بدمعاش ——- ڈاکٹر مریم عرفان کا افسانہ

0
  • 43
    Shares

ماں نے میرانام بدرالدین رکھا تھا جو بعد میں پیارسے بگڑ کر بدرو ہو گیا۔ ویسے میری ماں کے پیار اور بگاڑ میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ اس کی زندگی میں دو شادیاں اوربے شمار معاشقے موجود ہیں جنہوں نے مجھے ہمیشہ متاثر کیے رکھا۔ پہلی شادی اس نے گھر سے بھاگ کر کی اور تین مہینے بعد طلاق لے کر واپس آگئی۔ میراباپ جب بھی اسے پہلے شوہر کے طعنے دے کر ذلیل کرتا، ماں بڑے سکون سے اپنی پنڈلی کھرچتی رہتی اور اپنا دائیاں ہاتھ ماتھے اور گال پراوٹ بنا کر شرارتی ہنسی ہنستی۔ میری ماں کی جوانی کچے اخروٹ کی طرح رنگ دار تھی۔ اس کاحسن میلے کپڑوں میں بھی برہنہ تھا۔ جب وہ پانی پیتی تو اس کی گوری چٹی گردن کی نیلی رگیں نمایاں ہونے لگتیں جیسے وہ کوئی جھرنا ہو جس میں سے پانی سر سر کرتا گزرتا تھا۔ وہ زیتوں کی شاخ تھی جس پر بلبلیں بیٹھنے کو مچلتی ہیں، جس کی خوشبو سے ہاتھوں کی پوریں مہکتی ہیں لیکن کہ وقت کی بے رحمی نے زیتون کی اس شاخ کو گورکن کے صحن میں لگا دیا۔ میں نے اپنے باپ کو بچے پیداکرنے اور قبریں بنانے کے علاوہ نشے میں دھت ہی دیکھا۔ وہ صبح سویرے کدال کاندھے پر رکھ کرگھر کے پیچھے قبرستان کو نکل جاتا اور اکثر آدھی رات کو لوٹتا۔ میں نے اسے ہمیشہ دو باتوں پر ماں کو مارتے ہوئے دیکھا۔ جب وہ میرے باپ کی خواہش کے آگے انکار کا پتھر سرکاتی تو ابا وقت اور موسم کا لحاظ کیے بنا ہی اسے مارنے لگ جاتا۔ ہمیشہ میری بڑی بہن سخت جاڑے کی راتوں میں اسے نشئی باپ کے ہاتھ سے چھڑوا کر کمرے میں لاتی۔ تب میری ماں کی آنکھیں زمین میں میخوں کی طرح گڑی ہوتی تھیں۔ اگرکبھی وہ ابّے سے کہتی کہ گھرمیں راشن نہیں ہے، تو بس اسی لمحے میری ماں زمین بوس ہوجاتی اور ابا اس پر چڑھ کر گھونسوں کی بارش کردیتا۔ ’’بہن چو۔۔۔ پیسے منگدی اے۔ بدمعاش عورت۔‘‘ یہ میرے باپ کا پسندیدہ ڈائیلاگ تھا جس کی تکرار اس کی زندگی میں تیزابیت کی طرح بڑھ گئی تھی۔ غربت اور مفلسی کے ان کھٹے ڈکاروں نے میری ماں کو بدمعاش بننے پر مجبور کر دیا تھا۔

گھر میں غربت دیمک کی طرح لگتی جارہی تھی اور ماں بچے ایسے پیدا کر رہی تھی جیسے صحن کی دیوار پر اپلے قطار در قطار منہ سُجائے کھڑے ہوں۔ پھریہ سارے اپلے میدان میں اکٹھے کرکے لیپ دئیے گئے۔ میری اکلوتی پھوپھی جب بھی اپنی چھوٹی بیٹی کے ساتھ میری ماں کے چھلے کٹوانے آتی تو انہی دنوں ہمیں پیٹ بھر کر کھانا نصیب ہوتا۔ جس سویرے پھوپھی مختولاں میرے سامنے زردے کی پلیٹ رکھتی، میں جھٹ پوچھتا: ’’مائی! ہن کی ہویا اے۔‘‘ پھوپھی شرما کر چمٹا دکھاتے ہوئے کہتی: ’’چل بے شرمیا! زردہ مکا۔‘‘ میں دوڑ کرکمرے میں جاتا جہاں ماں اپنے بازوؤں کا تکیہ بنا کر سوئی ہوتی اور اس کی چارپائی کے دائیں طرف جھلنگی میں نووارد پڑا اونگھ رہا ہوتا۔ مجھے سوجے ہوئے منہ والا بچہ، اپنی زبان سے کرتب دکھاتا ہوا زہر لگتا۔ ایسے میں مجھے اپنی ماں پر ترس آنے لگتا۔ کھردرے بان کی چارپائی پر بسترکے بغیر پڑی ہوئی پیازی رنگت کی مالک یہ عورت کٹے ہوئے شلجم کی طرح بے رنگ دکھائی دیتی۔ میں پائینتی پربیٹھ کراس کی ٹانگیں دبانے لگتا تو ماں ہاتھ کے اشارے سے مجھے پاس بلا کر ماتھا چومتے ہوئے کہتی: ’’شہزادیا۔۔ تیرے تھیوے تھیوے تے میوے۔ ـ‘‘ مجھے اپنے اوپر فخر ہونے لگتا جیسے میں کسی ملکہ کاشہزادہ ہوں کتنے ہی دن اسی سرشاری میں گزر جاتے لیکن ماں کب تک نیک رہتی۔ پھر کچھ دن بعد کوئی نہ کوئی عاشق اس کے ہاتھ میں سامان سے بھرا تھیلا پکڑا جاتا اور وہ صحن میں ہرنی جیسے قلانچیں بھرنے لگتی۔

میری ماں کو زندگی بھرکوئی بڑا معاشقہ نہ کرنا آیا۔ اگروہ شہر میں ہوتی تو ضرور اس کے یارانے بڑے بڑے لوگوں سے ہوتے۔ یہاں ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہ کر وہ بھلا کتنا بڑا ہاتھ مار سکتی تھی۔ زیادہ سے زیادہ سبزی والے سے ہاتھ مس کروانے پر ٹنڈے لے لیے، پرچون والے کے سامنے دوپٹہ چھاتی سے نیچے گرانے پر نمک مرچ لے لی، چوہدری کے گھرکی بیٹھک صاف کرنے پر کنک مل گئی۔ گویا ہم اس کے ان بظاہر چھوٹے چھوٹے معاشقوں پر زندگی کاراشن پورا کر رہے تھے۔ ابّے کے لیے دیسی ٹھرا لینے کی خاطروہ بے دھڑک سودی گجرکے وہیڑے جا کر اس کی یہ موٹی موٹی پنڈلیاں بھی دبا لیتی تھی۔ ایسے موقعوں پر مجھے اپنی ماں کی بدمعاشی پر فخر ہونے لگتا کہ کیسے شیرکی کچھار میں گھس کر اس کا شکار منہ میں دبوچ لاتی ہے۔ میری ماں واقعی شیرنی تھی جو خود شکار کر کے لاتی اور میرا باپ شیرکی طرح اپنے بڑے بڑے جباڑے کھول کرگوشت کے ٹکڑے چبانے لگتا۔ جب بھی کوئی مرد میری ماں کی زندگی میں داخل ہوتا تو ان دنوں بڑی عجیب سی بو اس کے منہ سے آتی تھی، جیسے اس نے کچی کلیجی اپنے جبڑوں میں چبائی ہو۔ میرا دل متلی کھانے لگتا مجھے اپنی ماں کے سرخ ہونٹ خون آلود لگنے لگتے۔ اس کے موتیوں جیسے دانتوں پہ مجھے پیلاہٹ کی تہیں محسوس ہوتیں۔ اس کی ناک کا کیل میرے لیے سولی تھا جسے وہ ادا کے ساتھ اپنی انگلی سے چھیڑتی تو لگتا کہ میرے بخیے ادھیڑ رہی ہو۔ اس کا دنداسہ کیا ہوا دہانہ ایک تاریک غاربن گیا جہاں وہ کھڑی ہو کر مردوں کو ہاتھ کے اشارے سے بلاتی تو میں بڑبڑاتا:’’بدمعاش عورت۔ ـ‘‘

ایک دن چھوٹے کو سرشام تاپ چڑھا تو پھر اترنے کا نام ہی نہیں لیا۔ حکیم نے کہاکہ اسے گردن توڑ بخار ہے ہسپتال لے جاؤ، قسمت ہوئی تو بچ جائے گا۔ اس دن میں نے اپنی ماں کی آنکھوں میں بے بسی رگوں میں خون کی طرح تیرتے ہوئے دیکھی۔ میرادل پسیج گیا لیکن اس سے پہلے کہ میں اسے نیک عورت ہونے کا سرٹیفکیٹ دیتا اس کی بدمعاشی نے مجھے اچک کر دبوچ لیا۔ وہ میرا ہاتھ پکڑ کر پچھواڑے کے قبرستان گھس گئی۔ اندھیری یخ بستہ رات میں صبح کی بارش نے خاصا کیچڑ کر رکھا تھا۔ ماں نے موم بتی جلائی اور ایک تازہ قبرکے سرہانے بیٹھ گئی۔ وہ دیوانہ وار قبرکی مٹی اپنے ناخنوں سے کھرچتی جاتی تھی۔ کوئی ایک گھنٹے کی مشقت کے بعدہم نے قبر ڈھا دی۔ دن نکلتے ہی ماں اپنے سینے پر دو ہتڑ مارتے ہوئی چوہدری کے وہیڑے جا گھسی۔ ’’چوہدری جی! وڈی ملکانی صاب کی قبرڈھے گئی جئے۔ ‘‘چوہدری میری ماں کی مکاریاں اورہشیاریاں کیا جانے۔ ماں نے وہاں ایسا واویلا مچایاکہ چوہدری میرے گورکن باپ کو گالیاں دیتا ہوا سرپٹ دوڑا۔ میری ماں کے ہاتھ پر قبرکی مٹی کے لیے پیسے رکھتے ہوئے اس کی آنکھوں میں ممنونیت کے آنسو تھے۔ ماں نے سب سے پہلے چھوٹے کے لیے دوالی اورساری رات روتے ہوئے دعائیں مانگتی رہی کہ مولا! مجھے معاف کردے۔ میں چارپائی پرغصے سے کروٹیں بدلتا رہا اور آسمان کی طرف انگلی اٹھا کر کہتا: ’’ناں مولا! ناں۔۔۔ ایس بدمعاش نوں نا بخشیں۔ ‘‘

میرا جی چاہتا تھا کہ میں کچھ ایساکروں جس سے ماں ڈرجائے، اسے اکیلے میں پیچھے سے جاکر’’ہاؤ‘‘ کہنے پربھی وہ ٹس سے مس نہ ہوتی تھی۔ وہ میری کسی بھی شرارت پرکبھی تنگ نہیں آئی یہاں تک کہ میں اسے غصے سے پیٹنے لگتا۔ میری چھوٹی چھوٹی مکیاں ایسے ہی تھیں جیسے پرات میں گندھے ہوئے آٹے کو دو چھوٹے ہاتھ کچوکے لگا رہے ہوں۔ آٹے سے بھری پرات پیار سے دیکھتے ہوئے کہتی: ’’شوہدیا‘‘ اورکبھی بولتی: ’’چل بدمعاش‘‘ میں غیرت مند آدمی بننے کے چکر میں تھا اسی لیے میں نے محلے میں کن سوئیاں لیناشروع کردیں۔ میں دل سے چاہتا تھا کہ کوئی میری ماں کی کردار کشی کرے اورمیں اسے چھریوں کے وار کرکے ٹھکانے لگادوں۔ کند چھری اس کی گوری چٹی گردن پر چلاؤں، وہ مرغ بسمل کی طرح تڑپے اور میں اسے بڑے سے ڈرم میں تڑپنے کے لیے پھینک دوں۔ میں نیتو قصائی کی طرح بے سدھ مرغی کو ڈرم سے نکال کراس کی بوٹیاں بناتا اور اپنی ڈب کھڈبی پتیلی میں ڈال کر بھون دیتا۔ میرے دماغ میں ایسی ہی واہیات باتیں پکتی رہتیں اورمیں ہنڈیا سے اٹھنے والے دھوئیں کی طرح خود کو سینکتا رہتا۔ مجھے اپنے باپ سے بھی خاص طرح کی نفرت تھی، شایداس لیے کہ اس کی بے روزگاری اورنشے نے میری ماں کو آوارہ مزاج بنا دیا تھا۔ ابا بس ہمیں پیدا کرنے اس دنیامیں آیا تھا، نشے کے روگ نے اس کی جان لے لی اور پھر قبرستان کا گورکن میرا بڑا بھائی بن گیا۔ میں سب کو باری باری اپنی لامحدود نفرت کے پھٹے پرغباروں کی طرح لگا کر لمبی ناک والی بندوق سے پھاڑتا رہا۔ مجھے ماں کی مجبوریاں رنگ رلیاں لگتی تھیں، اس کا بس نہیں چلتا تھا کہ قبرستان میں آئے جنازے کو روک کرمردے کا کفن اتروائے اور پھر رنگوا کے ہمیں پہنادے۔ ہماری ضرورتیں اس کے لیے آسمان پر اڑنے والی پتنگوں کی طرح تھیں جو کٹ کٹ کرنیچے گرتیں اور وہ انھیں لپک کر اٹھا لیتی۔ میں سال میں بس دو مرتبہ گھرکا چکر لگاتا تھا اور دور بیٹھ کر سوائے اندازے لگانے اور کڑھنے کے میرے پاس کوئی اور چارہ نہیں تھا۔

میں شہر آکر مزدوری کرنے لگا، میرے ساتھ کے لڑکے اپنی ماؤں کے ہاتھ سے بنے ساگ مزے لے کرکھاتے اور میرے منہ میں کڑوی جڑی بوٹیوں کی کسیل گھلنے لگتی۔ پھراس کڑواہٹ سے نکلنے کے لیے میں کوٹھوں پرجانے لگا، وہاں بھی بہت سی عورتیں تھیں۔ چھوٹی، بڑی، موٹی، پتلی، خوش شکل، بدشکل، تیز طرار اور معصوم بھی لیکن میری ماں جیسی توکوئی نہیں تھی۔ میں اندازے لگانے لگاکہ اگریہاں میری ماں ہوتی توکتنے بڑے رتبے پرفائز ہوتی۔ ان کسبیوں کے گاہک تو ان پرپیسہ پھینکتے تھے جبکہ میری ماں اپنے عاشقوں سے سودے لیتی تھی۔ یہ بھی میری ماں جیسی ہی عورتیں تھیں، ان کے جسموں کے ساتھ بھی بچے لٹکے ہوئے تھے۔ یہ بھوکے بچے اپنی کینگرو ماؤں کی تھیلیوں میں سے جھانکتے رہتے اوران کی مائیں مردوں کے جنگل میں گھس کران کے لیے نوالے اکٹھے کرتی رہتیں۔ کبھی توجی چاہتا ان تمام عورتوں کوبورے میں بندکرکے کسی ویران جزیرے میں پھینک آؤں۔ بہت کوشش کی کہ کبھی میں بھی تماش بین بن کے اپنی ماں جیسی عورت کوچوم لوںاورپھردیکھوں کہ وہ بدلے میں مجھ سے کیا مانگتی ہے۔

میری ماں کی زندگی کے آخری کچھ سال تھے، وہ مجھے ملنے کے لیے بے چین تھی۔ پھر ایک دن میں تنگ آکراس سے ملنے آہی گیا۔ کمرے سے مسلسل کھانسنے کی آوازآرہی تھی۔ میں نے اندر جھانکا تو لگا جیسے کوئی حورسفید چولا پہنے چارپائی پر بیٹھی ہو۔ ماں ہمیشہ کی طرح کھردرے بان کی چارپائی پربسترکے بغیرلیٹی تھی، مجھے دیکھتے ہی اٹھ کربیٹھ گئی اورمیرامنہ چومنے لگی۔ اس کے سرپرچاندی کے تاروں کاجال بچھ چکاتھا۔ وہ مجھے دعائیں دینے لگی:’’بدرو۔۔۔ وے بدرو۔۔۔ تیرے لکھ محتاج ہوون۔ وے میرے شہری باؤ، تینوں رب دیاں رکھاں۔ ‘‘ میں نے تنگ پڑتے ہوئے کہا:’’چل بس کرمائی۔ ‘‘

’’کیاگل اے شوہدیا!ماں کولوں ایڈھاتنگ ایں۔ ‘‘میرا جی چاہاابھی کے ابھی بچپن سے جوانی تک کے غصے کاسارابارودسیون ایم ایم میں بھرکرماں کے سینے میں اتاردوں۔ پتہ نہیں کیوں میں ماں کے سامنے میں دل کی زبان سے اظہارکاکام لینے لگتاتھا۔ وہ منہ سے سوال پوچھتی تھی اورمیں دل میں جواب دیتا تھا، کچھ دیرچپ رہنے کے بعد وہ بولی:’’اپنی ماں نوں بدمعاش سمجھ داں ایں۔ ‘‘مجھے لگاجیسے کسی زہریلے بچھونے شلوارکے اندرہی کاٹ لیا ہو۔ میں چارپائی کے پائے پر بیٹھا بیٹھا اپنی ٹانگ مسلنے لگا جیسے زہر ناف تک چڑھ جانے کا خدشہ ہو۔ ’’لگتا ہے کوئی چیزکاٹ رہی ہے میں ذراکپڑے بدل کر آیا۔‘‘ میں جان چھڑاتے ہوئے باہر کو بھاگا۔ اگلے دو دن میں ماں کے پاس رہا، میں نے محسوس کیاکہ نامعلوم سی خاموشی اس کے اندر اتر گئی تھی۔ مجھے رخصت کرتے ہوئے بھی اس نے بس ایک ہی جملہ بولا: ’’شاھلا۔۔ تیرے لکھ محتاج۔‘‘

میں شہر آکر سب بھول گیاکہ دوسال بعد ماں کے مرنے کی خبر آگئی۔ میں بوجھل دل کے ساتھ اس کے جنازے کو کندھا دینے گیا۔ ماں کے بغیرگھر ویران لگ رہا تھا میں اس کے کمرے میں پڑی ہر چیز کو ٹٹولنے لگا، میرے اندرکا شکی مرد ابھی زندہ تھا شاید اسی لیے میں نے کمرے میں پڑا صندوق کھول کر کھوجنا شروع کردیا۔ وہ صندوق کم اور ماضی کی یادوں کی پٹاری زیادہ لگتا تھا، سب بہن بھائیوں کی کوئی نہ کوئی چیزیاکپڑااس میں پڑاہواتھا۔ اچانک میری نظرایک تعویز پر پڑی۔ اوہ!یہ تووہی تعویزہے، مجھے جیسے یادآگیاکہ ایک دن گھرمیں کسی میت کے ختم کی روٹی آئی۔ ماں کو معلوم تھاکہ مجھے دیسی مرغ کتناپسندہے۔ اس نے مجھے سب سے چھپاکردو بوٹیاں کھلادیں۔ بس یہ کھانے کی دیرتھی کہ میرے اندر جوار بھاٹا سلگنے لگا۔ شدت کے پیٹ دردکے بعد مجھے پیچش لگ گئے۔ ماں پریشان ہوگئی، کتنے ہی دن وہ مجھے حکیموں اورعطائیوں کے پاس لے کرجاتی رہی لیکن میری پیٹھ پھوڑا بن چکی تھی۔ جاڑے کی راتوں میں وہ مجھے اپنے پیٹ پر سلاتی میں کتنی بارپیشاب کرتاوہ کتنے ہی سوکھے کپڑے میرے نیچے بچھا کرخودگیلی رہتی۔ پھر وہ مجھے درگاہ لے کرجانے لگی وہاں کسی نے اسے میری پیٹھ پھٹکری کے پانی سے دھلانے کے لیے کہا۔ اس کے پاس پھٹکری لینے کے بھی پیسے نہیں تھے اور پھروہ یکدم بدمعاش بن گئی۔ ساجے نے ماں کو میری بیماری کا توڑ کرنے کے لیے تعویز بھی بنوا کر دینے کاوعدہ کیا۔ پھر اگلے دن اس نے اپنا ایک ہاتھ میری ماں کے نیفے میں ڈالا اور اس کے دوسرے ہاتھ میں پھٹکری تھمادی۔ ماں کی اس بدمعاشی نے میری جان بچالی۔ تعویزمیرے ہاتھ میں جھول رہاتھا، میں بدرالدین عرف بدرو، جس کے آج لکھ محتاج ہیں، اس بدمعاش عورت کا مقروض ہوں جس کی بدمعاشی کا میرے پاس کوئی گواہ ہی موجود نہیں ہے۔

 

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: