بارکنگ ایٹ دی بیرکس —– لالہ صحرائی

0
  • 452
    Shares

گزارش ہے کہ ایسے ممالک جو اپنی طاقت کے بل پہ دنیا سے کوئی نفع اٹھانا چاہتے ہوں یا ایسے ممالک جو ایسی مفاد پرست طاقتوں سے اپنا تحفظ کرنا چاہتے ہوں وہ دونوں آج بھی اپنی اپنی ملیٹینٹ پراکسیز رکھتے ہیں، بلیک۔واٹر ٹائپ کارٹلز اور اسی نوعیت کی دیگر تنظیمیں کس کس کے پاس ہیں یہ سب کو معلوم ہے۔

ممبئی اٹیکس کے بعد ایک موقع پر ان کی قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول جو لاہور میں انڈین جاسوس اور سابق انڈین انٹیلیجنس چیف بھی رہ چکا ہے وہ اپنے ایک لیکچر میں یہ اعترافات کرتا ہے کہ پاکستان سے بدلہ لینے کیلئے اب ہمیں بلئین ڈالر کا فل اسکیل ملٹری ایکشن لانچ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ دنیا میں اسوقت ایسے کئی پرائیویٹ پراکسی۔ونگز دستیاب ہیں جنہیں ستر اسی کروڑ روپ دے کر جب چاہیں آپ پاکستان کیخلاف ایک بہترین ڈی۔سٹیبلائزیشن کمپین لانچ کر سکتے ہیں۔

لالہ صحرارئی

ممبئی اٹیک کے بعد یہ بھی امریکہ کی طرح ہمیں پتھر کے دور میں پہنچانے کی دھمکیاں دے رہے تھے، ایک طرف آئی۔ایس۔آئی چیف جنرل پاشا سے تفتیش کرنے کیلئے انہیں انڈیا طلب کیا جا رہا تھا تو دوسری طرف حافظ سعید صاحب کی حوالگی کا بھی مطالبہ کر رہے تھے جو ہم نے رد کر دیئے۔

ان کا پلان یہ تھا کہ پاکستان کو بلیک میل کرکے لشکر طیبہ کیخلاف ایک ملک گیر آپریشن لانچ کروایا جائے تاکہ طالبان کی طرح ایک اور مولوی طبقہ ریاست پاکستان اور عوام پر جوابی حملے شروع کر دے اور یہ جلدی برباد ہوجائیں۔

دشمن جب بپھرا ہوا ہو تو اسے حکمت سے ڈیل کر لینا بھی بڑی کامیابی ہوتی ہے، ہمیں پتا تھا کہ ممبئی اٹیک ان کا اپنا ہی سیلف فائنانسڈ پروجیکٹ ہے، اس کی تفتیش کرنے میں ہمیں کیا غم ہے لہذا وزارت داخلہ نے انڈیا سے انٹیلیجنس شئیرنگ کا مطالبہ کیا اور ایف۔آئی۔اے کو تفتیش سونپ دی جس کے نتیجے میں زکی الرحمان لکھوی کو گرفتار کرکے اسلام آباد کی اینٹی ٹیررسٹ کورٹ میں کیس داخل کر دیا گیا۔

یہ وہی کیس ہے جو اپنے ایک کالم میں سابق ڈی۔جی ایف۔آئی۔اے طارق کھوسہ صاحب نے اگست 2015 کے ڈان نیوز میں لکھا تھا، جس کے درج ذیل چھ پوائینٹس کل سے فیس بک کی بیشتر دیواروں پر “عصری ضرورت” کے تحت وہی سوالات لئے گھوم رہے ہیں جو ہمیشہ ایسٹیبلشمنٹ کے خلاف کارآمد ثابت ہوتے ہیں جبکہ کھوسہ صاحب کے باقی اہم ترین پوائنٹس یکسر نظرانداز کرکے صرف ان چھ پر رونا مچایا ہوا ہے:

1۔ اجمل قصاب واقعی پاکستانی شہری اور لشکر طیبہ کا تربیت یافتہ تھا۔

2۔ اس کی ٹریننگ سندھ میں لشکر طیبہ کے ٹھٹھہ کیمپ میں ہوئی۔

3۔ جس فشنگ ٹرالر پر دہشت گردوں کو ممبئی لے جایا گیا اس کا تعلق لشکر طیبہ سے ہے۔

4۔ کھلے سمندر سے ممبئی ساحل تک پہنچنے کیلئے جو بوٹ استعمال ہوئی اس کا انجن جاپان سے لاہور امپورٹ ہوا، وہاں سے کراچی گیا، کراچی سے لشکر طیبہ نے خریدا اور بوٹ بنائی۔

5۔ کراچی میں جس جگہ سے آپریشن کو کنٹرول کیا گیا اس کا ایڈریس بھی درست ثابت ہوتا ہے۔

6۔ ممبئی اٹیکس کا مرکزی لیڈر لشکر طیبہ کا ایک کمانڈر ہے جسے گرفتار کرلیا گیا یعنی لکھوی صاحب۔

یہاں یہ بات واضح کر دینا بہت ضروری ہے کہ کھوسہ صاحب نے اپنے اس کالم میں آئی۔ایس۔آئی، ایسٹیبلشمنٹ یا ریاست پاکستان کے کسی بھی ادارے پر دہشت گردوں کی سرپرستی کا قطعاً کوئی الزام نہیں لگایا بلکہ صرف اتنا کہا ہے کہ ممبئی اٹیک میں ملوث لوگوں کا تعلق چونکہ ہمارے ملک سے ثابت ہو جاتا ہے لہذا ہمارے ہاں سے دہشت گرد کارٹلز کا مکمل صفایا ہونا چاہئے ورنہ ہمیں آئے دن کسی نہ کسی کے سامنے یونہی جوابدہ ہوتے رہنا پڑے گا۔

یہ ایک معقول بات ہے اور اس کا معقول ترین جواب یہ ہے کہ جنرل ہارون اسلم سے لیکر جنرل قمر باجوہ تک پندرہ سال سے ہم اسی کام میں لگے ہوئے ہیں، ہزاروں قربانیاں دینے کے باوجود نہ فوجی قیادت پیچھے ہٹی ہے، نہ ہی فوج اور عوام کے حوصلے میں کوئی کمی واقع ہوئی ہے۔

اپنے کالم کے چوتھے پیرگراف میں کھوسہ صاحب نے یہ بات بھی انتہائی واضح انداز میں کہی ہے کہ انڈین گورنمنٹ کی طرف سے سمجھوتہ ایکسپریس کو جلائے جانے، بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی امداد کرنے اور انڈیا سمیت عالمی ایجنسیوں کی کراچی اور فاٹا میں دہشت گردی کی فائنانسنگ کو نہ صرف اقوام عالم کے سامنے کھل کر بےنقاب کرنا چاہئے بلکہ عالمی برادری کو اس کے ٹھوس ثبوت بھی پہنچانے چاہئیں۔

اور آخری بات یہ کہی کہ دونوں ممالک کے پاس بہترین تفتیشی پروفیشنلز موجود ہیں جو تمام متنازعہ امور کو بحسن خوبی سلجھا سکتے ہیں لہذا بلیم گیم کی بجائے اپنی اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنے اور پرامن ورکنگ ریلیشن شپ قائم کرنے کی سخت ضرورت ہے۔

یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ سمجھوتا ایکسپریس کو دوران سفر ایک حاضر سروس انڈین کرنل نے اپنی ٹیم کیساتھ منظم ایکشن کرکے جلا دیا تھا جس میں سینکٹروں پاکستانی مسافر شہید و زخمی ہوئے تھے، اس کرنل کے خلاف پاکستان کی طرف سے تفتیشی ثبوت مہیا کرنے پر انڈیا نے اسے صرف نوکری سے نکالنے پر اکتفا کیا جبکہ وہ اپنی ٹیم سمیت کیپیٹل پنشمنٹ کا حقدار ہے، یہ سوال اٹھانا کیوں نہیں بنتا؟

اب پیش ہیں ممبئی اٹیکس کی کچھ ہوشربا تفصیلات:

انڈیا نے سب سے پہلا یو ٹرن اس وقت لیا جب اسے بتایا گیا کہ اس حملے کا منتظم ایک پاکستانی نژاد امریکن ہے جس کا اصل نام سید داؤد گیلانی اور امریکن نام ڈیوڈ۔ہیڈلے ہے، یہ شکاگو کا رہنے والا اور بنگلہ دیش کی انتہاپسند تنظیم کا قریبی ساتھی ہے لہذا بنگلہ دیش کو بھی شامل تفتیش کرنا چاہئے مگر انڈیا نے اس مشورے کو رد کر دیا۔

ڈیوڈ ہیڈلے نے ہوم۔ورک کیلئے انڈیا کے درجنوں سفر کئے جس میں ٹارگیٹس کا انتخاب کرنا، ٹارگیٹس کے اندرونی و بیرونی نقشے اور ویڈیوز تیار کرنا، قصاب گروپ کے قیام و طعام کا انتظام کرنا، ٹیم کا آپس میں اور کنٹرول سینٹر میں بیٹھے ہینڈلرز کیساتھ دوہرا مواصلاتی رابطہ قائم کرنا جس کیلئے سہولت کاروں کے تھرو کلکتہ و یورپ سے سم کارڈز اور اسپین سے وائیوپ فون خریدنا شامل تھا۔

یہ بندہ یورپ کے کسی شہر میں بارودی حملہ کرنے کی پاداش میں شکاگو میں گرفتار ہوا اور اسی جرم میں وہاں چودہ سال کی سزا کاٹ رہا ہے، ممبئی اٹیک کیس میں اسے بھی سزا نہیں ہوئی۔

انڈیا نے دوسرا یو۔ٹرن اس وقت لیا جب اسے ممبئی شہر کے چالیس افراد کی لسٹ مہیا کی تھی ان میں سم کارڈ دلانے والے سے لیکر قیام و طعام کا انتظام کرنے والے، اسلحہ و بارود فراہم کرنیوالے سب سہولت کار شامل تھے مگر ان میں سے انڈیا نے ایک بھی نہیں پکڑا یا پھر ہمیں ان کی گرفتاری سے مکمل بے خبر رکھا تاکہ ہم ان سے تفتیش نہ کر سکیں۔

انڈیا نے تیسرا یو۔ٹرن اس وقت لیا جب انہیں یہ بتایا گیا کہ پاکستان کے کمانڈ سینٹر میں بیٹھ کر ممبئی اٹیکس کو کمانڈ کرنیوالا مین کیریکٹر بھی ایک انڈین شہری ہے جس کا نام زیب الدین انصاری ہے اور اس بندے کے بعض انڈین پارلیمینٹیرینز کیساتھ بہت قریبی تعلقات ہیں، ان میں سے ایک پارلیمینٹیرئین کے پاس یہ ممبئی اٹیکس سے کچھ دن قبل ٹھہرا بھی رہا ہے، ہمیں اس ایم۔پی سے تفتیش کرنے دیں مگر انڈیا نے ہمیں انکار کر دیا اور ایم۔پی سے خود تفتیش کی لیکن وہ انصاری کا واقف ہونے سے صاف مکر گیا۔

پھر چار سال بعد لشکر طیبہ کیلئے بھرتی کرنیوالی اپنی ویب سائٹ پر مشکوک لوگوں کی بڑھتی ہوئی ممبرشپ کی بنیاد پر سعودیہ میں انصاری کا ٹھکانہ ٹریس ہوگیا تو اسے انڈین پولیس لے گئی، وہ ابھی تک ان کے زیرحراست ہے مگر ہمیں اس بندے سے بھی تفتیش کرنے کی اجازت نہیں ملی حالانکہ ہمارا تفتیش کرنا اسلئے بھی ضروری تھا کہ یہ انڈین بندہ سعودی عرب میں پاکستانی پاسپورٹ پر کیسے گیا، پاکستان میں اس کی پہنچ اور لنکس کہاں تک ہیں مگر انڈیا نہیں مانا۔

انڈیا نے چوتھا یو۔ٹرن اسوقت لیا جب ایف۔آئی۔اے نے یہ کہا کہ معاملات کو صحیح طرح سے سمجھنے کیلئے ہمارا اجمل قصاب سے ملنا بہت ضروری ہے تاکہ کارٹل کے بارے میں تفصیلی معلومات اکٹھی کی جا سکیں مگر یہ درخواست ایک بار نہیں بلکہ متعدد بار رد کر دی گئی۔

اجمل قصاب جسے لشکر طیبہ کا جہادی کارکن بتایا جاتا ہے، اس کے ویڈیو بیان کے مطابق نماز اسے نہیں آتی اور اپنے جرائم کی معافیاں وہ بھگوان سے مانگ رہا تھا، یہ ایک اور عجیب معاملہ ہے۔

پانچواں یوٹرن اس وقت ہوا جب سیٹلائٹ فونز مہیا کرنیوالے جاوید اور امین اسپین سے گرفتار ہوئے، انہیں فنڈ ٹرانسفر کرنیوالے خان اور صادق اٹلی سے گرفتار ہوئے، ڈیوڈ ہیڈلے اور تصور حسین شکاگو میں گرفتار ہوئے۔

اس موقع پر رحمٰن ملک صاحب نے کہا کہ ہم ان گرفتار ملزموں سے تفتیش کرکے اس منی ٹریل کو سامنے لانا چاہتے ہیں جو اس پلاٹ پر یورپ سے خرچ ہوئی مگر اس مطالبے کو بھی ماننے سے انکار کر دیا۔

یہی بات انٹرپول کے سربراہ مسٹر رونالڈ نوبل نے بھی کہی تھی کہ انڈیا ہمارے ساتھ بامعنی معلومات شئیر کرنے سے گریز پا رہتا ہے۔

ممبئی اٹیک کی تفتیش میں بھی کچھ تضادات ہیں ان پر ایک نظر ڈالنا بھی اشد ضروری ہے:

ایف۔آئی۔اے کے مطابق اٹیکرز کی ٹریننگ سندھ کے شہر تھٹہ میں ہوئی۔

اجمل قصاب کے مطابق ان کی ٹریننگ کراچی کے علاقے عزیز آباد کے ایک مکان میں ہوئی۔

زیب انصاری کے مطابق اٹیکرز کی نارمل ٹریننگ مظفر آباد میں ہوئی، بوٹنگ کی ٹریننگ منگلا ڈیم میں اور کمانڈو ٹریننگ مانسہرہ میں ہوئی۔

کراچی سے ممبئی تک سفر کا حال یوں بیان ہوا ہے کہ انہوں نے انڈین علاقے سے ایک فشنگ ٹرالر پر قبضہ کیا، عملے کے ارکان کو قتل کرکے پھینک دیا اور کیپٹن کو گن پوائنٹ پر ممبئی چلنے کا کہا، ممبئی پہنچ کر کیپٹن کو بھی قتل کر دیا اور موٹر بوٹ کے ذریعے کنارے پر پہنچ گئے، وہی بوٹ جس کا انجن امپورٹ کیا تھا۔

اس سفر پر دو اہم سوالوں کا کوئی جواب نہیں ملتا، دنیا بھر سے امپورٹ کراچی میں آتی ہے لیکن موٹر بوٹ کا انجن جاپان سے لاہور آیا، وہاں سے کراچی گیا اور پھر لشکر نے خریدا، کہیں ایسا تو نہیں یہ امرتسر سے لاہور پہنچایا گیا ہو۔

فشنگ ٹرالرز ہمیشہ اینٹی سمگلنگ کوسٹ گارڈز کی نظر میں رہتے ہیں مگر یہ ٹرالر مانیٹر کیوں نہ ہوا، اگر اس نے گہرے سمندر کا روٹ لیا تھا تو بھی دوارکا اور ممبئی کے دو نیول بیسز کے سرویلئینس سسٹم سے کیسے اوجھل رہا۔

ان سب تفصیلات کے بعد گزارش ہے کہ آپ اگر اس کیس کے جج ہوں اور آپ کے سامنے گرفتار شدہ صرف ایک ملزم زکی الرحمان لکھوی ہو اور وکیل آپ سے تقاضا کرے کہ اسے سزائے موت دے دیں تو آپ کس ثبوت کی بنیاد پر سزائے موت دیں گے؟

اس بندے کے خلاف واحد دستیاب ثبوت یہ ہے کہ اجمل قصاب اور ڈیوڈ ہیڈلے نے بتایا کہ وہ کراچی کے کمانڈ سینٹر میں موجود تھا۔

عدالت تو گواہی اپنے روبرو مانگتی ہے، اس شرط کو پورا کرنے کے دو ہی راستے تھے کہ اجمل اور ڈیوڈ کو اسلام آباد سیشن کورٹ میں پیش کر دیا جاتا تو اس کی گواہی پر لکھوی کو سزائے موت ہوجاتی۔

یا پھر مخصوص حالات کے پیش نظر عدالت ایف۔آئی۔اے اور جوڈیشئل مجسٹریٹ پر مبنی ایک آئینی ٹیم کانسٹیٹیوٹ کرکے بھیجتی یا ایک جوڈیشئیل کمیشن تشکیل دے کر بھیجتی جو ان ممالک میں جا کر اجمل اور ڈیوڈ کا بیان اپنی نگرانی میں ریکارڈ کرکے عدالت میں بطور قانونی گواہی پیش کر دیتے تو مجرم کا فیصلہ ہو جاتا۔

لیکن ہم یہ بات اوپر بیان کر چکے ہیں کہ رحمٰن ملک صاحب کی متعدد گزارشات کے باوجود ہمارے تفتیشی اہلکاروں کو کسی ایک ملزم سے بھی ملنے نہیں دیا گیا۔

اجمل قصاب آج موجود ہوتا تو وہ انڈیا، پاکستان اور امریکہ کی عدالتوں میں پیش ہو کر یہ بتا سکتا تھا کہ وہ ایک قاتل ہے اور مسٹر انصاری، لکھوی اور ڈیوڈ بطور کمانڈرز اس کیساتھ شریک جرم تھے، اس بیان پر تینوں ملزموں کے وکلاء قصاب پر جرح کرتے تاکہ اسے جھوٹا ثابت کرکے اپنے موکلین کو بچا سکیں، لیکن جب وہ قصاب کو جھوٹا نہ کر پاتے تو تینوں ملزموں کو سزا ہو سکتی تھی۔

اب دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ مسٹر انصاری، لکھوی اور ڈیوڈ رضاکارانہ طور پر اپنی اپنی عدالتوں میں اقبال جرم کرلیں اور پھانسی پر چڑھ جائیں لیکن اس بات کا کوئی امکان نہیں۔

انصاری، لکھوی یا ڈیوڈ میں سے کسی ایک کو وعدہ معاف گواہ بننے کا لالچ دے کر باقیوں دو کو پھانسی لگوانے کیلئے بھی وعدہ معاف گواہ کو وکلاء صفائی کی جرح کا سامنا کرنا پڑے گا، لہذا یہ بھی ایک مشکل کام ہے۔

جب یہ سب کچھ ممکن نہ ہوا تو لشکر طیبہ کے گرفتار شدہ ملزم زکی الرحمان لکھوی کو مسلسل چھ سال تک زیر حراست رکھنے کے بعد اسلام آباد کورٹ نے ضمانت پر رہا کر دیا۔

یہ ساری صورتیں صرف اسلئے بیان کی ہیں کہ اس کیس میں ڈیڈ۔لاک کی اصل وجوہات آپ کی سمجھ میں آجائیں کہ کیس ہم نے نہیں لٹکا رکھا بلکہ ایکچؤلی انڈیا ہیز مسڈ اٹ نانسینسلی۔

اب کھسیانی بلی کی طرح انڈیا نے ایک اور فرمائش کی کہ ہمارے پاس امریکہ کی فراہم کردہ مواصلاتی گفتگو کی ریکارڈنگز ہیں ان میں لکھوی کی آواز بھی ہے لہذا اس بنیاد پر اسے سزا دلوا دی جائے۔

حقائق کو ڈسکس کرتے ہوئے جس کے الفاظ زبانِ حال سے دنیا کو یہ دعوت دے رہے ہوں کہ پلیز آگے آئیے اور ہماری بیرکس پر دل کھول کر بھونکیئے، ایسے بندے کو کیا کہنا چاہئے یہ عدالت عالیہ نے پہلے ہی تین بار بتا رکھا ہے

ہم نے اس معصومانہ فرمائش پر بھی عدالت کو درخواست دی کہ ہمیں مجرم کی آواز ریکارڈ کرکے اس مواصلاتی ریکارڈ سے میچ کرکے بطور قابل قبول گواہی پیش کرنے کی اجازت دی جائے، اس پر عدالت نے کہا کہ اگر ملزم اس بات پر راضی ہے تو عدالت کو کوئی اعتراض نہیں لیکن اگر ملزم اس بات پر راضی نہیں تو عدالت کو ایسی گواہی قبول نہیں ہوگی، چنانچہ ملزم سے پوچھا گیا لیکن اس نے انکار کر دیا۔

اس انکار کی ایک وجہ یہ ہے کہ کسی حادثے کا ذمہ دار تلاش کرنے کیلئے آڈیو ویڈیو یا سی۔سی۔فوٹیج کو مجرم کی شناخت اور تفتیش کیلئے سیڑھی تو بنایا جا سکتا ہے مگر ان ٹیپس کو عدالت میں بطور قابل قبول شہادت پیش نہیں کیا جا سکتا کیونکہ لاء اف ایویڈینس یا قانون شہادت کا اپنا ایک آئینی دائرہ کار ہے اس میں سب کچھ طے شدہ ہے کہ کونسی چیز کس حساب سے قانونی طور پر قابل قبول گواہی تسلیم کی جائے گی۔

دوسری وجہ یہ کہ صوتی اثرات اور فوٹیج اگر اتفاقیہ طور پر کسی سے مل جائے یا مشین سے کسٹومائز کرکے ملا دی جائے تو بے بنیاد طور پر ملزم کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہوتا ہے جو قرین انصاف نہیں۔

تیسری وجہ یہ کہ جب ایک فیصلہ کسی بنیاد پر ہو جاتا ہے تو وہ لاء جرنلز کا حصہ بن جاتا ہے اور آئیندہ سیمیلر کیسز میں بطور قانونی دلیل استعمال ہوتا ہے، اگر آڈیوٹیپ سے آواز کی مماثلت کی بنیاد پر ملزم کو سزا مل جاتی تو یہ ایک قانونی دلیل بن جاتی جو ابھی تک دنیا میں کہیں نہیں ہے، پھر چل سو چل کسی کی آواز میں بھی ڈبنگ کرکے بندے پھاہے لگواتے جاؤ کوئی نہیں روک سکتا۔

اس کے باوجود عدالت نے اس فرمائش کو اپنے طور پر ریجیکٹ نہیں کیا بلکہ ملزم کی رضامندی کیساتھ مشروط کر دیا جو ملزم کا آئینی حق تھا، ملزم نے اس بات سے انکار کر دیا اور عدالت نے کیس بند کر دیا۔

ریاست پاکستان کا انڈیا کیساتھ خلوص پھر بھی کم نہیں ہوا بلکہ ایف۔آئی۔اے نے سیشن کورٹ کے فیصلے کیخلاف ہائیکورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے جو چار پانچ سال سے پینڈنگ ہے۔

علاوہ ازیں ایک کیس اور بھی پینڈنگ ہے جو ممبئی اٹیک کے دو سال بعد مقتولین کے عزیز و اقارب نے آئی۔ایس۔آئی چیف جنرل پاشا کیخلاف امریکہ کی ایک عدالت میں داخل کر رکھا ہے۔

پاکستانی عدالت میں پینڈنگ پڑا کیس اگر پاکستان کی بدنیتی ہے تو پھر امریکی عدالت میں پینڈنگ پڑا کیس کس بات کی علامت ہے؟

گزارش ہے کہ ممبئی اٹیک ایک حقیقت ہے مگر اس کے باوجود ہئیر۔اینڈ۔سے یعنی کہی سنی باتیں قانونی دلائل کے مصداق نہیں ہوتیں، اپنا کیس ثابت کرنے کیلئے قانونی دلائل درکار ہوتے ہیں اور مجرم کو سزا دلوانے کیلئے معصومانہ خواہشات کی بجائے قانونی ثبوت فراہم کرنا پڑتے ہیں، آپ ان دو چیزوں کا اہتمام کر لیں تو اسلام آباد ہائیکورٹ سے لکھوی کو اور امریکن عدالت سے جنرل پاشا کو سزا ہو سکتی ہے ورنہ کچھ نہیں ہو سکتا۔

اب قصہ یوں ہے کہ وہ جرنیل اور اسٹیٹسمین جو “بعض۔حقائق” کا اعتراف کرنے کے باوجود غدار کہلانے کے مستحق نہیں ہوتے وہ دراصل ان حقائق کو اسی طرح سے تسلیم کرتے ہیں جس طرح سے اس مضمون میں ممبئی اٹیکس کو ایک حقیقت تسلیم کیا گیا ہے اور ساتھ ہی وہ ان حقائق کو یوں annul کر دیتے ہیں جیسے اس مضمون میں انڈیا کے سب تقاضے annul ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں اور نتیجۃً ریاست پاکستان اور اس کے اداروں پر انگلی اٹھانے کا کوئی جواز باقی نہیں بچتا۔

لہذا ہر وہ بات کہنے والا جس کی بات کو پکڑ کر کوئی بھی ریاست پاکستان اور اس کے اداروں پر کیچڑ نہ اچھال سکے وہ قابل مواخذہ نہیں۔

البتہ حقائق کو ڈسکس کرتے ہوئے جس کے الفاظ زبانِ حال سے دنیا کو یہ دعوت دے رہے ہوں کہ پلیز آگے آئیے اور ہماری بیرکس پر دل کھول کر بھونکیئے، ایسے بندے کو کیا کہنا چاہئے یہ عدالت عالیہ نے پہلے ہی تین بار بتا رکھا ہے۔

اینجوائیز

About Author

میں، لالہ صحرائی، ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: