میں بڑا صحافی کیوں نہیں بن سکا ——– اے وسیم خٹک

0
  • 91
    Shares

یونیورسٹی میں داخلہ لینے کے بعد عموما اساتذہ یہی سوال طلباء سے کرتے ہیں کہ اس ڈیپارٹمنٹ میں داخلہ کیوں لیا اور بھی تو بہت سے ڈیپارٹمنٹس تھے، تو کچھ طلباء پر اعتماد لہجے میں جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ میرا شوق تھا کیونکہ میں نے بیچلر میں اس مضمون کو پڑھا ہوا ہے اور بہت سے طلبا کنفیوز ہو جاتے ہیں اور پریشانی کے عالم میں ادھر ادھر دیکھتے ہیں کہ اب کیا جواب دیا جائے تو جواب دیا جاتا ہے کہ میں حادثاتی طور پر اس ڈیپارٹمنٹ میں آیا ہوں مجھے فلاں ڈیپارٹمنٹ میں داخلہ نہیں ملا اور اس ڈیپارٹمنٹ میں مل گیا اس لئے داخلہ لے لیا جب ہم یونیورسٹی میں آئے تھے ہم سے بھی یہی سوال کیا گیا تھا تو ہم نے جوا ب دیا تھا کہ شوق سے ہی اس ڈیپارٹمنٹ میں آیا ہوں تو دوسرا سوال کیا گیا تھا کہ اگر شوق سے آئے ہو تو کچھ لکھا وکھا بھی ہے کہ نہیں تو جواب دیا گیا جی بہت کچھ لکھا ہے کبھی موقع ملا تو لکھا ہو دکھا بھی دیں گے۔ اور یوں پھر ہمارے دوسرے دوست سے سوال کیا گیا جی جناب آپ بتائیں آپ نے جرنلزم کیوں منتخب کیا تو جواب ملا کہ آئی آر میں داخلہ نہیں ملا اور جرنلزم میں نام آگیا اس لئے حادثاتی طور پر صحافت میں انٹر ہو گیا اور پھر یوں ہوا کہ حادثاتی طور پر داخلہ لینے والے نے ڈیپارٹمنٹ ٹاپ کرکے گولڈ میڈل بھی لے لیا۔ ہم جو صحافت میں داخلہ لینے سے پہلے اردو ڈیپارٹمنٹ گئے تھے کہ ہم نے اخبار میں لکھنا ہے۔ اور اس لئے داخلہ لینا ہے جس پر منتظمین ہنس رہے تھے کہ صحافت کا شوق ہے اور اردو میں داخلہ لینا ہے کیا بہترین لطیفہ سنا یا ہے بچے نے اور یوں ہم بڑا سا منہ لے کر رہ گئے تھے، پھر انہوں نے جرنلزم کی راہ دکھائی اور یوں صحافت میں داخلہ لے لیا کہ ہم بڑے صحافی بن جائیں گے مگر ابھی تک وہ بڑے صحافی نہیں بن سکے۔

اس کی بہت سی وجوہات ہوسکتی ہیں مگر مجھے جو وجہ سامنے آرہی ہے وہ یہ ہے کہ نہ تو میرا باپ کوئی مشہور کریکٹر رہ چکا ہے نہ وہ کوئی بڑا کھلاڑی ہے نہ ہی وہ کوئی بڑا ادکار ہے نہ ہی اس کے اتنے بڑے تعلقات ہیں کہ اس کی وجہ سے مجھ پر لوگوں کی رحم وکرم ہوتی لیکن اپنے خاندان کی وجہ سے ہی میں کچھ نہ کچھ لکھتا رہتا ہوں جس پر اعتراض بھی ہوتا ہے او ر وہ اعتراض بھی بجا ہی ہے کیونکہ صحافت کا کیڑا غلطی دیکھنے پر لکھنے پر ابھارتا ہے اور پھر ہم یہ نہیں دیکھتے کہ سامنے کرپشن کرنے والا اپنا ہے یا پرایا،دوست ہے یا دشمن بس کاغذ پر الفاظ بیٹھنے لگتے ہیں جس سے بہت سو کا بھلا مگر اس شخص کا بیڑا غرق ہوجاتا ہے مگر پھر بھی میں بڑا صحافی نہیں بن سکا جس کا گلہ مجھے اپنے سینئرز سے اپنے یونیورسٹی کے اساتذہ سے بہت ہے،انہوں نے مجھے کامران خان، کامران شاہد، جاوید چوہدری، مبشر لقمان اور شاہد مسعود، شاہ زیب خانزادہ، فریحہ ادریس، مہر بخاری یا جاسمین منظور کی طرح کا صحافی بننے کا طریقہ نہ پڑھایا نہ سکھایا۔ بس اس پر زور دیتے رہے کہ بس لکھتے رہیں لکھتے رہیں آپ بڑے صحافی بن جاؤ گے ہمیں تھیوری بہترین پڑھائی گئی مگر پریکٹیکل پر اتنی توجہ نہیں دی گئی۔ مجھے میڈیا کے اداروں کے سربراہان سے بھی گلہ ہے جنہوں نے صحافت کی ڈگری نہ رکھنے والو ں کو بھی اپنے اخبارات، ٹی وی چینلز اور ریڈیو میں جگہیں دی ہیں، کیا کبھی کسی ڈاکٹر نے ایم بی بی ایس کے بعد کوئی سڑک یا پل بنا یا ہے یا کسی انجنیئر نے انجنئیرنگ کی ڈگری لینے کے بعد کسی کا آپریشن کیا ہے؟ نہیں ناں؟ تو کیوں کر ڈاکٹر اور دوسرے شعبے والے ہمارے صحافت کے شعبے میں داخل ہوئے ہیں؟ ڈاکٹر ہے اور ساتھ میں صحافی بھی ہے؟ یہ کیا بات ہوئی کبھی کسی کالج میں یا یونیورسٹی میں ایم اے اردو یا ایم اے پشتو کی پوزیشن پر صحافت کی ڈگری لینے والے کو بھرتی کیا گیا ہے مگر ایم اے اردو اور ایم اے پشتو والے صحافت میں کام کر رہے ہیں۔ یوں میڈیا مالکان نے نام نہاد صحافی اینکر بنا کر ہم پر اچانک مسلط کر دیئے ہیں اور اب ذرائع ابلاغ پر راج کر رہے ہیں۔ نجانے انہیں ان کے اساتذہ کیا گھول کر پلاتے رہے ہیں کہ یہ راتوں رات ٹی وی سکرینوں پر قابض ہو گئے ہیں۔

جب ہم یونیورسٹی میں پڑھتے تھے تو ہمارے محترم ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین شاہجہان صاحب ہمیں انگریزی اور اردو روزنامے پڑھ کر آنے کا درس دیتے رہے، ہمیں محنت، دیانتداری اورلگن سے رپورٹنگ کرنے کی تلقین کرتے رہے۔ نعیم گل صاحب سے رپورٹنگ کے اسرارو رموز سیکھے، اور انعام الرحمن صاحب سے سب ایڈیٹنگ کے طریقے سیکھے فیض اللہ جان صاحب نے بور ترین مضمون تاریخ صحافت اور صحافتی قوانین جبکہ خالد سلطان صاحب نے کمیونی کیشن تھیوری کے انجکشن لگائے ہم کو سب اساتذہ کرام نے دل سے پڑھایا وہ ہمیں خبر اور رائے میں فرق سمجھاتے رہے، افواہوں کی بجائے مصدقہ اطلاعات تک رسائی کا درس دیتے رہے اور زرد صحافت سے بچنے کی تلقین کرتے رہے۔ سچ لکھنے کی تلقین کرتے رہے کسی کی دل آزاری نہ کرنے کا درس دیتے رہے میں سوچتا ہوں کہ ہمارے محترم اساتذہ نے ہمیں کیسی صحافت پڑھائی کہ ہم اکیڈیمکلی تو مضبوط ہوگئے مگر ہم صحافی نہیں بن سکے اور دیگر لوگ راتوں رات صحافی بن گئے، صرف صحافی نہیں بلکہ اعلیٰ پائے کے صحافی بن گئے۔ ہمارے اساتذہ نے ہمیں پارلیمانی رپورٹنگ، سیاسی رپورٹنگ، کرائم رپورٹنگ، اقتصادی رپورٹنگ اور سپورٹس رپورٹنگ کے اسرار و رموز سکھاتے رہے لیکن ہمیں یہ نہیں سکھایا تو یہ کہ میڈیا مالکان کے قریب کیوں کر ہوا جاتاہے، کس طرح راتوں رات اینکر بن کر مسلط ہونا ہے۔ ہمارے اساتذہ ہمیں پوری دنیا کے سربراہان مملکت کے نام یاد کرنے اور حالات حاضرہ سے واقف رہنے کی عادت ڈالنے کی کوشش کرتے رہے، دوران تعلیم صحافتی اخلاقیات، تاریخ اور تحاریک کی تکرار نے ہمیں پاگل کر دیا۔ ہمیں نہیں بتایا گیا کہ کس طرح میڈیا مالکان اور سیٹھوں کے اشاروں پر ناچنا ہے، ہمیں یہ نہیں پڑھایا گیا کہ کس طرح اشتہاروں کے حصول کے لیے رپورٹنگ کرنی ہے ہمیں نہیں بتایا گیا کہ مالکان کے مفادات کے لیے دن رات ایک کرنا کیا ہوتا ہے۔ ہمیں شاید سبھی کچھ غلط پڑھایا گیا ہے۔

ہمیں فہرست دے دی جاتی ہے کہ یہ بیس ادارے ہمیں اشتہارات نہیں دیتے ان کے خلاف خبریں لے کر آو۔ ایک دو اداروں کے بارے میں مل گئیں تو کہا گیا جیسے بھی ہو بس ان کے خلاف خبریں چاہیں، کہیں سے بھی لاو کچھ بھی کرو، خود سے گھڑو مگر خبر لے کر آو اور روزانہ کی بنیاد پر لاو۔

ہمیں واٹر گیٹ سکینڈل، ریسرچ اینڈ میڈیا ہسٹری، ضابطہ اخلاق اور پتہ نہیں کیا کچھ پڑھایا جاتا رہا پھر ہمیں بتایا گیا کہ رپورٹنگ کرنی ہے تو کسی نیوز ایجنسی میں چار پانچ سال جوتے گھساو پھر جا کر کچھ سمجھ آ ئے گی۔ ٹی وی، اخبارات اور کتابوں کو اپنا اوڑھنا بچھونا بناو پھر کہیں جا کرصحافی ہونے کی ابتدائی اہلیت پر پورا اترو گے۔ ہم بھی لگے رہے پاگلوں کی طرح پہلے نیوز ایجنسی میں جوتے گھسائے، تین چار سال بعد ایک اخبار میں ملازمت کی اور پھر کبھی کوئی اخبار تو کبھی کوئی۔۔۔ جوانی اجاڑنے اور خون جلانے کے بعد پتہ چلا کہ ہمیں غلط پڑھایا گیا تھا، حقیقت تو یہ ہے کہ ہمیں فہرست دے دی جاتی ہے کہ یہ بیس ادارے ہمیں اشتہارات نہیں دیتے ان کے خلاف خبریں لے کر آو۔ ایک دو اداروں کے بارے میں مل گئیں تو کہا گیا جیسے بھی ہو بس ان کے خلاف خبریں چاہیں، کہیں سے بھی لاو کچھ بھی کرو، خود سے گھڑو مگر خبر لے کر آو اور روزانہ کی بنیاد پر لاو۔ جیسے تیسے اپنا ضمیر مارے کام کرتے رہے۔ جب کبھی کسی ادارے میں کچھ ذرائع بنے اور صحیح معنوں میں خبریں ملنے لگیں تو ہمیں کہا گیا کہ بس اب اس ادارے کے خلاف خبریں نہیں لانی انہوں نے اشتہارات دینا شروع کر دیئے ہیں جو اشتہار دے گا اس کی خبر بھی بڑی ہوگی اور جو اشتہار نہیں دے گا اس کی ماں بہن ایک کرنی ہے ہمیں یہ نہیں پڑھایا گیا تھا اور یوں ہم ناکامی سے دوچار ہوتے گئے۔

جب پڑھانے کے شعبے میں آئے تو ہم نے بھی اپنے اساتذہ کے نقش قدم پر چل کر انہیں وہ کچھ پڑھایا جو ہمیں پڑھایا گیا یعنی ایک انداز سے ہم نے بھی طلباء کو غلط پڑھایا ہے جس پر کبھی کبھار طلباء سوال بھی کرتے کہ سر یہ صحافت تو اب نہیں ہوتی مگر ہم کہتے کہ اصلی صحافت یہی ہے باقی صحافت کا ہمیں نہیں پتہ او ر وہ ہنس دیتے کیونکہ ان میں بڑا صحافی بننے کی خواہش ہوتی جو ہم نہیں بن سکے ہمارے ملک میں پتہ نہیں صحافت کیسے، کس کے ذریعے اور کس کے لیے ہے، صحافت اور یہ صحافی پتہ نہیں کس طرح اور کس ضمیر کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ یا پھر ہو سکتا ہے کہ یہی ضمیر فروش صحافی ٹھیک ہوں۔ ایک دن ٹی وی پرایک بڑے صحافی صاحب فرما رہے تھے کہ اب میں جو خبر دینے لگا ہوں یہ سن کر عوام کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے اور رائے ونڈ کے محلوں میں زلزلہ آ جائے گا میں نے آواز اونچی کی اور دیگر دوستوں کو بھی متوجہ کیا کہ صحافی صاحب کوئی بہت بڑا انکشاف کرنے لگے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ انہیں کسی بہت خاص بندے نے بتایا ہے کہ رائے ونڈ میں کتنے پولیس اہلکار پروٹوکول ڈیوٹی دے رہے ہیں۔ یہ سنتے ہی ہنسی کے پھوارے پھوٹ پڑے بریکنگ نیوز نے صحافی اور صحافت کا بیڑہ ہی غرق کردیا ہے کیونکہ ریٹنگ اس سے بڑھتی ہے اور ہمارے صحافی صاحبان اس کے لئے خوار و زار ہوتے ہیں اوروں کے لئے صحافت کو میدان جنگ بناتے ہیں مگرخود کے لئے نہ کبھی بول پائے ہیں اور نہ بول پائیں گے۔ موجودہ وقت میں میڈیا میں کام کرنے والے ہزاروں ملازمین کی تنخواہیں کئی برسوں سے نہیں بڑھیں، اس پر مستزاد یہ کہ قلیل تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے بھی ان کو مہینوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔یہ انتظار ان ملازمین اور ان کے اہل خانہ کے شب وروز اور زندگیوں کو بری طرح متاثر کر رہا ہے ویج بورڈ کا ہر وقت واویلا مچانے والے صحافیوں سے مالکان آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں جب بھی صحافی، کیمرا مین یا عملے کا کوئی اور رکن مالکان کے پاس جاتا ہے تو اسے یہ کہا جاتاہے کہ ادارہ اس وقت مالی مشکلات کا شکار ہے وہ تنخواہ وقت پر ادا نہیں کر پارہا۔ ایسے میں تنخواہ بڑھانے کا تقاضا سراسر بیوقوفی ہے اور یوں وہ واپس ہوکر دو موٹی موٹی گالی دے کر اپنے کام میں مگن ہوجاتا ہے اور پھر سر بھی نہیں اُٹھاتا کیونکہ اگرکچھ عرض کریں گے تو پھر دوسرے دن ہی گھر میں بیٹھے ہوں گے اور جو لوگ ان کا مقابلہ کرتے ہیں تو وہ بڑے صحافی نہیں بن سکتے یا پھر صحافت کو خیر باد کہہ دیتے ہیں۔

دوسری بات کہ صحافی کو صحافت کے سوا کوئی اور کام بھی نہیں آتا اس لئے وہ چپ ہی رہ جا تا ہے اب رہی بات بڑے صحافی بننے کی تو ہونا یہ چاہیئے کہ صحافت کی درسگاہوں میں آئندہ صحافت نئی طرز پرپڑھائی جانی چاہیئے،اساتذہ کو چاہیے کہ راتوں رات صحافی بننے کے مجرب نسخے بتا ئیں، افواہوں کو مصدقہ خبر قرار دینے کے گر سکھائیں اور میڈیا مالکان کی جی حضوری کے لیے ذہن سازی کریں افواہوں کو مصدقہ خبر قرار دینے کے گر سکھائیں اور میڈیا مالکان کی جی حضوری کے لیے ذہن سازی کریں۔ بہتر ہے کہ صرف انہی افراد کو اس مضمون کی تعلیم دی جائے جو سیاسی پشت پناہی یا متنازعہ ماضی کے حامل ہوں تاکہ انہیں صحافت کی سوجھ بوجھ کے بغیر بھی راتوں رات معروف تجزیہ نگار کے تخت پر بٹھایا جاسکے۔ صحافت کے طلبہ کو آزادی اظہاررائے، صحافتی اخلاقیات اور رپورٹنگ کی تعلیم کی بجائے میڈیا مالکان کے مفادات کا تحفظ کرنا سکھایا جائے تو کئی ایک کا مستقبل برباد ہونے سے بچ سکتا ہے۔ میڈیا مالکان کے قریب اور ان کا پسندیدہ رہنے کا گر بتایا جائے تو عملی زندگی میں کامیاب ہونے والے طلبہ کی شرح میں خاطر خواہ اضافہ کیا جاسکتا ہے۔محنت کی بجائے وظیفہ بتا یا جائے جسے پڑھ کر اینکر، کالم نویس، تجزیہ نگار، مبصر اور بوقت ضرورت صحافی بننے میں آسانی ہو تو امید کی جاتی ہے کہ جو بھی طالب علم صحافت اور ابلاغیات کی ڈگری لے کر نکلے گا وہ بڑا صحافی بن کر ہی نکلے گا ہماری طرح وہ صحافی ناکام نہیں ہو گا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: