توانائی بحران: قوم پر مسلط عذاب مسلسل —- فیصل ربانی

0
  • 42
    Shares

ایک ہفت روزہ انٹرنیشنل اردو جریدے کی یو پی ایس خرابی کے باعث کاپی ڈاؤن نہ ہو سکی مجبوراً واشنگٹن کے چھاپہ خانے سے رابطہ کر کے انتظار کی اپیل کی، وجہ کے استفسار پر بتایا کہ لوڈشیڈنگ کے باعث صفحات ایف ٹی پی پر اپ لوڈ نہ کئے جا سکے، دوبارہ استفسار کیا گیا جسے سن کر آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا گیا اور دماغ پر دھند سی پڑ گئی، سوال تھا کہ

What is Load Shedding?

خیر 70 سالوں سے ملک میں قائم و دائم مسئلے کی ہلکی سے تشریح کی تو “اوہ سو سیڈمین ” کہہ کر رابطہ منقطع کر دیا گیا، کڑھتے دل کے ساتھ اندھیرے میں کرسی کیساتھ سر ٹکا کر بجلی آنے کا انتظار کرنے لگا۔

——-

مملکت خداداد میں آمر حضرات ہمیشہ آسمان سے ٹپکے لیکن جتنی بھی سیاسی حکومتیں آئیں ان کے منشور اور نعروں میں بالواسطہ یا بلاواسطہ توانائی بحران کا خاتمہ شامل رہا لیکن افسوس شد افسوس کہ یہ منشور کبھی عملی جامہ نہ پہن سکے اور یہ نعرے کبھی پورے نہ ہو سکے، موجودہ برسراقتدار جماعت کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے، 2013 سے قبل توانائی بحران کے خاتمے کے بلند و بانگ دعوے کئے گئے لیکن اقتدار کے ایوانوں پر 5 سالہ قبضے کے باوجود آج بھی نعرے ہی لگائے جا رہے ہیں، سپنے ہی دکھائے جا رہے ہیں، شہباز شریف نے یہاں تک اعلان کیا کہ جلد پاکستان اتنی بجلی پیدا کر لے گا کہ ہم انڈیا، ایران اور افغانستان کو بجلی بیچیں گے، پورے ملک میں اعلیٰ سطح پر لوڈشیڈنگ مکمل طور پر ختم کر دینے کے ببانگ دہل اعلانات کئے گئے لیکن جب یہ اعلانات کئے جا رہے تھے تب بھی پاکستان کے شہری لوڈشیڈنگ کا عذاب بھگت رہے تھے، گرمیوں کے آغاز پر 12-12 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ نے حکمرانوں کے تمام دعوؤں کی قلعی کھول دی، کہیں بجلی چوری کا بہانہ بنا کر حکومت نے اپنے جھوٹے دعوؤں کا دفاع کیا تو کہیں سراسر جھوٹ بولا گیا کہ مخالفین الزامات لگا رہے ہیں حقیقت میں ملک میں کہیں بھی لوڈشیڈنگ نہیں ہو رہی، گزشتہ دنوں وزیراعظم نے تربیلا فور منصوبے کی افتتاح کے موقع پر 10 ہزار میگا واٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہونے کا اعلان کیا، 13 سے 14 ہزار میگا واٹ کی پیدا وار پہلے سے موجود ہے جبکہ ضروریات کے مطابق ملک کو 24 ہزار میگا واٹ بجلی درکار ہے، لیکن ملک بھر میں گھنٹوں کے حساب سے ہونے والی لوڈشیڈنگ کوئی اور کہانی سناتی ہے اور بتاتی ہے کہ یہاں بھی عوام کو بیوقوف بنایا جا رہاہے، شارٹ فال حقیقت میں کہیں زیادہ ہے، مسلم لیگ ن کی حکومت نے بلاشبہ توانائی بحران کے خاتمے کیلئے بے شمار میگا پراجیکٹس شروع کئے اور تکمیل تک بھی پہنچائے لیکن اس کے باوجود لوڈشیڈنگ کا عذاب ختم نہ ہونا ان منصوبوں اور حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے!!

مسلم لیگ ن کی حکومت نے توانائی کے جو نمایاں منصوبے مکمل کئے ان میں

1: زیڈ ای پی ایل ونڈ پاور پراجیکٹ پیدا واری صلاحیت 56.40 میگا واٹ
2: جناح ہائیڈل پاور پراجیکٹ پیدواری صلاحیت 96 میگا واٹ
3: گومل زام پاور پراجیکٹ پیدواری صلاحیت 17.4 میگا واٹ
4: دوبیر خوڑ ہائیڈل پاور پراجیکٹ پیداواری صلاحیت 130 میگا واٹ
5: اوچ ٹو تھرمل پاور پراجیکٹ پیداواری صلاحیت 380.75 میگا واٹ
6: ڈیوس تھرمل پاور پراجیکٹ پیداواری صلاحیت 10.50 میگا واٹ
7: جے ڈی ڈبلیو ٹو بیگاس پراجیکٹ پیدواری صلاحیت 26.60 میگا واٹ
8: جے ڈی ڈبلیو تھری بیگاس پراجیکٹ پیداواری صلاحیت 26.35 میگا واٹ
9: ٹی جی ایف ونڈ پاور پراجیکٹ پیداواری صلاحیت 49.50 میگا واٹ
10: ایف ایف سی ای ایل ٹو ونڈ پاور پراجیکٹ پیداواری صلاحیت 49.50 میگا واٹ
11: گڈو تھرمل پاور پراجیکٹ پیداواری صلاحیت 747 میگا واٹ
12: رحیم یار خان ملز لمیٹڈ بیگاس پراجیکٹ پیداواری صلاحیت 30 میگا واٹ
13: یف ایف ای ایل ون ونڈ پراجیکٹ پیداواری صلاحیت 50 میگا واٹ
14: قائد اعظم سولر پراجیکٹ پیداواری صلاحیت 100 میگا واٹ
15: نندی پور پاور پراجیکٹ پیداواری صلاحیت 425 میگا واٹ
16: سیپ ہائر ونڈ پاور پراجیکٹ پیداواری صلاحیت 52.80 میگا واٹ
17: چنیوٹ پاور لمیٹڈ بیگاس پراجیکٹ پیداواری صلاحیت 62.50 میگا واٹ
18: اپالو سولرپراجیکٹ پیداواری صلاحیت 100 میگا واٹ
19: بیسٹ گرین سولر پاور پراجیکٹ پیداواری صلاحیت 100 میگا واٹ
20: کریسٹ انرجی سولر پاور پراجیکٹ پیداواری صلاحیت 100 میگا واٹ
21: میٹرو ونڈ پاور پراجیکٹ پیداواری صلاحیت 50 میگا واٹ
22: یونس ونڈ پاور پراجیکٹ پیداواری صلاحیت 50 میگا واٹ
23: ٹپال ونڈ پاور پراجیکٹ پیداواری صلاحیت 30 میگا واٹ
24: ماسٹر ونڈ پاور پراجیکٹ پیداواری صلاحیت 49.50 میگا واٹ
25: گل احمد ونڈ پاور پراجیکٹ پیداواری صلاحیت 49.50 میگا واٹ
26: تنیگا ونڈ پاور پراجیکٹ پیداواری صلاحیت 49.50 میگا واٹ
27: چشنپ نیوکلئیر سی تھری پاور پراجیکٹ پیداواری صلاحیت 340 میگا واٹ
28: فاطمہ انرجی بیگاس پاور پراجیکٹ پیداواری صلاحیت 99 میگا واٹ
29: حمزہ شوگر پاور پراجیکٹ پیداواری صلاحیت 15 میگا واٹ
30: سچل پاور پراجیکٹ پیداواری صلاحیت 50 میگا واٹ
31: داؤد ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پیداواری صلاحیت 50 میگا واٹ
32: گلف پاور پراجیکٹ پیداواری صلاحیت 84 میگا واٹ
33: ساہیوال کول پاورپراجیکٹ پیداواری صلاحیت 1320 میگا واٹ
34: ریشماں پاور پراجیکٹ پیداواری صلاحیت 97 میگا واٹ
35: پتران ہائیڈل پاور پراجیکٹ پیداواری صلاحیت 147 میگا واٹ
36: چشنپ نیوکلیئر سی فور پاور پراجیکٹ پیداواری صلاحیت 430 میگا واٹ،
37: یونائیٹڈ انرجی پاور پراجیکٹ پیداواری صلاحیت 99 میگا واٹ شامل ہیں

اپنے دور حکومت میں پاکستان مسلم لیگ ن نے 5619.8 میگا واٹ کے 37 منصوبے مکمل کئے.

اس کے علاوہ 2005 میں مشرف دور میں شروع ہونے والا منصوبہ نیلم جہلم ہائیڈرو پراجیکٹ بھی تکمیل کے مراحل میں ہے جس کی پیداواری صلاحیت 969 میگا واٹ ہے، بتایا جا رہا ہے کہ جولائی تک اس منصوبے کی مکمل پیداوار قومی گرڈ میں شامل کر دی جائیگی، منصوبے کی ابتدائی لاگت 84 ارب تھی لیکن تکمیل تک 525 ارب روپے خرچ کئے جا چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود نیلم جہلم سرچارج کی مد میں آج بھی قوم سے دس پیسے فی یونٹ وصول کئے جا رہے ہیں، منصوبے کے آپریشنل ہونے کے باوجود سرچارج ختم نہ کیا گیا اور نہ ہی اس کا کوئی امکان نظر آتا ہے۔ نیلم جہلم ہائیڈرو پراجیکٹ میں اربوں روپے کی کرپشن کی کہانیاں بھی عام ہیں، جس کی تحقیقات آج بھی جاری ہیں، 3 انکوائریاں مکمل کی جا چکی ہیں لیکن نہ کسی کو سزا ملی اور نہ ہی کسی کو قومی دولت لوٹنے کا ذمہ دار قرار دیا گیا، اس منصوبے کی لاگت میں سب سے زیادہ اضافہ خواجہ آصف کے دور میں ہوا، خواجہ آس نے اس منصوبے کے نام پر حکومت سے اربوں روپے حاصل کئے۔

نیلم جہلم منصوبے کو بھی شامل کر لیا جائے تو پیداواری صلاحیت 5619.8 سے بڑھ کر 6588.8میگا واٹ ہو جاتی ہے۔

اس کے علاوہ تربیلا ہائیڈرل پاور اسٹیشن کے چوتھے توسیعی منصوبے کا افتتاح کر دیا گیا جو کہ تین یونٹس پر مشتمل ہے، دو یونٹ آپریشنل کر دیئے گئے ہیں جبکہ تیسرا یونٹ رواں ماہ آپریشنل کئے جانے کا اعلان کیا گیا ہے، تربیلا ہائیڈرل پاور اسٹیشن ملکی گرڈ کو 3475 میگا واٹ بجلی فراہم کر رہا تھا تینوں یونٹس کے آپریشن ہونے کے بعد 1413 میگا واٹ کے اضافے کے بعد 4888 میگا واٹ بجلی نیشنل گرڈ کو فراہم کی جائیگی، تربیلا فور توسیعی منصوبے میں بھی کرپشن کی کہانیاں زبان زد عام ہیں، سرکاری گاڑیوں میں تربیلا پراجیکٹ میں استعمال ہونے والے قیمتی لوہے کی ایک کباڑیئے کے ساتھ ملی بھگت کے تحت فروخت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، ذمہ داران آج بھی دندناتے ہوئے پھر رہے ہیں، اکیلا کباڑیا جیل میں سڑ رہا ہے۔

تربیلا فور توسیعی منصوبے سے حاصل ہونیوالی بجلی کو ملا کر پیداواری صلاحیت 8001.8 میگاواٹ ہو جاتی ہے.

108 میگا واٹ پیدواری صلاحیت کے حامل گولن گول ہائیڈرو پاور منصوبے کی بھی مئی میں ہی تکمیل کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے بعد پیداوار 8109.80 میگا واٹ ہو جائے گی، گولن گول ہائیڈرو پاور منصوبے میں بھی نیب کرپشن کی تحقیقات کرتی رہی ہے، 2012 اور 2013 میں اس منصوبے کے ٹینڈرز کے علاوہ وزارت پانی و بجلی، واپڈا افسران اور میسرز کی ملی بھگت سے کرپشن کی کہانیاں بھی نکلیں جن میں سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کا نام بھی گونجتا رہا، جبکہ2009 میں شروع ہونے والے اس منصوبے کی لاگت 2013 میں ہی 30 ارب سے بڑھ کر 45 ارب تک پہنچ گئی تھی، جبکہ منصوبے کو آپریشنل 2018 میں کیا گیا ہے، خود اندازہ لگا لیجئے قومی خزانے کے استعمال میں کس قدر کوتاہی و غفلت برتی گئی ہے۔

ایک اور پراجیکٹ پترینڈ ہائیڈل پراجیکٹ جو کہ 48 میگا واٹ کی پیداواری صلاحیت کا حامل ہے تکمیل کے باوجود 2017 سے بند پڑا ہے، اس لئے اسے ہم شامل ہی نہیں کرتے۔

اسی طرح لسٹ میں موجود نندی پور پاور پراجیکٹ صرف 5 دن آپریشن رہنے کے بعد بند ہو گیا تھا، جس کی لاگت 27 ارب روپے تھی لیکن تکمیل تک 84 ارب روپے تک چلی گئی، نندی پور پراجیکٹ میں بڑے پیمانے پر کرپشن کا حکومتی سطح پر اعتراف کیا گیا تھا جبکہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بھی اس پراجیکٹ میں ہونیوالی کرپشن زیر بحث رہی جبکہ انٹرنیشنل میڈیا میں حکمرانوں کی نا اہلی کے چرچے ہوئے، 425 میگا واٹ پیداواری صلاحیت کا حامل یہ منصوبہ تاحال بند پڑا ہے، قوم کے 84 ارب روپے ڈبو دیئے گئے لیکن حکومت کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی، اس طرح 8109.80 میگا واٹ میں سے یہ 425 میگا واٹ نکل گئے تو باقی پیچھے ن لیگ کے پراجیکٹس سے حاصل ہونیوالی پیداوار 7684.80 میگا واٹ رہ گئی۔

نواز شریف نے دسمبر 2016 میں چشمہ تھری نیوکلیئر پاور پلانٹ کا افتتاح کیا، جس کی پیداواری صلاحیت 340 میگا واٹ ہے، جو کہ خوش قسمتی سے بغیر کسی نقص اور کرپشن کہانی کے کامیابی سے قومی گرڈ میں شامل ہو رہی ہے،اس پر مزید ترقیاتی کام بھی جاری ہیں، 2030 تک اس منصوبے سے پیداوار کو 8800 میگا واٹ تک لے جایاجائے گا۔

چشمہ پاور پلانٹ کی پیداوار ملا کر 8024.80 میگا واٹ بجلی قومی گرڈ میں شامل ہو رہی ہے۔

پنجاب حکومت اور چین کے درمیان بھی گزشتہ سال پنجاب پاور پلانٹ جھنگ کا معاہدہ بھی ہوا، منصوبے سے 1263 میگا واٹ بجلی حاصل ہو گی، منصوبہ ابھی زیر تعمیر ہے۔

اسی طرح نواز شریف نے 17 اپریل 2017 کو بھکھی پاور پلانٹ کا افتتاح کیا جو کہ 18 ماہ کی قلیل مدت میں 77 ارب روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا تھا جس سے 717 میگا واٹ بجلی حاصل ہونی تھی لیکن جتنی جلدی تعمیر ہوئی اتنی ہی جلدی یہ پراجیکٹ بھی ڈوب گیا اس طرح قوم کے 77 ارب مزید ڈبو دیئے گئے، جس پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے نوٹس بھی لیا اور کیس تاحال سپریم کورٹ میں ہے۔

100 میگا واٹ پیداوار کے حامل قائد اعظم سولر پاور پراجیکٹ جو کہ مستقبل میں 900 میگا واٹ بجلی دے گا میں بھی کرپشن کی شاندار کہانیاں رقم کی گئیں، پراجیکٹ لگانے والی کمپنی کے کنسلٹنٹ رشید نامی شخص پر ایک ارب 20 کروڑ روپے کی کرپشن کے الزامات ہیں جن کی تحقیات نیب میں چل رہی ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ ن کرپشن اور توانائی بحران کے خاتمے کے کانوں میں رس گھولتے نعروں کے ذریعے ووٹ لیکر اقتدار میں آئی، کرپشن کی کہانی پھر سہی، لیکن 8024.80 میگوا واٹ بجلی کی پیداوار بظاہر نظر آرہی ہے جو ن لیگ کے منصوبہ کے ذریعے قومی گرڈ سٹیشن میں شامل ہوئی۔

نیلم جہلم ہائیڈرو پراجیکٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے دعویٰ کیا تھا کہ ملک سے لوڈ شیڈنگ یکسر ختم کر دی گئی ہے، اندھیرے مکمل طور پر ختم کر دیئے گئے ہیں، ن لیگ نے اپنے دور اقتدار میں 10 ہزار میگا واٹ بجلی سسٹم میں شامل کی ہے۔

ان 10 ہزار میگا واٹ میں سے 8024.80 میگا واٹ ہمارے سامنے ہی ہے، اب جن منصوبوں سے یہ 8024.80 میگا واٹ بجلی حاصل کی جا رہی ہے ان میں سے کتنے فعال ہیں اور کتنے غیر فعال اس بارے میں وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا، جبکہ متعدد بڑے منصوبے رواں ماہ مئی سے جولائی تک مکمل ہونے ہیں، لیکن ان کی پیداوار بھی ملائی جائے تب 8024.80 میگا واٹ بنتی ہے، اگر جو پیداوار نیشنل گرڈ میں شامل نہیں ہوئی وہ نکال دیں تو 7000 سے بھی کم رہ جائیگی، اس 10000 میگا واٹ میں سے باقی 2000 میگا واٹ کہاں ہے یہ وزیراعظم عباسی ہی بتا سکتے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے دور حکومت کے اختتام تک ملک میں بجلی کی پیداوار 13سے 14 ہزار میگا واٹ تھی، اگر ن لیگ نے مزید 10 ہزار میگا واٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کر دی ہے تو ملکی ضروریات کے عین مطابق تقریباً 23 سے 24 ہزار میگا واٹ کا ٹارگٹ تو پورا ہو گیا، حکمرانوں کے دعوؤں کو حقیقت مان لیا جائے تو ثابت ہوتا ہے کہ بجلی پوری ہے، کیا حالیہ لوڈشیڈنگ حکمران جماعت کی جانب سے میاں نواز شریف کی نا اہلیت کے انتقام کے طور پر کی جا رہی ہے؟

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: