غدار اور محبِ وطن —- جبران عباسی

0
  • 1
    Share

غداروں کی فہرست میرے ہاتھ میں تھما دی گئی، مجھے ان کو منطقی انجام تک پہنچانا تھا، طے پایا آج رات جب ہر سو تاریکی پھیلے گی تو فاعلوں پر جرم کی روشنی سے نظرثانی کی جائے گی اور شقِ غداری کے تحت فیصلے لکھے جائیں گے۔

میں جانتا تھا یہ مرحلہ بہت کھٹن ثابت ہو گا، نئے راز جب منکشف ہوں گے، شک جب یقین میں بدلے گا تو غصہ، نفرت، انتقام جیسے جذبے میرے فیصلوں پر حاوی ہو جائیں گے کہ شاید انصاف کا ترازو چھوٹ جائے۔

مگر میں پرعزم تھا کہ آج اپنی دانش، عقل و فکر کو زبردست بروئےکار لاتے ہوئے غداروں کیلئے ایسے عبرتناک فیصلے لکھوں گا کہ یہ فیصلے تاریخی کہلائیں گے کہ غداری سے سنگین جرم کوی نہی اور غدار سے بڑا کوی بدذات نہی۔

جدید ہندوستان میں غداری کے بانی دو مشترکہ میر یعنی جعفر اور صادق ہیں۔
جعفر از بنگال، صادق از دکن
ننگِ ملت، ننگِ وطن، ننگِ دین

میری فہرست میں ایسے عظیم غدار تو نہ تھے البتہ مملکت کے قیام سے لے کر حالیہ ایک غدار کے بیان تک کی لمبی فہرست سلسلہ وار فراہم ہوی۔

جرم کی روشنی میں فیصلے لکھنے شروع کئے تو کیا خوب لکھے، شقِ غداری کی شقوں میں نئی تشریحات نکالیں جیسے میرے پیشرو نکال لاتے ہیں۔

ماضی کے غداروں پر زیادہ تردد نہ کرنا پڑا ، ماضی میں جو ہمارے محب وطن دانشور فیصلے تحریر کر چکے تھے انھی میں چند نئے لفظوں کا اضافہ کر دیا گیا اگرچہ محبِ وطنی کا جذبہ مجھ سے حقائق کی چشم پوشی ضرور کروا گیا۔

سرحدی گاندھی، جی ایم سید، اکبر بگٹی، بلوچ تحریکیں، کراچی کی مہاجر تنظیمیں، لیاقت علی خان، فاطمہ جناح، پختون قبائل وغیرہ سب شقِ غداری کے زمرے میں تھے۔

یہ جذبہ جسے محبِ وطنی کہتے ہیں، ہوتا ہو گا مگر یہ انتہاپسندی کو پروان چڑھانے کے مضبوط ہتھیار ثابت ہوا ہے۔

کوئی رہنما، رہنما تو جانے دیجئے کیا مجھے یہ کہنے کی اجازت ہے کہ میرے اندر محبِ وطنی کا کوی جذبہ سرے سے موجود ہی نہی ، وطن سے محبت میرا وطیرہ نہیں، میرے نزدیک یہ محض ڈھونگ ہے، ہاں مگر اس جغرافیہ کا قدر شناس ضرور ہوں۔

فیڈریشن محبِ وطنی کے کھوکھلے دعووں سے مضبوط نہی ہوتی تمام خطوں میں وسائل کی برابر فراہمی اور مسائل کے حل سے مضبوط ہوتی ہے، جذبوں سے بھوک نہی مٹتی، بغاوت کو صرف روٹی ہی روک سکتی ہے۔

یہ نقطہ جس پر شاید کھل کر اختلاف سامنے آئے بےحد قابلِ غور ہے،بلوچستان میں محرومیاں، محب وطن اداروں کی ناانصافیاں دشمن کی سازش سے کمتر حثیت نہی رکھتیں۔

بہر حال تمام تر محبِ وطنی کے باوجود دو ایسے کردار بھی تھے کہ میرا ضمیر انکاری ہو گیا کہ یہ بھی غداری کے زمرے میں ہیں، ضعیفِ محبِ وطنی مزید مشکوک ہو گئی۔

ایک وہ قبائلی تحریک کا نوجوان منظور پشتین، دوم نواز شریف کا بیان۔ میں نہی جانتا کہ ان کے اصل عزائم کیا ہیں مگر میں یہ بھی نہی مانتا کہ یہ وہ غدار ہیں۔

فیڈریشن ایسے نہی چلتیں، ملک وسائل کی مناسب تقسیم نہ ہو تباہ ہو جاتے ہیں۔ ہم نے مغربی سرحدوں کے لوگوں کو مرنے کیلئے چھوڑ دیا، تمام تر عسکری ناکام حکمت عملیوں کی تجربہ گاہ بنایا، افغان جنگ ہو یا دہشت پسندوں کے ٹھکانے سب واقف حال ہیں۔

چاہیے تھا مملکت بنی، قائد اعظم نے جو معائدے کیے مرکز پورا کرتا، یہ وہ لوگ تھے پنڈت نہرو نے کہا متحدہ ہندوستان تو اس پر دوڑ گے ، ہم نے کیا کیا، سمگلنگ ہماری ناک کے نیچے جاری رہی، روس نے افغانستان پر حملہ کیا تو کرائے کے جہادیوں کو ان پہاڑیوں میں محفوظ پناہ گاہیں دیں۔

جب اپنے ملک میں نیا آئین بنایا تو وہاں انگریزوں کا ایف سی ار قانون کیوں رائج ہے، مانا کہ مجبوریاں اب بھی باقی تھیں مگر سچ تو یہ ہے مرکز نے ان کو قومی دھارے میں لانے کیلئے کبھی کوی اقدامات کیے ہی نہی۔

دوسرا ظلم قبائلیوں کی سیاسی قیادت ہے جو چاہتی ہی نہی مرکز براہ راست اپنا اثر و رسوخ نافذ کرے جس سے ان کا زاتی تشخص کمزور پڑے، بیشتر مذہبی جماعتیں قبائلی قیادت کی حمایتی ہیں اور وجہ قبائلیوں کی مذہبی زہنیت جو بہترین استعمال ہے۔

منظور پشتین کہتا ہے، ہمارے لاپتہ واپس کریں، محبِ وطنوں کو برا اس لیے لگا شاید اس نے بلاجھجک نام لیا، چلیے مان لیتے ہیں اس کے پیچھے دشمن قوت ہے مگر یہ ریاست کی ناکامی ہے کہ خفیہ ادارے ان کے شہریوں کو بنا ٹرائل کے حراستی مرکزوں میں تشدد کا نشانہ بنائے۔

ہمارے ہاں ہر دوسرے سیاستدان کو مشکوک بنا دیا گیا پے، سیاستدان کرپشن کر سکتا ہے، ناانصافی، بددیانتی، سازشیں بھی کرتا ہے مگر وہ دشمنوں کے ہاتھوں کبھی نہی بک سکتا۔

ہماری نفسیات یوں بنائی گئی کہ سازشی تھیوریاں گھڑی جاتی ہیں اور ہم ان پر ایمان لے آتے ہیں، ہر دوسرا بکنے والا نظر آتا ہے، پاکستان کے سیاستدان مانا کہ کسی وزڈم سے محروم ہیں، مگر ملک ناکام ہوا تو مارشلائی دور کی جارحانہ مگر بدترین اور ناکام حکمت عملیوں کی وجہ سے، طالبان بوئے تو کیسے کاٹے الگ تاریخ ہے۔

سوشل میڈیا پر پراپیگنڈہ چلا دیا گیا حالانکہ یہ وہ باتیں ہیں جو بحث ہو چکی ہیں، کم ازکم مجھے کوئی حیرت نہ ہوئی یہ الزامات سن رکھے تھے، مگر نہی فیصلہ ہو چکا کوی موقع ضائع نہی کرنا۔

ہمارے دانشور کہتے ہیں ہندوستان چانکیای افکار کی ریاست ہے، ہندوستان ہمارا کتنا بڑا دشمن ہے شاید ممکت کے وجود کیلئے ہی ایک خطرہ مگر کیا بھارت ہم سے بھی سلامتی کی امیدیں رکھ سکتا ہے اگر ہمارے یہ عمل ہیں۔ ہم میں بھارت میں شاید جغرافیے کے سائز ہی کے فرق ہے وگرنہ سازشیں برابر کی جاتی رہی ہیں۔

بہرحال غداروں کی اس فہرست پر میرے ضمیر کی عدالت لگ چکی تھی،میں ضمیر کی روشنی کو سب سے مقدم جانتا ہوں ۔ غداروں کے مقدمے دوبارہ کھولنے کی ضرورت ہے، نواز شریف کے آخری بیانیہ تک سچ سامنے آ جائے گا، سچ گمراہ نہی ہو سکتا ہاں مگر کچھ لوگ محبِ وطنی کے نام پر بہت گمراہ ہوئے، اپنی حدود و قیود سے نکلے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: