قرآنِ کریم سے تعلق: رمضان کی برتر مشغولیت — سید متین احمد شاہ

0
  • 86
    Shares

رمضان کی آمد آمد ہے۔ اس ماہِ عظیم کی سب سے بڑی عطا، اللہ کی کتاب ہے۔ رمضان کے روزوں کا مقصود اگر’  لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ‘ (البقرۃ: 183) (تاکہ تم صاحبِ تقویٰ بن جاؤ۔) ہے، تو قرآنِ کریم اس راہِ تقویٰ کی رہ نمائی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، اسی لیے آغاز ہی سے اسے ’هُدًى لِلْمُتَّقِينَ‘  (البقرۃ: 2) (صاحبِ تقویٰ لوگوں کے لیے ہدایت) قرار دیا گیا ہے۔ اس آیت میں متقی کا ایک خاص مفہوم ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح کے لوگ ہیں جو قرآن سے ہدایت یاب ہوتے ہیں اور کس طرح کے لوگ اس کے نظامِ ہدایت سے محروم ہوتے ہیں!اس مفہوم کی طرف مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے اشارہ کیا ہے۔ اس کی وضاحت کے لیے قرآن کا ایک دوسرا مقام پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے۔ سورۃ اللیل میں ارشاد ہے: فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى َ. وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى . فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى .وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى .وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى .فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى (سورة الليل: 5-10) (اب جس کسی نے (اللہ کے راستے میں مال) دیا، اور تقوی اختیار کیا۔ اور سب سے اچھی بات کو دل سے مانا، تو ہم اس کو آرام کی منزل تک پہنچنے کی تیاری کرا دیں گے، رہا وہ شخص جس نے بخل سے کام لیا، اور (اللہ سے) بےنیازی اختیار کی اور سب سے اچھی بات کو جھٹلایا، تو ہم اس کو تکلیف کی منزل تک پہنچنے کی تیاری کرا دیں گے۔) ان آیات میں بلاغت کی رو سے صنعتِ تقابل ہے، یعنی ایک طرح کے اوصاف ذکر کرکے ان کے تقابل (Comparison) میں دوسری قسم کے اوصاف کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہاں اتَّقَى (تقویٰ اختیار کیا) کے ایجابی طرز (Positive Attitude) کے مقابلے میں سلبی طرز (Negative Attitude)، اسْتَغْنَى (شانِ بے نیازی اختیار کی) کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہاں تقابل کے تقاضے کے تحت تقویٰ کا معنی بے نیازی کے مقابلے میں نیاز مندی، تکبر کے مقابلے میں فِروتنی، ترفع کے مقابلے میں سراپا طلب بننا ہے۔ قرآن فہمی کا چوں کہ ایک بنیادی اصول ہے کہ اس کی تفسیر قرآن کے دیگر مقامات کو دیکھ کر کی جاتی ہے، اس لیے سورۂ بقرہ کی مذکورہ بالا آیت میں متقی کا یہ مفہوم لینا درست ہوگا کہ قرآن اس شخص کے لیے ہدایت ہے، جو اس کی طرف ہدایت کا طالب بن کر رجوع کرتا ہے، اس میں شانِ بے نیازی کے بجائے طلبِ صادق کے اوصاف ہوتے ہیں۔ اس طرح آیت کا مفہوم یہ ہو گا: یہ قرآن طلبِ صادق والوں کے لیے ہدایت ہے۔ (تقوے کے اس مفہوم کے لیے دیکھیے: مولانا اشرف علی تھانویؒ، ’’اشرف التفاسیر‘‘، 1: 52، 53۔) نیت اور جذبے کی یہ درستی، قرآن سے ہدایت لینے کا اولین قدم ہے، ورنہ اسی قرآن کا وصف ایک دوسرے مقام پر یہ بیان کیا گیا ہے: يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفَاسِقِينَ. (البقرة: 26) (اللہ اس قرآن کے ذریعے بہت سوں کو ہدایت دیتا ہے اور بہت سوں کو گم راہ کرتا ہے اور اس کے ذریعے گم راہ صرف فاسقوں ہی کو کرتا ہے۔)

قرآن کی طرف رجوع کی غرض اور مقصودِ اعظم، صرف اور صرف طلبِ ہدایت، غلط عقائد، اعمال اور اخلاق سے نفس کی اصلاح وتہذیب، مقامِ عبدیت کا حصول اور اللہ کی رضا کے حصول کا جذبہ ہے، نہ کہ داعی الی اللہ کی حیثیت سے مشہور ہونا اور مفسرِ قرآن کہلانا وغیرہ۔ اگر اس غرض کے علاوہ انسان قرآن کی طرف رجوع کرتا ہے تو ممکن ہے کہ وہ داعی بھی مشہور ہو جائے، قرآن کے معلم کی حیثیت سے اسے شہرت بھی مل جائے، لیکن عین ممکن ہے کہ وہ ساری عمر محروم ہی اسی چیز سے رہے، جو قرآن کا اصل مقصد اور غرض ہے۔ نزولِ قرآن کے اس مقصودِ اعظم کی طرف امام شاہ ولی اللہ دھلویؒ ان الفاظ میں اشارہ کرتے ہیں: ’’إن الهدف الأساسي والمقصد الأصلي من إنزال القرآن الكريم هو تهذيب نفوس البشر ودحض عقائدهم الباطلة وإزالة أعمالهم الفاسدة.‘‘ (قرآن کریم کے نازل کرنے کا اصل ہدف اور مقصودِ اصلی انسانی نفوس کی تربیت اور ان کے غلط وفاسد عقائد واعمال کا ازالہ کرنا ہے۔) (امام شاہ ولی اللہ ؒ، ’’الفوز الكبير‘‘، 15۔)

قرآن کی طرف رجوع کی غرض اور مقصودِ اعظم، صرف اور صرف طلبِ ہدایت، غلط عقائد، اعمال اور اخلاق سے نفس کی اصلاح وتہذیب، مقامِ عبدیت کا حصول اور اللہ کی رضا کے حصول کا جذبہ ہے، نہ کہ داعی الی اللہ کی حیثیت سے مشہور ہونا اور مفسرِ قرآن کہلانا وغیرہ۔

مولانا امین احسن اصلاحیؒ نیت اور جذبے کی اس پاکیزگی کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’نیت کی پاکیزگی سے مطلب یہ ہے کہ آدمی قرآنِ مجید کو صرف طلبِ ہدایت کے لیے پڑھے، کسی اور غرض کو سامنے رکھ کر نہ پڑھے۔ اگر طلبِ ہدایت کے سوا آدمی کے سامنے کوئی اور غرض ہو گی تو نہ صرف یہ کہ قرآن کے فیض سے محروم رہے گا، بلکہ اندیشہ اس بات کا بھی ہے کہ قرآن سے جتنا دور وہ اب تک رہا ہے، اس سے بھی کچھ زیادہ دور ہٹ جائے۔ اگر آدمی قرآن کو اس لیے پڑھے کہ لوگ اسے مفسرِ قرآن سمجھنے لگیں اور وہ کوئی تفسیر لکھ کر جلد اس سے شہرت اور نفعِ دنیاوی حاصل کر سکے، تو ممکن ہے اس کی یہ غرض حاصل ہو جائے، لیکن قرآنِ مجید کے علم سے وہ محروم رہے گا۔ اسی طرح اگر آدمی کے کچھ اپنے نظریات ہوں اور وہ قرآن کی طرف اس لیے رجوع کرے کہ ان نظریات کے لیے قرآن سے کچھ دلائل ہاتھ آ جائیں، تو ممکن ہے وہ قرآن سے کچھ الٹی سیدھی دلیلیں، اپنے خیال کے مطابق، اپنے نظریات کی تائید میں نکالنے میں کامیاب ہو جائے، لیکن ساتھ ہی اس حرکت کے سبب سے وہ اپنے اوپر فہمِ قرآن کا دورازہ بند کر لے گا۔ قرآنِ مجید کو اللہ نے ہدایت کا صحیفہ بنا کر اتارا ہے اور ہر آدمی کے اندر طلبِ ہدایت کا داعیہ ودیعت فرمایا ہے۔ اگر اسی داعیہ کے تحت آدمی قرآن مجید کی طرف متوجہ ہوتا ہے، تو وہ اس سے بقدرِ کوشش اور بقدرِ توفیقِ الہی فیض پاتا ہے۔ اگر اس داعیہ کے علاوہ کسی اور داعیہ کے تحت وہ قرآن کو استعمال کرنا چاہتا ہے، تو ’لكل امرء ما نوى‘ (ہر شخص کے لیے وہی کچھ ہے، جس کی وہ نیت کرے۔ ) کے اصول کے مطابق وہ وہی چیز پاتا ہے، جس کی اس کو تلاش ہوتی ہے۔‘‘ (مولانا امین احسن اصلاحیؒ، ’’مبادی تدبرِ قرآن‘‘، 15- 16۔ )

ان علماے کرام کی ان تصریحات سے واضح ہے کہ قرآن کی طرف رجوع طلبِ صادق سے ہدایت کی خاطر ہونا چاہیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہدایت اللہ کے خزانے کی سب سے قیمتی چیز ہے جس کے مقابلے میں ملک ومال، شہرت وعورت، جاہ وثروت اور کسی بھی چیز کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اسی نظامِ ہدایت پر چلنا اس زندگی میں انسان کا سب سے بڑا امتحان ہے جس میں کامیابی یا ناکامی پر انسان کی ابدی کامرانی یا تباہی موقوف ہے۔ اس ہدایت کا کامل اور محفوظ ترین صحیفہ اس وقت روے زمین پر قرآن کے علاوہ کوئی دوسری چیز نہیں۔ نہ کوئی پران، نہ وید، نہ بائبل اور نہ کسی اور نظامِ فکر پر مشتمل کوئی کتاب؛ یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی بعض ماثور دعاؤں میں جس طرح اللہ کی تعریف اور عظمت کے بولوں کی لمبی لمبی تمہیدیں باندھ کر اللہ سے قرآن کو مانگا گیا ہے، کسی اور نعمت کو نہیں مانگا گیا۔ مولانا اشرف علی تھانوی ؒ کے دعاؤں کے مرتب کردہ خوب صورت مجموعے ’’مناجاتِ مقبول‘‘ میں اس طرح کی بعض دعائیں موجود ہیں۔

اس وقت ہم مسلمان فکر و عمل کی جن کوتاہیوں میں مبتلا ہیں، شاید ان کا اصل الاصول وہ چیز ہے جس کی شکایت خود رسول اللہ ﷺ، اللہ کے سامنے کریں گے، جسے خود قرآن کے الفاظ میں ’ہجرانِ قرآن‘ سے تعبیر کیا جا سکتا ہے، یعنی قرآنِ کریم کو پس پشت ڈال دینا، اس سے منہ موڑ لینا۔ سورۂ فرقان میں ارشادِ باری ہے: وَقَالَ الرَّسُولُ يَارَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا. (الفرقان: 30) (اور رسولﷺ کہیں گے کہ: یا رب ! میری قوم اس قرآن کو بالکل چھوڑ بیٹھی تھی۔) اس آیت میں وَقَالَ الرَّسُولُ کا ترجمہ ماضی کے اسلوب (Past Tense) میں بھی کیا گیا ہے، یعنی رسول اللہ ﷺ نے اپنی زندگی میں یہ شکایت کی اور مستقبل کے اسلوب (Future Tense) میں بھی؛ اوپر ترجمے میں اسی اسلوب کو اختیار کیا گیا ہے۔ آیت کا سیاقِ خاص اگرچہ کفار کے بارے میں ہے، لیکن اپنے پیغام میں یہ عام ہے جس کا تعلق عمومی طور پر اس امتِ مسلمہ کی غفلت اور ترکِ قرآن سے بھی ہو سکتا ہے اور اس کے درجات مختلف ہو سکتے ہیں۔ چناں چہ علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ اس آیت کے تفسیری حاشیے میں فرماتے ہیں: ’’آیت میں اگرچہ مذکور صرف کافروں کا ہے، تاہم قرآن کی تصدیق نہ کرنا، اس پر تدبر نہ کرنا، اس پر عمل نہ کرنا، اس کی تلاوت نہ کرنا، اس کی تصحیحِ قراءت کی طرف توجہ نہ کرنا، اس سے اعراض کر کے دوسری لغویات یا حقیر چیزوں کی طرف متوجہ ہونا، یہ سب صورتیں درجہ بدرجہ ہجرانِ قرآن کے تحت داخل ہو سکتی ہیں۔‘‘ (حاشیہ برآیۂ مذکورہ)

اللہ کی کتاب کی یہ مظلومیت زندگی کے ہر نقشے میں عام ہے جس کا نتیجہ ہے کہ خدا اور آخرت ہمارے لیے خوابیدہ سے تصورات بن گئے ہیں جو ہمارے وجود میں کوئی بے چینی اور فکر مندی پیدا نہیں کرتے۔ وہ ہماری زندگی پر اس طور سے حاکم نہیں ہیں کہ اللہ کی مرضی کے مطابق زندگی کو ڈھالنا ہماری منشا اور چاہت بن جائے، اللہ کی محبت ہمارے دل میں مال، شہرت اور دیگر مظاہر کی محبتوں پر غالب آ جائے اور خلوت وجلوت میں اس کا حکم پر نافذ ہو جائے، دنیا میں ہم اپنی مسافرانہ حیثیت کو پہچان کر جیئیں اور آخری اور ابدی سفر کے لیے فکرمند رہنا ہمارا زاد وراحلہ بن جائے۔ یہ زندگی چپکے چپکے، دھیرے دھیرے، دم بدم برف کے تودے کی مانند تیزی سے پگھل رہی ہے۔ ہرصبح وشام ہماری حیاتِ چند روزہ سے نکل کر ہمیں اپنے دائمی انجام کے قریب کر رہے ہیں۔ روزانہ اٹھتے جنازے زبانِ حال سے عبرت کا فسانہ پکارتے ہیں، لیکن ابنِ آدم کی غفلت ہے کہ وہ عالم کے اس ہمہ دم تغیر سے کوئی سبق نہیں لیتا۔

اللہ کی رحمتوں کا مہینہ ہمارے سروں پر سایہ فگن ہونے کو آیا ہے جس کا پہلا عشرہ رحمت، دوسرا مغفرت اور تیسرا عذابِ دوزخ سے نجات ہے۔ ان قیمتی گھڑیوں سے صحیح معنیٰ میں استفادے کا طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنے فرض صوم کے ساتھ ذکرو عبادت پر بھی دھیان دیں جس کی ارفع ترین صورت اللہ کی کتاب کے سایے میں جینا اور نوعِ انسانی کے لیے اس پیامِ آخریں کی شاداب ہریاول تلے بسرام کرنا ہے۔ اس کے وعدے ہمارے دل میں شوقِ جنت بیدار کریں جس کے ابدالآباد کے خنک سایوں میں اللہ کے محبوب بندوں کو ابدی سکونت بخشی جائے گی۔ جہاں اللہ کی زیارت کی نعمت ہوگی، جہاں محمد عربی ﷺ کا پڑوس ہوگا اور انبیاء، صحابہ اور اتقیاے امت کا ساتھ ہوگا۔ وہ مسکن اس دکھوں اور بے وفائی کے عارضی گھر کے مقابلے میں کامل اور کبھی بھی نہ چھننے والا ہوگا۔ اللہ ہمارے دل میں شوقِ آرزو بیدار فرما دے۔

ضمیر لالہ میں روشن چراغ آرزو کردے
چمن کے ذرے ذرے کو شہید جستجو کردے

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: