پاکستانی سیکولرازم: مغالطوں کا پہاڑ — احمد الیاس

0
  • 76
    Shares

پاکستان کے فکری حلقوں میں بحث کے چند انتہائی الجھے ہوئے موضوعات میں سے ایک ‘سیکولر ازم’ بھی ہے۔ کم علمی اور گوناگوں تعصبات کے سبب مغالطوں اور غلط فہمیوں کا ایک کوہ ہمالیہ کھڑا کردیا گیا ہے۔ اور ستم ظریفی یہ ہے کہ اس حوالے سے مختلف مغالطے، مغالطہ دور کرنے کے نام پر پھیلائے جاتے ہیں۔

سیکولرازم کی حمایت کرنے والے طبقات میں بھی اس کی تعریف اور مفہوم کے حوالے سے اتفاق نہیں پایا جاتا۔ ایک طبقہ تو وہ ہے جو ذاتی طور پر بھی نہ صرف مذہب سے منکر ہو چکا ہے بلکہ اس حوالے سے قدرے جارحانہ اور معاندانہ رویہ رکھتا ہے۔ اس طبقے کے نزدیک مذہب سماج کا ایسا کینسر ہے جس کے خاتمے کے لیے شخصی آزادی سے لے کر اخلاقی معیارات، ہر شئے کی قربانی دی جاسکتی ہے۔ اس انتہائی اقلیتی طبقے سے سماج کے مرکزی دھارے کے اختلافات اس قدر وسیع ہیں کہ انہیں پُر کرنے کی کوشش کرنا بھی شاید وقت کا ضیاع ہے۔ ایسے لوگوں کی ایک الگ فکری دنیا ہے لہذا انہیں اس بحث سے خارج تصور کیا جائے۔

سیکولر ازم کا نام لیوا دوسرا طبقہ وہ ہے جس میں مذہب سے قدرے بیزار مگر رویے کے اعتبار سے معتدل اور معقول لوگ بھی ہیں نیز نجی زندگی میں مذہب کی پابندی کرنے والے افراد بھی۔ اس طبقے کا خیال ہے کہ فرد کو ذاتی زندگی میں مذہب کی پیروی کی آزادی ہونی چاہیے مگر اجتماعی معاملات بالخصوص سیاست و ریاست کے معاملات سے مذہب کو دور رکھنا چاہیے۔ اس کی دلیل یہ طبقہ کچھ یوں دیتا ہے کہ اس طرح مذہبی آزادی فروغ پائے گی اور تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو برابر حقوق میسر آسکیں گے۔ ان ہی مقاصد کے حصول کو اس طبقے کی طرف سے سیکولرازم کا نام دیا جاتا ہے۔

اس بات سے کچھ دیر کے لیے قطع نظر کہ مذہب کو اجتماعی معاملات میں دخل انداز ہونے کا حق ہونا چاہیے یا نہیں، ہم اس دعوے کا جائزہ لیں گے کہ مذہبی آزادی اور تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے برابر حقوق سیکولرازم کے مفہوم میں شامل ہیں۔ نیز اس بات کا جواب ڈھونڈیں گے کہ کیا اجتماعی زندگی کی کسی نہ کسی سطح پر مذہب سے جدائی آزادی و برابری کی لازمی ضمانت ہے یا نہیں؟

اس حوالے سے ہم دو پیمانوں پر اس دعوے کو جانچ سکتے ہیں۔ پہلا علمی اور دوسرا عملی۔

علمی سطح پر ہم سیکولرازم کی مختلف تعریفوں کا جائزہ لے کر دیکھیں گے کہ کیا مذہبی آزادی اور برابر حقوق کی ضمانت سیکولرازم کی تعریف میں شامل ہے؟

اوکسفورڈ ڈکشنری کے مطابق:-

“The principle of separation of the state from religious institutions.”

“ریاست کی مذہبی اداروں سے علیحدگی کا اصول سیکولرازم ہے۔”

مریم ویبسٹر ڈکشنری کے مطابق:-

“indifference to or rejection or exclusion of religion and religious considerations”

“مذہب اور مذہبی تفکرات سے بیزار ہونا، انہیں مسترد کرنا یا علیحدہ کردینا سیکولرازم ہے”

اس موضوع پر ایک مستند کتاب کے مطابق:-

“Secularism is the principle of the separation of government institutions and persons mandated to represent the state from religious institution and religious dignitaries. — manifestation of secularism is the view that public activities and decisions, especially political ones, should be uninfluenced by religious beliefs or practices.”(1)

“سیکولرازم حکومتی اداروں اور ریاست کے نمائندہ افراد کی مذہبی اداروں اور مندوبین سے علیحدگی کا اصول ہے — سیکولرازم کی تجسیم یہ خیال ہے کہ عوامی سرگرمیوں اور فیصلوں، بالخصوص سیاسی سرگرمیوں اور فیصلوں کو مذہبی عقائد اور اعمال سے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔”

سیاسیات کی ایک کتاب کے مطابق:-

“In political terms, secularism is a movement towards the separation of religion and government. This can refer to reducing ties between a government and a state religion or replacing laws based on scripture (such as Halakha, Dominionism, and Sharia law) with civil laws.”(2)

“سیاسی معنوں میں سیکولرازم ایک تحریک ہے مذہب اور حکومت کی جدائی کی طرف۔ اس سے مراد حکومت اور ریاستی مذہب کے درمیان تعلقات کم کرنا یا مذہبی بنیادیں رکھنے والے قوانین کو شہری قوانین سے بدلنا ہوسکتا ہے۔”

گویا سیکولرازم کی معیاری تعریفوں میں مذہبی آزادی یا مذہبی بنیادوں پر شہریوں کے درمیان امتیاز کے خاتمے کو کہیں بھی شامل نہیں کیا گیا۔ ہر جگہہ صرف مذہب اور مذہبی اداروں کی سیاسی زندگی، ریاستی امور سے جدائی کی بات ہوئی ہے اور مریم ویبسٹر جیسی مستند ڈکشنری نے تو اسے صاف الفاظ میں مذہب بیزاری کا نام دے دیا ہے۔ یہاں پر یہ دعویٰ تو غلط ثابت ہوجاتا ہے کہ مذہبی آزادی اور مساوات سیکولرازم کی لازمی شرط ہے۔ (یہ بھی یاد رہے کہ مذہبی اداروں سے مراد کلیسا ہے اور اسلام میں کوئی کلیسا نہیں ہے لہزا یہ بات ہمارے لیے کافی بے معنی ہوجاتی ہے)

یہ بھی ملاحظہ کریں: سیکولرازم اور سیکولرائزیشن : اطہر وقار عظیم

 

اب آتے ہیں اس دعوے کی طرف کہ اگر آزادی و مساوات سیکولرازم کی شرط نہیں تو اس کا منطقی نتیجہ ضرور ہیں۔ کئی سیکولرسٹ دوستوں کا کہنا ہے کہ اگر اجتمائی زندگی بالخصوص ریاست کو مذہب سے الگ کردیا جائے اور معاشرتی اور ریاستی امور میں مذہب سے رہنمائی نہ لی جائے تو ہی مذہبی آزادی اور برابری یقینی بنائی جاسکتی ہے۔ (ایسے کئی دوستوں کا یہ بھی دعویٰ ہوتا ہے کہ وہ مذہب بیزار نہیں۔ مگر ان کی اس دلیل کی منطقی بنیاد یہی خیال ہوتا ہے کہ مذہب برابری اور آزادی کا دشمن ہے لہذا اسے حکومت سے الگ کردینا چاہیے۔ مذہب کے بارے ایسا منفی خیال مذہبی مذہب بیزاری نہیں تو اور کیا ہے؟)

تو کیا سیکولرازم اپنے نتائج کے اعتباد سے مذہبی آزادی اور تمام مذہبی برادریوں کی مساوات کی لازمی ضمانت فراہم کرتی ہے؟ اس کا پیمانہ وہ ریاستیں ہیں جہاں سیکولرازم اپنائی گئی، یعنی جہاں مذہب اور ریاست جو الگ کیا گیا۔

انقلابِ فرانس، سیاسی سیکولرازم کی باقاعدہ پیدائش

جدید دور کی پہلی قابلِ ذکر اور مکمل سیکولر ریاست انقلابِ 1789 کے بعد کا فرانس تھی۔ یہ وہ ریاست تھی جہاں بہت سے مذہبی افراد کے گلے صرف اس وجہ سے بے دردی کے ساتھ کاٹ دیے گئے کہ وہ مذہبی تھے۔ ایسا کیتھولک اکثریت اور پروٹیسٹنٹ اقلیت، دونوں کے ساتھ ہوا۔ فرانس کا یہی سیکولر ورثہ ہے جس کے سبب آج بھی یہ کلاسیکی اور مثالی سیکولر ریاست صلیب پہننے والے مسیحی، نقاب پہننے والی مسلمان اور تربان پہننے والے سکھ کی مذہبی آزادی پر برابری سے پابندیاں لگاتی ہے۔ گویا مذہبی آزادی تو سیکولرازم کی جنم بھومی میں بھی قدرے ناپید ہے۔

سیکولرازم کی سب سے بڑی علم بردار گزشتہ ڈیڑھ سو سال سے اشتراکی تحریکیں رہی ہیں۔ ان تحریکوں کی ریاستیں خالص ترین سیکولر تھیں۔ یہاں مذہبی آزادی کی کیا صورتحال تھی؟ سوویت یونین میں گرجوں اور مساجد کو مسمار کیا گیا، نماز روزے اور سنڈے کی چرچ سروس تک پر پابندی لگائی گئی، الحاد کی ریاستی سطح پر ترویج کی گئی اور لاکھوں مذہبی افراد کو لینن اور سٹالن کے دور میں صرف مذہبی ہونے کی پاداش میں قتل کردیا گیا۔ یہی سب چین اور شمالی کوریا وغیرہ میں ہورہا ہے۔ ان ممالک کے سیکولر ہونے بارے دو رائے نہیں ہوسکتیں۔ مگر یہ مذہبی طور پر غیر جانبدار بھی نہ تھیں۔ الحاد اگرچہ نفیِ خدا کا نام ہے مگر اپنے آپ میں ایک مذہبی سوال (وجودِ خدا) کا جواب ہونے کے سبب ایک مذہبی عقیدہ ہے۔ ان ممالک میں ریاست کھلے عام الحاد کے حق میں جانبدار رہی۔

عالم اسلام میں سیکولر ازم کا چہرہ مصطفیٰ کمال اتاترک، محمد رضا شاہ پہلوی، جمال عبدالناصر اور صدام حسین ہیں۔ ان آمروں کے سیکولرسٹ ہونے کے حوالے سے بھی اتفاق پایا جاتا ہے۔ اسلامی تمدن کی جانب معبوث ہونے والے ان پیغمبرانِ سیکولرازم کی حکومتوں کی نوعیت یہ تھی کہ آج بھی مشرق وسطیٰ کا کوئی مسلمان جب سیکولرازم کا نام سنتا ہے تو اس کے ذہن میں علی شریعتی کی زہر آلود لاش آتی ہے، ترکی میں حجاب پر جبری پابندی اور لازمی ہیٹ آتا ہے، مصر میں اخوان المسلمین کی سیاسی آزادی کو صلب کیا جانا اور منتخب مرسی حکومت کا گرادیا جانا آتا ہے، عراق میں باقر الصدر شہید کی آنکھوں کے سامنے ان کی بوڑھی بہن پر تشدد نیز شیعہ مسلمانوں پر ظلم و ستم آتا ہے۔ یہ سب کچھ عالمِ اسلام میں سیکولر ازم کے نام پر ہوا۔ آپ جواب میں سعودی عرب، ضیاء الحق، طالبان اور داعش وغیرہ کا حوالہ دے سکتے ہیں مگر یاد رکھیں کہ یہ بنیاد پرست حکومتیں تھیں اور بنیاد پرستی اسلام میں ایک جدید اور انتہائی اقلیتی مکتب فکر ہے جو مغربی فکری اثرات اور ردعمل میں پیدا ہوا ہے۔ جامعہ الازہر سے حوضہ علمیہ نجف، مراکش کے زاویوں سے ترکی کی خانقاہوں تک، روایتی اسلام کے تمام مراکز اس قسم کے طرز حکومت کو مسترد کرتے ہیں اور خارج از اسلام قرار دیتے ہیں۔ کیا روایتی سیکولرازم کے مراکز یعنی مغربی جامعات اور حکومتوں نے بھی اتاترکوں اور محمد رضا شاہوں کو غیر سیکولر کہہ کر مسترد کیا؟ نہیں۔

عالم اسلام میں ینگ ٹرک موومنٹ پہلی سیکولر تحریک تھی۔ اس انتہائی سیکولر جماعت کی طرف سے پہلی جنگ عظیم کے دوران نسل پرستانہ بنیاد پر آرمینیائی مسیحیوں کی بدترین نسل کشی کی گئی۔ پوری اسلامی تاریخ میں امیر تیمور کے سوا اتنے بڑے پیمانے پر قتل عام کسی کلمہ گو نے نہیں کیا۔ گویا مسلم دنیا میں تو سیکولرازم کی بسم اللہ ہی ایک مذہبی اقلیت کے خلاف امتیازی بربریت سے ہوئی۔ ایسے میں سیکولرازم کے نام لیواؤں کی جانب سے اقلیتوں کے حقوق کا نعرہ کیا حیثئیت رکھتا ہے؟

گویا سیکولرازم کا عملی طور پر مذہبی آزادی اور مساوات سے کوئی تعلق نہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کچھ مغربی ممالک میں جو سیکولر کہلاتے ہیں، مذہبی آزادی کیسے ہے اور کیوں ہے؟

اس سوال کا جواب ایک اور مغالطے کو حل کرنے میں ہے۔ وہ ہے لبرل اور سیکولر کا فرق جو ہمارے ہاں اکثر بالکل نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ شخصی آزادی بشمول مذہبی آزادی لبرل ہونے کا مفہوم ہے، نہ صرف اپنے لیے بلکہ سب کے لیے۔ لبرل ہونا ایک نظریے سے زیادہ ایک رویہ ہے جسے کسی بھی نظریے کا شخص یا جماعت اختیار کرسکتے ہیں اور کسی بھی نظریے کے لوگ اس سے انحراف کر سکتے ہیں۔ ایک لبرل مذہبی حکومت یا جماعت بھی ہوسکتی ہے اور ایک غیر لبرل یا اتھاریٹیرین سیکولر نظام بھی تشکیل پاسکتا ہے جس کی متعدد مثالیں پیش کی جاچکیں ہیں۔ جدید مغرب کا نظام لبرل سیکولر نظام ہے. وہاں موجود مذہبی آزادیاں ان کے لبرل رویے کی وجہ سے ہیں ناکہ سیکولر نظریے کی وجہ سے۔ ماضی میں ہٹلر کا جرمنی یا میسولینی کا اٹلی بھی سیکولر تھا، مگر لبرل نہیں۔ لہذا ہمیں وہاں بڑے پیمانے پر امتیازات دیکھنے کو ملے۔ ابھی بھی لبرل اصول پر جیسا زور برطانیہ و امریکہ نید جدید جرمنی میں دیا جاتا ہے ویسا فرانس میں نہیں، فرانس میں نیشنلزم اور سیکولرازم جیسے نظریات کئی مرتبہ سبقت لے جاتے ہیں، لہذا ہمیں مذہبی آزادیوں پر پابندیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔

مزید یہ کہ جرمنی، برطانیہ اور امریکہ جیسے لبرل ممالک کے ریاستی ڈھانچے میں جو سیکولر عنصر پایا جاتا ہے وہ صرف ان کے معاشرے اور افراد میں موجود سیکولر رویے کا عکس ہے۔ معاشرہ افراد سے بنتا ہے۔ گویا افراد کے غیر مذہبی ہونے کا اثر ہی ایک سیکولر لبرل معاشرے میں ریاست تک پہنچتا ہے۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ ایک لبرل جمہوریت میں افراد مذہبی ہوں مگر ریاست سیکولر ہوجائے۔ ایسی ریاست جو اپنے افراد کا عکس نہ ہو، لبرل ہو ہی نہیں سکتی۔ اس حوالے سے بھی ان لوگوں کا بیانیہ بالکل کھوکھلا نظر آتا ہے جو کہتے ہیں کہ سیکولرازم کا مفہوم لادینیت نہیں۔

یہ بھی جان لینا چاہیے کہ جرمنی، امریکہ اور برطانیہ جیسے مثالی لبرل معاشرے اتنے سیکولر نہیں جتنا ہم سمجھتے ہیں۔ جرمنی میں انیسویں صدی کی سیکولر فکری تحریکوں (ڈارون ازم، مارکس ازم، نطشے ازم) کے نتیجے میں جو مادہ پرستی پیدا ہوئی اس نے فاشزم اور کمیونزم جیسی متضاد نظر آنے والی (مگر اصول کے اعتبار سے یکساں) وحشتوں کو جنم دیا۔ اس کا حل مغربی جرمنی نے ‘کرسچن ڈیموکریسی’ کی شکل میں نکالا۔ کرسچن ڈیموکریٹک یونین دوسری جنگ عظیم کے بعد سے جرمنی پر زیادہ تر عرصہ حکمران رہی ہے۔ اس جماعت کا نظریہ اور منشور مسیحی تعلیمات سے متاثر ہے۔ کرسچن ڈیموکرسی صرف جرمنی نہیں، یورپ اور لاطینی امریکہ کے کئی دیگر ممالک کی بھی اہم سیاسی قوت ہے جس نے مذہبی آزادی کے فروغ اور مذہبی امتیازات کے خاتمے میں سب سے اہم حصہ لیا ہے۔

برطانیہ میں تو آج بھی چرچ آف انگلینڈ سٹیٹ چرچ ہے، ملکہ برطانیہ ایک سیاسی رہنماء ہی نہیں مذہبی شخصیت بھی ہیں۔ ایوان بالا میں روحانی لارڈز یعنی مذہبی رہنماؤں کو آئینی طور پر مستقل نشستیں حاصل ہیں۔ امریکہ میں بھی لیفٹ اور رائٹ، دونوں دھڑوں میں مذہب کے اثرات اور مذہبی دھڑے پائے جاتے ہیں۔ یہ وہ ملک ہے جس نے ساٹھ کی دہائی میں نسلی امتیازات کا خاتمہ ہی ایک مذہبی جڑیں رکھنے والی تحریک سے کیا جس کے قائدین مارٹن لوتھر کنگ جونئیر اور میلکم ایکس مذہبی رہنماء تھے۔

سوال یہ ہے کہ ہمارے ہاں ریاست کو اپنا سرکاری مذہب اسلام ڈیکلئیر کرنے اور خود کو مذہبی امور کا ذمہ دار قرار دینے کی کیا حاجت ہے؟ اس کی ایک وجہ تو یقیناً یہ اصول ہے کہ ایک آزاد جمہوری معاشرے میں ریاست اپنے لوگوں کے رجحانات اور امنگوں کی ترجمان ہونی چاہیے اور ان میں مذہبی امنگیں بھی شامل ہیں۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ ایک دل چسپ سوال بھی ہے جو ہمارے ہاں سیکولرازم کے نام لیواؤں سے کیا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سیکولرازم: چند بنیادی غلط فہمیاں — انوار احمد

 

آپ کے نزدیک مذہبی امور مکمل طور پر پرائیوٹ معاملہ ہونے چاہییں اور افراد کو مذہب پر پرائیوٹلی عمل کرنے کی آزادی حاصل ہونی چاہیے۔ مسلح جہاد اسلام کی اہم ترین عبادات میں سے ہے۔ تو کیا آپ لشکر طیبہ، جیشِ محمد، تحریک طالبان جیسی دہشت گرد تنظیموں کے پرائیوٹ جہاد کے حق کو بھی تسلیم کریں گے کیونکہ ایسا کر کہ وہ اپنی مذہبی آزادی کا استعمال کررہے ہیں؟ یہ مسلم معاشروں میں لبرل سیکولرازم کا سب سے بڑا تضاد ہے۔ اس کا حل صرف یہ ہے کہ ریاست کچھ مذہبی معاملات بشمول جہاد کو اپی ذمہ داری قرار دے۔ مگر ایسا کرنے پر وہ سیکولر نہیں رہے گی۔

دراصل سیکولرازم کوئی عالمی اصول نہیں بلکہ مغربی معاشرے میں وہاں کے حقائق اور ضروریات کے مطابق پیدا ہونے والا ایک نظریہ ہے۔ مسیحیت میں اسلام اور یہودیت کی طرح کوئی شریعت موجود نہیں۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے شریعتِ موسوی ہی کی پیروی کی تعلیم دی تھی مگر جب مسیحیوں نے یہودیوں سے الگ ہوکر ایک مذہب کی شکل اختیار کی تو شریعتِ موسوی کو بھی ترک کردیا۔ یوں دنیاداری سے متعلق تمام امور کلیسا کے اختیار میں آگئے۔ گویا کلیسا کی صوابدید ہی مسیحیت کی شریعت قرار پائی۔ مغرب میں سیکولرازم اس کلیسا سے ریاست کی بغاوت تھی ناکہ انجیل سے۔ مگر اسلام اور یہودیت میں باقاعدہ شریعت مذہبی صحائف میں موجود ہے۔ یہاں سیکولرازم کا مطلب کسی کلیسا سے نہیں، براہ راست قرآن یا تلمود سے بغاوت ہے۔ لہذا اسرائیل اور عالمِ اسلام میں سیکولر تحریک افراد کو لادین بنائے بغیر، صرف ریاستی سطح پر کامیاب ہونے کا کوئی امکان موجود ہی نہیں۔ آمریتوں میں زور و زبردستی سے ایسا کیا جاسکتا ہے مگر آزاد جمہوری معاشروں میں قطعاً نہیں۔


یہ بھی ملاحظہ کریں: اسلام اور سیکولر تکثیریت: چند غور طلب پہلو — اطہر وقار عظیم

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: