پرائمری کا زمانہ اور بچپن کی یاد —– جبران عباسی

0
  • 48
    Shares

اکثر لوگوں کے بچپن کی یادیں چاچو، ماموں، کاغذ کی کشتیاں، شرارتیں اور خوبصورت سی یاداشتوں پر مشتمل ہوتی ہیں، وہ بے فکری کے عالم میں بیتائے گے لمحوں کے دوبارہ پانے کی خواہش کرتے ہیں کہ وہ دوبارہ بچے بن جائیں، ویسے ہی معصوم جیسے ایک بچہ شرارت کرنے کے بعد بننے کی کوشش کرتا ہے دراصل وہ ہماری فطرت ’’محبت‘‘ کو جو اس کی بہترین دوست بھی ہے، کو جگا رہا ہوتا ہے۔

میرے بچپن کی یادوں میں کیا ہے آج میں نے بھی کھوجنے کی کوشش کی مگر افسوس کہ ایسا کچھ بھی نہی ملا کہ آنکھیں بند کروں تو وہ منظر مجھے اپنی آغوش میں لے لے، چند لمحوں واسطے زہن میں عقل و عقیدے کے لڑائیوں میں امن ٹھہر جائے۔

میری یادوں کی میراث میں، ایک طویل بیماری ہے جس سے میں قریباً چھ سال کی عمر سے بارہ سال تک نبردآزما رہا، دمہ تھا، آج بھی واضح اثرات ہیں۔ یا وہ قیامت خیز زلزے کی چند جھلکیاں، سکول کی عمارت گر رہی ہے، میں بھاگتے ہوئے سیڑھیوں پر گر پڑا، کئی میرے اوپر سے کودے، تھوڑی دیر بعد جب دادا آئے تو معلوم ہوا کہ اپنے گھر میں ایک لڑکی والدہ کی مدد کرا دیتی تھی، گھر گرا تو دب گئی اور تایا جان کے گھر میں دادی اور تایہ زاد ہمشیرہ ملبے میں دب گئیں، دادی تو تین چار گھنٹوں بعد ہی چل بسیں مگر بہت کوششوں کے باوجود اس لڑکی کا جسم تین دنوں بعد ہی نکالا جا سکا جبکہ ہمشیرہ کو صحت مند ہونے میں ایک سال لگا۔

تلخیاں جب انتہا کو چھو لیں سمجھ لیں اختتام کو ہیں۔ جب میں ان یادوں سے انتہائی مایوس ہو رہا تھا کہ دو نام یکدم ذہن کے افق میں نمودار ہوئے۔ مسلسل ایک سوال ابھرنے لگا کیسے میں بھول سکتا ہوں ان کو جنھوں نے میری فکری تعمیر کا آغاز کیا اور نامکمل ہی سہی میرے شعور کی بنیاد رکھی۔

آج والدین اپنے بچوں کیلئے پروفیشنل اور سرٹیفائید ٹیچرز ڈھونڈتے ہیں، انھیں کیا معلوم جس بچے کی بنیاد نزاکت استاد اور ابوجی (دادا جان) نے رکھی ہو وہ بچہ بےشک سائنس اور ریاضی کا ایک نالائق طالبعلم سہی، ان پروفیشنل ٹیچرز کی ناقص پیداوار سے کہیں زیادہ پرجوش کامیابی کے سفر پر گامزن ہے۔

ابوجی آٹھ جماعتیں پاس ہیں مگر انگریزوں کے زمانے کے، ان کی دانش کتابوں سے ہرگز نہی ، مگر شعور و آگاہی کا ورثہ انھی کی میراث ہے، وہ آگے کیوں نہیں پڑھے مجھے افسوس ہے مگر ہمارے گاوں کا سادہ زمانہ اور تعلیمی روایت کا ناپید ہونا بڑی وجہ بنی۔

تحریر ان کی شفاف ہے، انگریزی گرائمر پر کافی دسترس حاصل ہے۔ وہ ایک نیم زمیندار گھرانے کی خوشحالی کے آخری چشم دید گواہ ہیں۔ ابو جی پر الگ سے لکھنے کا شوق ہے مگر کب میں نے صرف ایک بار سر نوید اختر کو بتایا تھا۔

میری باقاعدہ نصابی تعلیم کا آغاز گھر سے ہوا، مجھے سکول میں داخل کرنے کے بعد ابوجی قاعدے اور پہلی (نرسری اور فسٹ) کی کتابیں گھر لے آئے اور حروف تہجی کی پہچان، ان کا لکھنا، پڑھنا، انگش وڈذ کی درست تلفظ، ریاضی کی گنتی ان سب کو رٹتے ہوئے جتنا تشدد ہوا، ایک الگ روگ ہے۔ وہ مارتے بہت تھے، کہتے ہیں سب سے زیادہ مبصر بھائی نے مار کھائی ہے۔

قریباً ایک سال میں ظالمانہ اور پرتشدد دباو کے تحت میں نے دونوں سالوں کی تمام کتابیں حرف بہ حرف رٹ لیں تو ترچھ سکول میں نزاکت استادوں کے حوالے ہوا، ایک ایسی شخصیت کہ جس کا میں عکس ہوں، میں نے ان سے خوداعتمادی سے کہیں بڑھ کر کر احترام کرنا سیکھا، جو شخص آپ کو صحیح معنوں میں احترام کرنا سیکھا جائے وہ عظیم ہے۔

مسلہ یہ ٹھہرا مجھے سکول بالکل اچھا نہیں لگا شاید اس وجہ سے کہ مجھے بے معنی شور سے نفسیاتی الجھن ہے۔ میں گھر سے ضرور نکلتا مگر راستے میں غائب، یہ سکول والی واحد چھپن چپھپائی ہے جب جب پکڑا جاتا ظالم بہت مارتے، چھڑیوں سے، تھپڑوں سے، مرغا بنا کر میرا سر ٹانگوں میں زور سے دبا کر تشریف پر۔

نزاکت استادوں نے پہلی سے ہی ہماری جماعت لے لی اور پانچویں تک خوب محنت کی، میں، شمروز اور فہیم ان کے پسندیدہ طالب علم تھے، فہیم اکثر سکول نہ آتا مگر ان کو فہیم سے اتنا لگاو تھا کہ اکثر ایک جرگہ میری قیادت میں اس کے گھر جاتا اور یقین دلاتا کہ نزاکت استاد کہہ رہے ہیں آ جاو، غیر حاضریوں پر کچھ نہیں کہا جائے گا۔

آج حکومت اور سوسائٹی دونوں بہتر سہولتوں کی تیز تر کوششوں میں ہیں صرف تیرہ سال پہلے کی بات ہے پہلی جماعت میں ہی تھا زلزلے میں سکول کی عمارت مکمل تباہ ہوئی، بقیہ سال وہی عمارت کے پتھروں پر گزرا، باقی چار سال ایک بڑے خیمے میں، کھلے آسمان تلے۔

مختصر یہ کہ پرائمری کا زمانہ بہتر گزرا، آج احساس ہوتا ہے کہ ایک بچے نے غالباً وہی سے سیکھا تھا، محنت کرنا، خود اعتماد ہونا ، یقین رکھنا جس کے ساتھ وہ اپنی بیماری سے لڑا۔

وہ اوسط درجے کا طالب علم ہے مگر کبھی اسے کند ذہن نہی کہا گیا حتی کہ جس مضامین میں وہ واقعی کند ذہن ہے پاسنگ مارکس لے لیتا ہے۔وہ بچہ جس نے ماموں، چاچو والے چونچلے نہ دیکھے، جو تتلیوں کو پکڑتا بھی تو مکڑی کے جالے میں پھینک دیتا ، اگر وہ بچہ کاغذ کی کشتی اور بارش کے قصے لکھے تو محض جھوٹ لکھے گا، اس کی شیطانیاں اتنی ہی تھیں کہ ایک دفعہ کسی کا سر پھاڑ دیا تو دوگنا مار بھی بھگتی۔

ہر انسان کتنا بڑا ہی کیوں نہ ہو اس کے اندر ایک بچہ چھپا ہوتا ہے، یہ بچہ بہت معصوم اور سب سے بڑھ کر سچا ہوتا ہے، یہ بچہ ضمیر کے اندھیروں سے خوف کھاتا ہے، یہ بچہ سچ کی آغوش کا منتظر رہتا ہے، مگر ہم اس خوف سے اسے قتل کر دیتے ہیں یہ سچا بچہ ہمیں منافق سماج سے ہم آہنگ نہی ہونے دے گا ، کامیابی کی راہ میں رکاوٹ بنے گا، اگرچہ اللہ فرماتا ہے ’’اور اولاد کو رزق کے خوف سے قتل نہ کرو‘‘۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: