جو صورت نظر آئی (قائد اعظم) —- فاروق عادل

0
  • 70
    Shares

فاروق عادل ادیب ہیں یا صحافی اس کا فیصلہ تو مشکل ہے لیکن اس بات کا تعین ضرور ہو گیا ہے کہ آسمان تحریر پر ان کا ستارہ تیز روشنی دے رہا ہے۔ “جو صورت نظر آئی” کے نام سے ان کی کتاب کے چرچے ہیں ان دنوں۔ جس میں قائداعظم کی شخصیت کے بارے میں وہ کچھ بھی جاننے کو ملا ہے جو کہ یقناَ پہلے معلومات میں نہ تھا۔ آئیے دیکھے ہیں:

“قائداعظم کی دور اندیشی سے صرف وہ ہی لوگ انکار کر سکتے ہیں جو کہ پاکستان کے لیے بغض رکھتے ہوں ورنہ قائد کے تو امریکہ تک کے بارے میں کہے گئے الفاظ من وعن سچ ثابت ہو رہے ہیں۔ مولانا اشرف علی تھا نوی کے مشورے سے قائد نے قرآن حکیم کا مطالعہ قیام پاکستان سے پہلے شروع کر دیا تھا۔ اس مقصد کے لیے ایک عالم دین روزانہ دہلی میں ۱۰ اورنگ زیب روڈ یعنی ان کے گھر میں انھیں قرآن حکیم کی تعلیم دیا کرتے تھے۔ قائداعظم نے اپنے عہد کی جدید ترین تعلیم حاصل کر رکھی تھی مال دولت سے بھی اللہ نے انھیں خوب نوازا تھا۔ ایسے انعامات عام لوگوں کا توازن بگاڑ دیتے ہیں۔ لیکن قائداعظم کا معاملہ مختلف تھا اِن عوامل نے مل کر اُن کی زندگی میں قدیم و جدید کا حسین امتزاج کر دیا۔

باراک اوباما صدر منتخب ہوئے تو ریاض اینڈی نے انکشاف کیا کہ قائداعظم نے تو یہ پشین گوئی ۱۹۴۸ء میں کر دی تھی۔ وہ کیسے؟ احباب کو حیرت نے آ لیا، ریاض لمحہ بھر پر سکون رہا پھر یادوں کو ٹٹولتے ہوئے کہا: قائداعظم نے فرمایا “ینگ مین سیاہ فام امریکی پہلے کھیلوں میں نام پید ا کریں گے پھر وہ سیاست پر چھا جائیں گے‘‘ََ۔

قائد اعظم کا یہ بیان کیا تم نے خود سنا؟ اس نے جواب دیا نہیں میں نے یہ بیان کرنل اجمل سے سنا ریاض نے جواب دیا۔ یہ کرنل صاحب کون تھے؟ کرنل اجمل۔ زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم کے اردلی بعد میں فوج میں کمیشن لیا اور کرنل کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ یہ سن کر ریاض کے چہرے پر اطمینان کی لہرآئی اور اس نے کہا :قائداعظم کے اردلی تھے۔

ریاض کی وضاحت پر حاضرین اب ایک دلچسپ کہانی کے انتظار میں دم سادھ کر بیٹھ گئے۔ ریاض خاموش رہا پھر کہا: اس کہانی کا آغاز ایک تربوز سے ہوتا ہے جس کے کردار اور راوی خو د کرنل اجمل ہیں۔ یہ کہہ کر ریاض نے گویا کرنل اجمل کی کہانی کا آغاز کر دیا۔

دوپہر ہوئی سب لوگ آرام کے لیے اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے تو قائداعظم نے مجھے طلب کیا چہرے پر شرارت بھری مسکراہٹ تھی جس کے نور نے علالت کے آثار کچھ دیر کے لیے مٹا دئیے۔

میرے سوکھے دل کی کلی کھل اٹھی جو قائداعظم کا علیل چہرہ دیکھ دیکھ کر مرجھا چکی تھی۔ سفید بیڈ شیٹ،سفید تکیہ اور سفید کرتے پا جا مے میں ملبوس قائداعظم یہ منظر ایسا تھا جو میری آنکھوں میں ہمیشہ کے لیے نقش ہو گیا۔ میں ابھی مبہوت کھڑا تھا کہ قائداعظم کے چہرے کی مسکراہٹ میں کچھ اور اضافہ ہوا،انہوں نے فرمایا:ینگ مین میراایک کام کرو گے؟

یس سرمیں نے مستعد سپاہی کی طرح کہا: میرا جواب سن کر قائد کے چہرے پر پھیلی مسکراہٹ کچھ اور دل نشیں ہوگئی،مطمئن ہوئے،پھر قریب آنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا:سنو میں تقریباَ ان کے سینے پر جھک گیا قائد نے فرمایا۔ مجھے ایک تربوز لا دو؟ یہ فرمائش سن کر میں حیران رہ گیا۔

کرنل نے گہری سانس لی پھر کہا: قائداعظم سخت علیل تھے اور بوجہ علاج و آرام زیارت میں مقیم تھے۔ پرہیز اور دواؤں نے ان کے منہ کا زایقہ بگاڑ رکھا تھا، تربوز کی طلب بھی اسی سبب سے تھی لیکن ڈاکٹر سے اس کی اجازت نہ مل سکتی تھی۔

کرنل ڈاکٹر الہی بخش ہر چیزکی نگرانی کرتے اور مادرملت دوا اور غذا پر کڑی نظر رکھتیں۔ ان دونوں سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہ تھا، اس لیے قائداعظم ؒ نے اس کام کے لیے مجھے چنا۔ اس روز دوپہر تک انھوں نے انتظار کیا، مادرملت اور کرنل صاحب کھانے کے بعد آرام کے لیے چلے گئے تو قائداعظمؒ نے مجھے طلب کر کے اپنے دل کی بات کہہ دی۔ میں مشکل میں پڑ گیا لیکن جیسا کہ فوجیوں کی تربیت ہوتی ہے،میں نے فیصلہ کر لیا کہ قائداعظم کی یہ خوائش ضرور پوری کروں گا۔ میں نے سوچا اور سائیکل لے کر تربوز کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ ریزیڈنسی سے بازار ذرا فاصلے پر تھا،اس لیے واپسی میں تھوڑی دیر تو لگی لیکن کام ہوگیا۔ قائداعظم ؒ کو جب اس کی خبر میں نے کی تو ان کی آنکھوں میں چمک آگئی۔ دھوپ ڈھلنے لگی تھی،اس لیے خدشہ تھاکہ اب کسی وقت بھی کوئی آسکتا ہے اس لیے باقی کام رات پر چھوڑ دیا گیا۔

رات ہوئی اور لوگ سونے کے لیے جاچکے تو قائداعظم ؒ اور میرے درمیان اشاروں کنایوں میں بات چیت شروع ہوگئی۔ میری کیفت عجیب تھی،ایک طرف قائدا عظم کے ساتھ رازداری کی خوشی اور دوسری جانب مادرملت اور کرنل الہی بخش کے ہاتھوں پکڑے جانے کا خوف، میں تنے ہوئے رسی پر چل رہا تھا لیکن اس کے باوجود جب مجھے اس اعتماد کا خیال آتا جو قائداعظم نے مجھ پر کیا تھا تو سینہ فخر سے پھول جاتا۔ اس وقت مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے دو بچے ساری دنیا سے چھپ کر کسی شرارت میں مصروف ہوں۔ قائداعظم نے مجھے چھریاں کاٹنے اور پلیٹ لانے کا حکم دیا اور اپنے سامنے تربوز کٹوایا۔ تربوز کٹ گیا تو ممکنہ مضر اثرات سے بچنے کے لیے اس کی قاشوں پر کالی مرچیں چھڑکوائیں۔ یہ ہوگیا تو وہ اٹھ کر بیٹھ گئے۔ دو قاشیں پوری رغبت سے کھائیں پھر برتن ہٹا دینے کا حکم دیا اور اطمینان سے لیٹ گئے۔

کرنل اجمل نے بات مکمل کی تو محفل پر سنا ٹا چھا گیا،دیر تک خاموشی رہی،کچھ قائداعظم کی تکلیف کے بارے میں جان کر اور کچھ حیران کن واقعہ کے سبب۔ ریاض کی زبانی یہ واقعہ سنا تو مجھے ایک بچے کی یاد آئی، قائداعظم کی ایک ادا نے اسے ہمیشہ کے لیے اپنا لیاتھا۔

یہ واقعہ علی گڑھ کا ہے، کسی خواب کی طرح خوبصورت اور ہمیشہ یاد رہنے والا۔ یہ باتیں ان دنوں کی ہیں جب قائداعظم محمدعلی جناح ہند و قیادت کی ضد اور ہٹ دھرمی سے مایوس ہونے کے بعد کانگریس کو چھوڑ کر مسلم لیگ کی قیادت سنبھال چکے تھے۔ براعظم کے مسلمانوں کی تاریخ کے اس غیر معمولی اور شان دار دور میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اہم اجلاس اگر چہ ہندوستان کے بہت سے شہروں میں ہوتے رہے لیکن علی گڑھ اور نواب فیض علی خان کی کوٹھی کی بات ہی دوسری تھی۔ قائداعظم اس گھر کو اپنا گھر سمجھتے اور اس کے باسیوں سے بے تکلفی اور محبت کے ساتھ پیش آتے۔ آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاسوں کے درمیان میں وقفے ہوتے تو کچھ بزرگ کمرسیدھی کرنے کے لیے کمروں میں چلے جاتے لیکن قائد اعظم کی عادت مختلف تھی،وہ اِدھر ادھروقت ضائع کرنے کی بجائے سیدھے لان میں چلے آتے اور نوجوانوں کی محفل میں آکر ان میں گھل مل جاتے۔

ہم لوگ یہاں کرکٹ کھیلا کرتے تھے، ایک دن تو ہمارے کھیل میں شریک بھی ہوگئے۔ مرزا صاحب نے بتایا۔ کھیل کے میدان میں وہ چند منٹ کی رفاقت میری زندگی کا حاصل ہے۔ کھیل کے میدان کی طرح اس گھر کی ڈیوڑھی کا ایک واقعہ بھی مرزا صاحب کی مہکتی ہوئی یادوں کا حصہ ہے۔ قائداعظم ایک بار کہیں جانے کے لیے گھر سے نکل کر گاڑی کی طرف بڑھے تو ایک نو عمر اچانک ان کے سامنے آگیا اور ایک لفافہ ان کی خدمت میں پیش کیا۔ قائداعظم کے چہرے پرخوش گوار مسکراہٹ نمودار ہوئی اور انھوں نے اپنی بار عب آواز میں پوچھا۔ what is this? مرزا جواد بیگ کہتے ہیں کہ قائداعظم کی بارعب آواز سن کر ایک بار تو میرا حوصلہ جواب دے گیا لیکن ماموں کو پاس کھڑے دیکھ کر ہمت پکڑی اور کہا مسلم لیگ کے فنڈ کے لیے قائد اعظم مسکرادئیے، لفافہ لے کر شیروانی کی اوپر ی جیب میں رکھا اور کچھ دیر کے بعد روانہ ہوگئے۔

مرزاصاحب کا خیال تھا کہ اتنی محنت سے جمع کیے ہوئے روپے تو گئے۔ خدشہ تھا کہ برصغیر کے کروڑ وں مسلمانوں کی لڑائی میں مصروف یہ عظیم شخص اپنی بے پناہ مصروفیات کے سبب یقینا بھول جائے گے کہ جب وہ نواب فیض علی خان کے گھر سے روانہ ہو رہے تھے تو ایک بچے نے کچھ رقم ان کے حوالے کی تھی۔

پریشانی بالکل جائز تھی لیکن چند ہی دنوں کے باد مرزا صاحب کے خیالات بدل گئے۔ مرزا صاحب بتاتے ہیں کہ ایک روز میں لان میں بیٹھا تھا کہ خدمت گارنے اطلاع دی، آپ کی چٹھی آئی ہے جس پر میں بھاگتا ہوا ڈاکیے کے پاس پہنچا، لفافہ اُس کے ہاتھ سے تقریبا جھپٹ لیا اور بے صبری کے ساتھ کھولا۔ میرے ہاتھ میں پچاس روپے کی رسید تھی جس پر سیکٹری جنرل آل انڈیا مسلم لیگ نواب زادہ لیاقت علی خان کے دستخط تھے۔

میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیاکہ قا ہد اعظم نے ایک معمولی سی بات کو بھی یاد رکھا اور چند ے میں دی جانے والی رقم کی رسید ارسال کرانی ضروری سمجھی۔ مرزا جو ادبیگ دہائیوں پہلے کے اس واقعے کا تذکرہ کرتے ہوئے آب دیدہ ہوگئے اور انھوں نے گلو گیر آواز میں کہا ایسے تھے ہمارے قائداعظم۔

پاکستان کیسا ہونا چاہیے؟ اس کی عملی شکل دیکھنی ہو تو قائداعظم کی تصویر دیکھ لیجیے۔ قراقلی ٹوپی، شیروانی اور شلوار قمیض میں ملبوس فراٹے سے انگریزی بولتا ہوا ایک طویل قامت شخص جس کے سامنے بڑے بڑوں کی ٹوپیاں گر جاتی تھی۔”

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: