پرائیویٹ اسکولز: خواتین اساتذہ کی حالت زار — محمد آصف

0
  • 96
    Shares

دانش نے چند ماہ قبل جناب شمس الحق نوازش صاحب کا ایک مضمون شائع کیا جس میں پاکستان کے پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی مخدوش حالتِ زار پر بات کی گئی۔ ایک ایسا موضوع جو اپنی گھمیر اور سنجیدہ نوعیت لیے فی زمانہ ہر گھر اور والدین کے لیے پریشانی کا باعث بن چکا ہے کہ ان کے پاس حقیقتِ حال کا علم ہونے کے باوجود نجی تعلیمی اداروں میں بچوں کو تعلیم دلوانے کے سِوا کوئی چارہ نہیں، ایسے میں یہ مافیا پوری طاقت کےساتھ اپنے زیرِ تحت کام کرنیوالے طبقے خصوصاٰ خواتین اساتذہ کا معاشی استحصال کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا۔ اس حوالے سے ہم نے اپنے زرائع سے مزید کچھ معلومات حاصل کیں اور کچھ حقیقی واقعات جمع کئے جو اس مظلوم طبقے کی آواز کو معاشرے تک پہنچانے کی ایک کوشش ہے۔

خیبر پختونخوا سے ایک خاتون استاد جو ایک ایسے ادارے میں پڑھاتی ہیں جو اپنے علاقے اور شہر میں “We create Toppers” کا ٹائٹل رکھتا ہے، اپنے سٹاف کے ساتھ کیسا رویہ رکھتا ہے اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا لیں کہ ایک خاتون استاد جس کا بچہ بیمار تھا اور اس کو ایمرجنسی میں ہسپتال لے کرجانے پر اور وقت پر سکول نہ آنے پر نوکری سے نکال دیاگیا۔ یہ ایک انتہائی قدم تھا، جس کی کوئی توجیہ نہیں کی جاسکتی تھی، مگر کیوں کہ یہ ادارے بھی ڈکٹیٹر شپ کے تحت بنے ہوتے ہیں اس لیے ایسی صورت میں نہ تو آپ کسی جگہ شکایت کرسکتے ہیں اور نہ کہیں آپ کی شنوائی ہوگی۔

گوجرانوالہ میں ایک پرائیویٹ سکول نے مری ٹرپ پر نہ جانے کی صورت میں فی دن کے حساب سے ایک خاتون ٹیچر سے 3000 روپے کاٹ لیے۔ حالانکہ مری جانے نہ جانے کا فیصلہ سٹاف پر تھا۔ مگر پرنسپل کاحکم تھا اس لیے نہ تو کہیں شنوائی ہوسکتی تھی اور نہ انکار کی جرات۔ یہی ٹیچر پچھلے ماہ سکول میں سیڑھیوں سےگر کر شدید زخمی ہوگئی، حتی کہ کھڑا ہونا مشکل ہوگیا مگر انتظامیہ کی طرف سے ایک حرفِ تسلی نہ کہا گیا۔ جب اس ٹیچر نے درخواست کی کہ وہ آج پڑھا نہیں سکےگی اس کو گھر جانے کی اجازت دی جائے تو بجائے کہ اسے میڈیکل لیو دی جاتی، اُس سارے دن کی تنخواہ کاٹ لی گئی۔ ایسے اداروں میں ایک محض نام کی ڈسپنسری بھی رکھی جاتی ہے۔ مگر ایک ٹیچر کا کہنا تھا کہ جس دن سے اسے معلوم ہوا کہ یہاں کئی دوائیاں اپنی معینہ مدت پوری کرچکی ہیں، وہ کسی بھی صورت میں اندر سے دوا نہیں لیتیں۔

مس صدف ناز ایک نامور نجی سکول میں ڈبل انگلش ماسٹرز کے ساتھ بچوں کو پڑھاتی ہیں۔ مگر ان کی تنخواہ ایک ان پڑھ مزدور سے بھی کم ہے۔ یادرہے کہ ایک مزدور کی دیہاڑی کم از کم سات سے آٹھ سو روزانہ ہے جو کہ مہینے کی چوبیس ہزار بنتی ہے۔ جبکہ اس استاد کو اٹھارہ ہزار ملتا ہے۔ اور اس کے بدلے یوں خون نچوڑا جاتا ہے کہ اس ٹیچر کو ہر روز اضافی کام گھر پر لےکرجانا پڑتا ہے۔ اور جو فری پیریڈ ہو اس میں کبھی ان کو آرام اور وفقہ نہیں دیا گیا بلکہ اس بات کا خاص خیال رکھا گیا کہ جیسے ہی اس ٹیچر کو کوئی فری پیریڈ ملے اسے کسی نہ کسی کام میں لگا دیا جائے۔ انھی کا کہنا تھا کہ پچھلے سکول میں انھوں نے ایک دن اپنی بیٹی کی تعلیمی سرگرمی دیکھنے کے لیے سکول وزٹ کیا اور یہ دیکھ کر حیران رہ گئیں کہ تین منزلہ سکول میں محض ایک فلور پر ایک گندہ اور ناقص سا پانی کا کولر رکھا گیا ہوا تھا۔ جس کے ساتھ لگے گلاس کو دیکھ کر بچے تو پانی پی لیں مگر کوئی سیانا شاید ہی اسے ہاتھ لگاتا۔

یہ ادارے کہنے کو تو اخلاقی درس کا بہت چرچا کرتے ہیں مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ استاد کسی بچے کو سرزنش نہیں کرسکتی۔ اور اگر بچہ کسی دولت مند رئیس کا نکل آئے تواس کے لیے یہ مثال کافی ہے کہ ایسی ہی ایک صورت میں بچے نے اپنے گھر شکائت کی کہ اسے اس کی ٹیچر نے غصے سے ٹریٹ کیا ہے۔ اگلے دن پرنسپل کو اس رئیس کی کال آجاتی ہے اور وہی دن اس خاتون ٹیچر کے لیے اس اسکول میں آخری دن ثابت ہوتا ہے۔ اسی سے ملتے جلتے ایک اور واقعے میں راقم کو ایک خاتون ٹیچر نے بتایا کہ بعض اوقات بچے کے سامنے ہی ہمیں بےعزت کردیا جاتا ہے۔ یہاں میٹرنٹی لیو کا کوئی تصور نہیں، حتی کہ گرمیوں کی چھٹیوں میں جو بچوں سے فیس تو پوری لی جاتی ہے مگر اس میں سے اساتذہ کا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔

ایک اسکول کے پرنسپل کسی بھی لڑکی کو جاب دینے سے پہلے کچھ شرائط رکھتے ہیں۔ وہ کنواری ہو، کسی جگہ منگنی نہ ہوئی ہو اور مستقبل قریب میں جلدی شادی ہونے کے امکانات معدوم ہوں۔

ان اداروں کا مقصد چونکہ پیسے بنانا ہوتا ہے اس لیے انکے اساتذہ کو کہاجاتا ہے کہ بورڈز کے امتحانات میں جتنا رٹا لگایا جاسکے لگایا جائے۔ اور یہ رٹا ساتویں کلاس سے شروع ہو جاتا ہے کیوں کہ اس کے بعد بس بورڈز کے امتحانات ہوتے ہیں جن میں اوپر کی پوزیشنز لینے کے لیے ہرجائز ناجائز حربہ اختیار کیا جاتا ہے۔ اور ان حربوں کا استعمال اساتذہ کے ہاتھوں سرانجام پاتا ہے۔ اس کے لیے استانیوں کو برائے نام اضافی فیس دی جاتی ہے مگر اس طرح کہ ان کو سکول ٹائم کے بعد بھی شام پانچ سے چھے بجے تک الگ سے کلاسیں لینی پڑتی ہیں۔ ۔ یہ بورڈز سے معاملات طے کرتے ہیں، ان کو گاڑیاں اور مہنگے تحفے عنائت کرتے ہیں اور بدلے میں ایک یا دو بچوں کے نام کی تختی اپنے سکول کے باہر امتیازی پوزیشن کے نام کی لگوا کر باقی سب سے مہنگی فیسز بٹورتے ہیں۔ یہ ادارے آپ کی مالی حیثیت کو دیکھ کر آپ کے بچے کو نمبر دیتے ہیں۔ آپ جتنا گُڑ ڈالتےجائیں اتنا میٹھا کرواتےجائیں۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ ایک پیسے والےشخص کا بچہ اچھے نمبر نہ لے سکے۔

ان اداروں میں پی جی، کےجی اور 123 کےحساب سے ایک ایک کلاس میں بیس سے زائد بچوں کے ساتھ تین تین سیکشن ہوتے ہیں۔ یعنی ایک کلاس میں ساٹھ بچے۔ عام درجے کے سکول میں ایک بچے کی فیس 3000 سے کم نہیں۔ یعنی صرف ایک کلاس آپ کو ہر ماہ کا ڈیڑھ لاکھ روپیہ دے رہی ہے۔ اور خیال رہے کہ ایسے پانچ قسم کے درجے رکھے جاتے ہیں۔ جن میں 123 کے بعد فیس تو بڑھ جاتی ہے مگر ان کو پڑھانے والوں کی تنخواہ نہیں بڑھتی۔ ایسے نچی تعلیمی ادارے بھی ہیں جو ایک ماہ کی فیس تیس ہزار تک بھی لیتے ہیں اور صرف پہلی تین کلاسز کی بنیاد پر ماہانہ بیس سے پچیس لاکھ نکال لیتے ہیں مگر وہاں کے سٹاف کی حالت ہمیشہ مخدوش ہی رہتی ہے۔ یہ سیکیورٹی کے نام پر سٹاف سے ہر ماہ پیسے کاٹتے رہتے ہیں، مگر واپسی کا کوئی سسٹم نہیں ہوتا۔ اسلام آباد سے ایک عام پاکستانی سے استفسار کرنے پر معلوم ہوا کہ ساتویں اور آٹھویں کے لیے اس کو دس ہزار سے زیادہ فیس دینی پڑتی ہے۔ جب اس ظلم اور اجارہ داری کےخلاف قدم اٹھانے کی کوشش کی تو بچے کا ایک سال ضائع کروا کر پھر دوبارہ سکول میں داخل کروانا پڑا۔

پنجاب کے دارالخلافہ جس کے سکول کا نام بھی اسی شہرکےنام پر رکھا گیا ہے اور جو اپنے لیول اور سٹینڈر کی بنیاد پر فخر کرتا ہے، آپ خواب میں بھی مت سوچیں کہ وہاں کسی غریب کا بچہ چاہے وہ کتنا ہی زہین کیوں نہ ہو پڑھ سکے، ہاں وہ کتنا ہی غبی اور کند زہن ہو مگر ماہانہ تیس سے چالیس ہزار فیس ادا کر سکے تو یہ ممکن نہیں کہ اسے وہاں داخلہ نہ ملے۔ اس سکول میں پڑھانے والی خواتین کی ماہانہ تنخواہ بھی ایک دیہاڑی دار مزدور سے زیادہ نہیں۔ یہ ادارے بونس کے نام پر ہزاربارہ سو روپے ہر استاد کو دیتے رہتے ہیں کہ زبان اور کان بند رہیں، مگر اس کے بدلے یہ خواتین اساتذہ کا جتنا ہوسکے معاشی استحصال کرتے ہیں۔ کہنے کو یہ نجی ادارہ بہت سہولیات دیتا ہے اور اسی کو بنیاد بنا کروہ بچوں سے ماہانہ بیس سے پچیس ہزار فیس وصول کرتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ اگر اتنی مہنگی فیس نہ بھی رکھی گئی ہو تو کیا پھر بھی سہولیات فراہم کرنا ان تعلیمی اداروں کی زمہ داری نہیں؟

یہ بھی ضرور ملاحظہ کیجئے: بچوں کی تعلیم کا جبر: آزادی کا ایک ماڈل — ہمایوں مجاہد

 

خیبر پختونخواہ کے ایک مشہور انگریزی سکول جس کی کئی برانچز بھی ہیں، کے پرنسپل کسی بھی لڑکی کو جاب دینے سے پہلے کچھ شرائط رکھتے ہیں۔ وہ کنواری ہو، کسی جگہ منگنی نہ ہوئی ہو اور مستقبل قریب میں جلدی شادی ہونے کے امکانات معدوم ہوں۔ چلیں یہاں تک تو درست ہے مگر میری ایک دوست ٹیچر نے یہ کہہ کرحیران کردیا کہ وہ کسی بھی ٹیچر کو پہلے ایک سے دوہ ہفتے اپنے زاتی دفتر میں رکھتے ہیں اسے پرکھتے ہیں چھان پھٹک کرتےہیں اگر تو وہ اس مرحلے سے بخوبی گزرجائے تو جاب پکی ورنہ وہیں سے فارغ کر دیا جاتا ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ جب اُسے یہ معلوم ہوا اس نے وہاں جاب کی حامی ہی نہیں بھری۔

یہ چند مثالیں ہیں جو پورے پاکستان میں پھیلے ہوئے ان تعلیمی اداروں کو جو ایک مکمل کاروباری مافیا کی شکل دھار چکے ہیں، کا منظر پیش کرتی ہیں۔ جہاں کام کرنے والی خواتین کا معاشی استحصال پوری شدت اور ڈھٹائی سےجاری ہے۔ ان خواتین اساتذہ کو نہ تو کوئی سُننے والا ہے اور نہ ہی ان کی تکلیف اور پریشانی کا کوئی مداوہ کرنے والا۔

استاد کا پیشہ جتنا عزت اور احترام کا مستحق ہے یہ نجی تعلیمی ادارے اپنی اپنی بساط کے مطابق اُتنا ہی ان طبقے پر ظُلم اور ناانصافی کی تلوار لٹکائے رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: