تنہائی ———– علی عبداللہ

0
  • 35
    Shares

زندگی کے پر رونق ساحل پرخواہشوں کی ریت سے گھروندے بنانے والے وقت کی تیز ہوا سے جب انہیں بکھرتا دیکھتے ہیں جنہیں بناتے وقت نجانے کتنے احساسات دل کے کواڑوں سے جھانکتے تھے تو یہ اسکی تاب نہ لاتے ہوئے ایسے جزیرے پر جا بہتے ہیں جہاں وقت کی ہواؤں کے پاس اڑا لے جانےکو کچھ نہیں ہوتا۔ جہاں ان ہواؤں کا چلنا یا نہ چلنا معنی نہیں رکھتا اور جہان سے زندگی کے ساحل پر خواہشوں کی رونقیں انہیں اپنی جانب کھینچ نہیں پاتی۔ یہ تنہائی کا وہ جزیرہ ہے جہاں سے واپس جانے کا مطلب پھر سے خواہشون کے غوطے کھانا اور بے مروتی کی موجوں کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔ حال اور ماضی کے بیچ بستا یہ جزیرہ معرفت کے نئے راستوں کا پتا لیے یہاں آنے والوں کو مجاز سے حقیقت کی جانب لے جاتا ہے مگر یہاں پناہ لینے والوں پر مایوسی کی تہہ در تہہ کائی انہیں بھلا دیتی ہے کہ یہ جزیرہ کن راہوں کا آغاز ہے۔ لیکن یہاں پناہ گزین وہ تمام آتمائیں ان راستوں سے بیگانہ ہو کر آوارہ بھٹکنے کا عمل جاری رکھتی ہیں اور پھر ایک دن اس گمنام جزیرے میں تہہ خاک ہو جاتی ہیں۔

تنہائی کے اس جزیرے پر ہر کوئی بہہ کر نہیں آتا بلکہ کچھ خود غوطہ زن ہو کر ادھر آنے کی جستجو کرتے ہیں۔ یہاں آنے والوں میں کچھ نے تنہائی کے اس جزیرے کو اپنی منشا سے قبول کیا ہوتا ہے اور پھر انہیں یہیں سے ہی “اقراء باسم ربک الذی خلق، خلق الانسان من علق” کا ادراک ہوتا ہے اور وہ معلم انسانیت بن کر ابد تک نور کی وہ سحر لاتے ہیں کہ جس کے سامنے ہر روشنی چراغ شب کی مانند ٹمٹمانے لگتی ہے۔ بعض کو اسی جزیرہ تنہائی سے “لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین” سکھلا کر کائنات کے ان رازوں سے آشنا کروایا جاتا ہے جو آدم کا ہر بیٹا نہ پا سکے۔ اور پھر کچھ کو “انما اشکو بثی و حزنی الاللہ” کہلوا کر معرفت و حکمت کے وہ باب کھلوائے جاتے ہیں کہ جنہیں قلم لکھنے سے قاصر ہے۔ یہ جزیرہ ہی کسی کلیم کو” لن ترانی” کا وہ کرشمہ دکھاتا ہے کہ کلیم علیم کے سامنے لرز کر سر بسجدہ ہو جاتا ہے۔ تنہائی کا یہ پراسرار جزیرہ ایسا جہان ہے جہاں کوئی رومی کسی شمس سے ملتا ہے اور محبتوں کا علم بلند کر کے ساحلوں پر کھڑے ہوؤں کو اپنی جانب بلانے لگتا ہے۔

تنہائی اب بھی اسرار و رموز سے بھرپور اپنے اندر جذب و مستی کا عالم لیے ہوئے ہے مگر اب یہاں وہی آتے ہیں جن کے چہروں پر خواہشوں کی گرد اور وقت کی ہواوؤں کے تھپیڑوں سے مایوسی کی جھریاں پڑ چکی ہوتی ہیں اور ایسے مسافروں کو یہ جزیرہ پناہ تو دیتا ہے مگر ان کی تھکن انہیں نئی منزلوں کی جانب کوچ کرنے کی ہمت نہیں دے پاتی اور پھر یہ لوگ اسی جزیرہ میں نئے ساحلوں کے خواب دیکھتے ہوئے روز ٹوٹتے ہیں اور روز جڑتے ہیں۔ تنہائی کا یہ جزیرہ حقیقت کے کئی ابواب کھولتا ہے مگر مجاز کے گرد محو طواف لوگوں پر یہ باب کبھی نہیں کھل پاتے۔

اس جزیرہ پر اب جذبات و احساسات کی دور دور تک پھیلی تعفن زدہ لاشیں دکھائی دیتی ہیں جنہیں مجاز خواہشوں کے سراب دکھاتے دکھاتے یہاں کھینچ لایا اور پھر مایوسی کے منڈلاتے گدھوں نے ان لاغر جذبوں کو نوچنا شروع کر دیا۔ تنہائی کا یہ جزیرہ کسی مجازی کو قبول نہیں کرتا مگر حقیقت کے متلاشیوں کو یہاں کوئی خضر ضرور ملتا ہے اور پھر وہ سفر شروع ہوتا ہے اور وہ راز منکشف ہونے لگتے ہیں جن پر کبھی انہیں “انک لن تسطیع معی صبرا” سننا پڑا تھا۔ تنہائی کا یہ جزیرہ جسے ہر کوئی نہ پا سکے لیکن جس نے اسے کھوج لیا اسے پھر کسی ساحل کی محرومی کا احساس نہیں ہوتا اور یہی لوگ ساحلوں کی روشنیوں سے بچتے ہوئے تنہائی کے جزیرے پر چلتے چلتے “لا خوف علیھم ولا ھم یحزنون” کی منزل حقیقی تک جا پہنچتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: