برضا و رغبت نہیں بقضاء و مرمت — چوہدری بابر عباس

0
  • 54
    Shares

شروع میں عوام ایک سادہ، بے ضرر اور مختصر مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ چلے جایئے، اب آپ کی ضرورت نہیں رہی۔ آپ ہمارا اعتماد ہار چکے ہیں، ہم آپکی جگہ کسی اور کو لانا چاہتے ہیں۔ آپ بار بار آزمائے جا چکے ہیں۔ آپ بھی آپ کے پیش روں سے مختلف نہیں ہیں۔

اس مطالبے کو پہلے ریاستی طاقت اور پھر کہیں شخصی جبر اور کہیں خریدو فروخت سے دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ادھر ایک وقت کے بعد عوام بھی ضد میں آ جاتے ہیں، کہ جناب آپکو جانا ہی پڑےگا، آپ کا جانا ٹہرایا جا چکاہے۔ “مگر غاصب برضا ورغبت نہیں بقضاء ومرمت ہی نکالے جاتے ہیں۔ ۔ ۔ پھر ایک دنگل سجتا ہے، سر پھٹول ہوتی ہے، نوبت گولی تک پہنچ جاتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ایک طرف سے گولیاں چلائ جاتی ہیں دوسرے طرف سے اسی قدر سینے ان گولیوں کو کھانے کے لیے وا ہو جاتے ہیں۔
“ناحق خون بہتا ہے جو مقتدر کے جانے کا ثبت شدہ نوشتہء دیوار ہوتا ہے”۔

“جب ذوالفقار علی بھٹو نے یہ تسلیم کیا کہ از سرے نو انتخابات مانتا ہوں اس وقت تک بہت دیر یو چکی تھی۔” اس طرح کی تاخیر اکثر و بیشتر ہوتی رہتی ہے”۔ رضاشاہ پہلوی بھی ایک سہ پہر مان گئے تھے کہ میں تخت و تاج سے دستبردار ہوتا ہوں۔ ۔ ایوب خان نے بہتیرا یقین دلایاکہ میں آئیندہ صدارتی انتخابات میں امیدوار نہیں ہوں گا۔ ۔ ۔ فرنینڈ مارکوس یہی کہتے رہے کہ بس مجھے یہ مدت پوری کر لینے دو میرا مال متاع بھی مملکت کے حوالے میں چلا جاوں گا۔ ۔ ۔ میں خود جاتا ہوں۔ مگر کسی کی ایک نہ سنی گئی”۔ (ڈاکٹر حقی حق)
۔

بھٹو جسے آخری دم تک آمریت کے خلاف ایک سیاسی مقدمہ سمجھتے رہے وہ عدالت میں قتل کا ایک فوجداری مقدمہ تھا جس کا بہر حال فیصلہ ہونا تھا۔ میاں صاحب کونسی لڑائی، سڑکوں چوک چوراہوں، جلسوں جلوسوں اور ریاستی اداروں کے خلاف داخلی اور خارجی سطح پر لڑ رہے ہیں؟ کیا وہ بھی اپنے مقدمے کے احوال سے اسی قدر باخبر ہیں جس قدر ذوالفقار علی بھٹو تھے؟

بھٹو جیسا باخبر عوامی سیاستدان، محنتی اور کل سے زیادہ جزئیات پر نظر رکھنے اور ملاقاتیوں کے نام تک یاد رکھنے والے بیدار مغز شخص کے بارے یہ یقین کرنا محال لگتا ہے کہ وہ اس قدر غبی ثابت ہو گا کہ ایک نا اہل ترین جنرل سے مات کھا جائے گا۔ جبکہ آپ کے لیے تو کامونکی کا جلسہ پرچی کے بغیر بھگتانا مشکل ہے۔

شائد آپ بھی چو این لائی مذاکراتی فارمولے کے تحت، کہ صرف اس قدر دو اور اتنا ہی مانو کہ مخالف مزاکرات کی میز پر بیٹھا ریے اور مزاکرات کا سلسلہ چلتا اور اثر زائل ہوتا رہے۔ یہی اصول بھٹو صاحب نے بھی اپنایا تھا مگر موافق نہ آیا۔ بات تب بھی انتخابات میں دھاندلی کی ہی تھی، مزاکرات کی لایعنی طوالت سے ہی انہیں پانچ جولائی والے حالات کا سامنا کرنا پڑا جو چار اپریل کے فیصلہ کن دن پر منتج ہوئے۔ “تاہم بھٹو نے اپنے دشمن جرنیل سے زندگی کی بھیک مانگنے سے ضرور انکار کر دیا تھا”۔

ایک بہتیری مدت آپ نے بھی چو این لائی کے مذاکراتی اصول کے مصداق ایک گھاک پینترے باز کی مانند طویل گنجلک مگر بے بنیاد کھیل کھیلا۔ مزاحمت اور تصادم آپکے تعارف کا حصہ ہے۔ یقینا چار سال آپ نے اسے بھرپور طریقے سے ثابت کیا ہے۔ ماڈل ٹاون قتل عام، سرحدوں پر طلبیدہ کشیدگیاں، سیاسی انتشار اور عوامی سر پھٹول، اداروں سے تصادم الغرض آپ اپنی تمام معروف ممکنہ صلاحیتیں کماحقہ بروئے کار لائے ہیں۔

ستتر کے انتخابات میں دھاندلی سے شروع ہونے والے معاملات کی طرح یہاں بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ ۔ ۔ کون جانتا تھا کہ دوہزار تیرہ کے انتخابات میں دھاندلی کے الزام میں چار حلقوں کو کھولنے سے شروع ہونے والے، عزت و وقار اور شرف و تخت لیوا معاملے سے نوبت یہاں تک پہنچ جائے گی کہ ماضی کے بھاری مینڈیٹ کے ہیوی ویٹ بطل کے گلے وہ بطلان پڑنے والا ہے کہ اسے ازلی دشمن بھی ڈوبتے سمے دریا کا تنکا نظر آنے لگے گا۔

شیخ مجیب الرحمن کی حکومت بننے میں مزاحم بھٹو صاحب دراصل اول ملک کے دو لخت ہونے کا سبب اور پھر جمہوریت کی راہ کا پتھر ثابت ہوئے۔ موبمو آج میاں صاحب آپ اول جمہوریت کی راہ میں مزاحم اور قومی اداروں کی تذلیل کا سبب اور پھر ریاست کی ساکھ اور سلامتی کے ساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں۔

جانا تو ٹہر چکا۔ تاہم قوم بسمل گدھ کی بقا کی جنگ کو نہ صرف ملاحظہ کرے بلکہ حالت نزاع میں اس غدارانہ حملے کے مشاہدہ سے ایک نہ بھولنے والا سبق بھی حاصل کرے۔ ریاست اب قوم کی سادہ لوحی، بھولپن اور روایتی اسفل درجے کی سیاسی وابستگیوں اور سوچ کی متحمل نہیں ہے۔

قبولیت کا شرف اور دراز رسی کی طوالت ختم ہو جائے تو ہر جتن بے سود، ہر حیلہ حرام اور کوشش اکارت چلی جاتی ہے۔ ندائے مکرر ہے کہ یہ کسی قاضی کی عدالت میں ایک چوری کا مقدمہ نہیں ہے یہ منصف اعلی کے ہاں مکافات عمل کا قضیہ ہے۔ جس کا بہر حال فیصلہ ہونا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: