پاک چین دوستی کے روحانی حوالے: بابا فریدؒ اور لاوزہو کی تعلیمات کا تقابلی مطالعہ

2
  • 54
    Shares

مظہر فرید چشتی

تصوف جیسی قوت کو خارجہ پالیسی کے لیے استعمال کرنا کوئی نیا نظریہ نہیں ہے۔ معاشی معاہدات اور اقتصادی حکمت عملی کی بنا پر اتحاد کی بنیادیں محدود ہو سکتی ہیں، جبکہ محبت اور مساوات کی بنیاد پر کیے گئے معاہدات عالمگیر، وقت کی حدود و قیود اور ملکی سرحدوں سے ماورا ہوتے ہیں۔

تعلیماتِ اسلامی کی روشنی اہلیانِ چین کے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اسلام کی روشن کرنیں کم و بیش چودہ سو سال پہلے، پہلی مرتبہ حضرت سعد بن وقاص رضی اللہ تعالٰی عنہ کے زریعے 616 عیسوی میں ٹینگ بادشاہت (Tang dynasty) کے دورمیں پھیلیں۔ آپ رضی اللہ عنہ، حضور نبی کریم ﷺ کے دوسرے چچازاد بھائی اور عظیم صحابی رسول ﷺ تھے۔ ھوشینگ Huaisheng مسجد چائنہ کی پہلی مسجد شمار کی جاتی ہے جو پہلی مرتبہ 637 عیسوی میں گوانزوہو (Guangzhou) میں تعمیر کی گئی۔

چین میں لینزیا (Linxia) جو کہ گانسو (Gansu) صوبے کا ایک شہر، اہل تصوف کے حوالے سے قادریہ، خوبرویہ اور نقشبندیہ سلسلہ کے اکابرین صوفیوں کا صدیوں سے مرکز رہا ہے۔ یہ شہر چائنہ کے مکہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ سلسلہ قادریہ چائنہ میں قدیم ترین صوفی سلسلہ ہے۔ خواجہ عبد اللہ، جو کہ سادات گھرانے سے تعلق رکھتے تھے، 1674 عیسوی میں سمندری راستہ سے تشریف لائے اور سلسلہ کو متعارف کرایا۔ آپؒ نے شمال مغربی اور جنوب مغربی چائنہ میں تبلیغ اسلام کےلیےسفر کیے۔ آپؒ کا مزار مبارک لانگزوہو میں واقع ہے، جو چائنہ کے جنوب مغربی صوبہ کا علاقہ ہے۔ یہ چائنہ میں موجود قادیہ سلسلہ کےتین اعلٰی ترین مقدس مقامات میں سے ایک ہے۔ حضرت خواجہ سید عبداللہ ؒ کا مزار مبارک بابا مزار کہلاتا ہے۔ مزار مبارک کا انتظام و انصرام مقامی انتظامیہ کے پاس نہیں بلکہ لینزیا (Linxia) میں موجود عظیم گونجیبیا ئی(Great Gongbei) کی انتظامیہ کے پاس ہے۔

اپنے عظیم روحانی استاد کی وفات کے بعد ان کے قابل مرید، قی جنگیا  Qi Jingy 1656-1719 نے سلسلہ قادریہ کے لیے عظیم خدمات سر انجام دیں اور آپ کا مزار جسے عظیم گونبیائی کہا جاتا ہے، لینزیا کا مشہور مقام ہے۔ گونبیائی، چینی زبان میں مزار کو کہتے ہیں جو کہ عربی زبان کے لفظ قبا سے مشتق ہے۔

تاؤام یا داؤازم اور تصوف کی تعلمیات میں مساوات کے اوصاف پائے جاتے ہیں۔ یہی نقطہ نظر فکری یکسانیت کو ملا تا ہے۔ داؤازم کے بنیادی اعمال میں سے داؤ کا معنٰی راستہ کے اور اخلاقیات کے ہیں۔ ان میں بنیادی مساوات فطرت کے زریعے سے آتی ہے۔ اس فلسفہ کا زور باہمی ہم آہنگی پر مشتمل ہے نہ کہ شدت پسندی پر۔ مثال کے طور پر، ینگ اور یےنگ اچھے اور برے کو متعارف نہیں کراتے بلکہ دو متضاد اطراف کی چیزوں کی وضاحت کرتے ہیں۔ اسی طرح بابا فرید ؒ نے ایک شعر اسی طرح کی معنویت میں تحریر فرمایا ہے:

”فرید! خالق اپنی خالقیت میں ہے، اورخالق کی خدائی ہمیشہ رہے گی۔ ہم کس طرح کسی کو برا کہ سکتے ہیں۔ جب کہ اس کے علاوہ کوئی نہیں۔

دونوں فلسفے زندگی، محبت، شراکت داری، روشن خیالی اور رواداری کے معانی کو بیان کر رہے ہیں۔

پاکستان میں تصوف کی بنیادیں اور روایات قدیم اور صدیوں سےمستحکم ہیں۔ ایک عظیم صوفی رہنما جیسے کہ حضر ت بابا فریدؒ (1175 تا 1266) صدی کےعظیم صوفی شاعراور فلسفی تھے۔ آپؒ سلسلہ چشتیہ کے بہت محترم اور معروف صوفی بزرگ ہیں۔ یہ ان کی بہت بڑی خدمت ہے کہ آپ نے پنجابی زبان کو ایک ادبی زبان کے طور پر متعارف کرایا۔ آپ ؒ کی شاعری خدا کی محبت، اسکی خالقیت، انکساری، خدمتِ انسانیت، مادی دنیا سے دوری، دھتکارے ہوؤں پر رحم، مساوات کی تشہیرو آزادی اور کسی کی دل آزری نہ کرنے، صبر اور معاف کرنےکی روایات سے بھرپور ہے۔ ۔ آپ ؒ نے اپنی آواز کو اس بھرپور انداز میں پہنچایا کہ صدیاں گزرنے کے باوجود، آپؒ کی شاعری ناصرف مسلمانوں بلکہ گرو گرنتھ صاحب، جو سکھوں کی بنیادی مقدس کتاب ہے، میں یکساں مقبول ہوئی۔

جب ہم چائنہ کے فلاسفہ کی بات کرتے ہیں تو اس میں ہمیں تاؤازم، کونفیشنزام اور بدھ ازم کے تعلیمات کی عکاسی نظر آتی ہے:
لاو زو، جوچھٹی صدی قبل المسیح علیہ السلام میں قدیم چینی تاوازم کے فلسفےکے روح رواں ہیں اور تاؤ، تی، چنگ( تاؤ کا مطلب ہے زندگی کا راستہ اور تی کے معنٰی مقصد کے ہیں اور چنگ کے معنٰی لکھنا کے ہیں) کتاب کے مصنف ہیں، ایک شاعر اور فلسفی تھے۔ آپ نے داؤازم کے فلسفے کی بنیاد رکھی اور زندگی کی خوبصورتی اور نیرنگی کے فلسفے کو بیان کیا۔ ان کی تعلیمات نے فطرت اور انسانی فطری رواداری کے فلسفے کو اجاگر کیا۔ یہ وہ پگڈنڈی ہے جہاں فطرت قبول کرتی اور اعتماد پید اکرتی ہے اور اداروں میں روشن خیالی کا راستہ ہموار ہوتا ہے۔ اس کام کےلیے گہرا مراقبہ درکار ہے جو روحانی بالیدگی میں اضافہ کرتا ہے اور رواداری کو لاتا ہے اور متوازن نظام رائج کرتا ہے۔

تصوف کی یہ تحریریں جو حضرت بابا فریدؒ اور لاؤ زوہو نے لکھیں ہیں: زندگی کی اصل سچائی کوبیان کرر ہی ہیں اور دونوں اپنے نظریات کو کچھ اس انداز میں کہتے ہیں:
بابا فریدؒ لکھتے ہیں:

“میں اپنے لڑکپن کو کھونے سے خوفزدہ نہیں ہوں، جب تک کہ میں اپنے پروددگار کی محبت نہ کھو دوں۔ فریدؒ! بہت سوں کے لڑکپن، اس کی محبت کے بغیر پروان چڑھے اور مرجھا گئے۔”

اسی پیرائے میں لاؤزہو لکھتا ہے:

“زندگی فطری او ر اچانک تبدیلوں کا تسلسل ہے، اس کے مد مقابل نہ بنیں۔ یہ صرف رنج و غم ہی میں اضافہ کا باعث ہو گا۔ لاؤزہو۔ “

دونوں عظیم رہنماؤں نے اپنے چاہنے والوں سے کہا کہ وہ یہ ادراک رکھیں کہ انہیں قانونِ فطرت کی پاسداری کرنی ہے تاکہ وہ اپنے وجدان کو اجاگر کر سکیں اور اسے عمدہ طریقوں سے استعمال کر سکیں اور یہی زندگی گزارنے کا فن ہے؛

اس پیرایہ میں بابا صاحبؒ فرماتے ہیں:

“سب احباب کے دماغ قیمتی جواہرات ہیں، انہیں نقصان پہنچانا کبھی بھی درست عمل نہیں ہے۔ اگر تم کو اپنا محبوب عزیز ہے تو کسی کا دل کبھی مت توڑنا۔”

لاوزہو کے خیالات اس سلسلہ میں کچھ یوں ہیں:

“تمہارے وجود کے ہونے میں ہی تمہارا جواب ہے؛ تم جانتے ہو کہ تم کون ہو؟ اور تم جانتے ہو کہ تم کیا چاہتے ہو۔ لاو زوہو۔ “

حضرت بابا فریدؒ اور لاوزہو یہ یقین رکھتے ہیں کہ سادگی، آزادی اور سچائی کی چابی ہے۔ باہر کی قوتیں ہمیشگی کے ساتھ انسانی زندگی کو متاثر کرتی رہتی ہیں، لیکن، اگر ایک آدمی مشاہدہ کرے اور فطرت کے ساتھ قریب ہو کر جیئے تو یہ مشکل نہیں ہے کہ وہ سادگی کی حصوصیات کو اپنا نہ لے۔

بابا فریدؒ فرماتے ہیں:

” اگر تم دانا ہو، تو سادہ بنو؛ اگر تم قوت والے ہو، کام کرو؛ اور اگر کوئی بھی چیز بانٹنے کو نہ ملے، تب دوسروں کے ساتھ بانٹ لو۔ کتنے ہی کم ایسے ہیں، جو اس طرح کے زاہد و عابد ہیں؟ “

لاوزہو کہتےہیں:

“جب تم صرف اپنے ہی ساتھ جڑ جاؤ گے اور مقابلہ و موازنہ نہیں کرو گے، ہر کوئی تمہاری عزت کرے گا۔”

یقیناً، تصوف اور تاؤازم دونوں آفاقی خصوصیات کی حامل ہیں، جو کہ معاشی اور معاشرتی حدود میں سما نہیں سکتیں۔ پاکستانی اور چینی اربابِ حکومت، تصوف اور تاؤازم کی تعلیمات کو اسکولز میں، کالجز اور یونیورسٹیز میں اجاگر کر سکتے ہیں۔ دونوں ملکوں میں مراقبہ سنٹرز قائم کیے جا سکتے ہیں، تاکہ مفید باہمی خصوصیات اور ثقافتی ورثوں کو اجاگر کیا جائے اور عوام سے عوام کے تعلق کو مضبوط کیا جائے۔

Leave a Reply

2 تبصرے

  1. Superb Article…. Islam is the religion of peace and love for the whole world. Comparisons of teachings of Islam with Chinese nation’s thought is really delightful as we are having a strong bond of relationship with chinese nation.
    and we feel really proud when it comes to Baba Farid who always spread love and harmony among people regardless of religion.
    Once again, its a worth reading article… !!!

  2. ڈاکٹر تہمینہ اقبال on

    بہت زبردست تحریر ھے۔ ایک عمدہ کوشش آج کے اس مادیت پرستی کے دور میں جب انسان اپنے اپنے مفادات کی تکمیل کے لیے مذہب کو بہت پیچھے چھوڑ چکا ھے وہاں تصوف کے ان انسانیت دوست اصولوں کو از سر نو اجاگر کرنا یقینا ایک خدمت سے کم نہیں ھے۔ آج ہمیں صوفیا کی تعلیمات کو اپنی نوجوان نسل تک پہنچانے کی اشد ضرورت ھے اور مذکورہ بالا کوشش اس سلسلے میں بہت معاون ثابت ھو گی۔۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: