رہ گئیں، سوویت یونین کے خاتمے کے بعد وہاں کے لوگوں کی زندگی بھی اجیرن ہو کر رہ گئی۔ اس موقع پر امریکی تِھنک ٹینک “رینڈ کارپوریشن “کے ایک سابقہ مفکر فرانسس فوکایاما نے ۱۹۹۲ میں ایک کتاب لکھی۔”اختتامِ تاریخ و آخری انسان The End Of History and The Last Man “ نامی اس کتاب میں فوکایاما نے تاریخ عالم کا تجزیہ کرنے کے بعد ایک چونکا دینے والا اور متنازع دعویٰ کیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ انسانی تاریخ ایک ارتقائی عمل ہے جس کی آخری منزل کسی مثالی نظام کو پالینا ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ دارانہ نظام اور لبرل جمہوریت وہ دو مثالی نظام ہیں جن کے بعد کسی اور نظام کے کامیاب ہونے کے کوئی امکانات نہیں رہے۔ لہذا اگر ساری دنیا میں جمہوری اور سرمایہ دارانہ نظام قائم ہو گیا تو تاریخِ انسانی میں چلے آرہے سارے تنازعات ختم ہو جائیں گے۔ فوکایاما کے اس نظریے کی اساس افلاطون کے تصورِ “تھائیموس” اور ھیگل کے کچھ افکار پر ایستادہ تھی۔ اس نظریے نے جاج بش اور ٹونی بلئیر کی پالیسیوں پر گہرے اثر ات مرتب کیے۔ یہاں یہ حقیقت کافی دلچسپ ہے کہ جارج بش نیوکنزرویٹیو تھے اور ٹونی بلئیر نیولبرل۔ نیو کنزرویٹیوز وہ سیاسی جھتہ ہے جو جمہوریت کو دوسروں پر مسلط کرنا جائز سمجھتے ہیں۔ فوکایاما کے اس نظریے کی شکل میں جارج بش کی انتظامیہ کو ایک ایسا فتوٰی ہاتھ آگیا جس کے ذریعے جمہوریت کو جارحانہ طریقوں سے دوسروں پر مسلط کرنا ایک فلاحی کام قرار پایا۔ دوسری جانب نیو لبرل وہ جھتہ ہے جو فری مارکیٹ، نجکاری اور اقتصادی آزادی پر یقین رکھتے ہیں۔ مگر ٹونی بلئیر کے نیو لبرل ہونے کے باوجود ۹/۱۱ کے بعد وہ جارج بش کے ساتھ جارہانہ طریقوں سے جمہوریت دوسروں پر مسلط کرنے لگ گئے۔ جنگ جو کھبی صرف دفاع کے لیے جائز تھی اب دوسروں پر جمہوریت مسلط کرنے کی غرض سے جائز ہوگئی اور اس پر عمل بھی شروع ہو گیا۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: لبرلزم: ایک تنقید: آلان دی بونوا (حصہ اول) — ترجمہ: کبیر علی

 

تاہم فوکایاما کے نظریے کو علمی حلقوں میں متنازع قرار دیا گیا۔ ان کے استاد اور نقاد سیموئیل ھنٹنگٹن نے چند سال بعد ُ”تہاذیب کا تصادم Clash Of Civilizations” لکھی جس میں انہوں نے ایک متبادل نظریہ پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد نظریاتی جنگ تو ختم ہو گئی ہے مگر تہذیبی تصادم کا خطرہ ہنوز باقی ہے۔ انہوں نے اسلامی تہذیب کو سویت یونین کے انہدام کے بعد مغرب کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا۔ ان کی کتاب چند سال تک تو قابل اعتناء نہیں سمجھی گئی مگر ۹/۱۱ کے حملوں کے بعد اس نے نیو کنزرویٹیو اور دائیں بازو کے لیے ایک بائبل کی سی حیثیت اختیار کر لی۔ تاہم گزشتہ دہائی میں عراق، افغانستان اور عرب ممالک میں اٹھنے والی تحریکوں کے نتیجے میں ہم نے دیکھ لیا کہ جمہوریت چاہے کتنا ہی اچھا نظام کیوں نہ ہو لیکن کوئی ملک اگر ایک ارتقائی عمل سے گزر کر جمہوریت تک نہیں پہنچتا تو اس پر زبردستی جمہوریت ٹھونسنے کا کیا انجام ہو سکتا ہے۔ یہ تو رہا جمہوریت کا ذکر۔ اب آتے ہیں سرمایہ دارانہ نظام کی بحث پر۔

پاکستان کے اقتصادی پس منظر میں جہاں طبقاتی کشمکش اپنی انتہا پر ہے، اشتراکی نظام کے نعرے کافی خوش کن لگتے ہیں۔ مگر جیسا کہ اختر علی سید صاحب نے اشارے کیے کہ دنیا کے ماہرین اقتصادیات اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ اپنی تمام تر خامیوں کے باوجود سرمایہ دارانہ نظام کا کوئی متبادل موجود نہیں۔ جس نے بھی ترقی کرنی ہے اسی نظام کو گلے لگانا ہوگا۔ یہ ایک انتہائی ظالم نظام ہے۔ مگر آج کے انسان کو جو جدید علاج اور طویل و جدید زندگی کے جو ثمرات میسر ہیں بشمولِ ٹیکنالوجی اور فاصلوں کے سمٹ جانے کے، یہ سب اسی نظام کا طلسم ہوشربا ہے۔ یہ نظام غربت کو ختم کرنے کا دعوی تو نہیں کرتا مگر اسے کم کرنے کا دعوی ضرور کرتا ہے۔ مگر اس نظام کی خوبیوں اور خامیوں پر بحث یہاں مقصود نہیں۔ حاصل بحث یہی ہے کہ اس نظام کے سارے متبادلات ناکام ہوچکے ہیں۔

اقتصادیات کا علم رکھنے والے جانتے ہیں کہ ساٹھ کی دہائی سے قبل دنیا میں ”کینزین اکنامکس Keynesian Economics“ کا نظام رائج تھا۔ کینز کا معاشی نظام دوسری جنگ عظیم کے بعد اقتصادی بحران کے وجہ سے معروف ہوا تھا۔ اس نظام کے تحت ریاست کو یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ ملک کے وسیع تر مفاد میں قومی منڈی میں مداخلت کر سکتی تھی۔ مگر ساٹھ کی دہائی میں ملٹن فریڈمن نے اپنی شہرہ آفاق کتاب “سرمایہ داری اور آزادی Capitalism and Freedom” لکھی۔ اس کتاب میں انہوں سرمایہ دارانہ نظام کے سماجی مظاہر کا جائزہ لیا۔ انہوں نے فرد کی سیاسی اور سماجی آزادی کو معاشی آزادی سے جوڑا۔ وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ فری مارکیٹ بھی لبرلزم کا ایک اہم جزو ہے۔ نابلد قاری کے لیے بس اتنی وضاحت کرتا چلوں کہ فری مارکیٹ ایک ایسی منڈی ہوتی ہے جو ریاست کی دخل اندازی سے ماوراء ہو۔ فری مارکیٹ میں ہی کارپوریٹ کلچر کا بدمست ہاتھی ناچ سکتا ہے۔ آج کے مغربی ممالک کی اقتصادیات فری مارکیٹ کے اصولوں پر ہی استوار ہیں۔

یہاں مقصود نہ تو جموریت کے قصیدے پڑھنا ہے اور نہ ہی لبرلزم کے۔ مگر اس ساری تمہید کا مقصد یہ واضح کر نا ہے کہ جس طرح کسی معاشرے میں جمہوریت کے کامیاب ہونے کے لیے ایک بنیادی ڈھانچہ چاہیے ہوتا ہے بالکل اسی طرح فری مارکیٹ کے ثمرات سے لطف اندوز ہونے کے لیے موافق سماجی حالات ہونے چاہئیں۔ انسانی حقوق کی قبر پر اقتصادی ترقی کی عمارت قائم نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی یرغمال جمہوریت کے آنگن میں معاشی انقلابات برپا کیے جاسکتے ہیں۔ اگر پاک فوج جیسی عظیم قوت ایسا کرنے کی ٹھان لے تو یقیناً ایسا ہوسکتا ہے۔ آخر چین جیسا ملک بھی تو مطلق العنانیت اور سرمایہ دارانہ نظام کا سیڈوچ بنا بنا کر اتنا تن و مند ہو گیا ہے کہ خود امریکہ جیسے لبرل ملک کی معیشیت کے لیے ہی خطرہ بن کر رہ گیا ہے۔ مگر تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ نپولین سے لے کر آج تک جتنی بھی عسکری حکومتیں آئیں، سب نے ہمیشہ اپنی عسکری بالادستی، عسکری اہداف اور مراعات کو مقدم جانا۔ ایسا قدم اٹھانے کے لیے عسکری قوت کو اپنی بالادستی سے دستبردار ہونا پڑتا ہے۔

بین الاقوامی ناقدین پاکستان کے عسکری اداروں کے حوالے سے ایک مسئلہ عسکری اداروں میں موجود لٹریچر کو گردانتے ہیں۔ دنیا کے سارے افواج اپنے اندرونی لٹریچر میں اپنےغلطیوں پر آزادانہ بحث کرتیں ہیں۔ پاکستان کے عسکری لٹریچر کے بارے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ اس میں اپنی خامیوں اور غلطیوں پر بحث کے بجائے بس اپنی جیت ہی کے گن گائے جاتے ہیں اور دشمن کی پسپائی کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا ہے۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں پسماندہ نصاب کو پڑھ کر کئی نسلیں ایسی جوان ہوئیں ہیں کہ جن کی آنکھوں پر آج تک پٹی بندھی ہوئی ہے۔ تو عسکری اداروں میں کام کرنے والے محب وطن لوگوں کی حالت مختلف کیسے ہو سکتی ہے۔

فوکایاما نے ۲۰۱۵ میں ایک اور کتاب “Political Order And Political Decay” لکھی ہے۔ مذکورہ تحقیق کو جو کہ دو جلدوں پر مشتمل ہے، کا لب لباب کچھ اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے۔

“کسی ملک میں موجود آزاد ریاست اور آزاد عدلیہ کے بغیر جدید لبرل جمہوریت کا تصور ممکن ہی نہیں۔ آزادی کے اسی الگورتھم کے مدارج میں فری مارکیٹ اکانومی اور اقتصادی خوشحالی خود بخود آ ہی جاتی ہے”۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: