چودھری نثارعلی خان اور نون لیگ کے پیادے —- رئیس احمد صمدانی

0
  • 25
    Shares

چودھری نثار اور میاں نواز شریف کا ساتھ گزشتہ 35 برس کا ہے۔ وہ اعتدال پسند، اسلامی ذہن رکھنے والے، عسکریت پسند، نرم لہجے، شائستہ گفتگو کرنے والے نون لیگی شمار ہوتے ہیں۔ لگی لپٹی نہیں رکھتے، جو بات کہنا ہوتی ہے صاف الفاظ میں کہہ دیتے ہیں۔ فوجی خاندان بھی ان کی ایک خاص پہچان ہے۔ میاں نواز شریف بھی ان کی ان خصوصیات کا احترام ضرور کرتے ہیں لیکن میاں صاحب کا مزاج دوسری قسم کی زمینی مخلوق کو پسند کرنا ہے۔ میاں صاحب کی ایسی زمینی مخلوق کو چودھری نثار نے ان کے بیادے قرار دیا ہے۔ چودھری نثار کی اہمیت اس بات سے عیاں تھی کہ جب تیسری بار نون لیگ اقتدار حاصل کیا اور میاں صاحب تیسری باری لینے میں کامیاب ہوگئے تو چودھری نثار کو سب سے اہم وزارت داخلہ سے سرفراز کیا گیا۔ یہاں تک تو معاملہ ٹھیک تھا۔ لیکن جیسے جیسے اقتدار کی ڈوریاں لمبی ہوتی گئیں چودھری نثار اور میاں صاحب کے درمیان بھی کھچاؤ اور تناؤ بڑھتا دکھائی دیا۔ میڈیا میں اس قسم کی خبریں آنے لگیں کہ ملک کے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کئی کئی ماہ ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے اور ان کا آمنا سامنا نہیں ہوتا۔ حیرت کی بات تھی، داخلہ جیسے امور پر وزیر داخلہ اس قدر خود سر تھے کہ انہیں وزیر اعظم سے کسی امور پر مشورہ کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی تھی۔ اس کے ساتھ ہی ایسے خبریں بھی آئیں جو بعد میں سچ ثابت ہوئیں کہ چودھری نثار اور ملک کے وزیر دفاع جو بعد میں وزیر خارجہ پھر اقامہ پر نا اہل ہوئے کے درمیان بھی گفتگو نہیں۔ اس کے بعدوزیر اطلاعات پرویز رشید سے چودھری نثار کے اختلافات سامنے آنا شروع ہوگئے۔ 8 مئی کی پریس کانفرنس سے پہلے بھی چودھری نثار اپنی پریس کانفرنسوں میں پرویز رشید کی خوب زبانی دھنائی کر چکے ہیں۔ اصل میں یہ مارا ماری، گولا باری کا سلسلہ ڈان لیکس کے سامنے آنے کے بعد شروع ہوا۔ اس میں آخری کیل اس وقت ٹھک گئی جب تیسری مرتبہ وزارت ِعظمیٰ پر فائز ہونے والے وزیر اعظم کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں نااہل کر دیاگیا، سپریم کورٹ کا بنچ جناب جسٹس آصف سعید کھوسہ، جناب جسٹس عظمت سعید، جناب جسٹس اعجاز الا حسن، جناب جسٹس گلزار احمد، جناب جسٹس اعجاز افضل پر مشتمل تھا۔ بینچ نے وضاحت کی کہ یہ بینچ پانچ رکنی بنچ کا تسلسل ہے۔ جس نے 20 اپریل کو فیصلہ سنا یا تھا۔ فل بینچ نے پاناما کیس کا اہم ترین اور تاریخی فیصلہ 28جولائی2017 کو سناتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف کو نا اہل قرار دے دیا۔ جب کہ نیب کو ہدایت کی کہ وہ دو ہفتے کے اندر اندر نواز شریف اور ان کے بچوں، داماد اور سمدھی کے بارے میں ریفرنس دائر کریں جس کا فیصلہ چھ ماہ کے اندر اندر کردیا جائے۔ سمدھی جای دوڑ گئے لندن اور بیمار ہوکر خوب بوز جاری کیے بستر علالت سے، عدالت نے اب انہیں سینٹ کی رکنیت سے فارغ کر دیا ہے۔ بہت عرصے تک ہمارے ملک کا وزیر خزانہ اشتہاری رہا۔

نا اہلی کے بعد اب میاں صاحب کی سیاست کا رنگ ڈھنگ مختلف ہوتا گیا، میاں صاحب کی جگہ شاہد خاقان عباسی کو میاں صاحب نے اپنی کرسی پر براجمان کر دیا، یہاں بھی چودھری نثار کی سبکی ہوئی، انہوں نے اظہار تو نہیں کیا لیکن حق تو بنتا تھا چودھری صاحب کا، یہاں سے میاں صاحب کے چودھری نثار کے بارے میں اندر کے جذبات سامنے آگئے لیکن چودھری نثار چھوٹے میاں صاحب سے اچھے تعلقات رکھنے میں کامیاب تھے اور اب بھی۔ بعض کا تو خیال ہے کہ اب چودھری نثار کو نون لیگ کی سیاسی ڈوری سے اگر کسی نے باندھا ہوا ہے تو وہ چھوٹے میاں صاحب ہی ہیں۔ میاں نواز کی پالیسی چودھری نثار کے بارے میں صاف ظاہر ہے، گو اس سے قبل بھی میاں صاحب نے کئی بار چودھری نثار کو نظر انداز کیا تھا۔ یہاں سے میاں نواز کے بیانیوں کا آغاز ہوا، مجھے کیوں نکالا، یہ پہلا بیانیہ تھا جس پر خوب جگ ہنسائی ہوئی، میاں صاحب کے درباری بقول چودھری نثار پیادے میاں صاحب سے چار ہاتھ آگے، نہال ہاشمی، دانیال عزیز، عابد شیر علی، پرویز رشید، خاتوں وزیر اطلاعات سب اس کوشش میں رہے کہ میاں صاحب ایک بار اداروں کی توہین کریں، برا بھلا کہیں تو یہ ان سے چار ہاتھ آگے۔ نہال ہاشمی کا انجام سب کے سامنے ہے۔ چوہدری نثار نے میاں صاحب کے بیانیہ سے ہٹ کر اپنا موقف اختیار کیا،در اصل میاںنواز شریف کا بیانیے کی مثال کچھ ایسی رہی کہ ’’ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور‘‘ یعنی وہ کہہ تو رہے ہیں کے مجھے کیوں نکالا، مجھ پر کرپشن کا الزام نہیں، بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نکال دیا، اصل بات جو عدالت پوچھ رہی ہے اسے وہ اس طرح گول کر جاتے ہیں کہ جیسے کوئی بات ہی نہیں۔در اصل اس جرم کی پاداش میں انہیں نااہل کیا گیا،اگر معاملا صاف ہوتا تو قطری خط، جعلی دستاویز کی کیا ضرورت تھی۔ چودھری نثار نے واضح الفاظ میں کہا کہ اداروں سے ٹکراؤ، اداروں کی تضحیک، اداروں سے لڑائی نہ کریں، جو سیاسی مخالفین ہیں ان کے ساتھ سیاست کریں۔ چودھری نثار کے طرز عمل سے اس بات کے اشارے مل رہے تھے کوئی نہ کوئی معاملہ دونوں کے درمیان ضرور ہے آخر وہ سامنے آہی گیا۔ انہوں نے میاں نواز شریف کے بیانیہ سے اختلاف کرتے ہوئے اسے اپنا بیانیہ نہیں بلکہ اپنا موقف کہتے ہوئے فرمایا کہ ’’سیاست باکسنگ نہ پہلوانی، نواز شریف کو بتایا فوج وار عدلیہ سے نہ لڑیں‘‘۔ چودہری نثار نے جس کھلے الفاظ میں اپنا موقف بیان دیا تھا، یہی وہ بنیادی اختلاف ہے جس نے چوہدی نثار اور میاں نواز شریف کے درمیان سرد جنگ جاری رکھی اور اب بھی ہے، یہی وہ بنیادی نقطہ ہے جس کی وجہ سے چودہری نثار اور نواز شریف کے چند قریبی نون لیگیوں کے مابین بات چیت بھی بند رہی اور یہی وہ بنیادی سوچ اور موقف ہے جس کی وجہ سے ماضی میں اکثر یہ سنا گیا کہ مہینے مہینے چودھری نثار اور میاں نواز شریف میں بات چیت نہیں ہوتی تھی دونوں ایک دوسرے سے ملتے نہیں تھے۔ یہ ملک کا نظام کس طرح چلتا رہا۔چوہدی نثار نے جسے اپنا موقف کہا تھا وہ دراصل ان کا بیانیہ ہی ہے۔ ماضی کی پریس کانفرنسوں میںچودھری نثار یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ نون لیگ میں ان کے حلقے کے لیے ان کا متبادل ڈھونڈنے کی کاروئی شروع ہوچکی ہے۔چودھری نثار نے کہا تھا کہ میرا متبادل ڈھونڈنے والوں کی ضمانتیں ضبط ہوجائیں گی۔ وہ دو ٹوک الفاظ میں کہہ چکے تھے اور اب بھی کہا کہ ہمیں اداروں سے لڑنے کے بجائے سیاسی اپوزیشن کی طرف منہ کرنا چاہیے۔ چودھری نثار کی باتوں میں اس وقت بھی وزن تھا اور اب بھی درست لگتی ہیں، موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے بالکل درست دکھائی دیتا ہے۔ فوج اور عدلیہ کے حوالے سے چودھری نثارکا موقف یا رائے کوئی نئی نہیں وہ ماضی میں بھی فوج سے اچھے تعلقات کے حوالے سے یاد کیے جاتے رہے ہیں۔

چوہدی نثارکے موقف ملتا جلتا موقف، بیانیہ یا رائے میاں شہباز شریف جو اب نون لیگ کے صدر بھی ہے سامنے آئی ہے۔ چھوٹے میاں صاحب نے17 مارچ 2018 کوڈیرہ غازی خان میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ ’’ سیاست دانوں، عدلیہ اور فوج اور پارلیمان کو کہتا ہوں کہ خدا را مل کر بیٹھیں اور کام کریں، سیاسی مخالفین سے اپیل کرتا ہوں ہوش کے ناخن لو‘‘۔ جب سے میاں نواز شریف نا اہل ہوئے، مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں میاں شہباز شریف نے اپنی تقریروں اور پریس کانفرنسیز میں فوج اورعدلیہ کے بارے میں وہ زبان استعمال نہیں کی جو میاں صاحب اور ان کے ارد گرد رہنے والے استعمال کر رہے ہیں۔ چودھری نثاریہ بات بھی کہہ چکے ہیں کہ انہیں میاں شہباز شریف کے ماتحت کام کرنے میں کوئی مشکل نہیں، البتہ وہ میڈم مریم نواز کے تحت کام نہیں کر سکتے۔ اس طرح میاں شہباز شریف کا موقف بھی وہی سامنے آتا ہے جو چوہدی نثار کا موقف ہے۔ یہ بات کہہ کر چودھری نثارنے اپنے آپ کو میاں صاحب سے اور دور کر لیا، اس لیے کہ میاں نواز شریف کی پالیسی ظاہر کررہی ہے کہ وہ اپنا جانشیں اور پارٹی سربراہ اپنی بیٹی کو بنا نا چاہتے ہیں، اس کا اظہار تو نہیں کیا گیا لیکن عمل اسی جانب اشارہ ر ہا ہے۔

ماضی کے بیانات کو سامنے رکھ جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ چودھری نثار اور نون لیگ کے راستے جداہونے میں اب کوئی کثر باقی نہیں رہ گئی۔ پرویز رشید کا چودھری نثار کے بارے میں پریس کانفرنس میں یہ کہنا کہ پارٹی چودھری نثار خان کو نکال دے، میرا ووٹ ان کے خلاف ہوگا، چودھری نثار نے پارٹی پالیسی کے خلاف گمراہ کن بیانات دیے، ڈان لیکس پر وزارت سے ہاتھ دھو ئے جانے اور کیبنٹ سے نکالے جانے پر پرویز رشید نے چودھری نثارعلی خان کے خوب لتے لیے تھے۔ انہوں نے نے یہ بھی الزام عائد کیا تھا کہ چودھری نثار انہیں یعنی (پرویز رشید کو )نکال کر فوج کے ایک گروہ کو خوش کرنا چاہتے تھے۔ الفاظ صاف، جملہ واضح، کوئی لگی لپٹی نہیں صاف صاف کہہ ڈالا تھا۔ پھر فرمایا تھا کہ اگر وہ (چودھری نثار) اتنے ہی با اصول آدمی ہیں تو پارٹی کی جان چھوڑ دیں۔کہتے ہیں کہ پارٹی چوہدری نثار کے بارے میں فیصلہ کرے میرا ووٹ انھیں نکالنے کے حق میں ہوگا۔ اس وقت چودھری نثار علی خان کا جواب شکوہ برائے راست نہیں آیا تھا بلکہ انہوں نے اپنے ترجمان کے توسط سے پرویز رشید کی گولاباری کا جواب مارٹر گولوں سے دیا، گویا سیر کو سوا سیر والی صورت تھی۔ڈان لیکس رپورٹ عام کرنے کا مطالبہ کیا تھا،چودھری صاحب نے اس وقت پرویز رشید کے بارے میں کہا تھا کہ تعجب ہے کونسلر تک کا الیکشن نہ لڑنے والا اور بیشتر زندگی دوسری پارٹی میں گزارنے والا نون لیگ کا خود ساختہ پردھان منتری بن بیٹھا، ستم ظریفی ہے کہ فوج کے بارے میں مودی جیسی سوچ رکھنے ولا پاکستان کی خالق جماعت کا سیاسی وارث بنا ہوا ہے، کسی ایسے شخص کی مضحکہ خیز باتوں کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھتے جس کا خود مسلم لیگ (ن) سے تعلق واجبی ہے، بہتر ہوگا کہ نون لیگ کے صدر نواز شریف اور وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی خود ڈان لیکس کی رپورٹ منظر عام پر لانے کے احکامات جاری کردیں تاکہ بیان دینے والے شخص کے کرتوت سب کے علم میں آجائیں۔ یہ تھا وہ گھر کا بھیدی، ڈان لیکس کی رپورٹ وزیر داخلہ کی حیثیت سے چوہدری نثار علی خان نے ضرور دیکھی ہوگی، ان کے علم میں کچھ ہوگا تب ہی تو انہوں نے اسے عام کرنے کی بات کی۔ اسے کہتے ہیں سیاست اور گندی سیاست، یہ ہے مفاد کی سیاست اور یہ سب کچھ گولا باری کیوں ہورہی ہے اس کی وجہ صرف میاں نواز شریف ہیں۔ انہیں صرف وہ لوگ اچھے لگتے تھے اور اب بھی وہی لوگ پسند ہیں جو ان کے مفاد کا تحفظ کریں، ان کے قصیدے پڑھیں۔ وقت گواہ ہے کہ میاں صاحب نے ہر اُس شخص کو نوازا جو ان کا وفادار رہا ہو، ان کے قصیدے گاتا رہا ہو، ان کی خاطر اپنی تذلیل، بے آبروئی، رسوائی کرواتا رہا ہو۔ مثالیں بے شمار ہیں، میاں صاحب کو اپنے تیسرے دور میں کوئی ایسا شخص نہیں ملا جو وزارت خارجہ کے فرائض انجام دے سکتا، انہیں اپنے سمدھی کا متبادل آج تک نہ مل سکا، اس لیے کہ ان کے ہاں وفادار ہونا شرط ہے قابلیت، اہلیت اور میرٹ کی کوئی حیثیت نہیں۔

میاں نواز شریف کے بیانیے وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہورہے ہیں،لمحہ موجود کا جو بیانیہ سامنے آیا وہ یہ کہ ان کے خلاف ’خلائی مخلوق‘ سرگرم عمل ہے۔ چودھری نثار نے کہہ دیا کہ انہیں اس بات پر سخت افسوس ہوا کہ میاں صاحب نے کہا کہ میں اب نظریاتی ہوگیا ہوں، اس کا مطلب ہے کہ وہ پہلے نظریاتی نہیں تھے، چودھری صاحب نے فرمایا کہ میاں صاحب وضاحت کریں کہ کون سے نظریاتی ہیں وہ، دائیں یا بائیں، بقول چودھری نثار کیا میاں صاحب نے اچکزئی کا نظریہ اپنا لیا ہے؟ یہ ہمارے سب ہی سیاست دانوں کی روش ہے کہ یہ جس سے ڈرتے ہیں، خوف کھاتے ہیں کبھی اس کے بارے میں اس کا نام لے کر اسے برا بھلا نہیںکہتے، ہمیشہ اشاروں کناروں میں بات کرتے ہیں۔ اتنے بہادر ہو تو نام لے کر کہو کہ خلائی مخلوق کون ہے؟ کیا وہ خلائی مخلوق صرف میاں صاحب کو ہی دکھائی دے رہی ہے، یہ وہ مخلوق تو نہیں جس نے میاں صاحب کو سیاست کے میدان میں اتارا تھا، انہیں پالا پوسا اور سیاست کا کھلاڑی بنایا تھا، اسی تربیت کانتیجہ ہی تو ہے کہ شریف خاندان گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان کا حکمراں خاندان چلا آرہا ہے۔ چودھری نثار کی باتوں سے اختلاف ہوسکتا ہے، ان کی سیاسی حکمت عملی سے اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن انہوں نے 5مئی2018کی پریس کانفرنس میں جو باتیں میاں صاحب کے لیے کہیں حقیت ہے۔ ان کا کہناہے کہ انہوں نے میاں صاحب کو’ سپریم کورٹ جانے اور تقریر کرنے سے منع کیا تھا‘، انہوں نے واضح طور پر کہا کہ جو پیادے اس وقت میاں صاحب کے ارد گرد جمع ہیں انہوں نے میاں صاحب کو اس انجام تک پہنچا دیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ ملازم سے میرے خلاف بیان دلوایاجو کبھی کسی کے خلاف کھڑا نہیں ہوا، سینٹ کے لیے ذاتی ملازمین کو ٹکٹ دئے، چودھری صاحب نے کہا کہ وزیر اعظم کے پاس خلائی مخلوق کا ثبوت ہے تو آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے بات کریں، اس نئی منطق کو چودھری نثار نے ’نئی نیوز لیکس‘ قرار دیا، ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سیاست میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا بلاواسطہ یا بلواسطہ کردار رہا ہے ‘۔

اصغر خان کیس دوبارہ کھل چکا ہے، اگر تیزی سے اس سمت پیش رفت ہوتی ہے تو وہ بھی میاں صاحب کو مشکل میں ڈال دے گی، میاں نواز شریف کا یہ بیانیہ کہ ان کے خلاف خلائی مخلوق کام کررہی ہے، سیاسی بیان بازی کے سوا کچھ اور نہیں، ہوا میں تیر چھوڑنے کے مترادف ہے، جس مخلوق کی جانب میاں صاحب اشارہ کر رہے ہیں، اس وقت پاکستانی سیاست میں اس کا عملی دخل دور دور دکھائی نہیں دے رہا۔ مستقبل کے بارے میں کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ اب بھی وقت ہے میاں صاحب اپنی پالیسی پر نظر ثانی کریں، اس قسم کے بیانات نہ خود دیں نہ اپنی صاحبزادی سے دلوائیں جب یہ دونوں اپنے آپ کو کنٹرول کرلیں گے تو بقول چودھری نثار پیادے از خود احتیاط کریں گے، ویسے بھی چند پیادوں کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی بہت آگے بڑھ چکی ہے، یہی وجہ ہے کہ اب ان پیادوں نے احتیاط سے کام لینا شروع کر دیا ہے۔ اقتدار ہی زندگی نہیں میاں صاحب، اقتدار آنی جانی چیز ہے، آپ سے پہلے کتنے حکمراں آئے اور چلے گئے۔ اور بھی اہم امور ہیں جو آپ کی مکمل توجہ چاہتے ہیں، آپ پر کڑا وقت ہے، سیاست ہوتی رہے گی، انسان دوبارہ نہیں آیا کرتے، جو ایک بار چلا گیا بس چلا گیا،جب کھیل ہاتھ سے نکل جاتا ہے پھر انسان زندگی بھر احساس، ندامت، افسوس اور ہاتھ ملتا رہ جاتا ہے۔ مقدمات میاں صاحب پر ہیں ان کی بیٹی پر تو نہیں، وہ اپنی ماں کی خدمات کا موقع کیوں ہاتھ سے جانے دے رہی ہے، ماں جیسی چیز دوبارہ نہیں ملنے کی۔ماں کو بیٹی کی قربت اور تیمار داری کی ضرورت ہے اور بیوی کو اپنے شوہر کی توجہ، محبت، شفقت اور قربت کی ضرورت ہے۔الیکشن مہم چلانے دیجئے انہیں جنہیں عہدے سونپے گئے، سیاست کرنے دیجئے انہیں جو اہل ہیں سیاست کے، آپ تو نا اہل ہوچکے، نہیں معلوم مستقبل قریب میں آپ کو کس قسم کے حالات کا سامنا کرنا پڑھ جائے۔ چھوڑیئے اس سیاست کو، سونپ دیجئے تمام امور اپنے ساتھیوں کو، بادشاہ کے بجائے اب آپ بادشاہ گر بن جائیے۔ شادؔ عظیم آبادی کی غزل کے ان اشعار میں آپ کے لیے کچھ پیغام ہے اس پر غور کیجئے اور بس ؎

ڈھونڈوں گے اگر ملکوں ملکوں، ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
تعبیر ہے جس کی حسرت و غم، اے ہم نفسوں وہ خواب ہیں ہم
لاکھوں ہی مسافر چلتے ہیں منزل پہ پہنچتے ہیں دو ایک
اے اہل زمانہ قدر کرو نایاب نہ ہوں کم یاب ہیں ہم
مرغانِ قفس کو پھولوں نے، اے شادؔ ! یہ کہلا بھیجا ہے
آجاؤجو تم کو آنا ہو ایسے میں، ابھی شاد اب ہیں ہم

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: