نجی تعلیمی اداروں کا نکتہ نظر —- محمد آصف

0
  • 18
    Shares

کچھ دن قبل ایک تحریر لکھی جس میں نجی تعلیمی اداروں میں خواتین اساتذہ کےساتھ ہونے والے معاشی استحصال کا زکر ہوا تھا کہ کس طرح یہ تعلیمی ادارے ہمارے معاشرے کے اس فعال کمیونٹی پر مختلف طریقے سے ظلم کرتے ہیں جن کا نہ تو کوئی پرسانِ حال ہے اور نہ ہی ان کے پاس کوئی ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں وہ اپنے پر ہونے والےاستحصال کو ریکارڈ کرواسکیں۔ ایک انتہائی معزز رفیق نے اس جانب توجہ دلائی کہ یہ تصویر کا ایک رُخ ہے۔ کوشش کی جائے کہ ان تعلیمی اداروں کا نکتہِ نظر بھی پیش کیا جائے کہ وہ خواتین اساتذہ کے ساتھ ایسا رویہ کیونکر روا رکھے ہوئے ہیں۔

اس سلسلے میں گجرانوالہ کے ایک نجی تعلیمی ادارے کے سربراہ سے جب استفسار کیاگیا تو مندرجہ زیل نکات سامنے آئے:

آپ شادی شُدہ سٹاف رکھنا کم پسند کرتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے؟
دیکھیے جو بھی خاتون ہمارے پاس آتی ہیں انکی کوشش ہوتی ہے کہ ہمارے ادارے سے تجربہ حاصل کریں اور کسی اور جگہ جا کر جاب کریں۔ ایسے میں ہمیں ان پر اپنی محنت اور کوشش کو سوچ سمجھ کر استعمال کرنا پڑتا ہے۔ اگر وہ شادی شدہ ہوں تو ہمیں یہ خیال رکھنا پڑتا ہے کہ وہ کسی بھی دن اچانک جاب چھوڑ کر جاسکتی ہیں ایسے میں ہمیں اپنی سیکیورٹی کےلیے کچھ اقدام کرنا پڑتے ہیں۔

ایک ایم اے پاس اور پیشہ ور خاتون استاد کی تنخواہ ایک دیہاڑی لگانے والے مزدور سے بھی کم کیوں ہے؟
اس پر جواب آیا کہ یہ ہمارا سر درد نہیں کہ مزدور کیا لیتا ہے اور کیا نہیں۔ ہم جو آفر کرتے ہیں وہی کرسکتے ہیں۔

جب ان سے کسی ایمرجنسی یا اچانک کسی بھی حادثے کی صورت میں خواتین کو چھٹی دینے یا ان کی تنخواہ کاٹنے کی بابت پوچھا گیا تو یہ وضاحت کی گئی کہ پہلی بات تو یہ ہے ہم کوئی خیراتی ادارہ نہیں ہیں۔ ہم تعلیم دےرہے ہیں اور اس کے بدلے معمولی سا منافع لے رہے ہیں۔ ہم اس سے زیادہ سہولیات نہیں دےسکتے۔ عام طور پر کوئی بھی ادارہ اپنے پاس کام کرنے والوں کو ہر ممکن سہولت مہیا کرتا ہے۔

مصنف

کیا کسی حادثے یا کوئی چوٹ لگنےکی صورت میں آپ کے ادارے میں کوئی ڈسپنسری موجود ہے؟
اس پر اُن کا جواب تھا کہ ہمارے پاس ایسی کوئی ڈسپنسری موجود نہیں ہم عام طور پر سٹاف کےگھر اطلاع دےدیتے ہیں اور وہ آکر ان کو لےجاتے ہیں۔ ۔۔۔اور اُس دن کی آپ تنخواہ بھی کاٹ لیتے ہی‍ں، میں نے لقمہ دیا۔

دیکھیے یہ ہمارا اصول ہے جس دن سٹاف نہیں پڑھائے گا اس دن کی تنخواہ نہیں ملےگی۔۔

اس ضمن میں راقم نے ایک بنیادی سوال کیا کہ کیا نجی تعلیمی ادارے مختلف کاموں کی مد میں جو کٹوتی کرتے ہیں جیسے کہ پانچ منٹ دیر سے آنے پر یا بیماری کی صورت میں اگر کوئی خاتون استاد فون کر کے انتظامیہ کو اطلاع دے تو اس صورت میں بعض اوقات پورے دن کی تنخواہ کاٹ لی جاتی ہے، اس پر وائس پرنسپل صاحب کا کہنا تھا کہ ہم اگر اس طرح نہ کریں تو سٹاف ہر دوسرے دن ایسے کرنے لگتا ہے۔

ایک نجی تعلیمی ادارے میں اگر کوئی خاتون سٹاف ہفتے یا سوموار کو اتوار کےساتھ ملا کر دو چھٹیاں کرلے تو دو دِن کی تنخواہ کاٹی جاتی ہے، جب اس اقدام کا جواز پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ سٹاف ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم ایسا کریں۔ میں نےعرض کیا کہ اگر کوئی حقیقی مجبوری کی صورت میں ایسا کرے تو؟ تب بھی جواب وہی ملا۔

اُن کا کہنا تھا کہ مہینےکے یہ چار چھُٹی کےدن وہ ہیں جن دنوں سٹاف بچوں کو نہیں پڑھاتا مگر ہم ان کو تنخواہ پھر بھی دیتے ہیں۔ جب یہ کہا گیا کہ اُن چار دنوں کے آپ بچوں سے تنخواہ کیوں لیتے ہیں تو جواب آیا کہ یہ انتظامیہ اور طالب علموں کے درمیان کا معاملہ ہے۔

اس وقت میں گوجرانوالہ سیٹلائٹ ٹاون جو کہ نجی تعلمی اداروں کا گڑھ ہے کہ ایک مہنگے سکول کے انتہائی دیدہ زیب سکول کے آفس میں چھ انچ کے قالین پر پڑی خوبصورت نقش ونگار سےمزین کرسیوں پر بیٹھا پرنسپل سے محوِ گفتگو ہوں۔۔

سوال۔ آپ کےسکول میں ایم اے ایم ایڈ یا بی اے بی ایڈ تجربہ کار استاد کی تنخواہ کیا ہے؟
یہ بتدریج اٹھارہ سے بارہ ہزار تک ہے۔
یہ تنخواہ اتنی کم کیوں ہے جبکہ آپ نے اپنے آفس پر ہی کم ازکم دس لاکھ سے زائد لگا رکھا ہے۔ آپ اس معاشی استحصال کا کیا جواز پیش کریں گے؟
جواب۔ مارکیٹ میں یہی تنخواہیں چل رہی ہیں۔ ہم سب میں سے باہر تو نہیں۔ جو سب دے رہے ہم بھی وہی دیں گے۔
مارکیٹ کا کہہ کر آپ یہ باور کروا رہے ہیں کہ آپ تعلیم کی آڑ میں محض پیسہ بنا رہے ہیں بچوں کا مستقبل کیا چیز ہے انکی تربیت کیا چیز ہے اس سےآپ کو کوئی غرض نہیں۔ میں نے استفسار کیا۔
آپ اسے کوئی بھی نام دیجیے مگر جو حقیقت ہے ہم نے گوش گزار کردیا۔

کیا وجہ ہے کہ آپ کے سکول میں اگر کوئی طالب علم کسی خاتون سٹاف کےساتھ بد تمیزی کرے تو اُسے یا اُن کے والدین کو یہ بات رپورٹ نہیں کی جاتی؟
دیکھیں ہم یہاں اُن بچوں سے پیسے لیتے ہیں انکی وجہ سے ہمارا کاوبار چل رہا ہے پہلے ہمارا فوکس اساتذہ تھے اب ہمارا فوکس بچے ہیں کیوں کہ انھی سے ہمارا سکول چلتا ہے انھی سے ہم سٹاف کو تنخواہ دیتے ہیں۔ آگے آپ خود بہتر جانتے ہیں کہ کس کا مقام کس جگہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے:  بچوں کی تعلیم و تربیت: سب اچھا نہیں (قسطِ 1) — ہمایوں مجاہد تارڑ

 

عام طور پر سٹاف کو ایک پیریڈ فری دیا جاتا ہے جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ تھوڑا آرام کر سکیں تو تازہ دم ہو کر بچوں کو پڑھا سکیں اب ایسا نہیں رہا اسکی کوئی خاص وجہ؟
فری پیریڈ میں سٹاف Gossips کرنے لگتا ہے غیرضروری گفتگو اور لابی Lobby کے امکانات پیدا ہونے لگتے ہیں۔ ایسے میں ہم نے ضروری سمجھاکہ ایک تو وہ کمرہ جہاں سٹاف فری پیریڈ میں بیٹھیں اسے ایڈمنسٹریشن کے کمرے کے قریب رکھا ہے تا کہ ہمہ وقت ہماری نگاہ رہے اور دوسرا اس دوران بھی ہم انھیں کوئی نہ کوئی کام دیتے رہتے ہیں جس سے ان میں سُستی نہیں آتی۔

ہمارا طے شُدہ وقت اب ختم ہوا۔ اجازت دیجیے۔ انھوں نے اےسی کی یخ بختہ ہوا سے ٹھنڈا ہاتھ گرمجوشی سے میری طرف بڑھایا اور میں نے وہ سرد ہاتھ پکڑ کر دبایا کہ ایسے کاروباری لوگ جو پوری دلجمعی اور لگن سے بزنس کریں کبھی ناکام نہیں ہوتے۔
میں اس تعلیمی مارکیٹ کے بزنس ٹائیکون کے آفس سے باہر نکل کر حیران و پریشان یہ سوچ رہا تھا کہ کون کہاں غلط ہے؟ اساتذہ جو اپنی پوری محنت کسی نسل کو تیار کرنے میں لگا رہے ہیں یا وہ کاروباری لوگ جو پوری محنت نوجوان نسل کو تیار کرنے میں لگا رہے ہیں۔ فیصلہ آپ کرلیجیے۔

جاتے جاتے اب گورنمنٹ اداروں کی بھی سُن لیجیے۔
(گوجرانوالہ کے ایک گورنمنٹ کالج میں گیارہویں کلاس میں داخلہ لیتے وقت دونوں سال کی فیس لےلی جاتی ہے مگر کل جب بارہویں کلاس کےلیے رول نمبر سلپ لینے کچھ بچیاں کالج آفس گئیں تو اُن سے کہاگیا کہ جب تک آپ بارہویں کلاس کےلیے الگ سے فیس جمع نہ کروائیں رول نمبر سلپ نہیں ملے گی)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: