جوہری معاہدہ کی منسوخی، ایران مشرق وسطیٰ میں تنہا : محمد عنصر عثمانی

0
  • 10
    Shares

ریڈ اسکوئر پریڈ پر ہزاروں فوجیوں کی شرکت، ماہرانہ تربیت کا مظاہرہ، جدید فوجی ساز و سامان کی نمائش اور آج کے دن کو موت و بربریت کے مقابل اپنی عقل کی جیت قرار دینا ہمیں انسانیت کے لیے باعث شرم لگ رہا تھا۔ یہ دن ہر سال منایا جاتا ہے۔ آج بھی یہ دن اسی مناسبت منایا جا رہا تھا۔ اورہم اس دن سے گزرے پہلے کئی دنوں کی گودوں میں خون کے دریا دیکھ رہے تھے۔ کیوں کہ یہ دن انسانیت کے ساتھ ظلم و بربریت کی شکل میں تاریخ کے ایک بہت بڑے المیے کی یاد ہے۔ لہذا اسے اپنی جیت تو کہا جا سکتا ہے، لیکن مؤرخ اس دن کو تاریخی حیثیت یوں نہیں دے گا، کہ اس کے پیچھے نفرت و آگ کے دریا ہیں۔ 9 مئی 1945 کا یہ دن نازیوں کے لیے بڑا قابل فخر دن ہے۔ اس دن کو جرمنی کی فوج نے دوسری جنگ عظیم ہاری تھی۔ اور نازیوں کے سامنے ہاتھ کھڑے کر لیے تھے۔ یہ جرمنی کی شکست تو تھی ہی مزید جنگ کے شعلوں کو ہوا دینے کور وکنے کی جرمنی کی تحسینی کاوش بھی تھی۔ 9مئی کے دن کو ماسکو ’’یوم الفتح‘‘ کہہ کر مناتا ہے۔ اور اس فتح کو اپنی اعلیٰ عقل کی نشانی،اور تدبیروں میں بہترین تدبیر کے مشابہ کہتا ہے۔ دوسری صورت میں اگر اس دن کو منانے کی خوش فہمی بحیثیت نازی قوم دیکھا جایے تو 9 مئی کو ’’یوم الفتح‘‘ منانا روسی ریاست کا ذاتی فعل تو ہوسکتا ہے،لیکن تجزیاتی طور پر یہ وقت روس کے لیے خوشیاں منانے کا نہیں بل کہ مشکلات کا ہے۔

شامی جنگ میں روس کی مداخلت اور ایران سے دیرانہ تعلقات عالمی سطح پر روس کے لیے کڑا امتحان ہیں۔ اب جب کہ امریکہ جوہری معاہدے کی منسوخی کے بعد عالمی برادری کو ایران سے متنفر کرنے کی کوششیں کررہا ہے،روس نے ایران سے کوئی غم خواری نہیں کی۔ اور اس پر مستزاد کہ اسرائیل جو ایران کی گولان کی پہاڑیوں پر باز کی نگاہ لگائے بیٹھاتھا،وہ بھی اس جنگ میں کود پڑا ہے۔ تادم تحریراسرائیلی فورسز نے گولان کی پہاڑیوں پر موجود ایرانی تنصیبات کو تباہ کر دیا ہے۔ صیہونی فورسز کی کشوہ کے علاقے میں 9 ایرانی فوجیوں کی ہلاکت سے دونوں ملکوں کے درمیان صورت حال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔ یہ حملے اور ایران اسرائیل کشیدگی ایسے وقت میں ہورہی ہے، جب صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم سے کیا گیا وعدہ پورا کرتے ہوئے ایرانی جوہری معاہدے سے دستبردار ی کا اعلان کردیاہے۔ یاد رہے کہ مسٹر ٹرمپ نے اپنے دورہ ا سرائیل کے دوران اس معاہدے کو ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ امریکہ اسرائیل کے لیے کتنا خیر خواہانہ جذبات رکھتا ہے۔ صدرٹرمپ کا ایرانی جوہری معاہدے سے علیحدگی کا فیصلہ اپنی قو م سے بھی کیا گیا دوسرا وعدہ ہے جسے انہوں نے کسی کو خاطر میں نالاتے ہوئے پورا کیا۔ اس سے پہلے امریکی سفارت خانے کی تل ابیب سے بیت المقدس منتقلی کا اعلا ن کرکے بھیقوم سے کیا گیا اپنا وعدہ پورا کر چکے ہیں۔

ایران کے لیے مقام فکر ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں تنہائی کا شکار تو تھا ہی،عالمی سطح پر بھی اسے بے یارو مدد گار کر دیا گیا۔ ایران اس پر بھی اپنے نظریات کی تجدید کرے کہ اس کے شامی جنگ کے اتحادیوں کی بے رخی اشارۃََ اس منظر نامے کا صحیح عکس ہے،کہ وہ اس سے مفاد کی حد تک یارانہ رکھتے ہیں۔ روس کبھی بھی نہیں چاہے گا کہ وہ ایران امریکہ تعلقات کی کشیدگی میں ٹانگ اڑائے۔ گزشتہ کئی برسوں سے مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام پھیلانے میں ایران نے ہر اول دستے کا کردار نبھایا ہے۔ خصوصاََ مسلم خطوں میں طاغوتی طاقتوں کی راہیں ہموارکرکے مسلم ممالک میں خون کی ہولی کھیلی گئی،اور عرب ممالک کی اینٹ سے اینٹ بجوا دی گئی۔ مسلم ممالک میں سیاسی، اقتصادی، اور جمہوری عمل کو توڑنے میں ایران نے اپنے تائیں بہت زور لگایا۔ سعودی عرب میں دہشت گرد کاروئیاں کرائی گئیں۔ پاکستان میں ایک عشرے سے جاری دہشت گردی کی تاریں ایران اور انڈیا سے بصورت کلبھوشن یادیو ملتی ہیں۔ افغان جنگجوں کی کھلی حمایت،اور ایرانی تعاون کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ بلوچستان کے راستے پاکستان میں مسلح باغی گروپوں کی سرپرستی کرنا۔ اورنہیں بلاواسطہ یا بالواسطہ مالی طورپر مستحکم کرنا مشرق وسطیٰ کی ایک بڑی آزاد ریاست کے داخلی امور کو توڑنے،اور اسے ژبوتاز کرنے کی مذموم ایرانی کوشش ہے۔

شام کی خانہ جنگی میں مسلمانوں کے خون کے درپے درندہ صفت پوتن،اور بشار الاسد کے ساتھ اتحاد نے انسانیت کی جو تذلیل کی ہے۔ اس سے ایران کا عالمی دنیا میں تاثر قابل قدر نہیں رہا،تو مشرق وسطیٰ میں بھی ایران کو تنہائی کے اژدھے کا سامنا ہے۔ ایران ظاہراََ اس بات کو اطمنان بخش سمجھ رہا ہے کہ یورپی یونین اور فرانس نے امریکہ کے جوہری معاہدے سے علیحدگی کی ہاں میں ہاں نہیں ملائی۔ اور اس معاہدے کو برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ اقوامِ متحدہ،اور عالمی برادری نے بھی صدر ٹرمپ کے اس طرز عمل کو غیر مناسب قرار دیا ہے۔ لیکن یہ بات ایران کے لیے ’’بلی کے خوبوں میں چھیچھڑے‘‘ جیسی ہے۔ آنے والے وقت میں امریکہ اپنے تعلقات کی بنیاد پر،اور گہرے اثرورسوخ سے ایران پر سخت ترین پابندیاں لگوائے گا۔ اوریہ جلد یا بدیر ہو کر رہے گی۔

امریکی تجزیہ نگار، نیویارک ٹائمز کی کالم نگار ’’سوسن ای رائس‘‘ نے ااپنے ایک کالم میں صدر ٹرمپ کے جوہری معاہدے کی منسوخی کے فیصلے کو’’صدر ٹرمپ کا احمقانہ فیصلہ‘‘قرار دیا۔ وہ لکھتی ہیں :

’’صدر ٹرمپ کے جوہری معاہدے سے نکل جانے کے بعد نہ تو ایران کو مذکرات کی میزپر لایا جا سکتا ہے اور نہ ہی ایران کے مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے نمٹا جا سکتا ہے۔‘‘

واقفان حال جانتے ہیں کہ ایران مشرق وسطیٰ میں اپنی دوغلی پالیسیوں کی وجہ سے اپنا ایک ’’داغ‘‘ رکھتا ہے۔ امریکہ بھی دہشت گردی کے جراثیموں کی نمو کا ذمہ دار ایران کو ٹھراتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں ایرانی کردار کس کی آنکھوں سے اوجھل ہو سکتا ہے۔ پاکستان ایرانی دہشت گردی کا آسان ہدف رہا ہے۔ جس کی وجہ سے پاکستان کو جانی مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یہ بات نوٹ میں رکھنے کی ہے کہ جب سے ایرانی سرحد سے کلبھوشن یادیو کی گرفتار ی عمل میں آئی،بلوچستان میں کشیدگی کی شرح کم ہوئی ہے۔ ایرانی خلوص کا اس سے بڑھ کرمشاہدہ کیا ہوسکتا ہے کہ ایرانی سرزمین کو ایک بھارتی دہشت گرد استعمال کرتا رہا،جب اسے قانون نے جکڑا توایران کا پڑوسی ہونے کا فرض تھا کہ و ہ پا کستان سے تعلقات کی مضبوطی کے لیے ہر ممکن تعاون کرتا،مگر ایران نے ایک حرف افسوس تک نا کہا۔

باقی رہی بات کہ اس معاہدے کی منسوخی سے عالمی امن کو نقصان پہنچے گا،یا ایران مشرق وسطیٰ میں اپنی جوہری صلاحیت میں اضافہ کرکے بد امنی اور نقصان کا باعث بنے گا ’’جنونی کا قول کہا جا سکتا‘‘۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: