حنفیت اور فکر اعتزال : محمد رفیق شنواری

0
  • 60
    Shares

امام ابو بکر جصاص کے بارے میں بیشتر یہ سنتے آرہے ہیں کہ وہ معتزلہ میں سے تھے۔ لیکن اب ایک قدم مزید آگے بڑھ کر بعض اہل علم کا یہ بھی کہنا ہے کہ “حنفی فقہا کی ایک بڑی تعداد معتزلہ ہے۔” میں اصول فقہ سے متعلق قریب قریب اسی موضوع پر کام کر رہا ہوں۔ جس کیلئے پچھلے کئی ماہ سے امام ابو بکر جصاص، امام دبوسی اور سرخسی و بزدوی جیسی قد آور شخصیات کے کام کو ہضم کرنے کے جتن کر رہا ہوں۔ اس لئے اس”اصولی پہلو” سے متعلق کچھ معروضات پیش کر سکتا ہوں۔

مجھے یہ بات سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں کہ “معتزلہ کی ایک بڑی” تعداد فقہ حنفی کا اتباع کرتی رہی ہے مگر اس بات سے اتفاق مشکل ہے کہ فقہائے احناف کی ایک بڑی تعداد معتزلہ رہی ہے۔ اس کی وجوہات جاننے سے پہلے ان دو جملوں میں فرق کی وضاحت ضروری ہے کہ احناف فقہ کی تعریف “معرفة النفس ما لها و ما عليها” سے کر کے فکر و عمل کا ایک ایسا متکامل نظام وضع کرتے ہیں جس کے اندر رہتے ہوئے کسی دوسرے مکتب کے پاس جانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے، گو کہ کافی مسائل میں معتزلہ سے اتفاق پایا جاتا ہے۔ دوسری جانب معتزلہ کلامی مسائل میں بھر پور ذخیرہ رکھنے کے باوجود فقہی مسائل کا اتنا مستحکم اور جامع نظام نہیں رکھتے اس لئے ان کی ایک بڑی تعداد کے لئے فقہ حنفی ہی کی اتباع کرنا مجبوری بن گئ۔

حنفی اصول فقہ کے تاریخ نگاروں کا اس پر اتفاق ہے کہ دیگر تمام مذاہب کے اصول پہلے وضع ہوئے اور بعد ازاں ان پر فقہی تعمیر کھڑی کی گئی۔ جب کہ “تدوین کی حد تک” حنفی مذہب کا معاملہ اس کے برعکس ہے کہ پہلے حنفی فقہ (Positive law) مرتب ہوئی اور اس کے بعد اسی فقہ سے اصول دریافت کر لئے گئے۔ اگر تدوین سے متعلق یہ بات سامنے رہے تو سوال ذہن میں آتا ہے کہ حنفی فقہ، جو کہ ظاہر الروایہ کی صورت میں ہمارے پاس محفوظ ہے، میں کتنے اور کون سے مسائل ایسے ہیں جو معتزلہ سے لئے گئے ہیں۔ (یہ سوال اس سوال کے علاوہ ہے کہ کیا معتزلہ اپنا فقہی مکتب بھی رکھتے ہیں؟)

اگر ظاہر الروایہ میں ایسے جزئیے کی نشاندہی مشکل ہو جس سے اعتزال کی بو آئے تو پھر امام ابو بکر جصاص کے توسط سے حنفی مکتب کو فکر اعتزال سے متاثر گرداننا کس حد تک درست ہے؟ حالانکہ امام جصاص حنفی اصول فقہ کی ایک معتبر کتاب ” الفصول فی الاصول” کے علاوہ حنفی فقہ کی ایک اور معتمد کتاب “مختصر طحاوی” کے شارح اور احکام القرآن جیسے حنفی مذہب کی نمائندہ تفسیرکے مصنف بھی ہیں۔ کیا ان کتابوں کا حنفی مذہب پر کوئی اثر نہیں؟ اگر ہے تو کیا حنفی مذہب کو فکر اعتزال سے محفوظ گرداننا درست ہے، اور کیوں کر؟

اس سوال کا جواب جاننے کے لئے محض حنفی اصول فقہ کی تاریخ نہیں بلکہ حنفی اصول فقہ کے چاروں ستونوں (جصاص، دبوسی، سرخسی اور بزدوی) کے کاموں کا تقابلی جائزہ ضروری ہےاور بعدازاں ظاہر الروایہ، جہاں سے پوری حنفی اصول الفقہ کو اخذ کیا گیا ہے، پر بھی نظر رکھنا ضروری ہوگا۔

اس وقت ہمارے پاس بانیان حنفی مذہب میں سے کسی کی بھی اصول فقہ پر کوئی تصنیف نہیں۔ امام عیسی بن ابان واحد وہ اتھارٹی ہے جنہوں نے براہ راست امام شیبانی سے کسب فیض کیا اور اصولی مسائل میں سب سے زیادہ ان ہی کی تصریحات پائی جاتی ہیں۔ امام جصاص ان کی آراء نقل کرتے رہتے ہیں۔ اورساتھ ساتھ ظاہر الروایہ سے بھی اصول کا استخراج کرتے ہوئے حنفی اصول فقہ کی ترتیب و تدوین کی مہم آگے کی طرف لے جاتے ہیں۔ اس دوران وہ چند مسائل میں فکر اعتزال سے بھرپور متاثر اور انہی آراء کو حنفی مذہب قرار دینے کی بھرپور کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔ مگر ان کے بعد امام دبوسی ان کے کام کا بغور جائزہ لیتے ہیں۔ امام جصاص کے کام سے استفادے کے ساتھ ساتھ نقد و تبصرہ بھی کرتے رہتے ہیں۔ دبوسی کے بعد سرخسی و بزدوی وہ شخصیات ہیں جو امام جصاص کے کام سے استفادہ بھی کرتے ہیں مگر ان کا زیادہ تر اعتماد ظاہر الروایہ پرہی رہتا ہے۔ جس کی بدولت وہ آسانی سے امام جصاص کے کام میں ان مسائل کی نشان دہی کرتے ہیں جہاں وہ فکر اعتزال سے متاثر ہیں۔ اور ظاہر الروایہ کے فروعی مسائل کی روشنی میں ان پر بھرپور نقد کرتے ہوئے ثابت کرتے ہیں کہ کیسے امام جصاص کی فکر اعتزال سے متاثر آراء حنفی مذہب نہیں۔

اس پورے Polemical Discourse کو مشائخ عراق و سمرقند کے اختلافات کے عنوان سے یاد کیا جاتا ہے۔ اہم بات یہ کہ امام دبوسی جصاص کے علمی تفوق کا بھر پور احترام کے باوجود بھی ان مخصوص مسائل میں ان کا ساتھ نہیں دیتے۔ دلچسپی اس وقت بڑھ جاتی ہے جب دبوسی ان کے احترام میں نقد سے گریز کرتے ہوئے مگر عام احناف کا ساتھ بھی نہ چھوڑتے ہوئے جصاص کی بعض آراء کی تنقیح کی کوشش کرتے ہیں۔ اس دوران دبوسی اپنی علمی شان اور تبحر و تفوق کو بروئے کار لاتے ہوئے کچھ جدید اصطلاحات کا اختراع کر لیتے ہیں، اور یوں اعتزال کا اثر “کم ہو کر” اس اختلاف کو بظاہر harmonize کرنے کی ایک راہ نکل آتی ہے۔ مگر ایک قاری شیخین (سرخسی و بزدوی) کو تب داد دئے بغیر نہیں رہ سکتا جب وہ دونوں امام دبوسی کی اس علمی شان کا بھر پور احترام کرتے ہوئے ان کی تجویز کردہ اصطلاحات سے استفادہ بھی کرتے ہیں مگر کمال دقت سے ان مسائل کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے ثابت کرتے ہیں کہ ان مسائل میں ذرا سا لچک بھی ظاہر الروایہ کے کن مسائل سے ٹکراؤ اور حنفی مذہب میں in-consistency کا موجب بن سکتا ہے۔ یہاں سے اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح شیخین اور ان کی اتباع میں بعد کے تمام احناف اصولیین حنفی اصولی فکر پر اعتزال کے اثر، گو کہ امام دبوسی کی کاوش سے کم ہوچکا ہو، پر بالکل بھی کمپرومائز نہیں کرتے۔

انہی دو شخصیات کی کوششوں سے حنفی اصول فقہ کی تعمیر مکمل ہوجاتی ہے جس میں، ہمارے اب تک کے مطالعے کی روشنی میں، ذرا سا بھی اعتزال کا اثر نہیں۔ ان کے بعد جس کسی نے بھی حنفی اصول پر لکھا انہی دونوں کے اتباع میں لکھا، اور کوئی ایسی رائے آج احناف کا اصولی موقف نہیں جس کو شیخین نے رد کیا ہو۔ لہذا احناف کی “ایک بڑی تعداد” کو معتزلہ قرارد ینا، کم از کم اصول فقہ کے اعتبار سے درست نہیں۔ (ہاں یہ الگ بات ہے کہ معتزلہ کی ایک بڑی تعداد اپنا فقہی مکتب نہ رکھنے کی بدولت احناف کی فقہ کا اتباع کرے)۔ جہاں تک امام ابو بکر جصاص کے کام کا تعلق ہے اس کو حنفی فقہ و اصول دونوں میں نہ صرف قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے بلکہ اساسی نوعیت کا سمجھ کر بھر پور استفادہ بھی کیا جاتا ہے۔ بالخصوص جب کہ شیخین نے ظاہر الروایہ کی چھلنی سے گزارکر فکر اعتزال سے تطہیر بھی کی ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: