حُسنِ سَرکار ﷺ کی باتیں —– لالہ صحرائی

0
  • 196
    Shares

ہر کجا بینی جہانِ رنگ و بو ….. آں کہ از خاکش بروید آرزو
یازِ نورِ مصطفیٰ اُو را بہاست ….. یا ہنوز اندر تلاشِ مصطفیٰ است

دُنیائے رنگ و بو میں جہاں بھی نظر دوڑائیں، اس دنیا کی مٹی سے جو بھی آرزو پھوٹتی ہے، وہ یا تو نورِ مصطفےٰ سے چمک پاتی ہے یا ابھی تک سیدنا مصطفیٰ کریمؐ کی تلاش میں ہے۔

علامہ اقبال نے جس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے اس کی ایک جھلک دیکھئے گا، کنور مہندر سنگھ بیدی سحرؔ کہتے ہیں:

عشق ہو جائے کسی سے، کوئی چارہ تو نہیں
صرف مسلم کا محمدؐ پہ اجارہ تو نہیں

امام ابوحنیفہؓ کے شاگرد امام محمدؒ کا سراپا اس قدر پرکشش تھا کہ انہیں دیکھ کر کافر لوگ صرف یہ کہہ کے مسلمان ہو جاتے تھے کہ جب ایک محدث ایسی کمال شخصیت رکھتے ہیں تو ان کے پیغمبر علیہ السلام کے اخلاق و شخصیت کا جمال و کمال کس قدر اعلیٰ ہوگا۔

بقول امام احمد رضا خان صاحبؒ:

وہ کمالِ حسنِ حُضور ہے کہ گمانِ نقص جہاں نہیں
یہی پھول خار سے دور ہے، یہی شمع ہے کہ دھواں نہیں

حضور سیدِ دوعالم علیہ افضل الصلواۃ و السلام کی شان پیغمبری، اخلاق اور صفات کا جب تذکرہ ہوتا ہے تو ہر کوئی سرشار ہو جاتا ہے، پھر جن مومنین کے ایمان اور ان کے خیالات کا بنیادی محور ہی امام الانبیاء علیہ السلام کی ذاتِ کریمؐ ہو تو ان کے دل و دماغ میں حضور کے سراپائے اقدس کا تصور موجود رہنا بھی ایک لازمی امر ہے۔

خوشا چشمے کہ دید آں رُوئے زیبا … خوشا دل کہ دارد خیالِ محمد ﷺ

خوش قسمت ہے وہ آنکھ جس نے حضور کو دیکھا اور خوش قسمت ہے وہ دل جس میں حضور کا خیال بستا ہے۔

حضور کی تصویر بنانا خلاف مرتبہ ہے لیکن اپنے ذوقِ یادگیری کیلئے آپ علیہ السلام کا حلیہ شریف بیان کرنا اصحابؓ و اولیاء اکرامؒ کا محبوب وطیرہ رہا ہے، گو کہ ہر بیان اس عالیشان حسنِ مصطفےٰ کا عشر عشیر بھی نہیں ہو سکتا پھر بھی امت مرحومہ حضرت انسؓ و دیگر اولیاء و اصحابؓ کی احسان مند ہے کہ انہوں نے جو کچھ بیان کیا وہ ہمارے ذوقِ محبت کی تسکین کیلئے بہرحال کافی ہے۔

قصیدہ بُردہ شریف کے مصنف امام بوصیری صاحبؒ کہتے ہیں:

انہوں نے لوگوں کو آپ کی صفات کی صرف ایک جھلک دکھائی ہے جیسے پانی ستاروں کی جھلک دکھاتا ہے۔

فرصتؔ شیرازی صاحبؒ نے کہا تھا:

گر مصور صورت آں دلستاں خواہد کشید … لیک حیرانم کہ نازش را چَساں خواہد کشید

مصور اگر ان کی تصویر بنانا چاہتا ہے تو میں حیراں ہوں کہ وہ ان کے دلنشیں انداز اطوار کو کیسے دکھا پائے گا۔

اس تمہید کے بعد عرض ہے کہ حضور کی شخصیت کا کماحقہ‌ٗ بیان کرنا محال ہے کیونکہ اس درجۂ کمال کے مماثل کوئی ایسی چیز موجود نہیں جو حضور کا سراپائے اقدس بیان کرنے میں معاون ثابت ہوسکے لہذا علمائے دہر نے سمجھنے سمجھانے کیلئے صرف معروف تشبیہات کا استعمال کیا ہے جن میں توسط و اعتدال کا کلیہ ہر جگہ ملحوظ خاطر رکھا ہے۔

مجھ گنہگار کی یہ خوش بختی ہے کہ حضورِ دوعالم علیہ السلام کے روئے زیبا کا تذکرہ پیش کر رہا ہوں جو روح کو گرمانے کا ذریعہ بھی ہے اور شمع محبت کو فروزاں کر رکھنے کا سبب بھی ہے، فاللہِ لحمد علیٰ ذالک۔

قرآنِ پاک میں حضور کے مبارک اعضائے جسمانی کا جو جو ذکر آیا ہے وہ بھی اس مضمون میں شامل کر دیا ہے۔

حضور علیہ السلام کا چہرہء اقدس:
رب تعالیٰ کا فرمان ہے۔
قَدْ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِى السَّمَآءِ۔ البقرہ-144
ہم دیکھ رہے ہیں بار بار آپ کا منہ کرنا آسمان کی طرف۔

وَلِكُلٍّ وِجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّيهَا ۖ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ- البقرہ- 148

اور ہر ایک کیلئے توجہ کی ایک سمت ہے کہ وہ اسی کی طرف منہ کرتا ہے۔

علامہ محمود بغدادیؒ تفسیر روح المعانی میں اس آیت مبارک کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ ہر قوم کا قبلہ علیحدہ ہے یعنی جدھر اس کی توجہ ہو وہی اس کا قبلہ ہے، فرشتوں کا قبلہ بیت المعمور ہے، دعا کا قبلہ آسمان ہے، ارواح کا قبلہ سدرۃ المنتہیٰ ہے، حضور سید دوعالم ﷺ کے جسم کا قبلہ بیت اللہ شریف اور روح کا قبلہ اللہ تعالیٰ ہے، اور اللہ کریم کا قبلہ بمعنی توجہ کا مرکز حضور نبی کریم علیہ الصلواۃ والسلام ہیں۔ بحوالہ نذیر نقشبندی صاحبؒ۔

میرے مطابق اس آیت مبارک کا سیاق و سباق کچھ اور ہے لیکن شارح نے جو آخری جملہ کہا ہے اس کی بنا پر میں نے اس آیت کو شامل کیا ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ محبوبِ رب العالمین ہونے کی بنا پر حضور علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی خصوصی توجہ کا مرکز ہیں-

آپ کا چہرہ مبارک ماہِ بدر کی طرح چمکتا تھا، چہرہ اقدس گولائی لئے ہوئے کھڑا کھڑا سا تھا، چہرہ اقدس پر زیادہ گوشت نہیں تھا، یعنی نہ بالکل گول تھا نہ بالکل لانبا بلکہ دونوں کے درمیان تھا اور رخسار مبارک کسی نمایاں ابھار کے بغیر، متوازن تاباں و منور تھے۔

چہرے کے گورے رنگ میں سُرخ رُوئی کا حسین امتزاج تھا، خوشی کی خبر سن کر رُوئے زیبا کی کیفیت ایسی ہوتی جیسے کوئی چاند کا ٹکڑا چمک رہا ہو اور جلال کے عالم میں رخساروں پر سُرخی کی جھلک ایسے ہوتی جیسے انار کا رس نچوڑ دیا گیا ہو۔

چہرہ اقدس کیلئے شیخ سعدیؒ کہتے ہیں:

دیباچۂ صورتِ بدیعت … عنوان کمالِ حُسنِ ذات است
حضور کی بیمثال صورت رب تعالیٰ کے بے پایاں حسن کا نشان ہے۔

نظامی گنجوی صاحبؒ کہتے ہیں:

خطت کلام و کلیم، و رُخت کلامُ اللہ
چِہ خَط، چِہ رُخ، چِہ جَبین، لا الہ الااللہ

حضور کا چہرہ اقدس مجسم کلام ربانی اور کلیم صفت ہے، آپ کا رخ مبارک بصورت کلام اللہ ہے، کیا چہرہ، کیا نقوش، کیا جبینِ مبارک، سب لاالہ الاللہ کی تفسیر ہیں۔

حضور علیہ السلام کا سَر مبارک:
آقا کریم کا سر مبارک عظیم تھا، آپ کے سر مبارک کی بزرگی، وفورِ عقل اور جُودتِ فکر کی بنا پر، سب سے زیادہ ہے۔

حضور کے خدوخال ہر طرح سے متوازن اور پرکشش تھے، نہ کسی حصے کو چھوٹا کہہ سکتے ہیں نہ بڑا، لہذا بزرگی کے اعتبار سے سرمبارک کو بڑا کہتے تو نہ جانے کوئی توازن کی حد سے بڑھا ہوا سمجھ لیتا اسلئے عظیم کہا گیا تاکہ کوتاہی یا چھوٹائی کی نفی بھی ہو جائے اور بڑا کہنے سے غیرمتوازن سمجھنے کا امکان بھی باقی نہ رہے۔

کیا ہی خوبصورت بات کہی، ایسے صحابیؓ اور علمائے اکرامؒ ہی وہ حقیقی عاشقانِ رسول تھے جو حضور کا تذکرہ کرتے ہوئے اتنی باریک باتوں کا بھی خیال رکھتے تھے تاکہ سرِ مُو بھی کوئی غلطی نہ ہونے پائے۔

حضور علیہ السلام کی زلف معنبر کا بیان:
آپ کے گیسوئے پاک ریشم کی طرح نرم و ملائم، زرا خمدار اور گھنگھریالے تھے اور کانوں کی لو تک آتے تھے، بالوں کے درمیان سے مانگ نکلی رہتی تھے، جب تیل مَلتے تو ریش مبارک میں بھی کنگھی فرماتے پھر آئینہ ملاحظہ فرماتے۔

اگر آئینہ دیکھنا صرف کسی صاحب جمال ہی کا حق ہوتا تو واللہ آنحضرت علیہ السلام کے علاوہ کوئی آئینہ دیکھنے کے لائق نہ ہوتا لیکن حضور اس آئینے کے بھی محتاج نہیں، اس مضمون کو مولانا جامی نے جو معنی پہنائے ہیں وہ عش عش کرانے کیلئے کافی ہیں۔

ز آئینہ حُسن تُرا جُدائی نیست
غرض تجلی حُسن است خودنمائی نیست

حضور یہ آئینہ تو آپ ہی کے حُسن کا عکاس ہے، حُسن نے تو اپنی تجلی دکھانی ہی ہوتی ہے لہذا یہ حُسن کی تجلی کا کمال ہے آئینے کی خوبی ہرگز نہیں ہے۔

تا زُلف تَو شب است و رُخت آفتابِ چاشت
والیل والضحیٰ است مرا وِردِ روز و شب

حضور جب سے پتا چلا ہے کہ رات کا حُسن آپ کی زلف مبارک سے مستعار لیا گیا ہے اور آفتابِ نصف النہار کا نور آپ کے چہرہ اقدس سے اخذ کیا ہوا ہے تب سے میرا وظیفہ سورہ الیل اور سورہ والضحیٰ ہے۔

حضور علیہ السلام کی پیشانی مبارک کا بیان:
آپ کی پیشانی مبارک درخشاں و کشادہ اور اس پر مسرت کے نُور سے چمک اٹھنے والی حسین لکیریں تھیں جیسے صبح نور یا چشمہء آبِ حیات میں اٹھنے والی منور لہریں، یا چاندی کی تاباں لوح پر نورانی تحریریں یا چودھویں کے چاند کی چٹکی ہوئی دُودھیا چاندنی کی بہتی ہوئی سلسبیلِ نور۔

اے واضح الضحیٰ جبینت
والیل نقابِ عنبرینت

حضرت جامیؒ کہتے ہیں، یا رسول اللہ آپ کی پیشانی مبارک سورہ والضحیٰ کی پوری وضاحت کر رہی ہے اور آپ کا نقابِ عنبر سورہ الیل کی تفسیر ہے۔

اہل قلم میں سے حضورِ دو عالم کے جتنے بھی عشاق گزرے ہیں انہوں نے کبھی بھی اس ظاہری دوری کو بطور حقیقت قبول نہیں کیا، یعنی وہ سب “تھے” کی بجائے رسول اللہ “ہیں” کہنے پر اصرار کرتے ہیں، ایسے مزید نکات انشاء اللہ اپنے دوسرے مضمون ‍”یاایہاالمشتاقون” میں پیش کروں گا۔

دوعالم کے نگہبان علیہ السلام کی چشم مبارک کا بیان:
رب تعالیٰ نے فرمایا۔
مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى۔ النجم-11
نہ جھٹلایا جو دیکھا تھا (چشم مصطفےٰ نے)۔

مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰى۔ النجم-17
نہ درماندہ ہوئی چشمِ (مُصطفےٰ) اور نہ (حدِ ادب سے) آگے بڑھی۔

اپنی چشم مبارک اور گوش مبارک پر آپؐ کا اپنا ایک دلنشین بیان بھی ہے کہ میں ان چیزوں کو دیکھتا ہوں جسے تم نہیں دیکھ سکتے اور میں ان آوازوں کو بھی سنتا ہوں جنہیں تم نہیں سن سکتے۔

حضور علیہ السلام کی بینائی سے متعلق جناب ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ آپ رات کی تاریکی میں بھی ویسا ہی صاف دیکھتے تھے جیسا دن کی روشنی میں نظر آتا ہے۔

قاضی عیاضؒ اپنی کتاب الشفا میں کہتے ہیں کہ سرکار کریمؐ آسمان پر ثریا میں گیارہ ستارے ملاحظہ فرماتے تھے۔

حضور کی آنکھیں سیاہ و سُرمگیں تھیں ایسی کہ دیکھنے والا سمجھتا جیسے سرمہ لگا ہوا ہے، سرشار آنکھوں کی جھیل میں تیرتے ہوئے سرخ سرخ ڈورے ایسے تھے جو دل و نگاہ کی دنیا میں ہلچل مچا دیں، جبکہ پلکیں خمدار، لمبی اور گھنی تھیں۔

عادتِ کریمہ کے مطابق آپ کی نگاہیں آسمان کی نسبت زمین کی طرف زیادہ رہتی تھیں، یہ عادت حد درجہ شرم و حیا کی بنا پر تھی، احادیث میں جو بات مذکور ہے کہ آپ آسمان کی طرف نظر اٹھاتے کبھی کم اور کبھی زیادہ، تو ایسا انتظارِ وحی کے سلسلے میں ہوتا تھا ورنہ نظر مبارک کا زمین کی طرف رکھنا روزمرہ کے معمولات میں سے تھا۔

حضور اکثر گوشۂ چشم سے نظر فرماتے تھے، ایسا کرنا انتہائی حیا اور وقار کی بنا پر تھا لیکن جب آپ کسی پر توجہ و التفات فرماتے یا کسی کی بات سنتے تو رخِ اقدس مکمل طور پر اس کی طرف پھیر لیتے، محض گردن گھما لینے اور دزدیدہ نظری سے آپ گریز فرماتے تھے کیونکہ یہ متکبروں اور سہل پسندوں کا شیوہ ہوتا ہے۔

حضور کا رعبِ ہستی اور رعبِ حُسن و جمال اپنی جگہ مسلّم تھا لیکن صحابہ اکرام حضور اقدس کی مخمور نگاہوں سے جو سوزوسازِ ارمغان پاتے تھے اس لذت نظر کے تو کیا ہی کہنے۔

شوق افزوں، مانع عرضِ تمنا، رعبِ حُسن
بارہا دل نے اٹھائے ایسی لذت کے مزے

رب تعالیٰ نے سورہ النجم میں جو فرمایا:
مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَیٰ یعنی حضور کی نگاہ مبارک اپنے مقصود کی دید میں محو رہی اور ادھر اُدھر کسی چیز کی طرف مائل نہ ہوئی، اس موقع پر حضرت جامیؒ پھر عرض کرتے ہیں:

اسرار و وجود را کما ہے
دیدہ نظرے خدائی بینت

یا رسول اللہ خدا کے وجود کے اسرار کو جیسا کہ دیکھنا چاہیئے تھا آپ کی خدا بین نگاہِ شریف نے ویسا ہی ملاحظہ فرمایا۔

رسول پاک علیہ السلام کے ابروئے مبارک کا بیان: محبوبِ کریم کے ابروئے پاک ایک دوسرے سے جُدا، گھنے اور سیاہ تھے، خمدار ابرؤں کے درمیان منفرد خاصیت کی حامل رگِ پُر نُور تھی جو جوشِ غضب کے وقت ابھر جاتی تھی۔

در فراق تو نہادم جان و دل … ہر دو بَر طاقِ خمِ ابروئے تو

اے محبوب کریم آپ کے دونوں جمیل ابرؤں کے فراق میں ہم نے اپنے جان و دل کو کھو دیا ہے۔

چند می پُرسی کہ خسروؔ را چہ کُشت … غمزۂ تو، چشمِ تو، ابروئے تو

آپ یہ پوچھ رہے ہیں کہ خسروؔ کو کس نے قتل کیا، تو عرض ہے کہ آپ کے ناز و ادا، آپ کی چشم پاک اور آپ کے سحر آفرین خمِ ابرو نے۔

عید گاہِ ما غریباں کوئے تو … سجدہ گاہِ عاشقاں ابروئے تو

ہم غریبوں کی عید گاہ آپ کا دیارِ پاک اور سجدہ گاہ ابروئے پاک کے قرب میں ہے یعنی آپ کے دیارِ پاک اور آپ کے دیدارِ پاک سے دور رہنا ہمارے لئے محال ہے۔

حضور کے ناک مبارک کا بیان:
حضور رحمت دوعالمؐ کا ناک مبارک بلند، تیکھا اور ستواں تھا، اوپر نور کی شعاع نمایاں اور تجلی ریز تھی۔

حضور علیہ السلام کا دہن مبارک:
سید دوعالم کا دہن اقدس موزوں حد تک فراخ تھا کہ جب آپ گفتگو فرماتے تو کوئی لفظ شکستہ و ناقص انداز میں نہ سنائی دیتا، دندانِ مبارک بہت قریب تھے نہ زیادہ کُھلے بلکہ ایک خوبصورت ترتیب والے موتیوں کی طرح آب دار تھے یعنی بارش کے ساتھ آنے والے اولوں کی طرح سفید اور سامنے والے دانتوں کے درمیان معمولی سا خلا تھا، دورانِ گفتگو دندانِ مبارک سے نور کی شعائیں آتی ہوئی محسوس ہوتی تھیں۔

حضور کے لعابِ دہن میں بھی شفا تھی، غزوہ خیبر کے موقع پر حضرت علیؓ کی آنکھوں پر حضور کا لعاب دہن لگانے سے انہیں آشوب چشم سے فوراً شفا مل گئی، پھر حضرت انسؓ کے مکان میں جو کنواں تھا وہ بھی لعاب دہن کی تاثیر سے اسقدر میٹھا ہوا کہ مدینہ طیبہ میں اس جیسا میٹھا پانی کہیں نہیں تھا۔

حضور علیہ السلام کی آواز مبارک اور زبان و بیان:
رب تعالیٰ کا فرمان ہے۔
فَاِنَّمَا يَسَّرْنَاهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّهُـمْ يَتَذَكَّرُوْنَ۔ الدخان۔58۔
اس قرآن کو ہم نے آپ کی زبان میں آسان کر دیا تاکہ وہ سمجھیں۔

وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْـهَـوٰى۔ النجم۔3۔
اور نہ وہ اپنی خواہش سے کچھ کہتا ہے۔

سیدالابرار کی شخصیت میں وقار اس قدر زیادہ تھا کہ اوّل نظر میں دیکھنے والا رعب کی وجہ سے ہیبت میں آجاتا لیکن جب وہ ہمکلام ہوتا تو آپ کے اخلاق کریمہ و اوصاف جمیلہ کا گرویدہ ہو کے رہ جاتا۔

حضور کی آواز مبارک حد درجہ شیریں اور پر کشش تھی جس میں فصاحت و بلاغت، کلام میں روانی، الفاظ میں نکھار اور جملوں میں سلاست ہوتی، آپ نادر کلام اور حکمتوں سے معمور تھے اور عرب کے ہر قبیلے کیساتھ انہی کی زبان اور محاورے میں گفتگو فرماتے جس میں ایک طرف شگفتگی و سائشتگی جمع تھی تو دوسری طرف وحی پر مبنی تائید ربانی بھی شامل حال تھی۔

وہ گنجُورِ معارف جس کے اک اک حرف میں پنہاں
نکاتِ فلسفی، اسرارِ نفسی، رازِ عمرانی

حضور کی گفتگو اس قدر مسحورکن اور اپنائیت پر مبنی ہوتی ہے کہ روز محشر آنحضرت علیہ افضل الصلواۃ و السلام جب گنہگاروں کی گردن چھڑانے کیلئے ان کی شفاعت فرمائیں گے اس اپنائیت کا روح پرور منظر دیکھ کر بہت سے بخشے گئے نیک لوگ بھی گنہگاروں سے کہیں گے کہ بھائیو ہماری نیکیاں لےلو اور اپنے گناہ ہمیں دے دو تاکہ ہم اپنے لئے بھی اس اندازِ حمایت کی لذت اٹھا سکیں جو صرف گنہگاروں کو مل رہی ہے۔

حضور علیہ السلام کا تبسم و گریہ:
پھول کی پنکھڑیوں کی مانند مہکتے ہونٹوں پر ہر وقت تبسم موجزن رہتا تھا جب آپ خوش ہوتے تو دندانِ مبارک کا نور ظاہر ہونے لگتا تھا۔

جب گریہ کی صورتحال درپیش ہوتی تو چشم مبارک سے آنسو جاری ہو جاتے مگر آواز قطعاً بلند نہ ہوتی تھی البتہ سینہ اقدس سے ایک مخصوص آواز سنائی دیتی تھی، یعنی سانس چلنے کی آواز۔

حضور کا گریہ ان مواقع پر ہوتا تھا، جب کہیں پر اللہ پاک کے جلال کا کوئی مظہر دیکھتے یا جب امت کی مغفرت کا غم ہوتا، میت کیلئے دعا فرماتے ہوئے، قرآن پاک کی تلاوت سنتے ہوئے یا رات کی نماز میں بھی یہ کیفیت طاری ہو جایا کرتی تھی۔

حضور علیہ السلام کی ریش مبارک:
سرکار کریمؐ کی داڑھی مبارک گھنی اور سیاہ تھی اور آخر دم تک اسی طرح رہی، صرف ٹھوڑی اور کنپٹی کے کچھ بال سفید ہو گئے تھے۔

حضور علیہ السلام کی گردن مبارک:
امام الانبیاء کی گردن مبارک بلند اور خوبصورت تھی جس میں صفائی اور چاندی جیسی چمک تھی۔

سینہ مبارک و قلبِ اطہر:
رب تعالیٰ کا فرمان ہے۔
نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُ، عَلٰی قَلْبِكَ لِتَكُـوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِيْنَ۔ الشعراء۔ 193-194
اسے امانت دار فرشتہ لے کر آیا ہے، تیرے دل پر، تاکہ تو ڈرانے والوں میں سے ہو۔

اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ۔ الم نشرح-1
اے محبوب کیا ہم نے آپ کی خاطر آپ کا سینہ کشادہ نہیں کر دیا۔

حضور کا سینہ کشادہ و مسطح تھا، کندھے پرگوشت اور شانوں کے درمیان مُہر نبوت تھی۔

حضور کے قلب اطہر کو جو اسرار عطا ہوئے وہ کسی اور کو نہ ملے اور نہ ہی کوئی ان اسرار کا متحمل ہو سکتا تھا، اس بات کو حضور نے یوں ارشاد فرمایا کہ میری آنکھ سو جاتی ہے لیکن میرا دل نہیں سوتا۔

اس بات کو حضرت نظامی گنجوی صاحبؒ نے بہت خوبصورتی سے بیان کیا ہے:

بصر در خواب و دل در استقامت
زبانش امتی گو تا قیامت

یا رسول اللہ، آپ کی ذات پاک کتنی عظیم الشان ہے کہ آپ کی آنکھیں محو خواب ہیں مگر دل ہر وقت بیدار و حاضر ہے یعنی آپ از راہِ کرم قیامت تک یاربِ امتی، یاربِ امتی فرمانے والے ہیں۔

وہی باریک سا نکتہ کہ نظامی گنجوی صاحبؒ نے بھی رسول اللہ تھے کی بجائے رسول اللہ ہیں بیان کیا ہے مگر اس کی سمجھ اور لطف شائد کم ہی لوگوں کو آئے۔

سرکار کریم کی کمر و پُشت مبارک کا بیان:
رب تعالیٰ کا فرمان ہے۔
وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ۔ اَلَّـذِىٓ اَنْقَضَ ظَهْرَكَ۔ الم نشراح-2-3
اور کیا آپ سے آپ کا وہ بوجھ نہیں اتار دیا، جس نے آپ کی کمر جھکا دی تھی۔

حضور کی پُشت مبارک چاندی کی طرح سفید، ہموار اور صاف و شفاف تھی اور دونوں کندھوں کے درمیاں آپ کی خاتم النبیین کی خصوصی حیثیت کو بیان کرتی ہوئی مُہر نبوت موجود تھی۔

مُہر نبوت ایسی ابھری ہوئی جلد تھی جو ہمرنگِ بدن، مشابہ جسم اطہر ایک صاف اور نورانی حصہ تھا، شیخ ابنِ حجرؒ شرح مشکواۃ شریف میں لکھتے ہیں کہ اس مہر نبوت میں قدرتاً یہ کلام لکھا ہوا تھا۔

“ﷲُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْكَ لَہٗ تَوَجَّہَ حَیْثُ کُنْتَ فَاِنَّكَ مَنْصُورٌ”
اللہ یکتا ہے کوئی اس کا شریک نہیں آپ جس حال میں بھی ہیں توجہ فرمائیے بلا شبہ آپ ہی فتح یاب ہیں۔

حضور علیہ السلام کے دست و بازو مبارک:
رب تعالیٰ کا فرمان ہے۔
وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَـةً اِلٰى عُنُـقِكَ۔ الاسراء-29
اور نہ بنا لو اپنے ہاتھ کو بندھا ہوا اپنی گردن کے ارد گرد۔

فخر موجودات کے بازو سڈول و گداز اور کلائیاں موٹی اور ہتھیلیاں بھرپور تھیں، انگشت مبارک لمبی، نرم اور طاقتور تھیں، ہاتھ مبارک ریشم جیسے نرم و ملائم، ٹھنڈے اور توانا تھے۔

حضرت انسؓ بن مالک فرماتے ہیں کہ میں نے ایسا کوئی حریر و دیبا نہیں دیکھا جو حضور کی ہتھیلی سے زیادہ نرم ہو اور نہ کوئی مشک، عنبر یا ایسی کوئی اور چیز سونگھی جو حضور کی خوشبو سے بہتر ہو۔

کچھ اصحابؓ فرماتے ہیں کہ حضور کے دست مبارک کی نرمی و سختی کا تعلق وقت اور حالات پر موقوف تھا یعنی جب آپ گھر میں اپنے دست مبارک سے کام کرتے، جہاد یا کاروبار میں مصروف ہوتے تو ہتھیلیاں سخت ہو جاتیں اور جب ان کاموں سے فراغت ہوتی تو وہ اپنی جبلی نرمی و ملائمت کی حالت میں آجاتیں۔

حضور کے دستِ کرم کی خوشبو:
آپ کے دستِ کرم کی صفات، آثار اور معجزات اتنے ہیں کہ احاطہ تحریر میں لانے کیلئے کئی دفتر درکار ہیں، یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ حضورِ اقدس جس شخص سے بھی مصافحہ فرماتے وہ دن بھر اپنے ہاتھ کو معطر پاتا اور جس بچے کے سر پہ اپنا دست کرم رکھتے وہ خوشبو میں باقی بچوں پر سبقت لے جاتا۔

حضرت سعدؓ بن وقاص فرماتے ہیں کہ ایک بار حضور میری عیادت کو تشریف لائے اور اپنا دستِ کرم میری پیشانی پر رکھا، پھر چہرے، سینہ اور شکم پر رکھا، میں آج تک آپ کے دستِ اقدس کی ٹھنڈک اپنے جگر میں محسوس کرتا ہوں۔

پسینہ مبارک کی خوشبو:
حضور کی خصوصی صفات میں ایک پاکیزہ و طیب خوشبو بھی ہے، یہ خوشبو آپ کے وجود اطہر کی ذاتی صفت تھی جس کی ہمسری دنیا کی کوئی خوشبو نہیں کر سکتی تھی۔

حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ میں نے ہر خوشبو خواہ وہ مشک ہو یا عنبر سونگھی مگر حضور کی خوشبوئے اطہر سے زیادہ دلنشیں کوئی نہ تھی، آپ مزید کہتے ہیں کہ ایکبار حضور ہمارے گھر پہ بوقت دوپہر آرام فرما رہے تھے، آپ کو پسینہ بہت آتا تھا لہذا میری والدہ نے ایک شیشی میں حضور کا پسینہ مبارک جمع کرنا شروع کر دیا کہ اتنے میں حضور کی آنکھ کھل گئی، حضور نے فرمایا، اے امِ سلیمؓ کیا کر رہی ہو، عرض کیا یا رسول اللہ آپ کا پسینہ جمع کر رہی ہوں تاکہ اپنے لئے بطور خوشبو استعمال کر سکوں کیونکہ اس کی خوشبو سب سے بہتر ہے۔

بروایت ابونعیمؓ، حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپ کے چہرہ اقدس پر پسینہ مبارک موتیوں کی مانند اور اس کی خوشبو مشک سے زیادہ ہوتی تھی۔

حضور کے بطنِ اطہر کا بیان:
حضور علیہ السلام کا سینہ مبارک شکم سے بلند تھا نہ شکم مبارک سینے سے بلند، یعنی سینہ و بطن اطہر متوازن تھے۔

سینے سے شکم مبارک تک بالوں کی ایک ہلکی لکیر تھی، سوائے سینہ، شکم، بازوں اور کندھوں پر متناسب بالوں کے، جسم اطہر پر اور کہیں بال نہ تھے۔

حضور علیہ السلام کے قدم مبارک:
آپ کے دونوں قدم مبارک ہموار تھے، جن میں آلودگی اور شکستگی بالکل نہ تھی، پاؤں کے تلوے نرم، ایڑیوں پر گوشت کم، پتلی اور نازک لیکن پھٹنے سے محفوظ رہتی تھیں، قدم اٹھانے کا انداز بہت باوقار، اُولوالعزم، اہل ہمت اور شجاعت کا آئینہ دار تھا اور چال میں ایسی تمکنت جیسے موج صبا کا خرام ہو۔

علامہ اقبال حضور کے قدمین شریفین سے یوں عقیدت رکھتے ہیں:

بِیا اے ہم نفس باہم بِنالیم … من و تو کشتہء شانِ جمالیم
دو حرفے بر مرادِ دل بگوئیم … بپائے خواجہ چشماں را بمالیم

آجا اے دوست، حضور کے غمِ ہجر میں، ہم باہم مل کر گریہ زاری کریں کیونکہ ہم دونوں اسی شان جمال کے شیدائی ہیں، آؤ سلامتی ایمان اور محبت رسول کی باتیں کریں اور خواجۂ دوعالم کے قدموں میں اپنی آنکھوں کو مَلیں۔

حضور کے نعلینِ پاک کیساتھ حضرت جامیؒ کی عقیدت دیکھئے:

سُودہ ہمہ قدسیاں جبینِ ارادت … بر تہِ نعلین عرشِ سائے محمد

یعنی عالم ملکوت کے فرشتوں نے اپنی جبین عقیدت کو حضور کے عرش پر جانے والے نعلینِ پاک پر ملا۔

شیخ سعدی کہتے ہیں:

گر بیا بم بہ دیدہ سُرمہ کشم …خاکپائے تو یا رسول اللہ

یا رسول اللہ میرے دل میں یہ حسرت موجزن ہے کہ اگر حضور کے قدمِ ناز کی خاک مجھے میسر آجائے تو میں اسے اپنی آنکھوں میں سُرمہ بنا کے لگاؤں۔

نظامی گنجوی صاحبؒ کی طرح شیخ سعدیؒ نے بھی ویسا ہی موجود “ہیں” والا انداز تکلم اختیار کیا ہے۔

حضور کا قد مبارک:
حضور کی قامتِ زیبا باغ قدس اور بُستانِ انس کی شاخ تھی، لطیف اور چست، قد مائل بہ جانبِ درازی تھا مگر کوتاہ قامتی اور دراز قامتی کے عیب سے پاک، نظر افروز، معطر اور بھرا بھرا جسم تھا۔

حضور کی شخصیت کا بیان خوبی و محبوبی، دلکشی و دلستانی، دلبری و سروری اور رعنائی و زیبائی کا ایک مکمل شاہکار ہے جو ہر قسم کے عیب سے پاک ہے مگر اہل دنیا اس باب کو کما حقہٗ بیان کرنے سے قاصر ہیں۔

حضرت حسانؓ بن ثابت کہتے ہیں:

واحسن منک لم تر قط عینی … واجمل منک لم تلد النساءِِ
خلقت مبرءاََ من کل عیب … کاَنک قد خلقت کما تشاءِِ

حضور ہم نے آپ جیسا حسین کوئی نہیں دیکھا، نہ کسی ماں نے آپ جیسا جمیل پیدا کیا، آپ ہر عیب سے پاک پیدا ہوئے ہیں ایسے لگتا ہے جیسے خدا نے آپ کو آپ کی مرضی کے عین مطابق تخلیق کیا ہے۔

امام قرطبیؒ نے کتب الصلواۃ میں لکھا ہے کہ رب تعالیٰ نے حضورِ اقدس کا کامل حسن اہل دنیا پر ظاہر نہیں کیا، اگر ایسا ہو جاتا تو دنیا کی آنکھیں اس دیدار نور کی تاب نہ لا سکتیں۔

شیخ سعدیؒ کہتے ہیں:

کہ با آفتاب ما نی بکمال حسن و طلعت … کہ نظر نمی تَو اند کہ بہ بیندتِ کما ہی

اے محبوبؐ، بااعتبار حسن و جمال آپ مانند آفتاب ہیں کیونکہ آپ کے بے پناہ حسن اقدس کو کماحقہٗ دیکھنے سے میری آنکھیں قاصر ہیں۔

اے روئے تو  راحتِ دلِ من …چشم تو چراغ منزلِ من

بس قصہ مختصر یہ کہ آپؐ کا چہرہ مبارک ہی ہمارے دل کی راحت ہے اور آپؐ آنکھیں ہی ہمارے لئے چراغ منزل ہیں۔

ہمارا عقیدہ ہے کہ کمالِ اخلاق کی طرح کمالِ شخصیت میں بھی رب تعالیٰ نے امام الانبیاء علیہ افضل الصلواۃ والسلام کے علاوہ کوئی تخلیق ایسی نہیں کی جسے سب سے بڑھ کر کہا جا سکے لہذا حضور اقدس کا حلیہ بیان کرنے والا صرف یہی کہہ سکتا ہے کہ میں نے حضور جیسا باجمال و باکمال نہ حضور سے پہلے دیکھا ہے نہ ان کے بعد دیکھا ہے۔

داستانِ عشق جب پھیلی تو لامحدود تھی ۔۔۔۔۔ اور جب سمیٹی تو آپؐ کا نام ہو کے رہ گئی۔

صلی اللہ علیٰ سیدنا محمد

About Author

میں، لالہ صحرائی، ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: