نہر والے پل تے —— محمد واحد

0
  • 1
    Share

ہرنام سنگھ کو اک دفعہ سیاسی منطق سیکھنے کا شوق ہوا تو وہ پرنام سنگھ منطقی کے پاس گیا۔ پرنام سنگھ پہلے ہی سرشار تھا اوپر سے ہرنام بھی آگیا۔ ہرنام بولا چاچاپرنام سیوں مجھے سیاسی منطق تو سکھا تو بڑا سیانا اور منطقی ہے۔ پرنام بولا میں سکھا تو دوں گا لیکن پہلے میرے کچھ سوالوں کے جواب دے۔ ہرنام بولا پوچھ۔ پرنام “بولا دو چور چوری کرنے گئے چوری کے دوران گھر والے آگئے دونوں بھاگے اور باورچی خانہ کی چمنی میں گھس گئے باہر نکلے تو اک کو منہ کالا ہو گیا لیکن دوسرے کا منہ کالا نہیں ہوا کیوں”؟ ہرنام بولا “اس لیے کہ ساری کالک پہلے کو لگ گئی۔ پرنام نے زوردار تمانچہ رسید کیا اور بولا ” دوسرے نے ماسک پہنا ہوا تھا”۔ پرنام نے دوبارہ پوچھا دو چور چوری کرنے گئے چوری کے دوران گھر والے آگئے دونوں بھاگے اور باورچی خانہ کی چمنی میں گھس گئے باہر نکلے تودونوں کا منہ کالا نہیں ہوا کیوں ؟۔ ہرنام اس لیے کہ دونوں نے ماسک پہنا ہوا تھا پرنام نے اک تمانچہ اور رسید کیا اور بولا اس لیے کے باورچی خانہ کی چمنی نئی تھی جس میں کالک ہی نہیں تھی۔ پرنام نے پھر پوچھا دو چور چوری کرنے گئے چوری کے دوران گھر والے آگئے دونوں بھاگے اور باورچی خانہ کی چمنی میں گھس گئے باہر نکلے تو دونوں کا منہ کالا نہیں ہوا بتاؤ کیوں ؟ ہرنام دو صورتیں ہیں یاں تو دونوں نے ماسک پہنا ہوا تھا یاں پھر چمنی نئی تھی جس میں کالک ہی نہیں تھی۔ پرنام نے اک اور دیا اور بولا “مورکھا جس چمنی میں کتا بلی نہیں گھس سکتے اس میں چور کیسے گھس گئے؟

سیاسی منطق سے بھی مشکل شطرنج سمجھنا اور اس سے بھی مشکل سیاسی شطرنج سمجھنا۔ میاں صاحب بھی شطرنج کے ماہر کھلاڑی اور ہمارے ادارے بھی کسی سے کم نہیں۔ شطرنج کے کھیل میں جیتنے کی لیے کئی بار لالچ بھی دیا جاتا ہے اور جان بوجھ کر اپنے پیادے ‘ گھوڑے حتیٰ کہ وزیر بھی مروایا جاتا ہے۔ میاں صاحب کا سیرل المیڈا کو حالیہ انٹرویو ایسی گہری چال ہے جس کی سمجھ وقتی طور پہ کسی کو نہیں آئی۔ سب کو لگا اب تو انھیں شہ مات ہوئی۔ یہاں تک کے میاں صاحب کے حقیقی اور سیاسی بھائی بھی انگشت بدنداں تھے۔ شہبازشریف نے تو سیدھا سیدھا اسے ردکر کردیا کیوں کے درگھٹنا سے دیر بھلی۔ اگلے ہی دن قومی سلامتی کا اجلاس بلوایا گیا۔ پھر تو ہمارے میڈیائی دانشوروں نےمیاں صاحب کے بیان کو لیکر وہ ماحول بنایا وہ جنگی رجز پڑھے کے الحفیظ الامان۔ نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن ہر خبر بریکنگ نیوز بیگ راؤنڈ میں میرے نغمے تمہا رے لیے۔ چینل سارے ہی 24/7 وطن سارا ہی جاگ اٹھا ساتھیو۔ لگتا تھا بوٹوں کی چاپ پہ میرے ڈھول سپاہیا گایا جا رہا ہے۔ سب ہی خودساختہ دانشور دم سادھے دیدے پھاڑ ے دیدہ ور کی دید میں دیوانہ وار دو زانوں ہوکر “سجنا اے محفل اساں تیرے لئی سجائے اے” کشید کر رہے تھے۔ بس ایتھے رکھ ملنگی ہویا کے ہویا۔ میاں صاحب لیکن بھولی دلہن کی طرح میں بھولی تو ہوں لیکن اتنی بھی نہیں بنےسب دیکھ رہے۔

قومی سلامتی کا اجلاس جس سے پہلے کرنل جوزف کو کسی بھی قیمت پر (شاید کسی قیمت کی بات ہے یا بہت قیمتی بات) سفارتی استعثنیٰ دینے سے انکار۔ کرنل جوزف کو لینے آیا طیارہ ناکام ونامراد۔ اسی چرخے کی کوک سن کے جوگی پہاڑ سے اتر آیا۔

ساتھ ہی ماہی کے متلاشی نہر والے پل پہ بھی پہنچ گئے۔ داد و تحسین ہر طرف سے ٹوٹ کر برس رہی تھی لیکن۔۔۔! قومی سلامتی کے اجلاس کی تو کوئی خاص خبر نہ آئی بس کرنل جوزف کومشہور زمانہ ترانہ “سجنا اے محفل اساں اصل چے تیرے لئی سجائی اے” کی دھنوں میں روانہ کردیا۔ چلو یہ پاک سرزمین اک ناپاک سے پاک بھی ہوئی ہوئی اور شادباد بھی۔ منزل مراد کی کچھ خبر نہیں لیکن راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔ کسی شر پسند کا وجود یہاں برداشت نہیں کیا جائے گا۔ کل سے مجھے سمجھ نہیں آ رہی اس کامیابی کی مبارک باد کسے دینی ہے میاں صاحب یا کوئی اور یاں پھر دونوں ہی محفل سجانے میں ملوث ہیں۔ بقول مرشد کوئی اگر مگر نئیں گل وچوں کج ہور اے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: