ملازمت پیشہ عورت اور شادی کا انتخاب : منزہ احتشام گوندل

0
  • 250
    Shares

اس نے سر سے بھاری گٹھری اٹھا کے نیچے رکھی۔ بچی جو بغل میں تھی اسے بھی تقریبا نیچے پھینکا، ٹانگ کے ساتھ چپکے بچے کو کھینچ کے دور پٹخا اور دھپ کرکے زمین پہ بیٹھ گئی۔ یہ “نیدو” ہے۔ اس کا نام تو ناہید ہے مگر نیدو اس کی عرفیت ہے۔ نیدو ابھی بیس برس کی نہیں ہوئی، اس کی ماں گریبو بھی ابھی چالیس سے کم ہے۔نیدو کے پاس چار بچے ہیں۔ جب وہ بیٹھی تو میں نے یونہی اس سے اس کے بچوں کی عمریں پوچھ لیں، اس نے دوپٹے سے ماتھے اور گردن کا پسینہ پونجھا اور عاجز ہوکے بولی “باجی مین کوئی نئیں پتا” یعنی باجی مجھے نہیں پتا۔

نہایت معذرت کے ساتھ تب مجھے فورا خیال آ یا کہ ہمارے سماج میں کامیابی کے معیار کے مطابق نیدو ایک کامیاب عورت ہے۔ کیونکہ اس کے پاس شوہر ہے اور چار بچے ہیں، یہی کامیابی کا معروف ترین تصور ہے۔ عورت خواہ کتنی ہی پڑھی لکھی، اچھی ملازمت پہ متمکن اور باشعور کیوں نہ ہو، اگر وہ شادی شدہ نہیں تو معتبر نہیں۔ بلکہ وہ جہاں بھی جائے گی ہر شخص اس کی تنہائی پہ سوال اٹھائے گا۔ پڑھے لکھے دوست شادی کے مشورے دیں گے اور ذرا کم تعلیم یافتہ لوگ باقاعدہ اس کی حالت پہ ترس کھائیں گے۔ میں نے بہت باشعور اور پڑھے لکھے افراد کو ایسی خواتین کے متعلق یہ کہتے سنا ہے جو کیریر کے باوجود شادی نہیں کرتیں یا نہیں کرپاتیں کہ یہ خواتین معیار کے پیچھے بوڑھی ہوگئی ہیں۔

ایک دوست کا کہنا ہے کہ تعلیم یافتہ اور ملازمت پیشہ خواتین کے اندر نخرہ آ جاتا ہے۔ وہ نخرے نخرے میں شادی کی مناسب عمر گنوا بیٹھتی ہیں اور پھر کسی بھی ایرے غیرے نتھو خیرے کے ساتھ سمجھوتہ کرلیتی ہیں۔ یہ بات اپنی جگہ پہ ٹھیک ہوگی لیکن یہ ضروری بھی نہیں کہ اسے فارمولا بنا لیا جائے۔ اصل میں ملازمت پیشہ عورت نمایاں ہو جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ہر کوئی اسے ٹارگٹ کرلیتا ہے۔ مجھے اس سال جنوری میں حیرت ہوئی جب پتا چلا کہ میری ہائی اسکول کی دو ہم جماعت لڑکیوں کی شادیاں ابھی ہوئی ہیں۔ اور کچھ ہم جماعت ابھی شادیوں کے انتظار میں بیٹھی ہیں اور یہ وہ لڑکیاں ہیں جنہوں نے سیکنڈری سکول کے بعد تعلیم بھی جاری نہیں رکھی تھی اور دوسری طرف گزشتہ سال اول کے سیشن میں میری ہائی اسکول کی ہی ایک کلاس فیلو اپنی بیٹی میرے پاس گیارہویں میں داخل کروا کے گئی ہے۔

اگر ایک عورت مناسب انتخاب نہ مل سکنے پر مجرد زندگی کو ترجیح دیتی ہے تو یہ اس کا ذاتی انتخاب ہے۔ معیار کی خاطر شادی کی عمر گنوا دینا اگر جرم ہے تو غیر معیاری شادی کرنا اس سے بڑا جرم ہے۔

تو یہ کوئی طے شدہ فارمولا نہیں کہ عمر کے ایک مخصوص حصے تک دنیا کے ہر مرد اور ہر عورت کی شادی ہوجائے۔ ایک ماں باپ کے بطن سے جنم لینے والے بہن بھائیوں کے مقدر اس معاملے میں ایک جیسے نہیں ہوتے ایک کلاس کے لوگوں کا معاملہ تو اور بھی جدا ہے۔ مگر ہمارے ہاں خصوصی طور پہ پڑھی لکھی اور ملازمت پیشہ عورت اس معاملے میں ہدف تنقید رہتی ہے۔ میں مختلف اوقات میں مختلف آرا سنتی رہتی ہوں۔ اگر مرد کا شادی کے معاملے میں معیار ہو سکتا ہے تو عورت کا کیوں نہ ہو۔بلکہ اس کے اندر زیادہ ہونا چاہیے کہ وہ آ نے والی نسل کی زمہ دار ہوتی ہے۔ شادی کوئی ایسا انتہائی ضروری عمل نہیں کہ عدم موافقت اور عدم مطابقت کے باوجود کی ہی جائے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے اپنا سارا انسانی سیٹ بگاڑ لیا جائے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: پاکستانی سماج اورعورت معاشی خود مختاری کاجھانسہ — نجیبہ عارف

 

اوپر میں نے نیدو کی مثال اس لیے دی کہ ایک تو نیدو جیسی عورت ہے جسے اپنے بچے کی عمر تک معلوم نہیں اور جس کے لیے شادی اور برس ہا برس بچوں کی پیدائش ایک میکانیکی عمل ہے۔ جو بس ہے اور ہوتا جارہا ہے، مگر جو عورت نیدو جیسی نہیں جو اپنے اندر ذوق جمال بھی رکھتی ہے، جو آ نے والی نسل کا بھی سوچتی ہے۔ جو ڈائری لکھتی اور خواب دیکھتی ہے، اس کے لیے شادی اور بچے اتنا میکانیکی عمل نہیں رہ جاتے بلکہ اس میں کچھ نہ کچھ اس کی تخلیقیت اور خواب بھی شامل ہوجاتے ہیں۔ وہاں بات اس کی پسند نا پسند کی آجاتی ہے اور یہی سرحد ہے جو اسے گائے، بکری، بھینس یا مکھی، مچھر سے الگ کرتی ہے۔ سو ایک پڑھی لکھی، اپنی سوچ رکھنے والی عورت کے ذاتی انتخاب کا احترام نہ کرنا اور اس کے ہمیشہ مجرد رہنے کے فیصلے کو غلط، یا متکبرانہ کہنے کی روش ہمارے ہاں بے حد عام ہے۔ جو کہ بعض اوقات تحقیر اور اذیت کے دائرے میں داخل ہو جاتی ہے۔

میں سمجھتی ہوں کہ اگر ایک عورت مناسب انتخاب نہ مل سکنے پر مجرد زندگی کو ترجیح دیتی ہے تو یہ اس کا ذاتی انتخاب ہے۔ معیار کی خاطر شادی کی عمر گنوا دینا اگر جرم ہے تو غیر معیاری شادی کرنا اس سے بڑا جرم ہے۔


یہ بھی دیکھئے:
شادی: مناسب وقت، ذاتی آزادی اور Out Of The Box بولڈ فیصلے: سحرش عثمان

شادی کرلو: اسمارٹ فون محبت کی میں مبتلا نوجوانوں سے —– فواد رضا

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: