تصوف: چند فکری مغالطے — احمد الیاس

0
  • 101
    Shares

گزشتہ کچھ عرصے سے ایک بات مسلسل مشاہدے میں آرہی ہے۔ دو بظاہر متضاد طبقات یہ تاثر دیتے نظر آتے ہیں کہ تصوف مرکزی دھارے کے اسلام سے علیحدہ مذہبی روایت ہے۔ ایسا کرنے کے لیے ان دونوں طبقات کے محرکات الگ ہیں۔ ایک طبقہ ایسا تاثر دے کر تصوف کی نفی و مذمت کرتا ہے اور دوسرا طبقہ ایسا کر کہ اس کا اثبات و تعریف۔ یہ دونوں طبقات اسلامی تمدنی روایت (کی اپنی اپنی خام تفہیم) سے بیزار ہیں۔ فرق یہ ہے کہ ایک کی بیزاری بنیاد پسندی کے نام پر ہے اور دوسرے کی جدت پسندی کے نام پر۔

اسلام کی شخصیت اس کے عقائد، اسلام کا جسم اس کی شریعت اور اسلام کی روح اس کی روحانیت اور طریقہِ تزکیہ نفس ہے۔ الہامی عقیدے کی بشری تفہیم اسلامی روایت میں علم الکلام کہلاتی ہے۔ عقیدہ ایک ہے مگر اس کی کلامی تشریحات مختلف (اشعری، ماتریدی، معتزلہ، اثری وغیرہ)۔ یہ سب تشریحات علم الکلام کی شکل میں ہماری فلسفیانہ روایت ہے۔ اسے طرح اسلامی شریعت ایک ہے مگر اس کی تفاہیم یعنی مکاتبِ فقہ مختلف (جعفری، زیدی، حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی، ظاہری، اباضی). یہ ہماری قانونی روایت ہے۔ یہی تعلق اسلامی روحانیت (یعنی روح دین) اور تصوف کا ہے۔ روحانیت احاطہِ اسلام میں ایک ہی عمارت ہے مگر اس کے دروازے کثیر (چشتی، قادری، نقشبندی، سہروردی، شاذلی، تنجانی، وغیرہ)۔

شریعت کے لحاظ سے ابتدائی دور میں ہی امت صراط مستقیم سے ہٹ گئی. اسلام کے اجتماعی قوانین کی بنیاد یعنی آئینی ڈھانچے پر بنو امیہ و بنو عباس کی طرف سے حملہ کی گیا۔ خلافت ملوکیت میں تبدیل ہوگئی. یہ شریعت کے اجتماعی پہلو کی بنیادوں یعنی اسلام کے آئینی قوابین کی صریح خلاف ورزی تھی۔ یہ اقدام آگے چل کر عقیدے کے بگاڑ کا سبب بھی بنا۔ مادہ پرستی اور ظاہر پرستی کو بھی فروغ ملا۔ مگر ان حالات میں بھی روحِ اسلام محفوظ رہی (یعنی تزکیہ نفس کا عمل جاری رہا)۔ یہ تصوف کی بدولت تھا۔ یوں تصوف اسلام کی سب سے اہم روایت بن کر ابھرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرِون اولیٰ کے اختتام سے لے کر جدید نو آبادیاتی دور کے آغاز تک تصوف اور اسلام عملی طور پر مترادف بن گئے۔ تصوف اسلام پر اس قدر غالب رہا کہ پوری تہذیب کے تمام حوالے تصوف کے رنگ میں تھے۔ زہد، رندی اور قلندری تصوف کی ہی شاخیں تھیں۔

صوفیاء کے روحانی سلسلے سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ذریعے رسول اللہ صلی علیہ وسلم تک پہنچے ہیں

ادب، فلسفے اور فن کے تمام پہلو تصوف کے زیر اثر تھے۔ امام احمد، امام غزالی، ابن تیمیہ اور شیخ احمد سرہندی جیسے عالم ہوں یا حافظ، بلھے شاہ، شاہ حسین، منصور حلاج جیسے مجذوب، یا پھر ابن عربی، سعدی اور رومی جیسے حکیم ۔۔۔۔ سب کسی نہ کسی شکل میں تصوف کی روایت سے جڑے تھے۔ تصوف ہی اسلام کا مرکزی دھارا (mainstream)، راسخ العقیدہ دین (orthodoxy) اور تمدنی بنیاد تھا۔ اور اس مرکزی دھارے کے صدر مقام پر سید علی ہجویری، عبدالقادر جیلانی، معین الدین چشتی، بہاؤالدین نقشبند بخاری جیسے بزرگ تھے جو خالص صوفی تھے۔ ان کا چھوڑا ہوا کام ہی اصل میں صوفیانہ ہے۔ باقی سب بظاہر صوفی مظاہر (زہد، رندی، فلسفہ، حکمت، فن) متصوفانہ ہیں یعنی تصوف کے زیر اثر روایت سے اخذ کردہ۔

نو آبادیاتی نظام کی فتح پر جب عالم اسلام کو اپنے زوال کا احساس ہوا تو اسلام میں احیائی تحریکوں کا آغاز ہوا۔ سب سے پہلے بنیاد پسند تحریک ابھری جس نے تصوف، فقہ اور کلام سے قدرے بیزاری کا اظہار کرکہ اسلام کو ظاہری اور بنیادی شکل میں بحال کرنے کی بات کی۔ عرب میں اس تحریک کے بانی محمد بن عبدالوہاب نجدی اور برصغیر میں سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید تھے۔ یہ تحریک وہابیت اور دیوبندیت کی شکل میں فرقوں کی شکل اختیار کرگئی۔

اس کے بعد جدت پسند تحریک کا آغاز ہوا۔ اس تحریک نے بھی روایت کو مسترد کیا مگر ‘بنیاد’ کی طرف جانے کے بجائے مغرب کے زیر اثر نئی روایت قائم کرنے کی بات کی۔ برصغیر میں سرسید اور مشرق وسطیٰ میں محمد عبدہ جیسے بزرگ اس تحریک کے نمائندہ تھے۔ آج بھی غلام احمد پرویز، ملک فضل الرحمٰن، وحید الدین خان یا جاوید احمد غامدی جیسے اصحاب کے زیر سایہ یہ تحریک جاری ہے۔

یہ بھی ملاحظہ کریں: تصوف کی اخلاقی اور سماجی معنویت: ڈاکٹر اسلم انصاری

 

ان تحریکوں کے ردِ عمل میں برصغیر کے اندر روایت کی دفاع کی ایک تحریک بریلی سے اٹھی۔ امام احمد رضا خان اس کے روح رواں تھے۔ اس جماعت نے بھی امام موصوف کے بعد اپنے رنگ ڈھنگ کے اعتبار سے اہلسنت والجماعت کے مرکزی صوفی دھارے سے الگ ہو کر ایک شاخ یا فرقہ کی شکل لے لی۔ یہ مُلاّئی فرقہ تصوف کا حمایتی اور متصوفانہ تو ہے مگر صوفی نہیں۔ حقیقی صوفی سّنی دھارا اس سے علیحدہ ہے۔ وہ دھارا بریلوی کے ٹائٹل قبول کرتا ہے نا اس نام پر جاری شخصیت پرستی اور گروہی عصبیت کو۔

عمومی تاثر کے برعکس صوفیاء نے رہبانیت کی سرپرستی نہیں بلکہ اپنے عمل سے حوصلہ شکنی کی۔ جدید دور میں اس کی مثال المغرب کے صوفی بزرگ ہیں۔ عبدالقادر الجزائری (پینٹنگ میں) ایک صوفی بزرگ تھے جو فرانسیسی سامراج کے خلاف الجزائر کے مزاحمتی جہاد کے قائد تھے۔ ایسا ہی کردار عمر مختار اور حسن البناء کا تھا جو تصوف کی روایت سے تھے مگر حقیقی جہاد بھی کیا

عصر حاضر میں جب تہذیبوں کے تصادم کے نام پر مغرب نے اسلام کو اپنا دشمن نمبر ایک بنا لیا تو اس دشمنی کا جواب دشمنی سے دینے کا فیصلہ صرف بنیاد پسندوں نے کیا۔ اہل روایت نے مغرب کے اس پاگل پن کا جواب پاگل پن سے دینا دانائی نہیں جانا۔ ان حالات میں مغرب نے روایتی اسلام یعنی تصوف کو اپنے بنیاد پسند دشمن کو کمزور بنانے کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ سیاسی تھا اور خلوص نیت پر مبنی نہیں تھا۔ چنانچہ ادھورا علم رکھنے والے مستشرقین اور مقامی روایت سے لاعلم کچھ مسلمانوں نے تصوف کو اسلام کے متوازی تقریًبا ایک علیحدہ مذہب کے طور پر متعارف کروانا شروع کردیا۔ بمشکل دو سے چار فیصد مسلمانوں کے عقیدے یعنی بنیاد پسندی کو مرکزی دھارے کے راسخ العقیدہ اسلام کے طور پر متعارف کروایا گیا اور تصوف کو متبادل کے طور پر۔

یوں تصوف کے بارے میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ یہ مرکزی دھارے سے کٹا ہوا (marginal) اور غیر راسخ (heterodox) اسلام ہے جو ‘اسلام کے برعکس’ امن اور محبت کا داعی ہے۔ اس مقصد کے لیے متصوفانہ روایت کی ایک شاخ یعنی رندی کو ہی کُل تصوف کے طور پر پیش کیا گیا۔ حالانکہ رندی خالص اور حقیقی تصوف نہیں بلکہ تصوف کی تہزیب سے اخذ کردہ علیحدہ روایت ہے۔ حافظ ہوں یا حلاج، شاہ حسین ہوں یا بلھے شاہ ۔۔۔ سب کا روحانی مقام و مرتبہ مسلم ہے مگر انکے سب خیالات تصوف کی نمائندگی کرتے ہی نا یہ تصوف کے مرکزی دھارے کے لوگ ہیں۔ عبدالقادر جیلانی اور معین الدین چشتی جیسے صوفی اکابر کو یکسر فراموش کرکہ صرف منصور حلاج اور بھے شاہ سرکار جیسے رندوں کی من مانی تفہیم کو بہ طور تصوف پیش کیا گیا۔ کیونکہ اس عمل سے سیاسی مفادات پورے ہوتے تھے۔ اس بیانیے کو بنیاد پسندوں اور اسلامی جدت پسندوں کے موقف سے تقویت ملی جو تصوف کو غیر اسلامی سمجھتے ہیں۔

معین الدین چشتی اجمیری اور ان کی خلفاء ہند اسلامی تہذیب کے بانی تھے

تصوف اسلام کے متوازی یا علیحدہ کوئی چیز ہے نہ اسلام کی کئی تشریحات میں سے بس ایک تشریح۔ دراصل تصوف ہی مرکزی دھارے کا راسخ العقیدہ اسلام ہے۔ (تاریخی لحاظ سے بھی اور عوامی طور پر بھی). اس سے ہٹ کر ہر تحریک (دیوبندیت، بریلویت، جدیدیت، وہابیت، سلفیت وغیرہ) ثانوی یا ظلیّ ہیں، یہ اساسی اور حقیقی۔ تصوف کے بغیر کوئی اسلام نہیں اور اسلام کے بغیر کوئی تصوف نہیں۔ تصوف کے نام کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا تصوف کے لیے بھی نقصان دہ ہے اور مسلم معاشرے کے لیے بھی۔ اہلیان تصوف کا فرض ہے کہ وہ اس بات کا شعوری ادراک کرکہ مناسب اقدام کریں۔


یہ بھی دیکھئے:

تصوف اور صوفیا: ایک تاثر — شاہد اعوان

تصوف ——– محمد انور عباسی

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: