عدالتی فعالیت اور اہلِ دانش کا اَلمیہ — محمد عثمان

0
  • 68
    Shares

ہمارےہاں عام طور پر وُہی سچ بیان کیا جاتا ہے جِس سے اپنے مؤقف کی تائید ہوتی ہو۔ گویا سچ بولنے کا مقصد حقیقت تک رسائی اور اُس کے زریعے معاشرے میں بہتری کی بجائے محض اپنی خود ساختہ دانشوری کی تشہیر تک محدود ہو کررہ جاتا ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال سپریم کورٹ کی حالیہ فعالیت (جوڈیشل ایکٹویزم) پر اہلِ علم کے ردعمل کے زریعے پیش کی جاسکتی ہے۔ جب سے عدالتِ عالیہ میں پانامہ سے متعلق موجودہ حکمران خاندان کے خلاف تحقیقات شروع ہوئی ہیں، ہمارے جمہوریت پسند (سویلین آمریت کو جمہوریت سمجھنے والے) اور لبرل دوست پورے زور و شور سے عدلیہ پر تنقید میں مصروف ہیں۔ ان کے بقول پانامہ کیس کے پیچھے دفاعی اداروں کا ہاتھ ہے جو اِس کیس کے زریعے سیاسی حکومت کو دباؤ میں لانا چاہتے ہیں تاکہ دفاعی اداروں کی بالادستی کو دَوام بخشا سکے۔ ہمارے اِن دوستوں کے خیال میں پاکستان میں آئین اورقانون کا جنازہ نکل چکا ہے اور عدالتیں طاقتور اداروں کے زیر اثر ”کمزور“ اور”مظلوم“ سیاسی قیادت کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

آئیے ان اعتراضات کا جائزہ لیتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان کا قانونی اور عدالتی ڈھانچہ معاشرے میں عدل و انصاف کے فروغ اور کمزور طبقات کی داد رسی میں بہت زیادہ کامیاب نہیں رہا ہے۔ لیکن ہمارے اہلِ دانش کو عدالتی نظام کی خرابی اشرافیہ کے ایک طاقتور ستون کے شکنجے میں آنے کے بعد ہی کیوں یاد آئی ہے؟

کیا کمزور کے خلاف طاقتور کی قانونی فتح کا یہ کوئی پہلا واقعہ ہے؟

کیا ہمارے تمام ریاستی ادارے جِس کی لاٹھی اُس کی بھینس کے اصول پر پہلے دن سے ہی عمل نہیں کررہے ہیں؟

جِن طبقات کو عوام کے سامنے مظلوم اور حق سچ اور جمہوریت کا علمبردار بنا کرپیش کیا جارہا ہے، کیا اشرافیہ کے یہ طبقات عام عوام کے ساتھ ہمیشہ سے وہی سلوک نہیں کرتے آرہے جِس سلوک کے خلاف یہ نوحہ کناں ہیں؟

کیا ایک سرمایہ دار، جاگیر دار اور علاقے کے طاقتور سیاست دان کے خلاف ظلم کا شکار ایک عام آدمی آواز بلند کرسکتا ہے؟ کیا طاقتور اور کمزور طبقات میں تنازع کی صورت میں ہمارے تمام ریاستی ادارے طاقتور کا تحفظ اور پشت پناہی نہیں کرتے ہیں؟

آئے دن ہمارے سیاسی وڈیرے اور سرمایہ دار کسی نہ کسی غریب مرد و عورت کی عزت، زمین یا حقوق پر ڈاکہ ڈال رہے ہوتے ہیں۔ حالات تو یہاں تک خراب ہیں کہ غریب اور کمزور متاثرہ خاندان کی ایف آئی آر کاٹنے سے بھی انکار کردیا جاتا ہے۔ بالفرض اگر ایف آئی آر کٹ بھی جائے تو تفتیش سے لے کر عدالتوں میں مقدمہ چلنے تک ایک طویل سفر ہے جس میں طاقتور کے لئے ہر مقام پر سہولتیں اور کمزور کے لئے قدم قدم پر رکاوٹیں اور تذلیل کا بندوبست کیا گیا ہے۔چند ماہ پہلے ہی ایک خاتون نے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کے بعد ایف آئی آر نہ کاٹے جانے پر تھانے کے سامنے خودکشی کرلی۔ یہ زیادہ بڑا ظلم ہے یا ایک اَرب پتی شخص سےاُس کی دولت کے ذرائع معلوم کرنا؟ پہلے جرم کے خلاف خاموشی اختیار کرلینا اور اُسے روزمرہ کی بنیاد پر ہونے والا ایک معمولی واقعہ سمجھ لینا کیا ہماری علمی اور اخلاقی دانش پر سوالیہ نشان نہیں ہے؟

کئی کئی ماہ کے انتظار کے بعد دور دراز کے دیہات اور چھوٹے شہروں میں رہنے والا عام آدمی سینکڑوں میل کا فاصلہ خستہ حال بسوں میں طے کر کے جب عدالتوں میں پہنچتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ آج جج صاحب نہیں آئے یا وکیل بیمار ہے یا پھر رش کی وجہ سے اس کی باری ہی نہیں آئی یا باری آئی بھی تو دو ماہ بعد کی نئی تاریخ ہی ملی ہے۔ ذرا ایک لمحے کے لئے سوچئے کہ اُس سائل پر کیا گزرتی ہوگی۔ حال ہی میں ایک کیس کے سو سال پورے ہونے تک ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ اگر بیس، تیس، پچاس سال بعد کسی مظلوم کو انصاف ملا بھی تو ایسے انصاف کا کیا فائدہ!

ہمارے دانشور حضرات ستر سال سے جاری عوام کی اِس تذلیل اور عدالتی قوانین میں موجود کمزوریوں پر شاذ و نادر ہی بات کرتے ہیں۔ اُنہیں اگر کہا جائے کہ ہمارا قانونی ڈھانچہ انگریز دور کی غلامی کی یادگار ہے جِس میں انصاف کے تقاضے پورے ہونا تقریبا ناممکن ہے تویہ حضرات ہمارے قانونی نظام کی زور و شور سے وکالت کرنے لگتےہیں۔ لیکن اب ایک سیاسی خاندان پر مقدمات چل رہے ہیں تو اِنہیں عدالتوں میں ہونے والا ظلم شدت سے یاد آرہا ہے۔ حالانکہ اشرافیہ کے یہ نمائندے عالیشان گاڑیوں میں سرکاری سیکیورٹی میں عدالتوں میں تشریف لاتے ہیں جہاں بیشترعملہ ان کی خدمات اور خوشامد سرانجام دینے میں مصروف ہوتا ہے۔

ہمارے اہل ِعلم کی اکثریت عدالتی فعالیت (جوڈیشل ایکٹویزم) کی حالیہ لہر کے پیچھے خفیہ ہاتھ کا ذکر کرتی رہتی ہے۔ یہ رویہ دراصل ہمارے قانونی نظام کی کمزوریوں کے بالواسطہ اعتراف پر مبنی ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارا تفتیشی اور عدالتی نظام اتنا کمزور ہے کہ یہاں وزیر اعظم تو دور کی بات، کسی ایم این اے، ایم پی اے یا وڈیرے کو بھی قانون کے کٹہرے میں لانا اور اس سے مظلوم کو انصاف لے کردینا ناممکنات میں شامل ہے کیونکہ پولیس، وکیل اور عدالتی اربابِ اختیار سب دولت اور طاقت کے زریعے خریدے جاسکتے ہیں۔ ایسے میں جب تین بار وزیراعظم رہنے والے صاحب اور اُن کے خاندان کے خلاف تفتیشی عمل شروع کیا جاتا ہے تو سب حیران و پریشان ہوجاتے ہیں کہ ہو نہ ہو اس کے پیچھے ضرور اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے!

موجودہ صورت حال میں بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے اہل علم کو قانونی نظام کی کمزریوں اور انہیں ٹھیک کرنے سے کوئی غرض نہیں ہے بلکہ ان کی ساری لفاظی اور بھاگ دوڑ کا مقصد صرف اتنا ہے کہ اُن کے لاڈلے سیاسی خاندان کو کچھ نہ کہا جائے اور ہوسکے تو وزارت عظمی کی کرسی دوبارہ انہیں دے دی جائے۔ جِس دن ہماری عدالت ملزم خاندان کو بری کردے گی تو عدالتی ظلم و ستم کا رونا رونے والے اِسے عدل وانصاف کی عظیم فتح قرار دیں گے اور جِس بابا رحمتے کا یہ ہر وقت مذاق اڑاتے ہیں اسے جسٹس کارنیلئس کے مقام پر فائز کردیں گے۔ یعنی عدل و انصاف بس یہی ہے کہ اِن دوستوں کی مرضی کا فیصلہ آجائے۔

آخری اعتراض جو عدالتی فعالیت پر کیا جارہا ہے وہ چیف جسٹس کے مختلف سرکاری اداروں کے دورے اور اداروں کی خراب کارکردگی پر وہاں اربابِ اختیار کی سرزنش کرنا ہے۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ چیف جسٹس کا یہ عمل ادارہ جاتی طریقہ کار کی خلاف ورزی ہے اور خود عدالتی نظام کو بہتر بنانےکے لئے اُن کی توجہ زیادہ اہم ہے لیکن اِس عمل کا دوسرا پہلو کمال مہارت سے ہماری نظروں سے اوجھل کردیا جاتا ہے۔ ہماری سیاسی قیادت اپنے آپ کو تو کسی دائرہ کار کا پابند نہیں سمجھتی لیکن دوسروں کو اپنی حدود ضرور یاد کرواتی رہتی ہے۔ پارلیمانی نظام میں ایم این اے اور ایم پی اے کا بنیادی کام معاشرے کے مسائل حل کرنے کے حوالے سے قانون سازی کرنا ہوتا ہے لیکن ہماری نااہل اور مفاد پرست سیاسی قیادتوں نے اپنے آپ کو سڑکیں، پل اور دیگر میگا پراجیکٹس بنانے میں مشغول کررکھا ہے۔ بجلی، پانی، گیس اور تعمیرات جیسے سرکاری محکموں کو بھی انہوں نے اپنے ماتحت رکھا ہوا ہے تاکہ اس کے زریعے اپنے سیاسی اثرورسوخ میں اضافہ کیا جائے۔ ایسے میں جب ان سے سوال کیا جاتا ہے کہ بھائی دس سال حکومت کرنے کے بعد بھی 90-80 فی صد آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر کیوں نہیں ہے تو فورا چیخنے لگتے ہیں کہ آپ حدود سے تجاوز کررہے ہیں۔ آپ اپنا کام کریں اور ہمیں اپنا کام کرنے دیں۔ یعنی آپ عدالتوں میں عوام کو ذلیل و خوار اورلوٹتے رہیں ہم باقی اداروں میں یہ عمل جاری رکھتے ہیں۔ مل بیٹھ کرکھاتے پیتے ہیں۔ کیا ضرورت پڑی ہے ایک دوسرے کو تنگ کرنے کی!

ہوسکتا ہے کہ اہلِ دانش کی اکثریت کے متعلق میرا یہ احساس غلطی پر مبنی ہو لیکن اسے غلط ثابت کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہمارے اہلِ علم سیاسی، معاشی اور قانونی نظام کی جملہ کمزوریوں پربھی اسی شدومد سے تنقید کریں جس شَدو مد سے یہ آج عدالتوں اور دفاعی اداروں کے خلاف زہر اگل رہے ہیں اور ان کمزوریوں کو حل کرنے کے حوالے سے قوم کی راہنمائی بھی فرمائیں۔ وہ قوم میں یہ شعور پیدا کریں کہ کسی بھی ریاست کا نظام تین بنیادی ستونوں، پارلیمنٹ (قانون بنانے والا ادارہ)، بیوروکریسی (قانون کا نفاذ کرنے والا ادارہ) اور عدلیہ (قانون کی تشریح اور تنازعات کو حل کرنے والا ادارہ)، پر مشتمل ہوتا ہے۔ ہمیں بتایا جائے کہ ہمارا ریاستی نظام نوآبادیاتی غلامی کے دور کی پیداوار ہے اور اِسی ذہنیت پر آج بھی چل رہا ہے۔ اِس نظام کی بنیاد جاگیردای اور سرمایہ دارانہ اصولوں پر مبنی ہے جس کا واحد مقصد انسانوں کی وسیع اکثریت کا سیاسی، سماجی اور معاشی استحصال اور ایک محدود ترین اقلیت کی عیش وعشرت ہے۔ آج ہمیں ان اداروں کے آپسی لڑائی جھگڑوں میں الجھنے اور کسی ایک فریق کی وکالت کرنے کی بجائے ایک نئے سماجی معاہدے کی ضرورت پر غوروفکر کرنا ہے اور اس کے لئے اپنے اندر اجتماعی سوچ اور نظم و ضبط پیدا کرنا ہے۔ اگر ہمارے اہلِ دانش یہ شعور قوم میں پیدا کرنے لگیں تو ہم سب کا فرض ہے کہ اُن کا دست و بازو بنیں تاکہ ایک خوشحال اور پرامن معاشرے کا خواب جلد از جلد شرمندہ تعبیر ہوسکے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: