یہ صرف نواز شریف نے کیا ہے ۔ محمودفیاض

0
  • 46
    Shares

یہ صرف نواز شریف نے کیا ہے۔ محمودفیاضؔ

جن احمقوں کو لگتا ہے کہ نوازشریف نے کوئی کارنامہ سرانجام دیا ہے جس کی وجہ سے سب چیخ رہے ہیں، مجھے یقین ہے ان میں سے کسی کوئی بھی دہشت گردی کے گرے لسٹ، انڈین پروپیگنڈے کی صلاحیت، امریکہ کے خطے میں عزائم، اور مغربی دنیا کی دہشت گردی کے نام ہی سے مخالفت کا رتی بھر بھی اندازہ نہیں ہوگا۔

وہ (احمق) جس کو مرغوں کی لڑائی سمجھ کر قہقہے لگا رہے ہیں، انکو اندازہ بھی نہیں کہ نواز شریف کا یہ قدم انتخابی لڑائی یا عمران خان کی مخالفت نہیں ہے، یہ ملکی سالمیت کے خلاف ایک بہت بڑی تباہی کا پیغام ہے۔ اور انڈیا نے اگر اس معاملے کو صحیح طریقے سے دنیا کے سامنے کیش کیا، جو کہ وہ بالکل کرے گا، تو پاکستان کو دہشتگرد ممالک کی لسٹ میں نہ صرف شامل کیا جاسکتا ہے بلکہ اس پر اقتصادی پابندیاں بھی لگائی جا سکتی ہیں۔ وہ بھی ایسے وقت میں جبکہ بھاری قرضوں کی ادائیگی اس کے سر پر آن کھڑی ہے۔ مگر تماشا دیکھنے والوں کو اس سے کیا، شائد انکے خیال میں کھیل تماشا بنا دینے سے ہم اس انجام سے بچ پائیں گے۔

اس وقت دنیا میں ساکھ بنانے میں دہائیاں لگتی ہیں، جبکہ کسی ایک غلطی سے برسوں کی ساکھ خاک میں ملتے دیر نہیں لگتی۔ انڈیا نے مسلسل پروپیگنڈے، اور اپنی خارجہ پالیسی کے بدولت امریکہ اور دیگر اتحادی ممالک پر اپنی ساکھ ثابت کر دی ہے۔ وہ دہائیوں سے اس مشن پر لگا ہوا ہے کہ پاکستان کو ایک دہشتگرد ملک ثابت کر سکے۔ اس کے لیے اس ممبئی حملوں جیسا ڈرامہ بھی رچایا۔ حافظ سعید اور داؤد ابراہین کی مثالیں لے کر انڈین لابیز پوری دنیا پر یہ ثابت کرنے میں لگی ہوئی ہیں کہ پاکستان دہشتگرد ملک ہے۔

جس وقت مشرف نے بش کی کال پر دہشتگردی کی جنگ میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا تھا، اس وقت اگر کسی کو سب سے زیادہ تکلیف ہوئی تھی تو وہ انڈیا تھا۔ کیونکہ اگر پاکستان امریکہ کی بات نہ مانتا تو انڈیا اپنے اڈے اور تعاون پیش کر کے امریکہ سے فوائد بھی لیتا اور پاکستان کو دہشتگردوں کے ساتھ شامل کر کے اسکی اینٹ سے اینٹ بھی بجا دیتا۔ مگر مشرف کے فیصلے نے انڈیا کے عزائم خاک میں ملادیے اور اگلی دہائی میں پاکستان دہشتگردی کے خلاف اپنی ساکھ قائم کرنے میں کامیاب رہا اور دنیا یہ ماننے پر مجبور ہوگئی کہ پاکستان دہشتگرد ملک نہیں بلکہ دہشتگردی کا شکار ایک ملک ہے۔

انڈیا کے لیے پاکستان کی یہ ساکھ قابل قبول نہیں ہے، کیونکہ وہ اپنے علاقے کا تھانیدار بننا چاہتا ہے، اور اسکے لیے ضروری ہے کہ اسکی تھانیداری کو چیلنج کرنے والا کوئی نہ ہو۔ یہ تبھی ممکن ہے جب امریکہ و دیگر اتحادی ممالک سے پاکستان کا رابطہ ختم ہو جائے۔ انڈین خارجہ پالیسی کی کامیابی یہ ہے کہ انہوں نے پاکستان کے دوست عرب ممالک میں بھی پاکستان سے بڑھ کر اپنی پوزیشن مستحکم کر لی ہے۔ سعودیہ، امارات، قطر، ہر ملک سے انڈیا کی تجارتی مراسم تو تھے ہی، اب اس سے بھی زیادہ باہمی تعاون ہونے جا رہا ہے۔
جبکہ دوسری طرف نواز شریف نے پچھلے پانچ سال میں کوئی باقاعدہ وزیر خارجہ بھی نہیں بنایا، بلکہ اس عہدے کو بھی اپنے پاس رکھ کر عملاً پاکستان کی خارجہ پالیسی کو پانچ سال کے لے معطل کیے رکھا۔ جس کا نقد نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان رفتہ رفتہ دنیا میں تنہا ہوتا گیا۔

اس وقت عالم یہ ہے کہ چائنہ ، ترکی، اور سعودیہ کے ساتھ کچھ ضروری روابط کے علاوہ دنیا میں باقی کسی ملک سے پاکستان کے ایسے تعلقات نہیں ہیں کہ جن پر مشکل وقت میں بھروسا کیا جا سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ دہشتگردی کی گرے لسٹ میں شمولیت کے معاملے میں بھی سعودیہ اور چائنہ عین وقت پر پیچھے ہٹ گئے اور صرف ترکی پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا۔

تو دوستو! ایسے وقت میں ایک ایسے شخص کا ، جو پاکستان کے اعلی ترین عہدے پر دس سال سے زیادہ عرصہ رہا ہو، پاکستان کے اداروں کے بارے میں واضح طور پر یہ کہنا کہ وہ دہشتگردی کی ایسی وارداتوں میں ملوث ہیں ، پاکستان کو کیسی کیسی مشکلات کا شکار کر سکتا ہے۔ انڈیا کے پچھلے بیس سال کے پروپیگنڈے کو نواز شریف کے اس ایک بیان سے وہ طاقت ملی ہے کہ وہ خوشی سے اچھل رہے ہیں۔ بقول حامد میر، اسلام آباد میں موجود انڈین صحافیوں کی بغلوں سے خوشی کی ہنسی نکل رہی ہے، اور وہ حامد میر جیسی صحافیوں سے پوچھتے پھر رہے ہیں کہ یہ نواز شریف کو کیا ہوگیا ہے، یہ تو ہماری زبان بولنے لگ گیا ہے۔

قصہ مختصر، نواز شریف نے یہ بیان دے کر پاکستان کو تاریخی طور پر ایک مشکل سے دوچار کردیا ہے۔ جو لوگ نواز شریف کے اس بیان کو دیگر کئی لوگوں کے فوج سے متعلق تنقیدی بیانوں سے ملا کر ثابت کر رہے ہیں کہ نواز شریف نے تو محض ایک سچ بولا ہے، میرا خیال ہے وہ کیلے اور سیب کو ایک ثابت کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ کسی فوجی جرنیل کا جنگی چال کو ڈیفنڈ کرنا، یا کسی اپوزیشن لیڈر کا ملکی اداروں پر تنقید کرنا اور بات ہے۔ عمران خان کے جن فوج مخالف بیانات کے کلپس نون لیگ والے شئیر کر رہے ہیں ان میں بھی عمران خان فوجی پالیسی پر اندرونی آپریشنز کے معاملے میں تنقید کرتا نظر آتا ہے۔ مگر کسی دوسرے ملک میں کسی دہشتگردی کی کارروائی کے بارے میں نام لے کر قبول کرنا کہ یہ ہمارے اداروں نے سپورٹ کیا ہے، یہ صرف اور صرف نواز شریف نے کیا ہے۔

About Author

محمودفیاض بلاگر اور ناول نگار ہیں۔ انکے موضوعات محبت ، زندگی اور نوجوانوں کے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ آجکل ایک ناول اور نوجوانوں کے لیے ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اپنی تحریروں میں میں محبت، اعتدال، اور تفکر کی تبلیغ کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: