رنگوں کے کھیل ——– مریم رزینہ

0
  • 13
    Shares

ہم غور کریں تو رنگ مختلف طرح کے ہوتے ہیں۔ جیسے موسم کے رنگ، بہار کے رنگ،خزاں کے رنگ، زندگی کے رنگ، قدرت کے رنگ، پھولوں کے رنگ، کھیلوں کے رنگ، سروں کے رنگ، مسکراہٹ کے رنگ، آسمان کے رنگ اور تو اور انسان کے رنگ، ہر رنگ ہی اپنے انداز میں نرالے ہوتے ہیں۔

لیکن کچھ رنگ اور بھی ہوتے ہیں۔ ایسے رنگ جو ایک مصور کے ہاتھوں کینوس پر بکھرتے ہیں۔ جو تصویر کو شاہکار بنا دیتے ہیں۔ جو وہ سوچتے ہیں اسے رنگوں میں بھر دیتے ہیں۔

مصوری یقیناََ ایک بہت بڑا فن ہے، جو کہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ اس فن سے منسلک لوگ اپنی سوچ کو بڑی آسانی کے ساتھ رنگوں کی ذریعے بیان کر دیتے ہیں۔ کچھ دن قبل ایک ننھی مصورہ شانزے کی بنائی ہوئی مصوری نے مجھے ششدر کر دیا۔ اس دس سالہ مصورہ بچی نے بہت شاندار انداز میں اپنی سوچ کو رنگ دیے ہیں۔

اس کی پہلی پینٹنگ میں ’زندگی‘ خوابوں کے حوالے سے بیان کی گئی ہے، جس کا عنوان Dream ہے۔خواب انسانی زندگی میں بہت اہمیت رکھتے ہیں۔انسان خواب دیکھتا ہے، لیکن جب انہیں حقیقت کا جامہ نہیں پہنا سکتا تو اسے تکلیف ہوتی ہے۔ بعض اوقات انسان ناکامی کے ڈر سے کوشش ہی نہیں کر پاتا۔ لیکن وہ انسان جو اپنے خوابوں پر یقین رکھتے ہوئے پھر محنت کرتے ہیں تو وہ اپنے خوابوں کی منزل کو پا لیتے ہیں۔ اس تصویر میں بھی یہی دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ایک لڑکی دکھائی گئی ہے جو خواب دیکھتی ہے ،لیکن کامیابی اس کے پاس نہیں ہے، صرف اس کے پاس خواب ہیں۔ ایک نوجوان دکھایا گیا ہے اور تعلیم کا وقت، جب وہ ڈگری حاصل کر چکا ہوتا ہے، اور کامیاب ہوتا ہے۔ اور مزید آگے بڑھنے کی لگن میں دنیا کی رونق میں مصروف ہو جاتاہے۔یعنی اس مصوری میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ انسان جو خواب دیکھتا ہے۔ انہیں حقیقت میں پورا بھی کر سکتا ہے۔ اس لیے اپنے خوابوں کو مرنے نہ دیں،ان پر یقین رکھتے ہوئے انہیں حاصل کرنے کی کوشش کریں۔

چھوٹی مصورہ شانزے کی دوسری پینٹنگ زیادہ حیران کن ہے۔ جس میں معاشرے کی بھرپور عکاسی کی گئی ہے۔ امیر، امیر تر ہوتا جارہا ہے، غریب غریب تر ہو جا رہا ہے۔اور غربت کی چکی میں پستا جا رہا ہے۔ جسے انصاف چاہیے، اسے انصاف نہیں مل رہا۔ جو درمیانہ طبقہ صرف اپنی ضروریات پوری کرتا ہے اور پر آسایش زندگی نہیں گزار سکتا، اس کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ معاشرہ ایک غیر متوازن انداز میں چل رہا ہے۔کچھ سیاستدا ن جو عوام کو خواب دکھا کر ووٹ حاصل کر لیتے ہیں۔ غریب لوگ اپنا سب کچھ امیروں کو دے چکے ہیں۔ عوام بے چاری بے بسی کا شکار ہے۔ بچوں پر ان سب چیزوں کے گہرے اثرات پڑ رہے ہیں۔ زندگی تیزی سے بھاگتی چلی جا رہی ہے۔ دنیا گلوبل وارمنگ کا شکار ہو رہی ہے۔

یہ مصوری ایک دس سالہ بچی کے ذہن کی عکاس ہے۔ جس نے بہت خوبصورتی سے زندگی کا ایک پہلو اور معاشرے کی تلخی بیان کی ہے۔ جو واقعی ایک قابل حوصلہ افزا امر ہے۔ کچھ بچے بہت ذہین اور تخلیقی صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں، ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ ان کی آگے بڑھنے میں مدد کرنی چاہیے،اور ان کے لیے مزید مواقع مہیا کرنے چاہیں تا کہ ان کی تخلیقی صلاحیتیں مزید ابھر کر سامنے آ سکیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: