حالیہ سیاسی کشمکش، عدالتی فعالیت اور نواز شریف : چند فکری نکتے

0
  • 26
    Shares

پاکستان میں چل رہی حالیہ سیاسی کشمکش کی حقیقت تو صرف اتنی ہے کہ یہ اشرافیت (oligarchy) اور دستوری جمہوریت کی لڑائی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اشرافیت نے ہی یہاں جمہوریت کا راگ الاپا ہوا ہے اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کے کارندے اس اشرافیت کے تحفظ کے لیے مقامی اسٹیبلشمنٹ کے خیالی بھوت سے ہمیں ڈراتے ہیں۔ تاہم بقاء کی اس جنگ کو اصولی رنگ دینے کی خاطر اشرافیت اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کے نمائندے ایک سیاسی و فکری بیانیہ پیش کرنے کی کوشش بھی کررہے ہیں۔ اس ‘بیانیے’ کا ایک پہلو یہ ہے کہ عوامی اقتدار اعلیٰ کے اصول کو بنیاد بنا کر عدالتوں کے اختیارات پر سوال اٹھائے جارہے ہیں اور پارلیمنٹ کو سپریم بتایا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں دلیل یہ دی جارہی ہے کہ اگر جمہوری طور پر منتخب اداروں کے قوانین اور وزرائے اعظم کو غیر منتخب عدلیہ نے ہٹانا ہے تو جمہوریت کے کیا معنی؟

اس سلسلے میں پہلا نکتہ تو یہ ہے کہ پاکستان ایک روایتی طرز کی قومی ریاست نہیں کہ جہاں عوامی اقتدار اعلیٰ قطعی ہو اور قوم ہی ریاست کی بنیاد اور مقصد ہونے کی بنا پر پارلیمنٹ کے ذریعے سب کچھ کرنے کو آزاد ہو۔ پاکستان ایک فکری ریاست ہے جس کی بنیاد قرارداد لاہور، قرارداد دلی اور قرارداد مقاصد جیسے دستاویز میں پیش کیے گئے ٹھوس فکری اصولوں پر ہے۔ یہاں قوم نے ریاست اپنے خود غرضانہ مفاد ہی کے لیے نہیں بلکہ چند سوچے سمجھے اخلاقی, مذہبی اور نظریاتی مقاصد کے لیے حاصل کی اور ان مقاصد سے انحراف دراصل اس ریاست سے بغاوت ہے۔ لہزا یہاں خود قوم یا اس کے نمائندہ اداروں کو قرارداد مقاصد کے خلاف جا کر کوئی فیصلہ لینے کا اختیار تب حاصل ہوگا جب پاکستان کو ختم کردیا جائے۔ آئین بذات خود قرارداد مقاصد میں بیان کیے گئے مقاصد کے حصول کا ایک ذریعہ ہے اور اس میں ترمیم بھی اس قرارداد کے خلاف جا کر نہیں ہوسکتی۔ گویا پاکستان کی بنیاد قوم اور عوامی اقتدار اعلیٰ پر نہیں بلکہ اس قرارداد کے آئیڈیلز پر ہے۔ ایسی صورتحال میں پارلیمانی بالادستی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بالادستی قرارداد مقاصد کے اصولوں کو حاصل ہے اور ان اصولوں کی حفاظت اعلیٰ عدلیہ کی ذمہ داری۔

دوسرا نکتہ یہ ہے کہ برطانیہ کے سوا غالباً کسی ملک میں پارلیمانی بالادستی قطعی نہیں۔ برطانیہ ایک بہت مختلف طرز کی مملکت ہے جس کی دستور کا نہ کوئی باقاعدہ نکتہ آغاز ہے نہ ہی کوئی فکری بنیاد۔ پارلیمان کی بالادستی ہی وہ اصول ہے جو 1689 کے انقلاب میں موجودہ آئینی نظام کی بنیاد بنا۔ چنانچہ وہاں پارلیمان سادہ اکثریت سے آئین بدل دیتی ہے اور کسی عدالت کو آئین سے تضاد کے اصول پر پارلیمانی قوانین اور فیصلے رد کرنے کا حق نہیں۔ مگر دنیا کے کسی اور ملک میں نہ ریاستی نظام کی بنیاد پارلیمانی بالادستی کا تصور ہے اور نہ ہی دستور اتنا لچکدار۔ تمام دنیا میں آئین کے بالادستی ہے اور آئین کی تشریح اور حفاظت کا اختیار عدلیہ کو حاصل ہے۔ اور آئین تبدیل کرنا ایک مشکل عمل۔ اس کی سب سے بڑی مثال امریکہ ہے۔ پاکستان بھی دستور کی رو سے ایسا ہی ملک ہے۔

تیسرا نکتہ یہ ہے کہ جموریت کا تصور ہی اختیارات کی تقسیم کے اصول کے بغیر ممکن نہیں۔ اشرافیت نواز حلقے اس اصول کو قطعاً نظر انداز کردیتے ہیں اور جمہوریت کو اکثریت کی آمریت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اکثریت کی حکومت جموریت قطعاً نہیں بلکہ جمہوریت میں سیاسی اخلاقیات کے چند اصولوں کی پاسداری اکثریت پر بھی لازم ہے۔ یہ سیاسی اخلااقیات آئین کا حصہ ہوتی ہیں اور ان کو یقینی اس طرح بناجا جاتا ہے کہ اختیارات کو عدلیہ اور مقننہ اور صدارتی نظام میں عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ میں تقسیم کردیا جائے۔ عدلیہ ان اخلاقیات کی حفاظت اور مقننہ / انتظامیہ ان کے مطابق کاروباِر ریاست چلانے کی پابند ہیں۔ ایسا نہ ہو تو جمہوریت پارلیمانی اکثریت کا جبر بن جائے۔

اب یہاں یہ سوال کیا جائے گا کہ برطانیہ جہاں پارلیمانی بالادستی ہے، وہاں اکثریت کا جبر کیوں نہیں؟ اس کی وجہ وہاں کی سیاسی جماعتوں کا کلچر ہے۔ ہر جماعت اندرونی طور پر جمہوری ہے اور اصولوں کی بالادستی پر مبنی۔ ان جماعتی اصولوں کی خلاف ورزی پر سیاسی جماعت مظبوط ترین قائد کو بھی اٹھا کر پھینک دیتی ہے۔ اس کی سب سے اہم مثال ساڑھے گیارہ سال وزیر اعظم رہنے والی کنزرویٹو وزیراعظم اور خاتون آہن مارگریٹ تھیچر ہے جنہیں دس دن میں جماعت نے چلتا کیا جب انہوں نے پارٹی لائن اور جموہری قدروں کی معمولی سی خلاف ورزی کی۔ یوں اپنے قائدین کے اندھے اختیارات پر حد خود جماعتیں لگاتی ہیں۔ جبکہ ہمارے ہاں جماعتیں الطاف حسین اور نواز شریف جیسے نااہل اور غیر مقبول لوگوں سے بھی اپنے زور پر نجات نہیں حاصل کرپاتیں۔ تقریباً تمام سیاسی جماعتیں قائد کی آمریتیں ہیں۔ ایسی صورتحال میں پارلیمانی بالادستی کا مطلب اکثریتی جماعت کے سربراہ کی آمریت ہوگا نہ کہ جمہوریت۔ یہی نواز شریف حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ایسا ہونا عسکری اسٹیبلشمنٹ کے اثر و رسوخ سے بھی کہیں زیادہ خطرناک ہوگا کیوں کہ فوج تو پھر ادارہ ہونے کے سبب کور کمانڈرز کانفرنس میں فیصلے کرتی ہے اور سیاسی اداروں کے ساتھ کسی نہ کسی حد تک طاقت شیئر کرنے پر مجبور ہوتی ہیں۔ مگر نواز شریف، عمران خان یا آصف زرداری کے سامنے ان کی جماعتوں میں کون بول سکتا ہے؟ اگر پارلیمانی و سول بالادستی کے نام پر حکمران جماعت کی آمریت قائم کردی جائے تو اختیارات کا ارتکاز عروج پر پہنچ جائے گا۔ اس سے زیادہ غیر جمہوری کیا ہوگا؟

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: