بولیاں —— محمد سلیم طاہر

0
  • 49
    Shares

ابتدائیہ:
بولی: پنجابی شعری اصناف میں ایک صنف ہے۔ اس کا وجود اپنی پیدائش کے بعد سے پنجابی معاشرے اور وسیب میں سینہ بہ سینہ اگلی نسلوں کو منتقل ہوتا ہے۔ پاکستان میں بولی پر ہونے والی دستیاب تحقیق کی روایت گوئی حوصلہ افزا نہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس کی مقدار اور قلت کو دیکھ کر اس پر خصوصی توجہ نہیں دی گئی اور نہ ہی اس کے مطالعے کی Proyression کو تاریخی اعتبار سے اکٹھا کے کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش کی گئی ہے۔ شاید اس کی وجہ وقتی طور پر سرزد ہونے والی بولیوں کا ریکارڈ رکھنا ضروری نہیں سمجھا گیا۔ اس کا استعمال صرف طنزیہ، جنسیہ اور چھیڑ چھاڑ کے موضوعات تک ہی محدود سمجھا گیا اور محفل کے رنگ کو تبدیل کرنے کے لیے یا کسی مخالف پر طنز کے تیر برسانے کے لیے یا پھر محبوب سے گفتگو کرنے کے لیے ایک موثر اظہار کے طور پر استعمال کیا گیا ہو گا۔ صرف بولیوں پر مشتمل شاعری کی کوئی کتاب کم از کم پنجاب کے اس خطے میں جس میں ہم رہتے ہیں نہیں ملتی۔ صوفی بزرگ پنجابی شاعروں کے ہاتھ سے لکھے ہوئے مسودے دستیاب ہیں یا اب جب طباعت اور اشاعت کا فن جدید بنیادوں پر استوار ہو چکا ہے، پرنٹڈ فارم میں ملتے ہیں۔

پنجابی اکھان، ماہیے، ٹپے، نظمیں اور غزلیں تو ریسرچرز نے تحقیق کے بعد اکٹھے کرلیے ہیں۔ لیکن ماضی قریب میں بولیوں کی کوئی Collection کس ریسرچر نے اکٹھی یا مرتب نہیں کی، مگر یہ بولیاں میلوں ٹھیلوں، ہنسی خوشی، غم شادی بیاہ کے مواقع، موسمی تہواروں کے وقت، فصلوں کی کٹائی کے موقع پر رواجوں، گیتوں، گانوں، جگتوں اور اکھانوں کے جلو میں اپنا وجود برقرار رکھتی تھیں بلکہ اپنی اہمیت، معنویت اور افادیت کا لوہا منواتی تھیں۔ اسی لیے ان کا وجود اپنے اندر توانائی، معنویت اور جان رکھتا ہے اور توجہ حاصل کرتا ہے موجودہ دور میں بولی اپنا حلقہ ارادت وسیع کرتی دکھائی دیتی ہے۔ بولیوں کی اہمیت کا ادراک ہونے کے بعد شاعری کی صنف بولی پر پنجابی شاعروں کی توجہ مرتکز ہونے لگی ہے۔ اب بولیوں کا وجود بولیاں لکھنے والوں کی بدولت صحت مند اور توانا ہو گیا ہے۔ بازار میں شاعروں کے طبع زاد مجموعے نظر آنے لگے ہیں اور اب الگ سے صرف پنجابی بولیوں کے مشاعروں کا انعقاد بھی ہونے لگا ہے اور یہ صرف بولیاں لکھنے والوں اور اس کے مداحوں اور اس کی اہمیت کو سمجھنے والوں کی بدولت فروغ پا رہا ہے۔

محمد سلیم طاہر کا بولیوں کے موضوع پر لکھا یہ مضمون اورکاوش قارئین کو بولیوں کو سمجھنے اور تھوڑی بہت حد تک ان کو پرکھنے کا ذریعہ بن سکتا ہے اور اس پر تحقیق کے نئے دروازے بھی کھول سکتا ہے۔


بظاہر دو ناہموار مصرعوں کی نظم کو پنجابی زبان میں بولی کہتے ہیں، جو اپنے اندر معنویت کا بھرپور خزانہ لیے ہوتی ہیں۔ کچھ بولیاں یک سطحی یا یک پرتی ہوتی ہیں، مگر اپنے اندر نہ صرف یک سطحی مضمون پورے معانی اور سیاق و سباق کے سموئی ہوئی ہوتی ہیں بلکہ یہ بولیاں اکثر اپنے پورے عہد کی Sensibility کو پورے شعری لوازمات کے ساتھ ادا کرنے پر قدرت اور دسترس رکھتی ہیں۔

ایک چھوٹی سی نظم میں پورے عہد بلکہ نسلِ انسانی کی نفسیات کو مکمل شعری حسن کے ساتھ مفاہیم کے جلو میں متحرک کر دیا جاتا ہے اور لکھنے والا اپنی پوری مہارت کے ساتھ اپنے عہد کے عصری شعور کو بھرپور تلازمات کے ساتھ قاری کے ذوق و شوق کی تواضع کے لیے پیش کر دیتا ہے۔

دنیا میں بولی جانے والی زبانوں میں شاید ہی کسی اور زبان کے الفاظ میں اتنی معنوی وسعت ہو جتنی پنجابی زبان کے الفاظ کو حاصل ہے۔ سوائے عربی کے۔ بلکہ میں ذاتی طورر پر یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ بولی کے دو مصرعے نہ صرف معنوی اعتبار سے مالا مال ہوتے ہیں بلکہ علامتی اظہار میں دنیا میں بولی جانے والی دوسری زبانوں میں شاید ہی کوئی اور زبان پنجابی زبان کا مقابلہ کر سکتی ہو اور ذرا سی توجہ دینے پر بلاتردد اپنے تمام مفاہیم اور خوب صورتی قاری کے ذہن کے کینوس پر منتقل کر دیتی ہے۔ یہاں ایک اور بات بھی بیان کرتا چلوں کہ پنجابی تکلفات کی زبان نہیں ہے یہ سیدھے سیدھے انسانی جذبوں کے اظہار کی زبان ہے، جو ’ ٹِھڈّ‘ سے ادا ہوتے ہیں اور دل میں اُتر جاتے ہیں۔

بولی اختصار کے ساتھ مکمل بات کہنے کا ہنر ہے۔ بولی کوزے میں دریا بند کرنے کا توانا سے توانا مثالیہ ہے۔ بولی میں آپ بہ یک وقت سیدھی بات، علامتی اظہار اور مختلف امیجز ایک لمحے سے بھی کم سرُ عت کے ساتھ تشکیل دے سکتے ہیں۔ Coin کرسکتے ہیں۔ ایک اچھی بولی اپنے دھیان میں بیٹھے قاری، انتظار میں بیٹھے کسی تماشائی ادب کی تحصیل کے لیے کوشاں ایک سنجیدہ طالب علم کو ایک سیکنڈ میں پھڑکا سکتی ہے۔ جیسے بادلوں میں بجلی کا کوندا لپک جائے۔ جیسے ننگی تار کو چھو لینے سے بدن میں کرنٹ دوڑ جائے، جیسے حبس میں بیٹھے ہوئوں کو ٹھنڈی ہوا کا کوئی جھونکا چھو جائے۔ جیسے کوئی بیمار یک لخت بھلا چنگا ہو کر بستر پر اُٹھ کر بیٹھ جائے۔ بولی کم لفظوں میں علم و دانش کا کوئی دقیق نکتہ سادہ لفظوں میں بڑی آسانی کے ساتھ حل کر سکتی ہے۔ بے نور اور منتظر نگاہوں میں کسی ان دیکھے منظر کا در کھول دیتی ہے۔ بولی جمود کے شکار انسانی ذہن کو بلاتردد محترک کر دیتی ہے۔

بولی اختصار کے ساتھ مکمل بات کہنے کا ہنر ہے۔ بولی کوزے میں دریا بند کرنے کا توانا سے توانا مثالیہ ہے۔ بولی میں آپ بہ یک وقت سیدھی بات، علامتی اظہار اور مختلف امیجز ایک لمحے سے بھی کم سرُ عت کے ساتھ تشکیل دے سکتے ہیں۔

بولی سُن کے چہرے پر بشاشت دوڑ جاتی ہے۔ برجستہ لبوں سے واہ نکلتی ہے اور مدتوں سے محبوس قہقہہ مغموم فضا کے چیتھڑے اڑا دیتا ہے بولی سن کے نہ صرف لفظوں کے ظاہری حسن سے اور علامتی معانی سے سلام و دعا کا موقع میسر آتا ہے۔ بلکہ انسانی سرشت کی الجھی ہوئی گتھیاں سلجھانے میں بھی مدد ملتی ہے۔ بولی سے عام قاری یا سامع صرف اور صرف یک سطحی سمجھتا ہے۔ کئی متضاد موضوعات اور متنوع مضامین کے درکُشا کرتی ہے۔ بولی اپنی ہیئت میں، معانی اور تاثیر میں ایک مکمل اظہار کا اختصاریہ ہے۔

بولیوں کی روایت کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے، تو بولی کی ہیئت بتاتی ہے کہ اس شعری تخلیق میں ایک توازان، ردھم اور بیلنس اپنا مستقل اہتمام برقرار رکھتا ہے۔ پہلا مصرع اور دوسرا مصرع آپس میں برابر نہیں ہیں۔ مصرعوں میں ارکان کی تعداد مختلف ہے۔ پہلا مصرع مکمل اور دوسرا مصرع بظاہر نامکمل دکھائی دیتا ہے۔ یہی بولی کا حسن ہے۔ یہی بولی کا وزن ہے اور صدیوں سے یہ التزام برقرار ہے۔ اگر دو مصرعے وزن میں برابر ہوں، تو شعر کہلاتا ہے۔ کسی نظم کا یا غزل کا، ماہیے اور ٹپہ کے اوزان بولی سے مختلف ہیں۔

ماہیے میں اکثر پہلا مصرع Absurd یا اوٹ پٹانگ ہوتا ہے، جو صرف تیسرے مصرعے میں قافیے کے حصول کے لیے لکھا جاتا ہے۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ ماہیے کا پہلا مصرع ماہیے کے باقی دو مصرعوں میں موجود مضمون میں کسی قسم کا اضافہ کرے یا اُسے تقویت دے۔ اگر ماہیا کہنے والا شاعر تردد کرے، تو وہ اس بات کا اہتمام بھی کرسکتا ہے کہ ماہیے کے تینوں مصرعے مضمون کے اعتبار سے بھی مربوط ہیں اور ماہیے کا پہلا مصرع صرف خانہ پُری کے لیے نہ لکھا جائے۔ ایک مشہور ماہیا میں یہاں مثال کے لیے پیش کرتا ہوں:
سونے دا کِل ماہیا
لوکاں دیاں روون اکھیاں
ساڈا روندا اے دل ماہیا
………………

ٹپے میں پہلی سطر میں ایک لفظ۔ تکرار سے بولا جاتا ہے اور یہ ایک طرح کا اعلان ہوتا ہے کہ ٹپہ کا دوسرے مصرع یہ قافیہ ہو گا اور اگلے مصرع میں بات مکمل کہہ دی جاتی ہے۔
بولی کی جو روایت ہم تک پہنچی ہے اس کا تجزیہ کریں، تو ایسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کے دو مصرعے ہیں۔ پہلا مصرع اپنے اندر مکمل مفہوم رکھتا ہے اور اگر بیانیہ یا Statement بھی ہو، تو اُس کا دامن بغیر دوسرے مصرعے کی مدد کے معانی سے خالی نہ ہو اور پھر مصرعہ پہلے مصرعے کے مضمون کو Quality کرتا ہے۔ تفہیم میں اضافہ کرتا ہے۔ بولی کے حسن اور مضمون کو بڑھاتا ہے اور بولی کو بولی بناتا ہے۔ قاری کو پھڑکاتا ہے سامع کو چونکاتا ہے۔ کینوس پر رنگ بکھیرتا ہے۔ نئے نئے امیجز تراشنا ہے۔ مفہوم کی پرتیں کھولتا ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ بولی کہنے والے شاعر کے ذہن میں پہلے آخر کا آدھا مصرع سر اُٹھاتا ہے۔ پھر اوپر کا مصرع اپنے لیے اوپر جگہ بناتا ہے اور بولی کو معانی سے سرشار کر دیتا ہے۔
ایک خوبصورت، بھرپور بولی کے سامنے لمبی لمبی نظمیں اور اچھی سے اچھی غزل کے شعر اپنا دیوالیہ پن ظاہر کر دیتے ہیں اور اپنا دامن جھاڑ کر اُٹھ جاتے ہیں۔
معاشرتی جبرہے۔ فطری شرم و حیا کے تقاضے ہیں۔ رسم و رواج کی قدغنیں ہیں کہ فرد اپنی جبلی خواہشات کو اپنے اندر دبا کے رکھتا ہے اور محسوس اور نامحسوس گھٹن کا شکار ہو جاتا ہے، مگر مشاہدہ اور تجربہ یہ بتاتا ہے کہ دریائوں میں اگر پیچھے سے پانی کا بہائو اور دبائو بڑھ جائے، تو کنارے ٹوٹ جاتے ہیں۔ آبگینے پھوٹ جاتے ہیں۔ قیدوبند کے سبھی ضابطے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ تازہ ہوا کا کوئی جھونکا حبس اور جبر کی ساری تلخیوں کو اچانک خوش گوار حیرت میں بدل دیتا ہے۔ یہاں میں اپنی ایک بولی آپ کے سامنے پڑھنا چاہتا ہوں:

اُنج چاننے اچ مینوں نئیں سیہاندی
تے نہرے وچ جپھا مار دی
…………………
فطری شرم و حیا عورت کو مانع رکھتی ہے کچھ جذبوں کے اظہار سے وہ ہموار راستوں پر بھی چلتے ہوئے احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتی۔ وہ معاشرے میں اپنے نام،مقام اور کام سے واقف ہوتی ہے۔ جس جرم کا وہ مرد کے بہکاوے میں آکر ارتکاب کرتی ہے۔ پکڑے جانے پر مرد اپنا جرم کی شدت بھی عورت کے پلڑے میں ڈال دیتا ہے اور خود ہی جزا اور سزا کا منصب بھی سنبھال لیتا ہے۔ مرد کے جبر کے اس معاشرے میں عورت مجبور محض ہوتی ہے۔ عورت کا باپ، عورت کا خاوند، عورت کا بھائی اور عورت کا بیٹا اُس کے خلاف اُٹھ کھڑا ہوتا ہے اور مجبور عورت کے ساتھ کوئی اور عورت بھی کھڑی نہیں ہوتی اور وہ اتنی بے بس ہوتی ہے کہ اپنا دفاع بھی نہیں کر سکتی۔ اس لیے وہ بدنام ہو جانے کے ڈر سے، پکڑے جانے کے ڈر سے اپنی جبلّی ضرورتوں کو بھی اکثر پسِ پشت ڈال دیتی ہے اور گریز کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتی، خواہش دباکے رکھتی ہے، ضرورتیں چھپا کے رکھتی ہے اور بات کو بنا کے رکھتی ہے، مگر، جب اختیار اُس کے ہاتھ میں آ جاتا ہے، باریابی کا کوئی لمحہ میسر ہو جاتا ہے اُس کے اندر کا چوکیدار اُس کا راستہ نہیں روکتا تو پھر وہی لڑکی بے دھڑک ہوکر ایسا جن جپھا مارتی ہے کہ جن بھی لرز جاتا ہے۔ یہ نفسیات کے طالب علم ہی بتا سکتے ہیں کہ ڈرنے اور نڈر ہونے میں کتنے قدموں کا فاصلہ ہے۔ کمزوروں اور نہتوں میں بے خوفی کے ساتھ حوصلہ کہاں سے آ جاتا ہے یہاں اس بات پر بھی غور کر لینا چاہیے کہ اندھیرا ڈر پیدا کرتا ہے یا بہت سوں کو بہادر بنا دیتا ہے۔

بولی ایک ہی سانس میں بھرپور کوشش سے ادا کی جاتی ہے۔ ایک باوزن سطر، کہ کسی جوان موزوں گو نے اپنے ایک مکمل سانس میں اس کو اظہار کی شکل دے دی ہے اور جہاں ایک سانس کا دورانیہ ختم ہو جاتا ہے۔ وہاں ’بولی‘ ختم ہو جاتی ہے اور بات بھی مکمل ہو جاتی ہے۔

میں پنجابیوں کے گھر پیدا ہوا۔ ٹھیٹھ پنجابی گھر میں بولی جاتی تھی، ننھیال اور ددھیال، دونوں کی طرف سے بول چال اُس وقت بھی مرے کانوں میں گونجتی ہو گی جب لفظوں میں تمیز یا تفریق کرنے کا ادراک بھی نہ ہو گا۔ لوگوں کے چہروں، اپنوں اور پرایوں کی شکلوں کی پہچان آنکھوں کو ہونے لگی۔ چہرہ غائب ہوتا تھا اور جب صرف کوئی مانوس آواز کانوں کے پردوں سے ٹکراتی تھی، تو بولنے والے کا چہرہ اور لفظوں کا منہ متھہ بھی اپنی شکلیں اور اپنے اپنے مہاندرے لیے حافظے کے دریچے سے جھانکنے لگتے تھے۔ لہجوں کی شناخت اور لفظوں کا تلفظ حافظے کی لوح پر اپنے نقش ثبت کرتا چلا گیا ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ جنھوں نے مجھے میرے ہونے کا ادراک اور شعور دیا انھوں نے مجھے اپنی بات کہنے اور دوسروں کی بات پورے مفاہیم کے ساتھ ساتھ سمجھنے کی سوجھ بوجھ بھی ودیعت کی۔ کہتے ہیں لاشعوری طور پر انسان اُس وقت بھی سوچ رہا ہوتا ہے جب وہ کچھ نہیں سوچ رہا ہوتا وہ اس وقت بھی مشاہدہ کر رہا ہوں ہے جب اُسے بے خبر تصور کیا جاتا ہے۔
جن معاشروں میں بھُوک تنگ کرتی ہو اور روٹی کھانے کی فکر دامن گیر رہتی ہو، وہاں جذبوں کے اظہار کی اور لین دین کی زبان بالکل مختلف ہوتی ہے۔ بولا کچھ اور جاتا ہے، سمجھا کچھ اور۔
پلّے نہ پئیاں روٹیاں تے سبھّے گلاّں کھوٹیاں
………………
اور جب رَج کے کھانے کو ملنے لگے، تو زبانوں کا مزاج بھی خودبخود تبدیل ہونے لگتا ہے۔ لہجوں کا اتار چڑھائو چہروں کے نقوش Expressions بھی بدل جاتے ہیں۔

تلخیوں اور تُرشیوں کی جگہ نرمیاں اور مسکراہٹیں لے لیتی ہیں۔ تنائو اور کِھچائو کم ہونے لگتا ہے۔ متحارب ایک دوسرے کے قریب آنے لگتے ہیں۔ آپس میں معاملات کا پورے کا پورا کلچر تبدیل ہو جاتا ہے۔

معاشرہ جب رَج کے کھانے لگتا ہے کھانے میں پسند اور ناپسند داخل ہو جاتی ہے چکھنے اور پیٹ بھر کر کھانے کی تمیز اور شعور آ جاتا ہے کاموں سے ویہل ملنے لگتی ہے، بے فکری مزاج کے اندر رسوخ حاصل کر لیتی ہے۔ اور سکون اپنے ڈیرے ڈالنے لگتا ہے۔ کھیتوں میں فصلیں لہلہانے لگتی ہیں۔ زمین سونا اگلنے لگتی ہے اور موسموں کے ساتھ ساتھ فصلیں پکنے پر تہوار کو منانے کی روایت وجود میں آتی ہے۔ میلے ٹھیلے لگنے لگتے ہیں۔ وساکھی اور لوڑی جیسے تہوار کسانوں اور محنت کشوں کی کوششوں اور ہمتوں کی پہچان بن جاتے ہیں۔ اناج سے بھڑولے بھر جاتے ہیں۔ بولیاں، ٹھولیاں، ٹپے اور ماہیے، گِدّے اپنے اظہار کا راستہ تلاش کرنے لگتے ہیں لڈیاں، بھنگڑے، ناچ گانے، خوشیاں وسنیکوں کے انگ انگ سے پھوٹنے لگتی ہیں معاشرہ تہذیبی اعتبار سے بھی پھلنے پھولنے لگتا ہے۔ چہروں کے نقوش بھی منہ سے بولنے لگتے ہیں۔ آنکھیں بھی اپنی الگ زبان ایجاد کرلیتی ہیں۔ لفظ اپنے لغوی معنوں کے ساتھ علامتی اظہار پر قدرت حاصل کر لیتا ہے۔ تب بے دھیانوں کا دھیان، رنگوں، لہجوں اور چہروں کے علاوہ موسموں، مظاہر فطرت اور موڈز کے تنوع اور Veriations کی طرف مبذول ہو جاتا ہے۔ آرٹ، موسیقی، شاعری اور دوسرے فنونِ لطیفہ اپنے وجود کے تشخص کی ضمانت مانگنے لگتے ہیں۔

تب تخلیق اپنی ذمہ داری سنبھالنے لگتی ہے۔ خوشگوار ہوا کا ایک جھونکا،حبس کا دم نکال دیتا ہے۔ بارش کی بوندیں جلترنگ بجانے لگتی ہیں زمین پر افلاک سے آوازیں آنے لگتی ہیں۔ نئی نئی خواہشات کے در کھلنے لگتے ہیں۔ پھر باتوں سے بات نکلنے لگتی ہے۔ بانس کے سینے کے سوراخوں سے جب ہوا گزرتی ہے تو سُر بولنے لگتے ہیں اور کسی مغنیہ کے ہونٹوں سے نکلے بول کانوں میں رس گھولنے لگتے ہیں تب بولی جانے والی زبانوں کا خزانہ بھرنے لگتا ہے۔ آسمانوں سے دھن اترنے لگتا ہے۔ چاندنی کا افسون بکھرنے لگتا ہے۔ تب اکھان وجود میں آتے ہیں علامتی اظہار تلخ سے تلخ بات، کرخت سے کرخت صورت حال کو نرم اور گداز بنا دیتا ہے۔ رویے اور لہجے نئی معنویت کے ساتھ تفہیم دینے لگتے ہیں۔ نامحسوس رشتوں اور معصوم جذبوں کی تجسیم ہونے لگتی ہے۔ اشارہ اپنا پیغام دینے لگتا ہے۔ تشبیہ اپنے منہ سے بولنے لگتی ہے۔ استعارہ بات کرنے لگتا ہے۔ اور خاموشی متکلم ہو جاتی ہے۔

بولی۔ پنجابی زبان میں بولی جاتی ہے۔ بظاہر دوسطریں بولی جاتی ہیں مختصر سی۔ مگر ان دو سطروں میں اتنی معنوی وسعت ہوتی ہے کہ تشریح میں صفحات بھرے جاسکتے ہیں۔ یہ صرف دو سطریں ہی نہیں ہوتیں بلکہ پنجابی معاشرے کی اجتماعی دانش کی غماز ہوتی ہیں۔ جس کو افراد نے صدیوں کے رہن سہن، میل جول اور آپس کے لین دین کے معاملات کو چھان پھٹک کر، نچوڑ کر، صوتی آہنگ میں تشکیل دیا ہوتا ہے۔ پہلے تو صرف اس کے Ecpressions پر نظر جاتی تھی۔ لفظوں کے سامنے کے معانی ہی دکھائی دیتے تھے۔ لگتا تھا کہ کسی سیانے نے بڑی آسانی سے اپنے ہونٹوں سے ادا کر دیئے ہوں گے۔ اب جب بولی لکھنے یا کہنے کی طرف توجہ کی ہے، تو معلوم ہوا ہے بولی صرف الفاظ کی دو سطریں ہی نہیں ہیں بلکہ پنجابی شاعری کے پورے نظام کا بڑا موثر، مربوط اور منظوم اظہار ہے نہ صرف اپنے وجود میں اپنا الگ وزن رکھتا ہے۔ شناخت رکھتا ہے بلکہ اہمیت اور تاثیر کے باب میں نثر کے کئی کئی صفحات پر بھاری ہے۔

مضمون لکھتے ہوئے مجھ کو اندازہ ہوا کہ بولی اپنے وجود میں آنے کے بعد سماجی تاریخ کے جن ادوار سے گزری ہے اُس میں اُس نے اپنی ہیئت، شکل اور حلیہ میں خاصی تبدیلیاں پیدا کرلی ہیں اور اگر برقرار ہے کوئی چیز ابھی تک، تو وہ بولی کا وزن ہے۔
وہ ایک مقرر وزن ہے، جو ابتدا ہی سے برقرار چلا آرہا ہے۔ بولی۔ بحرِ متقارب میں لکھی، پڑھی اور بولی جاتی ہے۔

ایک طویل منظوم مصرعہ ہی اس کی بنیاری شناخت ہے، جو غالبا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ بولی اسم باسما ہے۔ یہ ایک ہی سانس میں بھرپور کوشش سے ادا کی جاتی ہے۔ ایک باوزن سطر ہے، جس پر غور کیا جائے، تو لگتا ہے کہ کسی جوان موزوں گو نے اپنے ایک مکمل سانس میں اس کو اظہار کی شکل دے دی ہے اور جہاں ایک سانس کا دورانیہ ختم ہو جاتا ہے۔ وہاں ’بولی‘ ختم ہو جاتی ہے اور بات بھی مکمل ہو جاتی ہے۔ یہاں مجھ پر ایک انکشاف اور ہوا کہ ایک پنجابی اپنی بات کو ایک سانس کے درانیے میں مکمل مفہوم کے ساتھ ادا کر سکتا ہے۔ پنجابی بولی کی بھرپور روایت بتاتی ہے کہ اس کو تحت اللفظ میں نہیں پڑھا جاتا۔ زیادہ تر گاکر سنایا جاتا ہے۔

میلوں ٹھیلوں میں شاعروں کے دو گروپس، ٹولیوں کی شکل میں پنڈال میں آمنے سامنے بیٹھ جاتے تھے اور پھر آمنے سامنے بیٹھے ہوئوں میں بولیاں بولنے کا مقابلہ شروع ہو جاتا تھا۔ ایک ٹولی ایک بولی بولتی تھی اور پھر دوسری طرف بیٹھے ہوئوں کی طرف سے اُس کا جواب بولی میں گاکر آتا تھا۔
ہر شاعر اپنی ذاتی دُھن ادا کر دیتا ہے اور فضا کا بوجھل پن ہوا میں کافور ہو جاتا ہے۔ بولی کی بحر اور اس کی تقطیع کی ذیل میں اگرغور کیا جائے، تو فارسی، عروض کے بجائے اس کی چھان پھٹک، گائیکی کے مروجہ اصولوں کے پیمانے پر کی جا سکتی ہے۔ ردم، ماترے، بولی کے وزن کو سمجھنے کے سلسلے میں ممدومعاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

میرے ذہن میں، حافظے میں بولیوں کی جو روایت موجود ہے یہ اس وقت سے ہے جب مجھے بولنانہیں آتا تھا شاید سمجھنا بھی نہ آتا ہو، جو کہ اب بھی نہیں آیا، مگر مجھے میرے ماحول نے، مری زندگی نے، زندگی میں اونچ نیچ نے، اپنوں، بیگانوں نے بولیوں کو بولنے اور سمجھنے کا شعور دیا۔

محظوظ ہونے کے لیے بولیاں سنی اور سنائی جاتی تھیں۔ محفل کے رنگ بدلنے کے لیے، حافظے کی درازے کھول کر احباب بولیاں نکالتے تھے اور مجمع میں زغفران کی خوشبو پھیل جاتی تھی۔ غور کرنے کے بجائے بولی کو حظ اُٹھانے محفل کا رنگ تبدیل کرنے اور مسکراہٹیں بکھیرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ حافظے میں زندہ رہ جانے والی بولیاں زیادہ تر جنس کے موضوع پر ہیں، جو معاشرے کے ہر فرد عورت اورمرد کی دلچسپی کا موضوع ہوتا ہے اور ہر عمر کا فرداسے توجہ اور انہماک سے سنتا ہے۔ اس بات کی کوئی پابندی نہیں کہ پہلے ہر بندہ وہ بولی کتنی بار سن چکا ہو۔ ہر بار یہ موضوع نیا اور تازہ دکھائی دیتا اور سنائی دیتا ہے۔ دکھائی اس لیے کہا ہے کہ بولی منظروں کی تصویر کشی بھی کرتی ہے۔ انسانی فطرت منظروں کو نقش کر لیتی ہے اور اگر مناظر اس کی پسند کے ہوں تو وہ بولی میں نظر آنے والے منظروں کے ساتھ اپنے ذاتی مناظر بھی شامل کر لیتی ہے۔ اسی لیے تو صدیاں گزر جانے کے بعد بھی بولیوں کا وجود برقرار اور زندہ ہے بلکہ تر و تازہ ہے شاخ پر پھوٹنے والی نئی کونپلوں کی طرح۔
آئیے اب میری کچھ بولیاں پڑھ لیجیے:

اوہدے ہاسیاں نیں چانناں کھلاریا
تے نہیریاں اِچ رولا پے گیا

میری اکھیاں تے موڑ جا بیبا
توں جاندی واری نال لے گیا ایں

مِنّوں تک کے وی توں نئیں پچھانیا
نی تیری کِنھّے اکھ کڈھ لئی

میری اکھ چوں ہنیرا نئیں مُکدا
میں چن کوئی چاڑھ نہ دیاں

اوہنے اکھیاں دھیانے لائیاں
تے لے گئی ساڈا دِل کڈھ کے

اوہ مِلدی اے مینوں اگّوں ہو کے
اوہ مینوں میتھوں بہتا جاندی

ایس وار نئیں چیتر پُھلیا
تے لوکاں کندیں پُھل لیک لئے

میرے موہڈے توں تھکیواں نئیں لتھدا
میں سوناں اے پرالی سُٹ کے

اوہنے ناں لیا اے میرا چِتھ، چتّھ کے
تے تک کے کچیچی وٹی سُو

چھنج پا کے بہانے نال اٹھیا اے
میں اوہدے دودیں پیر پھڑ لئے

میں ایویں تے نئیں تیرے اُتّے مریا
توں شکلوں لہور لگیا ایں

ساتھوں کاغذی بدام نئیں بھجدا
کِسے دا کیہہ دل توڑنا اے

اج چودھویں دے چن نیں چڑھنا اے
تے تاریاں دھمال پانی اے

ہتھ بُھل کے وی لان نئیں دیندی
تے خورے اوہدا رنگ لتھدا اے

اسیں بیٹھے رہئے تیرے پچھواڑے
تے اگا ساڈا چوڑ ہو گیا

دھکّا مار کے چُھڑا لیا گُٹ نوں
تے جاندی ہوئی چونڈی وڈھ گئی

ہن سائیکلاں تے چڑھیا نئیں جاندا
چلاناں ساں میں ہتھ چھڈ کے

جِن عاملاں نیں گڑی وچّوں کڈھنا
تے عاملاں نوں کون کڈھے گا

بیٹھے کتنے آں ہجر اِچ پُونیاں
تے چرخے تے ماہل کوئی نئیں

ہُن اپنی وی لوڑ نئیں ساہنوں
توں کیہڑے ویلے متھے لگیا ایں

 

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: