روزہ خوروں کی اقسام —– محمد عثمان جامعی

0
  • 80
    Shares

ماہ رمضان میں امت مسلمہ ”مزید“ دو گروہوں میں بٹ جاتی ہے، یعنی روزہ دار اور روزہ خور۔ اب جس طرح مادّہ تقسیم در تقسیم ہوتا چلا جاتا ہے اور ایٹم کو جتنا توڑے جاو یہ ٹوٹتا چلا جائے گا، اسی طرح امت مسلمہ کا کوئی بھی گروہ ذراسی کوشش سے یوں ٹوٹ سکتا ہے کہ پھر شمار کرتے رہیے دانہ دانہ، نہ گننے میں آتا ہے نہ جُڑ پاتا ہے۔ لہٰذا روزہ خور مسلمانوں کے بھی کئی گروہ ہیں۔ مثلاً ڈھیٹ روزہ خور، حیادار روزہ خور، بناوٹی روزہ دار اور حیلہ ساز روزہ خور۔

ڈھیٹ روزہ خوروں کے نزدیک روزہ داروں کے سامنے کھانے پینے سے احتراز انسانی حقوق سے انحراف قرار پاتا ہے۔ یہ گروہ روزہ داروں کے سامنے بے تکلفانہ انداز میں کھانا تناول فرمانے کے بعد زوردار ڈکار لینے کو آزادی اظہار کے آئینی حق کا استعمال خیال کرتا ہے۔ جب تک پولیس کے ہاتھوں احترام رمضان کے قانون کے تحت پکڑے جانے کا خطرہ ہو ان روزہ خوروں کے منہہ اور معدے ساکت رہتے ہیں، مگر جوں ہی کوئی محفوظ پناہ گاہ میسر آئی خوراک کا انتظام اور کھانے کا اہتمام اس طرح ہوتا ہے کہ نیک سیرت، شریف الطبع اور کم زور نفس روزہ دار اشتہا انگیز خوش بووں سے گھبرا کر کہیں اور چلے جاتے ہیں۔ ان روزہ خوروں کی ایک انتہا پسند قسم ”روزہ دار خور“  ہے۔ ان حضرات کا نظریہ ہے کہ ”روزے سارے چھوڑو، روزہ دار ایک نہ چھوڑو۔“ روزہ دار کے سامنے کھانے پینے کو یہ حضرات فرض عین سمجھتے ہیں۔ اور اگر ایسے میں کوئی قسمت کا مارا انھیں ٹوک دے تو اس کے وہ لتّے لیتے ہیں کہ غصے کے باعث اسے اپنی اخلاقیات کا روزہ بچانا مشکل ہوجاتا ہے۔

حیادار روزہ خور ڈھیٹ گروہ کے بالکل برعکس ہوتے ہیں۔ یہ بے چارے گذشتہ روز کی بچی کھچی افطاری اور باسی کھانا سات پردوں میں چھپ کر کھاتے ہیں اور ایسے میں کسی کی نظر پڑ جائے تو شرم سے پانی پانی ہوجاتے ہیں۔ ہمارے یہاں جو سوال لازماً پوچھے جاتے ہیں ان میں روزے کے بارے میں استفسار بھی ہے۔ جب کوئی روزہ دار تقویٰ کی شان اور پرہیزگاری کے فخر کے ساتھ قبل از افطار خالی یا بعد از افطار بھری ڈکار مارتے ہوئے حیادار روزہ خوروں سے روزے کے بارے میں پوچھ لیتا ہے تو یہ بے چارے خود کو زمین میں گڑتا ہوا محسوس کرتے ہیں اور جواب دیتے وقت ان کے منہہ سے ”نہیں“ کی جو جھجکتی ہوئی ”اقسام “ برآمد ہوتی ہیں وہ کچھ اس طرح ہیں”آںںںں نئیں“، ”اوں آں ای نئیں“، ”اوووں، نئیییں، ہی ہی ہی۔“

بناوٹی روزہ خور دراصل حالات کے مارے ہوتے ہیں۔ گھر پر زاہد خشک قسم کے ابا جان اور دیگر بڑوں کا خوف، ڈپٹی نذیر احمد کی تخلیق کردہ ”اصغری“ جیسی، نیک پروین بیوی کی ناراضگی کا اندیشہ اور دفتر کا تقوے سے پُر ماحول انھیں روزہ دار نظر آنے پر مجبور کردیتا ہے۔ یہ روزہ خور سحری سے افطار تک سوکھا منہ بنائے اور سر پر ٹوپی لگائے روزہ دار نظر آنے کے جتن کرتے رہتے ہیں۔ یہ اپنے مقصد میں تو ضرور کام یاب ہوجاتے ہیں، لیکن مصنوعی روزہ داری انھیں سارا دن خواہ مخواہ بھوکا رکھتی ہے۔ واش روم کے نل سے پانی پینے اور کبھی کبھی لوگوں کی نظر بچاکر سگریٹ کے چند کش لگالینے کے علاوہ ان کی روزہ خوری صرف تہمت ہوتی ہے۔ یہ حضرات صرف روزہ نہ رکھنے کے فیصلے پر اپنی ”استقامت“ کی وجہ سے روزہ خوروں کی صف میں شامل ہیں، ورنہ جو روزہ انھیں لگتا ہے بے سحری کے روزہ دار کو بھی کیا لگتا ہوگا۔
حیلہ ساز روزہ خور بھی دراصل بناوٹی روزہ داروں کی ایک قسم ہے، مگر یہ نظروں کو دھوکا دینے سے زیادہ الفاظ سے کھیل کر اپنا کام چلاتے ہیں۔ مثلاً اس صنف سے تعلق رکھنے والے ہمارے ایک دوست سے جب روزے کے متعلق پوچھا جاتا ہے تو وہ بڑی سنجیدگی اور عالمانہ شان سے جواب دیتے ہیں، ”دیکھیے بھئی! روزہ ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اس لیے فرض کرلینا چاہیے کہ ہر مسلمان کا روزہ ہے۔ یہ سوال جواب کیسے؟“ اسی طرح بعض حضرات ”روزہ ہے؟“ کے روایتی سوال کا جواب دیتے ہوئے کمال کے تجاہل عارفانہ سے کام لیتے ہیں۔ مثلاً ”آج بارہواں روزہ ہے“، ”جی ہاں، آج روزہ ہے“ اور ”ارے صاحب ! روزہ ہی روزہ ہے، اور سنائیں آپ کے کیا حال ہیں۔“

روزہ خوروں کا کوئی بھی گروہ ہو رمضان میں اپنے اوپر عاید کی جانے والی پابندیوں سے نالاں نظر آتا ہے۔ روزہ خوروں کا کہنا ہے، ”جب ماہ مبارک میں منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں پر کوئی قدغن نہیں، دکان دار کم تول سکتے ہیں، سیاست داں اور حکم راں دھڑلے سے جھوٹ بول سکتے ہیں، بینک سودی قرضوں کا اجرا اور ان پر سود کی وصولی نہیں روکتے اور تاجر ملاوٹ سے نہیں چوکتے، تو آخر روزہ خوروں پر پابندیاں کیوں؟ ہم بے چارے تو بس وہی کچھ کرتے ہیں جو ماہ صیام کے علاوہ پورا سال جائز ہے۔“

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: