سیکولر ریاست: غیر جانبداری کا سراب — نور الوہاب

0
  • 8
    Shares

“سیکولر ریاست کے تمام شہری برابر کے حقوق رکھتے ہیں”
“سیکولر ریاست غیر جانب دار ہوتی ہے”

سیکولرزم سے وابستہ حضرات کی یہ باتیں پڑھنے، سننے اور سوچنے میں جتنی بھلی اور پرکشش لگتی ہیں، عملی زندگی اور حقائق کی دنیا میں اتنی ہی غیرحقیقی معلوم ہوتی ہیں، فکر اور نظریے کی حد تک اس بات کو جتنا مرضی بڑھا چڑھا کر پیش کیا جائے، عملی طور پر البتہ، اس کا وجود ناممکن کی حد تک بعید ہے!

یہ ایک ننگی حقیقت ہے کہ عملی زندگی کے تقاضے، فکری و نظری زندگی سے یکسر مختلف ہوتے ہیں، بسا اوقات ایک بات فکری و نظری طور پر بہت پرکشش ہوتی ہے، لیکن عملی زندگی اور حقائق کی دنیا میں جب اس کے اطلاق کی باری آتی ہے تو صورتِ حال یکسر مختلف ہوجاتی ہے!

اس حوالے سے اگر ہم اس مشہور بحث کا جائزہ لیں کہ ریاست میں حاکمیتِ اعلیٰ کس کی ہے؟ بالفاظ دیگر، انسانوں کے لئے قانون سازی کا کلی، حتمی اور مکمل اختیار کس کے پاس ہے؟ ظاہر ہے کہ سیکولر جمہوریت کے علمبرداروں کی جانب سے اس کا جواب یہی ہوگا کہ “حاکمیت عوام کی ہے” یعنی ریاست کی حدود میں رہتے ہوئے، ریاست کی نظریاتی جہت کا حتمی تعین اور ریاست میں قانون سازی کا عمل، کلی طور پر عوام اور سوسائٹی کی مرضی کے مطابق ہوگا۔

اسی ضمن میں ریاست کے شہریوں کے حقوق کی بات آتی ہے تو سیکولر اور نیم سیکولر، یا بالفاظِ دیگر مذہبی سیکولر طبقے کا نقطہ نظر یہ ہوتا ہے کہ جدید ریاست میں حاکم اور رعایا کے تصورات ختم ہو چکے ہیں، کیونکہ جدید ریاست میں ملک کے تمام شہری برابر کے حقوق کے مالک ہوتے ہیں!

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حقائق کی دنیا میں یہ تصور کس حد تک قابلِ عمل ہے کہ قانون سازی کے عمل میں تمام عوام کلی طور پر برابری کی حد تک شریک اور شامل ہوتے ہیں؟
اور یہ کہ واقعی سیکولر ریاست میں تمام شہری برابر کا درجہ رکھتے ہیں؟ یا بالفاظ دیگر یہ کہ سیکولر ریاست میں حاکم اور رعایا کا تصور ختم ہوچکا ہے اور اب ریاست کی حدود میں رہنے والے تمام کے تمام لوگ برابر درجہ کے شہری کی حیثیت سے اپنے اپنے حقوق سے مستفید ہوتے ہیں؟

کیا اس بات کی کوئی متفقہ تعبیر آج کے دور میں کسی بھی سیکولر ریاست میں دکھائی جاسکتی ہے کہ ریاست کے تمام شہریوں کی برابری سے کیا مراد ہے؟

اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ تمام سیکولر ممالک میں رہنے والے شہری کیا واقعی اس بات سے مطمئن ہوچکے ہیں کہ اب ان کے درمیان کسی قسم کا کوئی فرق روا نہیں رکھا جاتا؟
ظاہر ہے کہ جواب بالکل نفی کی صورت میں سامنے آئے گا۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: اسلام اور سیکولر تکثیریت: چند غور طلب پہلو — اطہر وقار عظیم

 

اس بات کو مکمل کرنے سے پہلے ایک اور ضمنی، لیکن پہلو دار بحث ناگزیریت کا درجہ رکھتی ہے کہ حقوق سے مراد کیا ہے؟ اور اس کا تعین کون کرے گا؟ اس کا دائرہ کار کیا ہوگا؟ کس جگہ پر کسی کا کوئی حق متعین ہوتا ہے اور کس جگہ اس حق کا اظہار کرنا پڑتا ہے؟ اور کس جگہ اس کا اظہار ممنوع ہے؟ حق کی ابتداء کہاں سے ہوتی ہے اور انتہاء کہاں پر جاکر ہوتی ہے؟ حق کب حق بنتا ہے اور کب اس حق کا چھین لیا جانا دوسرے فریق کا حق بن جاتا ہے؟ (جیسے اسلام میں قصاص کی صورت میں قاتل اپنی زندگی کا حق کھو دیتا ہے، اور اب اس سے اس حق کا چھن جانا، بلکہ ریاست کا اس قاتل سے یہ حق چھین لینا، مقتول کے ورثاء کا حق بن جاتا ہے۔ وغیرہ)۔

یہ تمام سوالات اس بحث کو سمجھنے کے لئے از حد ضروری ہیں۔ لیکن طوالت کے باعث اس بحث کی جانب صرف اشارہ کرتے ہوئے، اسے یہیں چھوڑ کر اس اہم سوال پر بات کرتے ہیں کہ جب ملکی سیاست میں حصہ لے کر اس کے نتیجے میں حکومت بنانا یا کوئی کلیدی حکومتی عہدہ حاصل کرنا، جیسے صدر یا وزیر اعظم بننا، ریاست کے تمام شہریوں کا برابر کے درجے میں حق ہے، اس میں مذہبی یا غیر مذہبی حوالے سے کوئی سیکولر ریاست کوئی امتیاز نہیں برت سکتی، تو پھر سوال یہ ہوتا ہے کہ تھیوریٹیکلی یہ بات جس قدر پرکشش اور جاذبِ فکر و نظر معلوم ہوتی ہے، حقیقت کی دنیا میں اتنی ہی غیرمتعلق کیوں ہوتی ہے؟

مثال کے طور پر اگر سیکولر ریاست میں یہ حقِ حکمرانی تمام شہریوں کا بلا شرکتِ غیرے حق ہے، تو کیا انڈیا میں، جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی سیکولر ریاست کہلواتا ہے، آج تک کوئی مسلمان، عیسائی، یا یہودی وزارتِ عظمی کے منصب پر براجمان ہوا ہے؟ جواب یقیناً نفی میں ہوگا، اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا انڈیا کے ایک سیکولر ریاست ہوتے ہوئے کبھی ایسا ہونا ممکن بھی ہوسکے گا یا نہیں ؟ جواب میں اگر یہ کہا جائے کہ انڈیا کے آئین کے مطابق ممکن ہے، تو یہ بات ناکافی ہے، کیونکہ ہماری بحث صرف نظری و فکری سطح پر نہیں، بلکہ نظری اور عملی دونوں صورتوں کا حقائق کی دنیا میں جائزہ لینا ہمارا مقصود ہے، تو کیا حقائق کی دنیا میں عملی طور پر (نہ کہ محض آئینی و نظری طور پر) کبھی کوئی مسلمان، عیسائی، یہودی، یا بدھ انڈیا کا اسی طرح کا خود مختار وزیر اعظم بن سکتا ہے جس طرح کہ ایک ہندو یا سکھ بن جاتا ہے؟ جواب ہے، کہ نہیں، بلکہ بالکل نہیں!

اسکی وجہ یہی ہے کہ حقیقت کی دنیا میں انڈیا کے اصل حکمرانوں (ہندو اور سکھوں) نے غیر تحریری طور پر یہ طے کر رکھا ہے کہ آئینی طور پر ملک اگرچہ سیکولر کہلائے گا لیکن عملی زندگی میں کبھی مسلمانوں اور دیگر مذاہب والوں کو اس حد تک آگے نہیں آنے دیا جائے گا کہ وہ وزارتِ عظمیٰ کا منصب (حق) بھی سنبھال لیں! اور اتنے خود مختار ہوجائیں کہ ہمارے برابر کے شہری بن جائیں، اور ملکی وسائل میں ان کو اتنا ہی حصہ ملے جتنا ہمیں ملتا ہے!

یہ صرف ایک انڈیا پر ہی منحصر نہیں، بلکہ سیکولر ریاستوں کے باوا آدم، امریکہ سرکار، اور عظیم خونی انقلاب کے شاہکار، فرانس، اور عظیم جمہورہت انگلینڈ میں بھی کبھی ایسا ہونا ممکن نظر نہیں آتا!
ہاں البتہ علامتی طور پر کوئی مسلمان کسی شہر کا میئر بن جائے تو اس سے حیرت کے دریا میں غوطہ زن ہونے کی ضرورت نہیں، کہ اپنی غیر جانبداری دکھانے کے لئے کچھ نہ کچھ تو سیکولر ریاست کو بھی کرنا ہی پڑتا ہے۔

بحث کو طوالت سے بچانے کے لئے ایک اور سوال کرنے کو جی چاہتا ہے کہ!
کیا ایک اشتراکی سیکولر ریاست یہ برداشت کرسکتی ہے کہ اس کا سربراہ کوئی سرمایہ دارانہ جمہوریت کا قائل و حامل ہو ؟ یا کسی سیکولر جمہوری و سرمایہ دارانہ ریاست کا سربراہ، کوئی اشتراکی “مذہب” کا قائل و حامل ہو ؟
جواب! کبھی نہیں! کہیں نہیں!

اس سے بھی زیادہ ایک آسان سوال!
اگر سیکولر ریاست واقعی غیر جانبدار ہوتی ہے، اور واقعی سیکولر ریاست کے تمام شہری برابر کے حقوق رکھتے ہیں تو کیا کوئی سیکولر جمہوری ریاست یہ برداشت کرسکتی ہے کہ اسلامی خلافت، یا ایک اسلامی ریاست کا حامی کوئی مسلمان اس کا سربراہ بن جائے؟ ہرگز نہیں!

1953 میں جب کینیا کے اندر اشتراکیت کے حامل لوگوں نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تو یورپ کے بڑے بڑے مفکرین اور برطانوی پارلیمنٹ اس بات پر چیخ اٹھے کہ جمہوریت اس بات کو برداشت نہیں کرسکتی!

الجزائر میں اسلام پسندوں کا انتخابات کے ذریعے کامیابی حاصل کرنا ہو، مصر میں اخوان المسلمین کی کامیابی ہو یا فلسطین میں حماس کی برتری ہو، ان تمام مواقع پر سیکولر طبقہ اور سیکولر ریاست، دونوں اس حقیقت سے پردہ اٹھانے میں دیر نہیں کرتے کہ “سیکولر ریاست کے تمام شہری برابر کے حقوق نہیں رکھتے، اور یہ کہ سیکولر ریاست حقیقت میں غیر جانب دار نہیں ہوتی۔

وہ الگ بات کہ تھیوری کی حد تک سیکولر ریاست کے محاسن اور امتیازات اس قدر حسین و دلکش انداز سے بیان کئے جاتے ہیں کہ فریفتہ ہونے کو جی چاہتا ہے، اور یوں گمان ہوتا ہے کہ خالقِ کائنات نے جس جنت کا وعدہ کر رکھا ہے وہ، یہی سیکولر ریاست ہے، جو مالکِ حقیقی نے ہماری غیر جانبداری کو دیکھتے ہوئے ہمیں دنیا میں ہی دے دی ہے۔

سیکولر ریاست واقعی غیر جانب دار ہوتی ہے! تبھی تو سیکولر ریاستوں کا باوا آدم، امریکہ بہادر، بیالیس نہتے ممالک کو ساتھ لیکر، ایک عظیم سپرپاور، افغانستان میں عوام کو برابر کے شہری حقوق کا ذائقہ بتانے اور چکھانے کے لئے، کب سے مارا مارا پھر رہا ہے، لیکن ریاست کی غیر جانبداریت، حقیقت میں وہ سراب ہے جس کے پیچھے یہ تمام ممالک، نہ صرف یہ کہ خود پیاسے پیاسے مر رہے، بلکہ ساری امتِ مسلمہ کو بھی اس سراب کا مزہ چکھانے کے لئے “برابر کا غیر جانبدار” سلوک کر رہے ہیں!


یہ بھی پڑھئے: سیکولرازم: چند بنیادی غلط فہمیاں — انوار احمد

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: