گوادر کی ہیرو: ایک مادرِ مہربان —– لالہ صحرائی

0
  • 711
    Shares

آج کون کون جانتا ہے کہ پاکستان کیلئے لازوال محبت و ایثار کا جذبہ رکھنے والی ایک عظیم خاتون نے اپنی مدمقابل چار عالمی طاقتوں سے ایک قانونی جنگ لڑ کر 15 لاکھ ایکڑ سے زائد رقبے پر مشتمل گوادر جیسی اہم ترین کوسٹل اسٹیٹ پاکستان میں ضم کروائی تھی۔

دو بلوچی الفاظ گوات بمعنی کھلی ہوا اور در بمعنی دروازہ کا مرکب جو عرف عام میں گوادر کہلاتا ہے یہ 1956 تک عالمی استعمار کے اس ناجائز قبضے میں تھا جس کی داستان احسان فراموشی اور عیاری کا ایک نادر نمونہ ہے۔

گوادر اسٹیٹ اٹھارہویں صدی کے، خان آف قلات، میر نصیر نوری بلوچ کی ملکیت تھی لیکن اس علاقے پر اپنا تسلط قائم رکھنا خان صاحب کیلئے کافی مشکل ثابت ہو رہا تھا جس کی وجہ گچکی قبائل کی شورشیں تھیں کیونکہ ماضی میں وہ بھی اس علاقے کے حکمران رہ چکے تھے اور اسے واپس حاصل کرنا چاہتے تھے۔

خان صاحب نے اس کا حل یہ نکالا کہ ایک معاہدے کے تحت اس علاقے کا کنٹرول ہی گچکی قوم کے ہاتھ میں دے دیا تاکہ اس علاقے میں امن قائم رہے، معاہدے کے تحت یہ طے پایا کہ یہ علاقہ خان آف قلات کی جاگیر میں ہی شامل رہے گا اور اس کا آدھا ریوینیو بھی خان صاحب کو دیا جائے گا لیکن اس کا انتظام سارا گچکی قبائل کے ہاتھ میں رہے گا، یہ معاہدہ 1783 تک قائم رہا۔

1783 میں عمان کا حکمران اپنے بھائی سے شکست کھا کر دربدر ہوا تو اس نے خان آف قلات سے جائے پناہ کی درخواست کی، اس کی درخواست قبول کرتے ہوئے ایک نئے معاہدے کے تحت 2400 مربع میل پر پھیلا ہوا یہ اینکلیو سلطان آف عمان کو سونپ دیا گیا۔

اس نئے معاہدے کی رو سے یہ طے پایا تھا کہ گوادر حسب دستور خان آف قلات کی جاگیر میں ہی شامل رہے گا اور اس کا کنٹرول بھی حسب سابق گچکی سرداروں کے پاس ہی رہے گا البتہ ریوینیو کا وہ آدھا حصہ جو خان صاحب کو جاتا ہے وہ اب خیر سگالی کے طور پر سلطان آف عمان کو دیا جائے گا تاکہ وہ اپنی گزر اوقات باآسانی کر سکے تاہم جب سلطان کو اس جائے پناہ کی ضرورت نہ رہے تو اس کے تمام حقوق بھی حسب سابق خان آف قلات کے پاس واپس چلے جائیں گے۔

قریباً پندرہ سال بعد عمان پر دوبارہ فتح پانے کے بعد سلطان اپنے پایۂ تخت واپس لوٹ گیا لیکن گوادر کو حسب معمول اس نے اپنے ہاتھ میں ہی رکھا، خان صاحب شائد اس دوران فوت ہو گئے تھے یا مروتاً قبضہ نہیں مانگا بہرحال تقریباً دس سال بعد جب سلطان کی وفات بھی ہوگئی تو خان صاحب کے ورثاء نے گوادر کی حوالگی کا مطالبہ کر دیا۔

حکومت عمان کے انکار پر انہوں نے بزور قوت قبضہ کرلیا جسے سلطان کی سپاہ نے آکر چھڑا لیا، اگلے بیس سال میں یہ چشمک جب زیادہ بڑھ گئی تو اس قضیے کو نمٹانے کیلئے برٹش کالونیل ایڈمنسٹریشن نے ثالثی کے بہانے مداخلت کی لیکن انصاف کرنے کی بجائے اسوقت کے سلطان آف عمان سے اپنے لئے کچھ مراعات لیکر قلات خاندان کا دعویٰ یہ کہہ کر عارضی طور مسترد کر دیا کہ بعض دیگر گواہیاں بھی ان کے سامنے آرہی ہیں جن کے مطابق یہ علاقہ عرصہ دراز سے سلطنت آف عمان کی جاگیر ہے بہرحال حتمی فیصلہ کسی کے حق میں بھی نہیں کیا۔

مطالعہ پاکستان سے چڑنے والے لوگ پاکستان کے خلاف پیش گوئیاں کرنیوالے بابوں کو صرف اسی لئے پروموٹ کرتے ہیں کہ تعمیر پاکستان کو اپنا ایمان بنا کر انمٹ نقوش چھوڑ جانے والی تحریک پاکستان کی ان بیمثال ہستیوں سے نئی نسل کہیں متاثر نہ ہونے لگے، یہ وہ خوفناک مطالعہ پاکستان ہے جس سے کچھ لوگوں کو پسینے آجاتے ہیں۔

اس خدمت کے عوض برطانوی پولیٹیکل ایجنٹ نے سلطنت عمان سے یہ ایگریمنٹ کیا کہ حتمی فیصلے تک گوادر کا انتظام برطانیہ کے پاس رہے گا اور حسب سابق عمان کو گوادر کا آدھا ریونیو ادا کیا جائے گا اور اپنی افواج گوادر میں داخل کر دیں یوں تقریباً سوا سو سال تک برطانیہ اس علاقے پر قابض رہا۔

قیام پاکستان کے بعد اس وقت کے خان آف قلات نے جب اپنی جاگیر پاکستان میں ضم کر دی تو پاکستان نے اسٹیک ہولڈرز سے گوادر کا معاملہ اٹھایا مگر کوئی شنوائی نہ ہوئی، پھر جب ایک امریکی سروے کمپنی نے بتایا کہ گوادر کی بندرگاہ بڑے جہازوں کے لنگر انداز ہونے کیلئے بہت آئیڈیل ہے، علاوہ ازیں اس بندرگاہ سے سالانہ لاکھوں ٹن ایکسپورٹ ایبل سمندری خوراک بھی حاصل کی جا سکتی ہے جس میں 35 اقسام کی مچھلیاں پائی جاتی ہیں۔

اس بات کی بھنک جن ایران کو پڑی تو انہوں نے اسے چاہ بہار کیساتھ ملانے کا فیصلہ کر لیا، ایران میں ان دنوں شاہ ایران کا طوطی بولتا تھا اور سی۔آئی۔اے اس کی پشت پناہ تھی جو صدر نکسن کے ذریعے برطانیہ پر مسلسل دباؤ ڈالنے لگی کہ گوادر کو شاہ ایران کے حوالے کر دیا جائے۔

1956 میں ملک فیروز خان نون نے جب وزارت خارجہ سنبھالی تو ہر قیمت پر گوادر کو واگزار کرانے کا عہد کیا اور باریک بینی سے تمام تاریخی حقائق و کاغذات کا جائزہ لیکر یہ مشن محترمہ کو سونپ دیا۔

ان نازک حالات میں یہ پیکرِ اخلاص خاتون ایک چیمپئین کی طرح سامنے آئیں اور برطانیہ میں پاکستان کی لابنگ شروع کی، انہوں نے بھرپور ہوم ورک کرکے یہ کیس برطانیہ کے سامنے رکھا تاکہ ہاؤس آف لارڈز سے منظوری لیکر گوادر کا قبضہ واپس لیا جائے کیونکہ قلات خاندان کی جاگیر اب پاکستان کی ملکیت تھی لہذا ان کی جاگیر کے اس حصے کی وراثت پر بھی اب پاکستان کا حق تسلیم ہونا چاہئے نیز یہ کہ پاکستان وہ تمام جاگیریں منسوخ کر چکا ہے جو ریوینیو شئیرنگ یا معاوضے کی بنیاد پر حکومت برطانیہ نے بانٹیں تھیں، نیز یہ کہ اگر ہم اپنے قانون سے گوادر کی جاگیر منسوخ کرکے فوج کشی سے واگزار کرا لیں تو کامن ویلتھ کا ممبر ہونے کی وجہ سے برطانیہ ہمارے اوپر حملہ بھی نہیں کر سکتا۔

محترمہ نے دو سال پر محیط یہ جنگ تلوار کی بجائے محض قلم، دلائل، اور گفت و شنید سے جیتی، جس میں برطانیہ کے وزیراعظم میکملن جو ملک صاحب کے دوست تھے انہوں نے کلیدی رول ادا کیا، عمان کے سلطان سعید بن تیمور نے حامی تو بھر لی مگر سودے بازی کا عندیہ دیا۔

ملک صاحب جب وزیراعظم بنے تو انہوں نے گوادر کے معاملے میں “ابھی نہیں یا کبھی نہیں” کا نعرہ لگایا، چھ ماہ کے اعصاب شکن مزاکرات کے بعد عمان نے تین ملین ڈالر کے عوض گوادر کا قبضہ پاکستان کے حوالے کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی، اس رقم کا بڑا حصہ پرنس کریم آغا خان نے بطور ڈونیشن دیا اور باقی رقم حکومت پاکستان نے ادا کی، بعض جگہ یہ ہے کہ ساری رقم ہی ہز ہائینیس پرنس کریم آغا خان نے ہی ادا کی تھی۔

اس سلسلے میں ملک صاحب اپنی خود نوشت سوانح حیات “چشم دید” میں لکھتے ہیں کہ جہاں ملک کی حفاظت اور وقار کا مسئلہ درپیش ہو وہاں قیمت نہیں دیکھی جاتی، ویسے بھی یہ رقم گوادر کی آمدنی سے محض چند سال میں ریکوور ہو جائے گی، آج جب برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر اکرام اللہ نے گوادر منتقلی کی دستخط شدہ دستاویز میرے حوالے کی تو اس وقت مجھے جو خوشی ہوئی آپ اس کا اندازہ نہیں کرسکتے، اسلئے کہ گوادر جب تک ایک غیر ملک کے ہاتھ میں تھا تب مجھے یوں محسوس ہوتا تھا گویا ہم ایک ایسے مکان میں رہتے ہیں جس کا عقبی کمرہ کسی اجنبی کے تصرف میں ہے اور یہ اجنبی کسی وقت بھی اسے ایک پاکستان دشمن کے ہاتھ فروخت کر سکتا ہے اور وہ دشمن بھی اس سودے کے عوض بڑی سے بڑی رقم ادا کر سکتا ہے۔

یوں دو سال کی بھر پور جنگ کے بعد 8 ستمبر 1958 کو گوادر کا 2400 مربع میل یا 15 لاکھ ایکٹر سے زائد رقبہ پاکستان کی ملکیت میں شامل ہو گیا۔

سن 2002 میں جنرل مشرف نے گوادر پورٹ تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا جو مختلف مراحل سے گزرتا ہوا اب سی۔پیک کی شکل اختیار کر چکا ہے اور بلاشبہ پاکستان کیلئے ایک روشن مستقبل کی نوید ہے۔

آج ہر کوئی گوادر پورٹ اور سی۔پیک کا کریڈٹ تو لینا چاہتا ہے مگر اس عظیم محسن پاکستان کا نام کوئی نہیں جانتا جس نے دنیا کے چار طاقتور اسٹیک ہولڈرز، برطانوی پارلیمنٹ، سی۔آئی۔اے، ایران اور عمان سے چومکھی جنگ لڑ کے کھویا ہوا گوادر واپس پاکستان کی جھولی میں ڈال دیا۔

مطالعہ پاکستان سے چڑنے والے لوگ پاکستان کے خلاف پیش گوئیاں کرنیوالے بابوں کو صرف اسی لئے پروموٹ کرتے ہیں کہ تعمیر پاکستان کو اپنا ایمان بنا کر انمٹ نقوش چھوڑ جانے والی تحریک پاکستان کی ان بیمثال ہستیوں سے نئی نسل کہیں متاثر نہ ہونے لگے، یہ وہ خوفناک مطالعہ پاکستان ہے جس سے کچھ لوگوں کو پسینے آجاتے ہیں۔

ایک اور اعلیٰ ظرفی دیکھئے کہ اس ملک میں جہاں ایک نلکا لگا کر بھی اس کا ڈھول پوری قوم کے آگے پیٹا جاتا ہے وہاں ان اعلیٰ ظرف ہستیوں نے اپنی اس بیمثال کامیابی کا ملک گیر جشن محض اسلئے نہیں منایا کہ سلطان آف عمان کی عزت نفس مجروح نہ ہو، یہی وجہ ہے کہ قوم آج اس نابغہ روزگار کپل کو جانتے ہیں نہ ان کے اس عظیم کارنامے سے واقف ہیں۔

گوادر فتح کرنیوالی ملک و قوم کی یہ محسن محترمہ وقارالنساء نون ہیں جو پاکستان کے ساتویں وزیراعظم ملک فیروخان نون کی دوسری بیوی ہیں جن کی اس عظیم کاوش کا اعتراف نہ کرنا احسان فراموشی اور انہیں قوم سے متعارف نہ کرانا ایک بے حسی کے سوا کچھ نہیں۔

محترمہ کا سابقہ نام وکٹوریہ ریکھی تھا، آسٹریا میں پیدا ہوئیں، تعلیم و تربیت برطانیہ میں ہوئی، ملک فیروز خان نون جب برطانیہ میں حکومت ہند کے ہائی کمشنر تھے تب ان سے ملاقات ہوئی، ملک صاحب کی دعوت پر حلقہ بگوش اسلام ہو کر بمبئی میں ان کیساتھ شادی کی اور اپنا نام وکٹوریہ سے وقارالنساء نون رکھ لیا، پیار سے انہیں وکی نون بھی کہا جاتا ہے۔

آج ہر کوئی گوادر پورٹ اور سی۔پیک کا کریڈٹ تو لینا چاہتا ہے مگر اس عظیم محسن پاکستان کا نام کوئی نہیں جانتا جس نے دنیا کے چار طاقتور اسٹیک ہولڈرز، برطانوی پارلیمنٹ، سی۔آئی۔اے، ایران اور عمان سے چومکھی جنگ لڑ کے کھویا ہوا گوادر واپس پاکستان کی جھولی میں ڈال دیا۔

محترمہ نے تحریک پاکستان کو اجاگر کرنے کیلئے خواتین کے کئی دستے مرتب کئے اور سول نافرمانی کی تحریک میں انگریز کی خضر حیات کابینہ کیخلاف احتجاجی مظاہرے اور جلوس منظم کرنے کی پاداش میں تین بار گرفتار بھی ہوئیں۔

قیام پاکستان کے بعد انہوں نے لْٹے پٹے مہاجرین کی دیکھ بھال کیلئے بڑا متحرک کردار ادا کیا، خواتین ویلفئیر کی اولین تنظیم اپوا کی بانی ممبران میں بھی آپ شامل ہیں، وقارالنساء گرلز کالج راولپنڈی اور وقارالنساء اسکول ڈھاکہ کی بنیاد بھی انہوں نے رکھی، ہلال احمر کیلئے گرانقدر خدمات انجام دیں، ضیاء الحق کے دور میں، بطور منسٹر، ٹورازم کے فروغ کیلئے دنیا بھر کو پاکستان کی طرف بخوبی راغب کیا، پاکستان ٹؤرازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن انہی کی ایک نشانی ہے۔

پاکستان کی محبت میں ان کا جذبہ بڑھاپے میں بھی سرد نہ پڑا، برطانیہ میں مقیم ان کی بے اولاد بہن کی جائیداد جب انہیں منتقل ہوئی تو اس فنڈ سے انہوں نے “وکی نون ایجوکیشن فاؤنڈیشن” قائم کیا جو آج بھی سماجی خدمات کا چراغ جلائے ہوئے ہے۔

محترمہ کی وصیت کے مطابق اس فنڈ کا ایک حصہ ان نادار مگر ذہین طلبہ کو آکسفورڈ جیسے اداروں سے تعلیم دلوانے پر خرچ ہوتا ہے جو واپس آکر اس مملکت کی خدمت کرنے پر راضی ہوں۔

محترمہ وقارالنساء نون طویل علالت کے بعد 16 جنوری سن 2000ء میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں، ایک عمرہ کرنے کے بعد انہوں نے وصیت کی تھی کہ مجھے غیر سمجھ کے چھوڑ نہ دینا بلکہ میری تدفین بھی ایک کلمہ گو مسلمان کی طرح انجام دینا۔

محترمہ کی اپنی کوئی اولاد نہ تھی، ان کی حقیقی اولاد وہ پاکستانی ہیں جو حب الوطنی میں ان کے نقش قدم پر چلنے والے ہیں۔

محترمہ کو گوادر فتح کرنے پر 1959 میں سرکار کا سب سے بڑا سول اعزاز نشان امتیاز عطا کیا گیا مگر ان کا اصل انعام وہ عزت و احترام ہے جو ہم بطور قوم انہیں دے سکتے ہیں۔

آور بیکنز اور نوائے وقت کے ایک مضمون کے مطابق محترمہ وقارالنساء نون کے سوا کوئی پرائم منسٹر، کوئی صدر، کوئی جرنیل، کوئی وزیر، مشیر، سفیر ایسا نہیں جو گوادر فتح کرنے کا یہ عظیم کریڈٹ لے سکے۔

سابق وفاقی سکریٹری اطلاعات رشید چودھری صاحب کہتے ہیں وہ “مادر مہربان” تھیں جو ہمارے ساتھ سگی ماں سے بھی بڑھ کر پیار کرتی تھیں انہوں نے گوادر ہمیں دلوایا، وہ گوادر جو آج ساری دنیا میں مرکزِ نگاہ ہے۔

سلام محترمہ وقارالنساء نون
سلام اے مادرِ مہربان

خدا تیری لحد پر ہمیشہ شبنم افشانی کرے

About Author

میں، لالہ صحرائی، ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: