پر تشدد سیاست ملک و قوم کے مفاد میں نہیں — رئیس احمد صمدانی

0
  • 14
    Shares

عام انتخابات جیسے جیسے قریب آتے ہیں، سیاسی موسم میں گرمی، تیزی یہاں تک کہ سیاست پر تشدد ہوجاتی ہے، اخلاقیات کی حدود پار کی جانے لگتی ہیں، سیاست زبانی جملے بازی، الزام تراشی، یہاں تک کہ گالم گلوچ سے بڑھ کر چہرے کالے کرنے، مخالفین پر جوتا اچھالنے، ہاتھا پائی، مار دھاڑ کے بعد نوبت گولی تک جا پہنچتی ہے۔ کیا سیاست اسی چیز کا نام ہے؟ اس کا ذمہ دار کون ہے؟ سیاست داں یا کوئی اور، یقینا پر تشدد حالات پیدا کرنے میں لیڈروں کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، وہ اپنے ورکرز کو جس طرف بھی لے جانا چاہتے ہیں لے جاتے ہیں۔ میاں نواز شریف کے تیسرے اقتدار کے کوئی سال جیسے تیسے گزر گئے لیکن آخری سال ان کے اقتدار کو پھر نظر لگ گئی اور وہ عدالتی فیصلے کے نتیجے میں وزارت اعظمیٰ سے نا اہل قرار پائے۔

یہیں سے سیاست میں پھونچال آگیا، ویسے تو عمران خان نے اپنے دھرنوں سے سیاسی فضاء کو گرمایا ہوا تھا، ڈاکٹر طاہر القادری نے بھی سیاست میں ہل چل مچائی، تھوڑی بہت جو کثر باقی تھی ماڈل ٹاؤن واقع نے پوری کردی۔نواز حکومت ہچکولے کھاتی دکھائی دے رہی تھی۔ اچانک پاناما لیکس کے نتیجے میں میاں نواز شریف کا وزارت اعظمیٰ سے ناہلی نے ملکی سیاست میں ہل چل مچا، میاں صاحب کے گمان میں بھی نہیں تھا کہ ان کی تیسری مرتبہ کی وزارت اعظمیٰ بھی ادھوری رہ جائے گی اور وہ اس مرتبہ بھی اپنے اقتدار کی مدت پوری نہ کرسکیں گے۔ انہوں نے اپنے خلاف ہونے والے عدالتی بحران سے نمٹنے کا جو منصوبہ بنایا اس میں زبانی تشدد کا عنصر نمایاں دکھائی دیا، یعنی عدالتی فیصلہ پر عمل کرنا لیکن عدالت سے باہر میڈیا پر عدالتی فیصلوں پر کڑی تنقید نے سیاست کو پر تشدد بنا دیا۔نون لیگ کے لیڈروں نے اداروں کے خلاف سخت زبان استعمال کی، ا س کے اثرات سیاسی جماعتوں کے ورکرز پر بھی پڑے انہوں نے مخالفین کے خلاف سخت رویہ اختیار کیا۔ میاں صاحب تو متاثر ہ فریق تھے، ان کا آپے سے باہر ہوجانا بنتا تھا، وزارت اعظمیٰ کا تیسری مرتبہ ہاتھ سے نکل جانا، افسوس کی بات تو تھی، وجوہات خواہ کچھ بھی رہی ہوں۔ دیگر بڑی سیاسی جماعتوں نے بھی عقل مندی کا ثبوت نہیں دیا، وہ بھی سخت سے سخت زبان استعمال کرتے رہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سخت زبان کے اثرات ورکرز پر اس طرح پڑے کہ وہ پر تشدد ہوگئے۔ متعدد واقعات رونما ہوئے، کارکن زخمی ہوئے۔ میاں صاحب کی پہلی نا اہلی سے جو سیاسی کھیل شروع ہوا ساری اخلاقیات، ادب و آداب کو بالائے طاق رکھ کر سیاسی جلسوں اور پریس کانفرنسز میں لعن طعن کا سلسلہ شروع ہوگیا جس کا انجام پہلے ورکرز کے مابین تصادم اور پھر گولی چلانے پر پہنچ گیا۔

ابتدا سیاسی جلسوں میں مخالفین کے لیے غلیظ زبان کے استعمال سے ہوئی، دونوں جانب سے اس کا استعمال کیا جارہا تھا۔ لیکن نواز شریف کے پیادو تمام حدود سے تجاوز کر گئے، اسحاق ڈار، پرویز رشید، عابد شیر علی، خواجہ سعد رفیق، دانیال عزیز اور انتہا کراچی کے نہال ہاشمی نے اپنے نااہل قائد کے واری قربان جانے میں عدالت کی ایسی توہین کی کہ اپنی سینیٹر کی نشست، پانچ سال کے لیے نہ اہل اور ایک ماہ کی قید ان کا مقدر ٹہری، قید کاٹ کر باہرآئے تو سبق سیکھنا تو دور کی بات تھی وہ تو ایسے جیل سے باہر نکلے جیسے شیر کئی دنوں سے اپنے شکار کی تلاش میں ہو اور اسے شکار مل گیا ہو۔ وہ جوش سے ہوش کی جانب آنے کے بجائے وہی جوشیلی اور بیہودگی والی ڈگر پر قائم دائم نظر آئے، دوسری مرتبہ پھر توہین کی اور عدالت نے طلب کیا تو بکری بنے ہاتھ جوڑتے نظر آئے۔ ایسی سیاست کس کام کی جس میں عزت تار تار ہوجائے۔ نواز شریف کے دیگر پیادے جو توہین عدالت کے مرتکب ہوچکے اور عدالت انہیں طلب کرچکی، معزز ججز کے سامنے تحریری مافی مانگتے، توبہ تلا کرتے دکھائی دے رہے ہیں لیکن زبان وہی بیہودہ، ناشائستہ، لغو، غیر مہذب رویے اور فضول گوئی، ھرزہ سرائی سے باز نہیں آرہے۔اس کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ لیڈر اپنی سرشت، اپنی خو نہیں بدلے گا، وہ اپنی زبان کو لگام نہیں دے گا، میاں صاحب تو میاں صاحب ان کی صاحبزادی دو ہاتھ آگے دکھائی دے رہی ہیں۔ انہیں دیکھ کر ان کے پیادے بھلا کیسے پیچھے رہ سکتے ہیں۔ ایک سیر تو دوسرا سواسیر دکھائی دیتا ہے۔ گویا مقابلے کی فضا ہے۔ بات تقریروں میں بد کلامی، بیہودگی، لغویت، خرافات اور بازاری زبان کے استعمال تک محدود نہی رہی بلکہ اس سے بھی چار قدم آگے اس حد تک بڑھ گئی کہ بھری محفل میں لیڈروں پر جوتے اچھالے جانے لگے، چہرے سیاہی سے کالے کیے جانے لگے۔ ویسے تو سیاست دانوں اور لیڈروں پر جوتے اچھالنا، منہ کالا کرنا کوئی نئی بات نہیں ماضی میں پاکستان میں اور کئی ممالک میں ایسا ہوتا رہا ہے۔ خواجہ محمد آصف پر دوران تقریر بھرے جلسے میں منہ پر سیاہی پھینکی گئی۔ سیاہی کے بعد جوتے چلنے لگے، عمران خان پر کوشش کی گئی لیکن میاں نواز شریف نہ بچ سکے۔ یہ کوئی اچھا عمل نہیں، کوئی بھی اسے اچھا کہنا تو دور کی بات جس قدر سخت الفاظ میں اس کی مذمت کی جائے کم ہے۔ یہ طرزِ سیاست کسی طور بھی مناسب نہیں، سیاست میں مخالفت کا ہر گز مطلب ایک دوسرے کی تذلیل نہیں ہونا چاہیے۔سیاسی لیڈروں کو الفاظ اور جملوں کا استعمال سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔ اگر آپ کسی کے لیڈر کو بازاری زبان سے مخاطب کریں گے، غلط زبان استعمال کریں گے، ناشائستہ الفاظ استعمال کریں گے۔ یہاں تک کے فحش قسم کی گالیاں ہمارے لیڈر بھرے مجمع میں دیں گے، تو اس کے اثرات کیا ہوں گے۔ کیا ہم جواب میں وہی کچھ نہیں پائیں گے۔ یہی کچھ ہماری سیاست میں ہورہا ہے۔ اس عمل کا تدارک کیسے ہوگا اور کون کرے گا؟اب بات اس سے آگے چلی گی، وزیر داخلہ احسن اقبال پر نذدیک سے گولیاں برسائی گئیں، ملک کا وزیر داخلہ اپنے ہی آبائی شہر میں تشدد کا نشانہ بن سکتا ہے تو پھر کون محفوظ رہ سکے گا۔

ادھر کراچی میں سابقہ کئی برسوں سے اقتدار میں رہنے اور طاقت کا مظاہرہ کرنے والی سیاسی جماعت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئی، کئی ٹکڑے سامنے آچکے، نہیں معلوم کتنے اور ٹوٹیں گے اور علیحدہ ہوں گے، یہ چھوٹے چھوٹے گروپس اور ان کے اپنے اندر اختلافات کی جو صورت حال ہے اس سے اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ اس سیاسی جماعت کا مستقبل کیا ہے۔متحدہ کے ٹوٹ پھوٹ سے کراچی لاوارث دکھائی دیا تو دیگر سیاسی جماعتیں دوڑ پڑیں اس خلا کو پر کرنے کے لیے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے متحدہ کے گڑھ لیاقت آباد میں جلسہ کیا، بلاول نے متحدہ کے خوب لتے لیے، پیپلز پارٹی نے سابقہ تیس سال میں ایسی بہادری نہیں دکھائی تھی جو اب دکھائی۔ تحریک انصاف تیسری بڑی سیاسی جماعت کے طور پر سامنے آرہی ہے۔ اس کی بھی بھر پور کوشش ہے کہ کراچی کو اپنے قابو میں کرلے۔ لیکن تحریک انصاف کی کراچی کی مقامی لیڈر شپ اتنی متحرک اور فعال ثابت نہیں ہوسکی۔ کچھ کمی ضرور ہے ورنہ کراچی کو قابو کرنے کا اس سے اچھا موقع شاید پھر نہ آئے۔ خلا کو پر کرنا اپنی جگہ تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے ورکرز تشدد کی راہ پر چل پڑے۔ سیاسی تدبر اورسوجھ بوجھ کا اندازہ اس بات سے لگا یا جاسکتا ہے کہ دونوں جماعتوں کے مقامی لیڈر اس بات پر جھگڑ رہے تھے کہ دونوں نے ایک ہی مقام’ حکیم محمد سعید گراؤنڈ‘ گلشن اقبال میں اپنے سیاسی جھنڈئے گاڑنا ہیں، اتنا بڑا کراچی، اگر متحدہ کے گھر کے نذدیک ہی اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنا مقصد تھا تو اور بہت سی جگہیں تھیں، حکیم محمد سعید گراؤنڈ کے سامنے روڈ کے اس پار بڑا میدان خالی پڑا ہے ایک گروہ وہاں اپنی سیاسی قوت کا مظاہرہ کر لیتا، نہیں ورکرز کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا دونوں سیاسی جماعتوں کی مقامی قیادت نے۔ نتیجہ آپس میں گتھم گتھا ہوگئے، تشدد ہوا، ایک سیاسی جماعت کے مقامی لیڈر پر دوسری جماعت کے ورکرز کی جانب سے۔ مقدمہ قائم ہوچکا جس میں مقامی لیڈروں کے نام ہیں، ایک سیاسی جماعت کے کئی کارکن گرفتاربھی ہوئے، پیپلز پارٹی کی سندھ میں حکومت ہے اس لیے نظر کچھ یوں آیا کہ انہیں پولیس نے تحفظ دیا، ان کے کسی ورکر کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے سیاسی، مذہبی نظریات سے اختلاف کیا جاسکتا ہے، اس کے عمل سے بھی اختلاف کی گنجائش موجود ہے لیکن اس کی حیثیت اپنی جگہ ہے، اگر وہ مخالف گروہ کے تن تنہا ہتھے چڑھ گیا اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی دھنائی لگا دی جائے، کل یہ عمل آپ کے کسی لیڈرکے ساتھ ہوسکتا ہے، یہ تو کسی بھی اعتبار سے مناسب نہیں، افسوس یہ بھی کہ دونوں جماعتوں کے سر کردہ لیڈروں نے اس عمل کی مذمت نہیں کی۔ کراچی میں تشدد کے واقعات ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کو چاہیے کہ وہ حالات کو تشدد کی جانب جانے سے روکیں۔

جیسے جیسے انتخابات کی تاریخ نزدیک آئے گی سیاست میں گرمی کا پیدا ہونا لازمی ہے، دانشمندی اسی میں ہے کہ سیاسی جماعتوں کے لیڈر سیاسی فضاء کو تشدد کی جانب نہ جانے دیں۔ پرتشدد سیاست ملک و قوم اور کسی بھی سیاسی جماعت کے حق میں نہیں۔ (12مئی2018)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: