شرعی پردہ اور غامدی صاحب : مجید گوندل

0
  • 34
    Shares

المورد گلوبل سے جاری ہونے والی محترم جناب جاوید احمد غامدی صاحب کی وڈیو سننے کا موقع ملا۔
سوال تھا۔ “شرعی پردہ کیا ہے؟“

جناب جاوید احمد غامدی صاحب نے ویسے تو اپنے جواب کے بالکل ابتدائی دو مختصرجملوں میں ہی سوال نمٹا دیا۔ البتہ اپنے جامع موقف کو جچے تلے الفاظ میں مزید کھول کر بھی بیان کیا۔
انہوں نے فرمایا:

“جو پردہ اور حجاب اور اس طرح کی اصطلاحات ہیں‘ یہ تو لوگوں نے ایجاد کر لی ہیں۔ قرآن مجید نے مردوں اور عورتوں کے آپس میں ملنے کے آداب بتائے ہیں۔ میرے نزدیک صحیح تعلیم یہ ہے۔“

جناب جاوید احمد غامدی صاحب مولانا امین احسن اصلاحی رحمتہ الله علیہ کو اپنا استاد بتاتے ہیں۔ ان کی قرآن فہمی کی بصیرت انہی کا فیض ہے۔

مولانا امین احسن اصلاحی رحمتہ الله علیہ کا مضمون ‘قرآن اور پردہ‘ اشراق ( سلسلہ منشورات ) مارچ ١٩٨٨: مدیر جاوید احمد الغامدی‘ میں شائع ہوا تھا۔ مولانا اصلاحی رحمتہ الله علیہ اس مضون میں ‘ذیلی عنوان‘ ‘گھر سے باہرکا پردہ‘ کے تحت رقم طراز ہیں:

“اوپر کی آیات سے یہ بات صاف نکلتی ہے کہ عام حالات میں عورت کے لیے گھر سے باہر نکلنا اسلام نے پسند نہیں کیا ہے، صرف کسی خاص ضرورت ہی کے لیے اس کو گھر سے باہر نکلنے کی اجازت دی ہے۔ اب دیکھیے کہ اس خاص حالت میں بھی اگر گھر سے باہر قدم نکالنے کی اجازت دی ہے تو اس کے ساتھ کیا قید لگائی ہے؟ ایسی صورت میں عورت کے کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ اپنے اوپر بڑی چادر لے لے اور اس کا گھونکٹ چہرے پر لٹکا لے۔ چنانچہ فرمایا ہے: سورہ (الاحزاب۔ ٣٣ : ٥٩) ترجمہ: اے نبی! اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں کو ہدایت کر دو کہ وہ اپنے اوپر اپنی بڑی چادروں کے گھونکٹ لٹکا لیا کریں یہ اس بات کے قرین ہے کہ ان کا امتیاز ہو جائے‘ پس ان کو کوئ ایذا نہ پہنچائی جائے۔ المورد۔۔۔۔٠٢

اس آیت میں ‘جلباب‘ کا لفظ آیا ہے۔ جلباب اس بڑی چادر کو کہتے ہیں جوسارے جسم کو چھپالے۔ عرب کے شریف خاندانوں کی خواتین عموما جب باہر نکلتیں تو اس طرح کی چادر اوپر ڈال کر نکلتیں۔ پنجاب میں شریف خاندانوں کی بڑی بوڑھیوں میں اب تک اس طرح کی چادروں کا رواج ہے۔ ہمارے نزدیک بھی فیشنی برقعوں کے مقابل میں یہ چادریں جسم کو زیادہ چھپانے والی اور بد نگاہی سے زیادہ بچانے والی ہیں۔ یہی جلباب ہے جس کی جگہ بعد میں تمدن کی ترقی سے برقعے نے لے لی ہے۔ اس وجہ سے برقعے کی نسبت یہ یحث تو ہو سکتی ہے کہ اس کی موجودہ ترقی یافتہ شکلوں میں اس سے وہ مقصد پورا ہوتا ہے یا نہیں جو اسلام نے ادنائے جلباب (بڑی چادر کا گھونکٹ لٹکانا) سے پیش نظر رکھا ہے، لیکن یہ کہنا تو انتہائ جہالت کی بات ہے کہ برقع محض ملا کی ایجاد ہے‘ قرآن واسلام سے اس کا کوئ تعلق نہیں ہے۔

( فٹ نوٹ: بعض ذہین لوگوں نے یہ نتیجہ نکالنے کی کوشش کی ہے کہ یہ حکم ہنگامی حالات کے لیے تھا، جس کو بعد میں سورہ نور کی آیات نے منسوخ کر دیا۔ ہم نے سورہ نور کی آیات کا جو صحیح محل بتایا ہے اس سے اس غلط خیال کی تردید ہو جائے گی)

مناسب ہے کہ یہاں پردہ و حجاب کے بارے میں مولانا حمیدالدین فراہی رحمتہ الله علیہ کی ایک تحریر سے متعلقہ پیراگرف بھی پیش کیا جائے۔

“ حجاب کے مسئلہ میں تفاسیر اور فقہ میں پوری توضیح موجود ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہاتھ اور چہرہ کھلا رکھنا جائز ہے۔ میری رائے میں نظم قرآن پر توجہ نہ کرنے سے یہ غلط فہمی پیدا ہوئ ہے۔ ایسی قدیم غطیوں کا کیا علاج کیا جائے۔ کون سنتا ہے کہانی میری اور پھر وہ بھی زبانی میری۔ فقہا اور مفسرین کا گروہ ہمزبان ہے۔ مگر صحابہ اور تابعین زیادہ واقف تھے انہوں نے ٹھیک سمجھا ہے مگر متاخرین حضرات نے ان کا کلام بھی نہیں سمجھا ہے۔ بہرحال الحق احق بان یتپع۔ میں اس مسئلہ پر مطمئن ہوں اور میرے نزدیک اجنبی سے پورا پردہ کرنا واجب ہے۔ اور قرآن نے بھی حجاب واجب کیا ہے۔ جو شرفا میں مروج ہے بلکہ اس سے زائد۔“

کیا جناب جاوید احمد غامدی صاحب مذکورہ بالا حوالوں کا جاہلی ادب‘ نظم قرآن اور زبان کے نظائر و شواہد سے استنباط لغت اور استخراج معانی کی روشنی میں جائزہ لے کر پردہ وحجاب پراپنی رائے کی تصویب اور مذکورہ علماء حضرات کے موقف کی کمزوری واضح فرمائیں گے؟

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: