مگر مچھ —– اعجاز الحق اعجاز کا افسانہ

0
  • 98
    Shares

وہ تیس سال قبل چھوٹے چھوٹے مگر مچھوں کا ایک جوڑا لایا تھا اور ان کے لیے اس نے ایک تالاب بنایا تھااور اسے پانی سے بھر دیاتھا تاکہ یہ مگر مچھ راحت سے رہ سکیں۔ وہ ایک غریب آدمی تھا اور اس کی بیوی عرصہ پہلے فوت ہوچکی تھی۔ بچہ کوئی تھا نہیں۔ چنانچہ وہ تھا اور یہ مگر مچھ تھے۔ اس نے تالاب کے کنارے کئی شجر سایہ دار اگائے تھے تاکہ مگر مچھ سورج کی تمازت سے محفوظ رہیں۔ وہ سارا دن مگر مچھوں کو کچھ نہ کچھ کھلاتا رہتا۔ اس کے لیے اسے بہت سے پاپڑ بیلنے پڑتے مگر وہ جیسے تیسے ان کی خوراک کا بندوبست کر ہی لیتا۔ وہ یہ جان گیا تھا کہ وہ کون کون سی چیزیں شوق سے تناول کرتے ہیں۔ وہ ان کی عادات سے کافی واقفیت حاصل کر چکا تھا۔ اب اس کی کل کائنات یہ مگر مچھ ہی تھے۔ اس کے دوستوں نے اسے بہت سمجھایا کہ مگر مچھ نہ پالو یہ کبھی کسی کے نہیں ہوتے ایک دن تمھیں بھی سالم نگل لیں گے مگر وہ تو ان کی محبت سے سرشار تھا، کیسے سمجھ پاتا۔ مگر مچھ بہت آرام سے تھے۔ سارا دن مزے سے پانی میں تیرتے رہتے اوراٹھکیلیاں کرتے رہتے اور وہ کنارے پہ کھڑا ان کو دیکھتا رہتااور اسے ایک عجیب سی انسیت ان مگر مچھوں سے ہوگئی تھی۔ پہلے پہل تواسے محسوس ہوا کہ وہ اس سے مغائرت اور اجنبیت محسوس کرتے ہیں۔ کبھی کبھی اسے لگتا کہ وہ اسے کاٹ کھانے کی آرزو دل میں پالے ہوئے ہیں مگر پھر وہ اس خیال کا ذہن سے جھٹک دیتا مگر پھر وہ سوچتا کہ ان کو ذرا بھوک لگتی ہے تو یہ ایسے رویے کا مظاہرہ کرتے ہیں۔اس لیے وہ انھیں کبھی بھوکا نہ رہنے دیتا۔ اس نے اپنے اور ان مگر مچھوں کے تعلقات میں تنائو کم ہی آنے دیا تھا۔ وہ تالاب کے کنارے پہروں کھڑا رہتا تھا اور کبھی بیٹھتا نہیں تھا۔ آنے والے سالوں میں اس کی مصروفیات اور بھی بڑھ گئیں کیوں کہ اب ان مگر مچھوں کی اگلی نسل بھی پانی میں تیر رہی تھی۔ ان کی افزائش میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا تھا، اور ان کی خوراک کا بندوبست کرنا اس کے لیے دوبھر ہوتا چلا جا رہا تھامگر اس نے ان کو پالنے کے لیے اپنا پیٹ کاٹنے سے بھی گریز نہ کیا۔ اس کی مگر مچھوں کے لیے محبت میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اضافہ ہی ہوا تھا کمی نہ آئی تھی۔ اسے لگتا تھا کہ یہ مگر مچھ بھی اس سے محبت کرنے لگے ہیں۔ وہ کھڑے کھڑے ان کی طرف خوراک اچھالتا تو وہ اچھل کر جھپٹتے اور خوراک اچک کر لے جاتے۔

کبھی انھوں نے اس پر حملہ آور ہونے کی کوشش نہ کی تھی۔ اسی طرح تیس سال کا عرصہ گزر گیا۔ ان میں سے کچھ مگر مچھ مر بھی گئے مگر اس کے لیے سب سے بڑی سردردی ان کی بڑھتی ہوئی تعداد تھی۔ تالاب سارے کا سارا بھر چکا تھا۔ ان میں سے متعدد نہنگ بہت بڑے بڑے اور فربہ ہوگئے تھے۔ وہ جب اپنی تھوتھنیاں باہر نکالتے تو اسے ایسا لگتا کہ وہ اسے سلیوٹ کر رہے ہیں۔ اس نے ایک دن سوچا کہ تالاب کو وسیع کیا جائے تاکہ وہ جگہ کی تنگی کا شکار نہ ہوں۔ چناں چہ وہ ہر روز کناروں سے تھوڑی سی مٹی اچک لیتا۔ آہستہ آہستہ تالاب کھلا ہوتا جا رہا تھا اور اس کے گھر کا زیادہ تر حصہ اب اس کی نذر ہوچکا تھا۔ مگر اسے پروا نہیں تھی کیوں کہ یہ مگر مچھ اس کو اپنے ہی خانوادے کے افراد محسوس ہوتے تھے۔

ایک دن وہ کنارے پہ کھڑا تھا۔ خوراک وہ ان کو ڈال چکا تھا۔ کافی دیر تک وہ ان کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھتا رہا اور ان گزرے ہوئے سالوں کو یاد کرتا رہا جو اس نے ان کے ساتھ گزارے تھے۔ وہ گہری سوچ میں گم تھا۔ پھر وہ جانے کے لیے مڑا تو اچانک پائوں پھسلنے سے گر پڑا۔ جیسے ہی وہ گرا سارے مگر مچھ اچانک تالاب سے نکل کر اس پہ اندھا دھند جھپٹ پڑے اور وہ آن کی آن میں غائب کر دیا گیا۔ وہ جو تیس سال سے ان کا خیر خواہ تھا انھوں نے اس کی تکا بوٹی کرنے میں ایک لمحہ بھی نہ لگایا۔ کیوں کہ وہ اپنے اس خیر خواہ کو ہمیشہ کھڑا دیکھنے کے عادی تھے۔ اس کی خیر خواہی اور اس کے کھڑا ہونے میں ان کے لیے ایک گہرا انسلاک اور ربط پیدا ہو چکا تھا۔ ان کا المیہ یہ تھا کہ وہ اس کے کھڑا رہنے کی صفت اور اس کی خیر خواہی کی صفت کو الگ الگ کر کے نہیں دیکھ سکتے تھے۔ اسی لیے وہ گرے ہوئے آدمی کو دوسرا (Other) سمجھے تھے اور اس اجنبی شخص کو کھانا اپنا فرض منصبی۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: