جمہوریت کی دعویدار ہماری سیاسی جماعیتں : ثناء غوری

1
  • 230
    Shares

ہمارے یہاں جمہوریت کا تسلسل نہیں رہا، اس لیے جب بھی الیکشن ہوتا ہے ہر جماعت اور امیدوار کی کوشش ہوتی ہے کہ ہر قیمت پر کام یابی حاصل کی جائے پتا نہیں پھر موقع ملے یا نہ ملے۔ جمہوری سوچ اکثریت کی رائے کے احترام کا نام ہے۔ جمہوریہ کی سب سے عام تعریف یہ ہے کہ کسی ریاست میں ایسی حکومت جس کا سربراہ حکومت کوئی بادشاہ نہیں بلکہ منتخب شدہ عوامی نمائندہ ہو۔ دنیا کی مشہور جمہوریہ جیسے امریکہ، فرانس میں سربراہ حکومت کو نہ صرف آئین کے تحت بلکہ عوامی رائے عامہ کے بعد ہی منتخب کیا جاتا ہے۔ عمومی طور پر جمہوریہ ایک خودمختار ریاست کا دوسرا نام ہے، لیکن خود مختار ریاست میں ذیلی انتظامی و سیاسی اکائیاں وجود رکھتی ہیں جو جمہوریہ کے ماتحت رہتی ہیں یا کئی مواقع پر ان انتظامی و سیاسی اکائیوں کو بھی ضرورت کے مطابق آزاد یا پھر وفاقی جمہوریت کے طرز پر ڈھال دیا جاتا ہے۔ جمہوریت کے استحکام اور اس کا تسلسل برقرار رہنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ہار تسلیم کرنا جانتے ہوں۔ مگر ہم ہار کو ذلت سمجھتے ہیں، جو غیرجمہوری رویہ ہے۔ ہم بات تو کرتے ہیں جمہوریت کی لیکن جب کہیں بھی انتخابات کا موسم آتا ہے تو ہم اس جمہوریت کو برقرار رکھنے کے لیے فوج کو آواز دیتے ہیں، آخر ایسا کیوں ہے؟

ہم اپنی من پسند سیاسی جماعت کی اندھا دھند تقلید کرتے ہوئے اُسے ووٹ دیتے ہیں یہ محاسبہ کیے بغیر کے ماضی میں اُس جماعت نے پاکستان کو کیا دیا اور پھر اُمید رکھتے ہیں کہ ملک میں بہتر نظام قائم ہوگا آپ خود ہی کہیے یہ کیسے ممکن ہے۔ ہم خود اس کے ذمہ دار ہیں، پہلے ہم خود حکمرانوں کے ظلم و ستم پر روتے ہیں۔ پھر انہی کو ووٹ دیتے ہیں جنھیں ہم نصف صدی سے آزما رہے ہیں۔ بحیثیت قوم ہماری عزمت کو سلام کیا جائے یا ہماری کم عقلی کے ڈھول پیٹے جائے۔ میں یہ بات برملا کہتی ہوں کہ ایسے لیڈر ہمارے لئے بہتری کی نوید نہیں بلکہ باعثِ ننگ و عار ہیں۔ یہ پارٹیا ں تو کبھی خود احتسابی کی طرف راغب نہیں ہوگی لیکن یہ عوام ہی ہے جو بدلاؤ کے عمل کو اپنے ووٹ کے ذریعے ممکن بنا سکتی ہے۔

پاکستان میں مفاد پرستی کی سیاست کا بازار گرم ہے ہم مورثی سیاست کو جمہوریت کا نام دے کر خود کو تسلی دیتے ہیں۔ دراصل یہی سیاست پاکستان کو تباہ کرنے میں سب اہم رہی۔ جاگیردارانہ نظام، مورثی سیاست ہماری سیاست کا سیاہ چہرہ ہے۔ ہماری قوم ایسی سیاست کی عادی ہو چکی ہے اور یہ عارضہ خطرناک حد تک ہماری نسلوں کی گھٹی میں شامل کردیا گیا ہے۔

ہماری سیاسی جماعتیں، جو ہر وقت جمہوریت کا راگ الاپتی ہیں، جمہوریت کی چیمپیئن بنتی اور اس کے لئے قربانی کے دعوے کرتی ہیں، در حقیقت ان کے اندر اوپر سے نیچے تک جمہوریت کہیں نظر نہیں آتی۔ چند مثالوں کو چھوڑ کر خاص طور پر ہر بڑی جماعت کسی نہ کسی فرد یا خاندان کی ذاتی ملکیت نظر آتی ہے، جس میں موروثی نظام پوری ڈھٹائی کے ساتھ رائج ہے، جہاں یہ امر طے شدہ ہے کہ جماعت کی سربراہی فقط جماعت کے قائد کے خاندان کا کوئی فرد ہی کرے گا، چاہے پارٹی کا کوئی دوسرا راہ نما یا رکن کتنا ہی جاں نثار، قابل اور مخلص کیوں نہ ہو۔ باپ کے بعد بیٹا، بیٹی، پوتا، پوتی، نواسا، نواسی اور بہو یا داماد ہے جماعت کی قیادت کے اہل قرار پاتے ہیں۔

ہمارے دیس میں سیاسی قیادت بھی کسی جائیداد کی طرح بطور ورثہ دی جاتی ہے، جس کا معیار خونی یا قریب ترین رشتہ قرار پاتا ہے، صلاحیت نہیں۔ دیکھیے اور غور کیجیے! سیاسی جماعتوں کے جو نام نہاد پارٹی الیکشن کئے جاتے ہیں ان کے نتائج کیا ہوتے ہیں؟ وہاں پارٹی قیادت کے من پسند اور خوشامدی اور راہنماؤں کے باپ، بیٹا، بہن، بھائی ہی ’’کام یاب‘‘ قرار پاتے ہیں۔ اسی طرح جب عام انتخابات یا ضمنی الیکشن کے موقع پر ٹکٹوں کی تقسیم کا مرحلہ آتا ہے تو قربانیوں، صلاحیت اور دیرینہ وابستگی پر راہنماؤں کے رشتوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔

جمہوریت کی دعودار جماعتوں کا خود جمہوریت سے دور دور تک لینا دینا نہیں ہوتا پارٹی کے اندر پارٹی کا سربراہ ایک آمر کی طرح فیصلہ سناتا ہے اور باقی اراکین جی حضوری میں لگ جاتے ہیں۔ درحقیقت دیکھا جائے تو ملک کی ترقی اور سا لمیت سے کسی کا کوئی واسطہ نہیں ”میں اور بس میں” کے اصولوں پر کاربند یہ سیاسی لیڈر اقتدار کی لالچ لئے فیصلے کرتے ہیں اور ان فیصلوں میں انھیں کس حد تک اور کتنا فائد ہ پہنچ سکتا ہے یہ ان کیے لئے سب سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔

الیکشن قریب ہے اور سیاسی مہرے آخری حد تک اپنی ڈگڈگی بچاتے عوام کو گمراہ کرنے کی ہر حد تک کوشیش میں لگے ہوئے ہیں۔ امیدوار، جیتنے کے لیے ہر حربہ اور ہتھکنڈہ استعمال کرتے ہیں۔ قواعد کے خلاف انتخابی مہم میں تعصب کے نعرے لگائے جاتے ہیں، ذات برادری، قومیت، زبان، علاقائی تعصب اور فرقے کی بنیاد پر لوگوں کے جذبات بھڑکائے جاتے ہیں۔

ایک دوسرے کے جلسوں جلوسوں، ریلیوں اور کیمپوں پر حملے کیے جاتے ہیں، جلسوں کا ماحول خراب کیا جاتا ہے، پوسٹر اور جھنڈے پھاڑ دیے جاتے ہیں۔ طاقت ور امیدوار اور گروہ مالی اور سماجی اعتبار سے کمزور امیدواروں کو ڈرا دھمکا کر الیکشن سے باہر کردیتے ہیں یا ایسا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے قواعد اور آئین کی دھجیاں اُڑا دی جاتی ہیں، لیکن کسی امیدوار اور جماعت کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ اس صورت حال کی ایک وجہ ہمارے یہاں موجود جاگیردارانہ اور قبائلی سوچ ہے، جو ہر قیمت پر اپنی فتح چاہتی ہے۔

ہر باشعور شخص یہ جانتا ہے کہ جو کچھ ہورہا ہے وہ غلط ہے لیکن پھر بھی آنکھوں میں پٹی باندھے ان نام نہاد سیاست دانوں کی بانسری پر پیچھے چلے جا رہا ہے۔ اس میں دو رائے نہیں ہوسکتیں کہ باربار مارشل لا کے نفاذ نے پاکستان میں ووٹ کی حرمت کو بری طرح پامال کیا ہے۔ وردیوں کی طرح شیروانیوں نے بھی جمہوریت اور پاکستانیوں کے حق رائے دہی پر کچھ کم ستم نہیں ڈھائے۔ سیاست دانوں نے بہ طور حکم راں اپنے مخالفین کو کچلنے کی کوششیں کیں، تو حزب اختلاف کی حیثیت میں انہوں نے برسراقتدار جماعت کی حکومت کے خاتمے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا اور اس جنون میں جمہوریت دشمن قوتوں کے آلہ کار بن گئے۔ مگر اس سب کے باوجود جمہوریت کا متبادل کیا ہے؟ کیا آمریت؟ ہم ان قوموں میں شامل ہیں جنہوں نے موجودہ زمانے میں طویل عرصے تک آمریت جھیلی ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ آج پاکستانی معاشرہ تنزلی کا شکار ہے۔ انفرادی، خاندانی، معاشرتی، سیاسی، معاشی، قانونی تمام میدان اس وقت عصر نو تعمیر چاہتے ہیں اور یہ اُسی صورت ممکن ہے جب مخلص قیادت سامنے آ ئے لیکن فلحال پاکستان کی تین بڑی جماعتوں میں سے تو کسی بھی اُمید نہیں کے وہ ایک عام فرد کی زندگی کو بدلنے کے لئے کوئی عملی اقدام کریں۔ اس وقت تو ہمارے معاشرے میں عدل و سکون ناپید ہو چکا ہے۔ اور یقیناًایک عام فرد کی نفسیانی الجھنوں میں جس خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے اس سے ان رہنماوں کو نا پہلے کوئی واسطہ تھا اور نہ ہی مستقبل میں اس کے کوئی امکان نظر آتے ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارا تعلمی نظام تباہ ہوچکا ہے لیکن کیا آپ میں سے کسی کو بھی یہ اُمید ہے کہ کوئی لیڈر قرار واقعہ پاکستان کے تعلیم نظام کو سدھارنے پر توجہ دے گا۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ ووٹر بھی تعصبات کا شکار ہوکر ایسی جماعتوں اور امیدواروں کو ووٹ دیتے ہیں جو کھلے عام مخالفین کے خلاف غیراخلاقی زبان استعمال کرتے ہیں اور جن کی طرف سے انتخابی مہم کے دوران ہر طرح کی دھونس دھاندلی کی جاتی ہے۔ تبدیلی لانا ہے تو سب سے پہلے عام آدمی کو اپنا رویہ بدلنا ہوگا، اور اسے صحیح غلط میں فرق کرنا ہوگا۔ اس کے ساتھ الیکشن کمیشن کو اپنے قواعد وضوابط پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے اور کسی بھی قسم کے دباؤ میں آئے بغیر انتخابی قوانین کی خلاف ورزی پر فوری ایکشن لینا ہوگا۔

2018کے انتخابات گذشتہ الیکشنز سے مختلف پس منظر کے ساتھ اور الگ حالات میں ہورہے ہیں۔ دوسری بار ایک جمہوری حکومت نے پانچ سال پورے کیے ہیں، جس سے ملک میں جمہوریت کے استحکام کا امکان پیدا ہوا ہے۔ آج ملک بہت نازک صورت حال سے دوچار ہے۔ معیشت سے امن وامان تک تباہی کے مناظر پھیلے ہوئے ہیں۔ ریلوے اور پی آئی اے سمیت متعدد ادارے تقریباً تباہ ہوچکے ہیں۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ، گیس کے بحران اور منہگائی نے عام پاکستانی کی زندگی اجیرن کردی ہے۔ ایسے میں ایک اچھی حکومت اور اہل منتخب نمائندے ہی حالات میں سدھار لاسکتے ہیں۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: