خوشی سے مر نہ جاتے گر اعتبار ہوتا ——- راجہ قاسم محمود

0
  • 12
    Shares

نون لیگ کے حامیوں (جن کو ملا لبرل اتحاد کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے) کے نزدیک اس وقت نواز شریف کی مخالفت کا مطلب بوٹ چاٹنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت نواز شریف سول بالادستی کی بات کر رہے ہیں۔جو کہ سو فیصد درست ہے اس سے کسی کو کوئی اختلاف بھی نہیں۔ میں بھی اس نعرے کو ملک کے لیے لازمی سمجھتا ہوں مگر تاریخ کے چند واقعات کو سامنے رکھتے ہوئے ہم اس جائز مطالبے کی حمایت کی بابت کچھ تحفظات رکھتے ہیں۔

جنگ صفین کے خاتمے پر ایک گروہ نے نعرہ لگایا تھا کہ حاکم صرف اور صرف رب کریم کی ذات ہے (مفہوم)۔ اس نعرے کے جواب میں سیدی مولائے کائنات رضی اللہ عنہما نے جواب دیا تھا کہ تم کلمہ تو حق کہہ رہے ہو مگر اس کی تاویل باطل کرتے ہو۔ مگر وہ گروہ باب العلم کرم اللہ وجہہ الکریم کی بات کو مسترد کرتا ہے تاریخ ان کو خوارج کے نام سے یاد کرتی ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو ان سے جنگ نہروان بھی لڑنی پڑتی ہے اور بعد میں مسجد کوفہ میں اس گروہ کے ایک ناپاک شخص کے ہاتھوں شہید بھی ہوتے ہیں۔ کیا ان خوارج کی ٹھیک بات کو مان لینا چاہیے تھا؟؟

کچھ عرصے پہلے تک ٹی ٹی پی اور القاعدہ سے وابستہ تنظیموں نے ملک عزیز میں قتل و دہشت کا بازار گرم کیا ہوا تھا اور وہ لگاتار پاکستانی فوج کو للکار رہے تھے ان کا بیانیہ یہ تھا کہ ملک عزیز میں شریعت کا نظام نافذ کیا جائے اس کے لیے کسی پارلیمان کی کوئی ضرورت نہیں اور شریعت کا بھی صرف وہ ہی ورژن نافذ کیا جائے جو ان کو قبول ہے۔ میرے خیال سے تو شریعت کے نفاذ کا ان کا مطالبہ بلکل درست تھا۔تو کیا طالبان کی حمایت کی جا سکتی ہے؟

2013 کے شروع میں ڈاکٹر طاہر القادری نے انتخابی اصلاحات کی بات کی اور اپنی انتخابی اصلاحات کا ایجنڈا بھی پیش کیا،انھوں نے موجودہ سیاسی نظام کی خامیوں کو بہت سے حقائق کی بنیاد پر بے نقاب کیا۔ اس وقت ان کا کوئی بھی ناقد ان کی اصلاحات پر تنقید نہیں کر سکا وہ ہمیشہ ڈاکٹر صاحب کی ذات کے بارے میں تحفظات کا اظہار کرتا۔ کیا خیال ہے ڈاکٹر صاحب بات تو ٹھیک کر رہے تھے ناں تو ان کی حمایت ہونی چاہیے تھی کہ نہیں؟؟

پھر اگلے سال یہی ڈاکٹر طاہر القادری دوبارہ دھرنا دینے اسلام آباد پہنچ جاتے ہیں۔ اس دفعہ مطالبہ ماڈل ٹاون میں قتل ہونے والے اپنے چودہ لوگوں کے لواحقین کو انصاف دلانا تھا اور قصاص کا مطالبہ تھا جو کہ قرآن کا حکم ہے تو کیا ہم اس چیز کا انکار کر سکتے ہیں کہ قرآن کے حکم کے نفاذ کا مطالبہ بلکل جاٸز اور حق نہیں؟ کوٸی مسلمان تو اس کا انکار ہی نہیں کر سکتا اور قرآن سے ہٹ کر دنیا کا کون سا قانون ہے جو مقتولین کے لیے انصاف مانگنے سے منع کرتا ہے؟

2014 میں ہی عمران خان نے اسلام آباد میں 126 دن دھرنا دیا تھا اور مطالبہ تھا کہ 2013 میں ہونے والے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کی جائیں۔ اور اس دھاندلی کی شکایت صرف پی ٹی آئی نہیں بلکہ دیگر جماعتیں بھی کر چکی تھیں۔تو پھر عمران خان کے مطالبے کو ناجاٸز کہنے کا جواز بن ہی نہیں سکتا۔اور پھر بعد میں ہونے والے کمیشن کی تحقیقات سے یہ تو ثابت ہو گیا کہ الیکشن کمیشن سے صریح بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔

2017 میں جب ختم نبوت ﷺ کے قانون کے بارے میں مولانا خادم رضوی نے غیر معمولی حساسیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے راولپنڈی اور اسلام آباد کو بند کر دیا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ حکومت ذمہ داران کو سزا دے اور اس قانون کے تحفظ کو یقینی بنائے۔کیا خیال ہے ختم نبوت ﷺ جیسے حساس مسئلہ کے قانونی تحفظ کی یقین دہانی کرکے مولوی خادم رضوی نے کوئی غلط مطالبہ کیا تھا کیا؟؟ کیا ان کے جائز موقف کی حمایت ہونی چاہیے کہ نہیں؟

ذرا پاکستان سے باہر چلتے ہیں
2001 میں امریکہ میں دہشت گردی کا افسوسناک واقعہ ہوا تھا جس کے بعد امریکہ نے یہ موقف اختیار کیا کہ مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کے لیۓ ضروری ہے کہ ان دہشت گردوں کو ایسی کاروائی سے روکا جائے۔ یہ امریکہ کا بلکل ایک جائز موقف تھا اور اس کے نتیجے میں اس نے افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔میرے خیال سے امریکہ کا مطالبہ تو بلکل جائز اور درست تھا جس کی مخالفت قطعی طور پر بے بنیاد ہے۔

صدام حسین جس سے پڑوسی ممالک کی سرحدیں بھی محفوظ نہیں تھیں اور باقاعدہ دو پڑوسیوں کے اوپر وہ چڑھائی کر چکا تھا کہ بارے میں امریکہ کو اطلاع ملتی ہے کہ وہ خطرناک کمیائی ہتھیار بنا رہا ہے۔صدام جیسے شخص کے پاس ایسے ہتھیار ہونا پوری دنیا کے امن کے لیے خطرے کی گھنٹی تھی سو امریکہ نے دنیا کے امن کی خاطر عراق سے صدام حسین حکومت کا خاتمہ کردیا۔عراق کی تباہی امریکہ کا ہرگز مقصد نہیں تھا بلکہ وہ تو ایک جنونی شخص سے کیمائی ہتھیاروں کے استعمال کو روکنے کے لیے آیا تھا۔ اس اصول کے تحت امریکہ کی مذمت بلکل درست نہیں اس کا “بیانیہ” تو بلکل درست تھا۔

اب جو چیز ایک شخص کو خوارج، طالبان، ڈاکٹر طاہر القادری، تحریک لبیک، عمران خان کے دھرنے اور امریکہ کے جائز نعرے کے باوجود ان کی حمایت سے روکتی ہے ایک بڑی تعداد میں یہ ہی بات ہم کو میاں نواز شریف صاحب کے اوپر یقین کرنے سے روکتی ہے جو سول بالادستی کا نعرہ تو بہت خوبصورت لگاتے ہیں مگر اس خوبصورت نعرے کی تکمیل پر ان پر اتنا ہی یقین کیا جا سکتا ہے جیسے خوارج کے نظریہ حاکمیت پر۔

جب کوئی شخص ایک مطالبہ لے کر کھڑا ہوتا ہے تو اس شخص کی تاریخ کو مد نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ سیاست سے فوج کی بے دخلی بلکل درست مگر ایک بڑی تعداد میں لوگوں کا خوف یہ ہے کہ میاں نواز شریف صاحب فوج کو پنجاب پولیس بنا دیں گے جو کہ ملک کی تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔دوسرا ڈر یہ ہے کہ میاں صاحب سول بالادستی اور ووٹ کی عزت کے نام پر اپنے آپ کو ہر قانون سے بالاتر کرنا چاہتے ہیں۔ تیسرا خوف یہ ہے کہ میاں صاحب جیسے ہی خود مشکل سے نکلیں گے وہ اسی اسٹبلشمنٹ کے دست راست بن جاٸیں گے اور سول بالادستی کا نعرہ تہہ خانے میں چلا جائے گا۔ میاں صاحب کا ماضی بھی ایسے تضادات سے بھرپور ہے جن کو مد نظر رکھ کر میاں صاحب پر یقین کرنے کے لیے ان کا مرید ہونا لازم ہے کیا یہ وہ ہی میاں صاحب نہیں جنہوں نے اعلان کیا تھا کہ انھوں نے کوئی معاہدہ نہیں کیا بعد میں وہ دس سال سے پانچ سال پر خود آگئے۔ وطن عزیز تشریف لانے کے بعد اپنے اعلان کے برعکس مسلم لیگ ق کے اراکین اسمبلی کو نا صرف اپنی جماعت میں قبول کیا بلکہ ان کے منحرف اراکین سے پانچ سال تک پنجاب حکومت چلاتے رہے۔ان واقعات کی بنا پر اگر ہم میاں صاحب پر اعتماد کرنے سے کتراتے ہیں تو یہ بوٹ چاٹنا کیسے ہو گیا؟ کوئی دانشور بے شک ”تکبیر مسلسل“ لگا کر میاں صاحب کو مہاتیر محمد ثابت کرے۔ مجھے جیسے کم علم پر تو وہ جماعت الحرورہ کے راستے پر چل رہے ہیں۔

ابھی یہ سطور لکھ رہا تھا تو پرویز مشرف کا بیان سامنے آیا کہ نواز شریف پر آرٹیکل سکس کے تحت مقدمہ درج کرانا چایے۔۔دیکھیں صاحب نواز شریف کی مخالفت سے قطع نظر پرویز مشرف بھی آرٹیکل چھ اور اس پر عملدرآمد پر یقین رکھتے ہیں۔کیوں نہ اب مشرف کہ اس نئے “بیانیے” پر ایمان لایا جائے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: