وِیجا بورڈ ——— ڈاکٹر فرحان کامرانی کا افسانہ

0
  • 88
    Shares

’’میں اُسے دوبارہ بلاتا ہوں۔ وہ شرما رہا ہے۔‘‘ سعد نے اپنے دوستوں کوبتایا۔

’’ارے شرمانے کی کیا بات ہے؟‘‘ طیب نے ہونٹ بھینچ کر مسکراتے ہوئے کہا۔ وہ ہمیشہ کی طرح پرجوش تھا جبکہ اس کا دوست افتخار حسب معمول تھکا تھکا اور مایوس سا لگتا تھا۔ یہ دونوں 25، 26 سال کے جوان تھے جنہوں نے ابھی ابھی ماسٹر ز کیا تھا اور اپنی ہی یونیورسٹی میں لیکچرر ہوگئے تھے۔ دونوں کو ان کا دوست سعد آج اپنے گھر لے آیا تھا تا کہ ان کے سامنے وِیجا بورڈ پر روح بلائی جا سکے۔ سعد اِن جواں سال استادوںسے کچھ چھوٹا تھا مگراُس کی حیثیت طیب اور افتخار کے دوستوں سے زیادہ اُن کے عقیدت مندوں کی سی تھی۔

تھوڑی دیر میں کمرے میں ایک 14، 15سال کا لڑکا جھجھکتے ہوئے داخل ہوا۔ اُس کے ہاتھوں میںگتے کا ایک بورڈ تھا۔ اُس نے میز پر وہ بورڈ رکھا اور سامنے قالین پر بیٹھ گیا۔ اب افتخار اور طیب بھی قریب آ بیٹھے۔ طیب نے غور سے بورڈ کو دیکھا۔اِس بورڈ پر انگریزی حروف تہجی بچکانہ سی ہینڈرائٹنگ میں تحریر کیے گئے تھے۔ ایک طرف ’’Yes‘‘ اور ’’No‘‘ لکھا تھا۔ صفر سے نو تک گنتی بھی لکھی تھی۔

’’یہ ہے وہ بورڈ جس پر روح بلاتے ہیں؟ ہیں؟‘‘ طیب نے شک بھرے لہجے میں دریافت کیا۔ افتخار نے دنیا سے بیزار انداز میں بورڈ پر اور بچے پر نظر ڈالی۔یہ دونوں ہی مہمان باریش تھے، طیب کی داڑھی ترشی ہوئی تھی جب کہ افتخار کی داڑھی بڑھی ہوئی تھی مگر قدرتی طور پر ہی پورے چہرے پر نہ نکلی تھی بلکہ ٹھوڑی پر ہی زیادہ تھی۔افتخار نے سوچ میں ڈوبے لہجے میں دریافت کیا۔

’’روح نظر آتی ہے فرحان؟ یہ نام ہے ناں تمہارا؟‘‘

’’نہیں سر روح نظر نہیں آتی،‘‘ بچے نے جواب دیا۔ فرحان کا سر غیر معمولی طور پر بڑا تھا اور اُس پر برش کی طرح کھڑے کھڑے بال تھے۔ لڑکے کا جسم دبلا پتلا اور کمزور تھا اور رنگت پر زردی سی چھائی ہوئی تھی۔ اُس نے دائیں ہاتھ کی ہتھیلی سے ایک پیپسی کا ڈھکن برآمد کیا، اُسے بورڈ کے درمیان میں رکھا،اس ڈھکن پر اپنی دو انگلیاں جمائیں، کچھ پڑھا اور آنکھیں بند کرلیں۔

’’کیا پڑھا تم نے؟‘‘ طیب نے بچے سے دریافت کیا۔

’’بس یہ کہ جو روح یہاں سے گزر رہی ہو اس ڈھکن اور بورڈ کی مدد سے ہم سے رابطہ کرے‘‘۔

’’ڈھکن اور بورڈ!‘‘ طیب ہونٹ بھینچ کر ہنسا۔ مگر اسی لمحے بچے کی انگلیوں کے نیچے دبا ڈھکن کھسک کر ’’Yes‘‘ پر چلا گیا۔

’’روح آ گئی‘‘۔ سعد نے سب کو بتایا۔ ’’اب آپ لوگ سوالات پوچھیں، یہ جوابات دے گی‘‘۔

’’کیسے دے گی جواب؟ آواز آئے گی؟‘‘

’’نہیں، یہ ڈھکن حروف پر آ جائے گا اور میں لکھتا جائوں گا‘‘۔ سعد نے اپنے پاس موجود قلم اور کاپی کی طرف اشارہ کیا۔

’’اچھا۔۔ روح بھائی انسان کے ساتھ مر کر کیا ہوتا ہے؟ اور جب روح برزخ میں چلی جاتی ہے تو آپ روح کیسے ہو سکتے ہیں؟‘‘

’’اتنے لمبے سوال کا جواب وہ کیسے دے گا؟‘‘ سعد نے کہا۔ ’’مطلب کوئی چھوٹا سوال کریں ناں جیسے مستقبل کی کوئی بات جو آپ کو جاننی ہو۔۔‘‘

’’نہیں نہیں یہ سوال بہت ضروری ہے بھائی ہمارے علماء کے نزدیک۔۔‘‘

اس لمحے بچے کی انگلیاں مع ڈھکن کے تیزی سے بورڈ پر حرکت کرنے لگیں اور سعد نوٹس لینے لگا۔

’’روح کا کوئی مکان نہیں، جگہ اور وقت کی قید زندہ انسان کی ہے، روح کی نہیں۔ پیدائش انسان کی ہے روح کی نہیں۔جنت، دوزخ، برزخ، رتبے ہیں

مکان نہیں‘‘۔

’’Smart Boy‘‘ طیب نے اپنی شاطر نگاہوں سے شرمیلے بچے کو گھورتے ہوئے کہا۔ اس کو لگ رہا تھا کہ یہ سب بیوقوف بنانے کا سیشن ہے کیونکہ اس کےعلماء کے نزدیک وغیرہ وغیرہ۔

’’اے پاک روح میری شادی کب ہو گی؟‘‘ افتخار نے بڑے فلسفیانہ لہجے میں بڑا بنیادی سوال پوچھا۔

’’5 سال بعد‘‘۔۔ بورڈ پر ڈھکن گھوما۔

’’5 سال!‘‘ افتخار کی چیخ نکل گئی۔

’’اچھا روح، آپ کا مذہب کیا ہے؟ طیب نے بچے کو دیکھتے ہوئے کہا۔

’’روح کا مذہب نہیں ہوتا‘‘۔ تیزی سے بورڈ پر گھسیٹتے ہوئے ڈھکن اور انگلی کی حرکت نے جواب دیا۔

’’واہ بھئی۔ یہ تو بڑی سیکیولر روح ہے!طیب نے طنزیہ لہجہ میں کہا۔ ’’اچھا اے روح خدا ہے کہ نہیں؟‘‘

’’یہ سوال تم کو مجھ سے پوچھنا پڑ رہا ہے؟‘‘

’’لا حول ولا قوۃ الا بااللہ۔ بچہ بہت تیز ہے‘‘۔

’’میں تھوڑی۔۔‘‘ بچے نے کچھ جھنجھلا کر کہا۔ اس کو لگ رہا تھا کہ اس کا کوئی امتحان لیاجارہا ہے۔ وہ یرقان میں مبتلا تھا اوراُسے نقاہت محسوس کر رہا تھا۔

’’اچھا میری اسٹوڈنٹ‘‘۔۔ طیب نے پہلی مرتبہ تھوڑا شرماتے ہوئے سوال پوچھا۔۔ ’’میری اسٹوڈنٹ سائرہ کیا مجھ میں انٹرسٹ لیتی ہے؟‘‘

’’نہیں، اس کو ملا پسند نہیں، وہ صرف اچھے نمبر لینے کے لئے تم کو مسکرا کر دیکھتی ہے‘‘۔

’’بچہ تو بدتمیز ہے یار!‘‘ طیب نے فرحان کو کھا جانے والی نگاہوں سے گھورا۔ فرحان کے لیے یہ عمل ناگوار ہوتا جارہا تھا مگر ڈھکن پھر تیزی سے بورڈ پر گھوما۔

’’تم یہ سوالات اپنے علماء سے ہی کر لو، روح کو زحمت کیوں دیتے ہو؟‘‘

’’بھائی ہم تو مذاق سمجھ کر کھیل سمجھ کر پوچھ رہے ہیں، تم سنجیدہ کیوں ہو رہے ہو؟؟ طیب نے فرحان کو مخاطب کر کے کہا۔

’’میں تھوڑی یہ کرتا ہوں۔‘‘ بچے نے پریشان لہجہ میں کہا۔

’’اچھا چلیں کوئی اور روح بلواتے ہیں‘‘۔ سعد نے محفل کو سنبھالنے کے لئے رائے دی۔ ’’کسی مشہور آدمی کی‘‘۔

’’ہیں؟ بلوا سکتے ہیں؟‘‘ طیب نے خوشی سے کہا۔

’’چلو بھئی پھر اس روح کو واپس برزخ بھیجواور شیکسپیئر کی روح کو بلائو‘‘

’’شکریہ۔۔ مجھے بھی الو کے پٹھوں سے بات کرنے کا کوئی شوق نہیں اور تم خود برزخ میں ہو۔بائے!‘‘

ڈھکن ساکت ہوگیا۔ طیب نے غصے سے فرحان کو دیکھا۔

اب پھر حرکت ہوئی اور ڈھکن’Yes‘پر آ گیا۔

’’آپ ولیم شیکسپیئر ہیں؟‘‘

جواب میں ڈھکن دوبارہ’ Yes‘ پر آ گیا۔

’’اچھا تو پھر یہ بتائیں کہ لیڈی میکبتھ زیادہ Ambitious ہے یا پھرڈیسڈی مونا؟‘‘

’’مجھے نہیںمعلوم‘‘

’’عجیب بات ہے آپ شیکسپیئر ہیں مگر آپ کو نہیں معلوم؟‘‘ طیب نے حقارت سے بچے کو دیکھتے ہوئے کہا۔

’’میں پاکستانی شیکسپیئر ہوں‘‘۔

’’کیا بکواس ہے! بند کرو بھائی یہ‘‘۔ طیب نے بیزاری سے کہا اور فرحان نے بورڈ اٹھا لیا اور کمرے سے جانے لگا۔

’’ارے بیٹا تم تو رکو!‘‘ طیب نے بچے سے کہا۔

’’کس کلاس میں پڑھتے ہو تم؟‘‘

’’نویں میں‘‘

’’اچھا، بایولوجی لیا ہے یا کمپیوٹر؟‘‘

’’میں اسکول نہیں جا رہا، مجھے یرقان ہے۔‘‘

’’اوہ! ہاں تم تو پیلے پڑے ہوئے ہو۔۔ بھئی سعد اس کا یرقان جھڑوایا ہے؟‘‘

’’ہاں فیصل اس کو جھاڑنے والے کے پاس لے کر تو جاتا تھا مگر فائدہ کچھ ہو نہیں رہا تھا اس لئے لے جانا چھوڑ دیا‘۔‘

’’ہاں بچے تم کو یہ بتانا تھا کہ یہ سب بکواس ہے روح ووح بلانا، روح برزخ میں چلی جاتی ہے۔۔

یہ سب غیر اسلامی تصورات ہیں کہ روح بھٹکتی رہتی ہے یا ایسے کسی بورڈ پر بلائی جا سکتی ہے۔‘‘

بچہ طیب کی تقریر سنتا رہا، اب یہ شخص اس کے لئے ناقابل برداشت ہوتا جا رہا تھا۔ وہ اٹھا اور بورڈ لے کر اندر چلا گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

’’ہائنز کا خط آیا ہے‘‘۔ بوڑھے فنگسٹائن نے اپنی بہو انجیلا کو بلاتے ہوئے کہا۔

فنگسٹائن کی آواز سن کر انجیلا تیزی سے دوڑ کر باہر آئی۔ بوڑھا فنگسٹائن کھڑا ہانپ رہا تھا۔ اس نے خاکی لفافے میں ملفوف خط اپنی بہو کو دیا اور اپنے موٹے چشمے کے پیچھے چھوٹی چھوٹی آنکھوں سے اسے فکر مند انداز میں دیکھنے لگا۔

’’کیا میں سن سکتا ہوں؟ اگر کوئی بہت ذاتی بات نہ ہو۔ تم پڑھ لو پھر مجھے بھی۔۔ مطلب‘‘

’’جی پدر محترم!‘‘ انجیلا نے اپنی نظر ادب سے جھکاتے ہوئے کہا۔ اس کی بڑی سی فراک کو پکڑ کر اس کی چھوٹی بیٹی مارگریٹا کھڑی تھی۔ اس نے اپنا دوسرا ہاتھ اپنے منہ میں ٹھونسا ہوا تھا اور اپنے دادا کو دیکھ رہی تھی اور سوچ رہی تھی کہ دادا ا س پر توجہ کیوں نہیں دے رہے۔ مگر وہ 5 سال کی بچی کیا جانے کہ اس کے دادا کو کیا فکر دامن گیر تھی۔ انجیلا کی بڑی بیٹی آننا جو کہ پندرہ برس کی تھی وہ بھی باہر نکل آئی۔

انجیلا نے خط کا لفافہ کھولا اور پڑھ ڈالا۔ پھر فنگسٹائن کی طرف دیکھا اور خط پڑھ کر سنایا۔

ڈیر انجیلا،
امید ہے کہ تم اور سب لوگ خیریت سے ہوں گے اور ڈریسڈن دشمنوں سے محفوظ ہو گا۔ ہمارا ڈویژن لیبیا کے محاذ پر اٹکا ہوا ہے۔ کل برطانوی بھاری توپ خانے نے ہمارے کیمپ پر خوب بمباری کی۔نہ جانے کب یہ منحوس جنگ ختم ہو گی۔ ہم نے کتنا کچھ کھو دیا اس جنگ میں۔ میں ہر پل تم کو، والد کو اور اپنی شاہزادیوں کو یاد کرتا رہتا ہوں۔ ہم اطالویوں کو بچانے کے لئے افریقہ کے دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں۔ لازمی طور پر افریقہ ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ ادھر روس کے محاذ سے بھی صرف بری خبریں مل رہی ہیں۔ میں یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ میں فیورر کے فہم کو سمجھ سکتا ہوں، یقینا ان کے عمل میں حکمت ہے مگر ہمارے فیورر کو صحیح مشیر نہیں ملے۔ اس سے پہلے کی جنگ میں ہمارے شہنشاہ کو فون لوڈنڈوف اور فون ہونڈنبرگ نے شکست سے دوچار کروایا تھا اور اب یہ کام وہ نازی کر رہے ہیں جو میدان جنگ کو بھی سیاست کا میدان سمجھتے ہیں۔ خیر بچوں کو اور والد صاحب کو میرا پیار دینااور اپنا خیال رکھنا۔

تمہارا
ہائنز

فنگسٹائن نے اپنے اوپر صلیب کا نشان بنایا۔

’’مسیح میری اولاد کی حفاظت فرما!‘‘ وہ دروازے کے ساتھ رکھی کرسی پر بیٹھ گیا۔

’’پدر محترم، آپ اندر آ جائیں۔‘‘

فنگسٹائن نے مارگریٹا کو گود میں اٹھا لیا اور آننا کو بھی گلے سے لگایا۔ بوڑھا فنگسٹائن ایک ماہ قبل اپنی بیٹی کے گھر سے لوٹا تھا جہاں اُس کے داماد کی فرانس میں مزاحمت کاروں کے ہاتھوں ہلاکت کی خبر اور بعد ازاں تابوت موصول ہوا تھا۔

’’دادا، دادا، پاپا کہاں ہیں اور توپ خانہ کیسا ہوتا ہے؟‘‘ چھوٹی مارگریٹا نے دادا کو حیرت سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔

’’بیٹا تمہارے پاپا افریقہ میں ہیں اور توپ خانہ بری چیز ہوتی ہے۔‘‘

اندر کمرے میںفنگسٹائن کی نظر میز پر دھرے ایک بورڈ پر پڑی جس پر حروف تہجی اور ہندسے لکھے تھے اور ایک تکون لکڑی کا ٹکرا رکھا تھا۔

’’یہ کیا ہے؟ میں نے منع کیا پھر بھی روح بلائی جا رہی ہے!‘‘

’’آننا میری نہیں سنتی پدر محترم، جب سے اس کے پاپا گئے یہ پڑھائی پر توجہ بھی نہیں دیتی اور ہر وقت روحیں بلاتی رہتی ہے‘‘۔

’’آننا بیٹا۔۔ نحوست ہوتی ہے اس کام سے، مت کیا کرو۔‘‘

’’جی دادا جان۔ مگر یہ بورڈ مجھے خود پاپا نے بنا کر دیا تھا۔‘‘

’’پدر محترم، کیا ہم واقعی افریقہ میں جنگ ہا رجائیں گے؟‘‘ انجیلا نے اپنے سسر سے دریافت کیا۔

اس دوران آننا نے تیزی سے ویجا بورڈ اٹھا کر الماری کے اوپر رکھ دیا۔

’’بیٹی تم صرف افریقہ کی بات کرتی ہو؟‘‘ فنگسٹائن کے چہرے پر گہرا رنج نمودار ہوا۔ ’’میں نے اس سے پہلی جنگ بھی دیکھی تھی، تب میں جوان تھا۔ تب ہمارے شاہ نے اپنے کروفر میں اپنے دوست کی موت کا بدلہ لینے کی ٹھانی تھی مگر پھر ابتدائی فتوحات کے بعد ہم نے کیا برداشت کیا تم جانتی ہو۔ اب، اب تو شاید اس سے بہت برا کچھ ہو گا۔ میرے بچوں کی خداوند حفاظت فرمائے۔‘‘

’’دادا جان آننا کی روح بتاتی ہے کہ پاپا اگلے مہینے آ جائیں گے۔‘‘ چھوٹی مارگریٹا نے دادا کا منہ اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے اپنی طرف گھما کر کہا۔

یہ بات سن کر خلاف توقع دادا کے چہرے پر خوشی کا تاثر آیا اور وہ آننا کی طرف مڑا۔

’’کیا واقعی؟‘‘

’’جی دادا جان‘‘

’’تو پھر بلائو روح ہم بھی سنیں‘‘

آننا نے الماری کے اوپر سے بورڈ اتار کر دوبارہ ڈائننگ ٹیبل پر رکھ دیا اور پوائنٹر پر اپنی دو انگلیاں رکھ کر کچھ پڑھنے لگی۔پوائنٹر نے حرکت کی اور’’ ہاں‘‘ کے خانے پرجا کر رک گیا۔

’’ان سے پوچھو یہ جنگ کون جیتے گا؟‘‘

’’جرمن‘‘

’’ہوں۔۔ خدا کرے ایسا ہی ہو۔‘‘

’’ان سے پوچھو کہ ہائنز کب واپس آئے گا؟‘‘

’’اگلے مہینے‘‘۔ بوڑھے فنگسٹائن کے چہرے پر شک کے تاثرات نمودار ہوئے۔

’’اے روح آپ کا نام کیا ہے؟‘‘

’’FARHAN ـ‘‘

’’ یہ کیسا نام ہے؟‘‘ دادا نے نام کے حروف تہجی پڑھ کر کہا۔ ’’آپ کا مذہب کیا ہے؟‘‘

’’روح کا کیا مذہب‘‘

’’ہاں صحیح بات ہے‘‘۔ فنگسٹائن نے کہا۔ ’’روحوں کا الگ الگ مذہب نہیں ہوتا، ساری روحیں مسیحی ہوتی ہیں۔ اچھا آپ کا انتقال کب ہوا تھا۔‘‘

’’یا دنہیں‘‘۔

’’یہ کیسی بات ہے‘‘۔ فنگسٹائن نے حیرت سے کہا۔ ’’اچھا آپ کی تاریخ پیدائش؟‘‘

’’معلوم نہیں‘‘۔

فنگسٹائن نے شک سے اپنی پوتی آننا کو دیکھا۔

’’بند کر دو بیٹا یہ۔ کوئی روح ووح نہیں آتی۔ تم اس بوڑھے دادا کو خوش کرنا چاہتی ہو بس‘‘

’’نہیں دادا۔۔ ایسا‘‘

’’نہیں۔ نہیں۔ نہیں۔‘‘

آننا بورڈ اٹھا کر اندر اپنے کمرے میں لے گئی۔

۔

’’بلائو ناں روح۔ نانی اماں کو بہت اہم باتیں پوچھنی ہیں‘‘۔ فرحان کی بہن اس سے بولی۔

’’مجھے رات بھر نیند نہیں آ تی جب سے میں نے روح بلانی شروع کی ہے۔ اور ویسے بھی صحیح جواب نہیں آتے۔‘‘

’’جیسے بھی جواب آتے ہیں بابو ہم تو بس ایک کھیل سمجھ کر ہی سنتے ہیں۔ تم روح بلائو بہت اہم بات پوچھنی ہے‘‘۔فرحان کی نانی نے اندر داخل ہوتے ہوئے کہا۔ نانی بڑی پرعزم خاتون تھیں، جب کوئی بات ان کے سرمیں سما جاتی تو وہ کر کے ہی رہتیں۔

’’جی نانی اماں!‘‘ فرحان نانی کے سامنے انکار نہیں کر سکتا تھا۔ وہ بورڈ لے آیا۔

’’ان سے پوچھو کہ پرویز کی شادی کب ہو گی؟‘‘

’’اسی سال‘‘۔

’’اسی سال! اچھا کیا وہیں ہو گی جہاں ابھی لڑکی دیکھی گئی ہے؟‘‘

’’ہاں‘‘۔

’’اچھا پوچھو کہ انجم کراچی آئیں گے‘‘۔ انجم نانی کے بڑے بیٹے تھے جو اسلام آباد میں رہتے تھے۔

’’نہیں‘‘۔

’’اچھا۔ وہ پیسے بھیجیں گے؟‘‘

’’نہیں‘‘۔

نانی کے چہرے پر مایوسی نمودار ہوئی۔

’’پرویز کو کیا کوئی اچھی نوکری اس سال مل جائے گی؟‘‘

’’نہیں‘‘۔

نانی کے چہرے پرمایوسی اور گہری ہوگئی۔ انہوں کسی قدر غصے سے فرحان کی جانب دیکھا۔

’’ان کو واپس بھیج دو۔ اور کسی کو بتانا مت کہ ہم نے کیا سوالات پچھوائے تھے‘‘۔ جب نانی کمرے سے چلی گئیں تو فرحان کا دل چاہا کہ ویجا بورڈ کو پھاڑ کر پھینک دے۔ پھر اسے خیال آیاکہ روح بلا کر اپنے بارے میں ہی کچھ اہم سوا لات کرے۔ مگراُس کو اپنی طبیعت بے حد خراب محسوس ہورہی تھے۔ وہ بورڈ رکھ کر ڈرائنگ روم میں ایک طرف پڑے صوفے پر لیٹ گیا۔ اس کا سانس بری طرح پھول رہا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

’’اے پاک روح!‘‘ آننا نے کمرے میں جا کر دوبارہ روح بلا لی۔

’’اے پاک روح۔ کیا تو سب کچھ جانتی ہے؟‘‘

’’ہاں‘‘۔

’’تو پھر مجھے بتا کہ میری شادی کس سے ہو گی؟‘‘

بورڈ پر تھوڑی دیر پوائنٹر ساکت رہا۔ آننا اُس پر اپنی انگلیاں ٹکا کر حرکت کی منتظر رہی، پھر حرکت ہوئی۔

’’ایڈولف ہٹلر سے‘‘۔

’’یہ کیسا مذاق ہے اے پاک روح؟، اچھا یہ بتائو کہ میری سبز ڈائری کہاں ہے جو مجھے پاپا نے تحفے میں دی تھی؟‘‘

’’مارگریٹا کے پاس، وہ اس میں بنی تصاویر دیکھتی ہے اور تمہاری لکھی ہوئی باتیں پڑھتی ہے، پھر ا س کو چھپا دیتی ہے۔‘‘

آننا کا چہرے غصے سے سرخ ہو گیا۔

’’ابھی کہاں رکھی ہوئی ہے میری ڈائری اس چھوٹی چڑیل نے؟‘‘

’’ایٹک میں، رضائیوں کے صندوق کے اندر‘‘۔

آننا بورڈ کو چھوڑ کر دوڑتی ہوئی لائونج میں گئی اور سیڑھی لگا کر اوپر ایٹک میں چلی گئی۔ لائونج میں مارگریٹا گڑیا سے کھیل رہی تھی، اپنی بڑی بہن کو اوپر جاتا دیکھ کر اس کو سانپ سونگھ گیا اور وہ گڑیاں چھوڑ جلدی سے باورچی خانے میں اپنی ماں کے پاس بھاگی۔ آننا دوڑتی ہوئی اسے ڈھونڈتی ہوئی باورچی خانے میں آئی۔ اس کے ہاتھ میں اس کی سبز ڈائری تھی۔

’’ماما اس چڑیل نے میری ڈائری چھپائی تھی۔ میں ایک ہفتے سے تلاش کر رہی تھی اور ابھی مجھے اوپر یہ رضائیوں کے بکس میں ملی۔ اور دیکھیں، اس بلا نے اپنی گندی رائٹنگ میں اپنا نام بھی لکھ دیا ہے اس پر‘‘۔

مارگریٹا اپنی ماں کے پیچھے چھپنے کی کوشش کر رہی تھی اور حفظ ما تقدیم کے طور پر رونی صورت بنا لی تھی۔

’’کیوں مارگریٹا، کیوں کی یہ گندی حرکت؟ تمہارے لئے بھی تو پاپا گڑیا لائے تھے، کیا وہ آننا نے کبھی چھوئی؟‘‘

’’مگر مجھے یہ چاہئے‘‘۔

’’میں ابھی اس چڑیل کو مزہ چکھاتی ہوں!‘‘

’’میں ہوں ناں۔۔۔ میں ہوں۔ میں سمجھا دوں گی مارگریٹا کو‘‘

’’اور اس کو کہہ دیں میرے سامان کو ہاتھ نہ لگایا کرے یہ‘‘۔آننا باورچی خانے سے چلی گئی۔

اب ماں نے مسکرا کر اپنی چھوٹی بیٹی کو دیکھا، وہ بھی مسکرائی۔

’’غلط بات ہوتی ہے یہ،کسی کی ڈائری پڑھنا‘‘۔

’’میرے پاپا لائے تھے، اس کی نہیں ہے‘‘۔

ــ’’وہ اس کے بھی پاپا ہیں۔ گندی بات، اگلی مرتبہ ایسا کیا تو وہ تم کو مارے گی اور میں تم کو نہیں بچائوں گی‘‘۔ یہ بات کرتے ہوئے اچانک انجیلا کو ایک خیال آیا اور وہ تیزی سے باورچی خانے سے نکل کر آننا کے کمرے میں گئی جو دوبارہ ویجابورڈ کے سامنے آسن جما کر بیٹھ چکی تھی۔

’’کیا یہ بات تم کو روح نے بتائی تھی کہ ڈائری کہاں ہے؟‘‘

’’جی ماما‘‘۔

انجیلا کو یہ سن کر ایک انجان سی خوشی ہوئی۔ ’’اگر روح سچ کہتی ہے تو ہائنز اگلے مہینے محاذ سے ضرور واپس آ جائے گا،‘‘ اُس نے دل میں کہا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

’’ارے اگست کا مہینہ آ گیا ہے اور فروری میں تو نائن کلاس کے امتحان ہیں۔ اب تو رجسٹریشن فارم بھی آ جائیں گے بورڈکے۔ تو یہ تو گھر پر ہے، بیمار ہے۔ اور آپ لوگوں نے اِ س کے اسکول میں کوئی بات بھی نہیں کی ہو گی۔پتہ نہیں اِس کی اس ماہ کی فیس بھی دی ہے یا نہیں؟ اور اس کی Sick Leave بھی بھیجی ہے یا نہیں۔ تو اس کا بورڈ کا سال ضائع ہو جائے گا آپ لوگوں کی لاپرواہی سے۔ ویسے بھی یہ ایک سال پیچھے ہے، دو سال پیچھے ہو جائے گا۔ آپ لوگوں کو کوئی فکر بھی ہے یا نہیں؟ یہ آپ لوگوں کا سب سے چھوٹا بھائی ہے۔ اب دولہا بھائی تو خود اتنے بیمار ہیں کہ ظاہر ہے وہ تو بستر سے نہیں اٹھ سکتے تو اس بیچارے کے لئے بھاگ دوڑ کیسے کریں گے؟ اور ہماری باجی صاحبہ میں تو یہ سینس ہے ہی کم۔۔ تو تم لوگ تو فکر کرو‘‘۔ فرحان کی خالہ نے اس کے بڑے بھائیوں کی کلاس لیتے ہوئے کہا۔

’’نہیں خالہ جان اب مسئلہ اور بھی ہو گیا ہے۔ مالک مکان نے ہم لوگوں کو گھر خالی کرنے کانوٹس دے دیا ہے۔ اب ہم پتہ نہیں کس محلے میں شفٹ ہوں تو اس کا اسکول تو بدلنا ہی پڑے گا۔۔۔‘‘

’’اسکول بدلنا پڑے گا! ارے آدھا تعلیمی سال ختم ہو جائے گا کچھ دنوں میں۔ ارے جلدی کچھ کرنا ہو گا آپ لوگوں کوورنہ اس کا سال ضائع ہو جائے گا اور یہ بیچارہ ایک سال اور پیچھے ہو جائے گا پڑھائی میں۔‘‘

خالہ تو چلی گئیں مگر فرحان اپنی خالہ کی ان باتوں سے بہت تشویش کا شکار ہو گیا۔ وہ صوفے پرلیٹا رہا۔ سائیڈ ٹیبل پریرقان کی دوائیاںاور گلوکوز کا ڈبہ رکھا تھا۔ وہ شدید نقاہت محسوس کر رہا تھا مگر ہمت کر کے اٹھا اور صوفے کے پیچھے سے ویجابورڈ نکال لایا۔

’’اے روح کیا میر ایہ تعلیمی سال ضائع ہو جائے گا؟‘‘

’’No‘‘

’’میں کب تک ٹھیک ہو جائوں گا؟‘‘

’’80 دن میں‘‘

’’اور ابو کب ٹھیک ہوں گے؟‘‘

’’ایک سال بعد‘‘

’’بالکل ٹھیک ہو جائیں گے؟‘‘

’’Yes ‘‘

فرحان کو ان جوابوں سے بڑی خوشی ہوئی۔ اُس نے ویجا بورڈ واپس صوفے کے پیچھے رکھا اور لیٹ گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فنگسٹائن نے میدان ِ جنگ سے پیغام لانے والے فوجی کو بیٹھنے کو کہا مگر اُس کی اپنی ٹانگیں جیسے پتھر کی ہوگئیں تھی۔ مہمان کا سن کر انجیلا تیز قدموں سے کمرے میں داخل ہوئی اور سسر کے پیچھے دم سادھ کر کھڑی ہوگئیں۔ وہ کسی بھی خبر کے لئے خود کو تیار کر رہی تھی۔ دونوں لڑکیاں بھی ڈرتے ڈرتے کمرے میں آگئیں۔ مہمان ایک 40سالہ، دراز قد افسرتھا جو تمکنت کے ساتھ صوفے پر بیٹھا تھا۔ اُس نے انجیلا اور بچیوں کو دیکھ کر اپنی ٹوپی اتار کر گود میں رکھ لی مگر نشست سے نہ اٹھا۔

’’ مجھے کرنل ہوزن فیلڈ کہتے ہیں ‘‘۔اُس نے اپنے میزبانوں کی جانب دیکھتے ہوئے بلند اور کسی قدرچبھتی ہوئے آواز میں کہا۔

ـ’میں آپ لوگوں کو مطلع کرنا چاہتا ہوں کہ میجر ہائنز گزشتہ ہفتے تریپولی کی لڑائی میں زخمی ہوگئے تھے۔ اُن کو فوری طور پر خصوصی طیارے سے سسلی میںموجود ہماری بیس منتقل کر دیا گیا ہے۔وہ زیر علاج ہیں اور جیسے ہی صحت یاب ہوتے ہیں ان کو وطن واپس بھیج دیا جائے گا‘‘۔ کرنل نے ایک بے تاثر لہجے میں یہ پیغام سنایا۔

’’ میرا بیٹازخمی ہے‘‘۔فنگسٹائن نے درد بھری آواز میں کہا۔ ’’ کاش میں اس کے پاس سسلی جا سکتا۔ کاش یہ جنگ نہ ہوتی۔‘‘

’’پاپا کو چوٹ لگی ہے ماما؟‘‘ مارگریٹا نے ماں کا ہاتھ پکڑتے ہوئے پوچھا۔

’’ہاں بیٹا، مگر تم یسوع مسیح سے دعا کرو، وہ بچوں کی دعا مسترد نہیں کرتے‘‘۔

آننا یہ خبر سننے کے بعد بھی اپنی حواس میں تھی اور اپنی ماں کو دلاسہ دینا چاہ رہی تھی۔

اُس نے دیکھا کہ کرنل غور سے کمرے کا معائنہ کر رہاہے۔ اُس کی نظر کونے میں لگی یسوع کی تصویر اور اس کے سامنے جلتی شمع پر ایک لمحہ کو ٹھہری۔وہ پھر گویا ہوا۔

’’ میں 5 دن قبل تریپولی میں ہائنز کے ساتھ ہی تھا مگر سینٹرل کمانڈ نے مجھے بلوا لیا۔ کیونکہ ہائنز میرے زیر فرمان کام کر چکا ہے اور میں اس کو ذاتی حیثیت میں جانتا ہوں اس لئے میں نے ضروری سمجھا کہ۔۔۔ مطلب یہ بحیثیت جرمن، بحیثیت مسیحی میں اپنی ذمہ داری سمجھتا تھا کہ آپ لوگوں کو اس حوالے سے مطلع کر دوں۔ دراصل ہائنز کے دائیں پیر پر مارٹر شیل کا ٹکڑا لگا ہے۔ اس کا پیر بہت بری حالت میں تھا۔ سسلی میں اس کا آپریشن کر کے اس کا پیر کاٹ دیا گیا ہے لیکن وہ اب خطرے سے بالکل باہر ہے، آپ لوگوں کو صبر سے کام لینا ہو گا۔ یسوع آپ لوگوں کو ہمت دیں۔ مگر۔۔۔‘‘

انجیلانے ایک سسکی لی اور اُس کی آنکھوں سے آنسو ٹپ ٹپ گرنے لگے۔ ماں کو دیکھ کر آننا اور مارگریٹا بھی رونے لگیںمگر فنگسٹائن کی جیسے ٹانگیں جواب دے گئیں۔وہ آہستہ سے جھکا اور کرنل کے سامنے لگے صوفے پر بیٹھ گیا۔

’’مگر۔۔۔ مگر جرمن ایک باہمت قوم ہے جو قومی مفاد میں اور اپنے فیورر۔۔ قوم کے عظیم باپ۔۔ عظیم مسیحا ایڈولف ہٹلر کے لئے اور رائخ کے لئے کسی بھی قربانی سے کبھی بھی دریغ نہیں کریں گے۔ ہائنز سلامت ہے اور جلد آپ کے درمیان ہو گا۔ اور ظاہر ہے کہ اس حالت میں فوج کی نوکری مزید تو نہیں کر سکے گا اس لئے اس کو اعزازات کے ساتھ رٹائر کر دیا جائے گا اور وہ آپ لوگوں کے ساتھ زندگی گزار سکے گا۔‘‘

’’آپ کی بہت مہربانی کہ آپ خود ہم کو یہ خبر دینے آئے‘‘۔فنگسٹائن نے خود پر قابو پاتے ہوئے کہا۔

’’میں اب اجازت چاہوں گا‘‘۔کرنل ہوزن فیلڈ ٹوپی سر پر رکھتے ہوئے کھڑا ہوگیا۔

چندہفتوں بعد ہائنز اسٹریچر پر گھر لایا گیا۔ وہ سوکھ کر آدھا رہ گیا تھا۔ اس کی نیلی نیلی آنکھیں گڑھوں میں چلی گئی تھیں اور داہنی ٹانگ گھٹنے سے تھوڑا اوپر سے کاٹ دی گئی تھی۔ باپ نے گرم جوشی سے مسکرا کربیٹے کا استقبال کیا اور دیر تک اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامیں بیٹھا رہا۔ ہائنز کی واپسی کے ایک ہفتہ بعد فنگسٹائن ایک صبح خاموشی سے ملک عدم کوچ کر گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

’’تمہاری کیا پرسنٹیج آئی ہے فرحان؟‘‘ کلاس کی سب سے شوخ لڑکی علینہ نے اُس سے دریافت کیا۔ آج بچوں کو نویں جماعت کی مارکی شیٹ ملی تھی جسے دیکھ کر کچھ بچے خوش ہو رہے تھے اور کچھ غمگین۔

’’بتائو ناں فرحان، کتنی پرسنٹیج آئی ہے تمہاری؟‘‘ علینہ نے اصرار کیا۔

’’56 پرسینٹ‘‘۔فرحان نے مردنی سے کہا۔

’’ارے تو کیا ہوا؟ ابھی دسویں کلاس ہے ناں، اس میں بڑھا لینا پرسنٹیج۔ اور ویسے بھی تم نے سال کے بیچ میں اسکول جوائن کیا تھا۔پھر تمہارے فادر کی بھی Death ہو گئی۔ تو اس سے اثر پڑا ناں۔ اب تم خوب محنت کر کے پرسنٹیج بڑھا لینا‘‘۔ علینہ نے فرحان کو تسلی دینے کی کوشش کی۔

’’آپ کی کیا پرسنٹیج آئی ہے؟‘‘ فرحان نے پوچھا۔

’’60 پرسینٹ۔ اب میں محنت کروں گی اور دسویں کلاس میں بڑھا لوں گی۔‘‘

گھر واپس جاتے ہوئے فرحان کوویجا بورڈ کا خیال آیا۔اُس نے سوچا کہ ایک مرتبہ پھر روح کو بلائے اور اُس سے ایک سوال پوچھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

’’ماں میں اکثر سوچتا ہوں کہ آنٹ آننا نے زندگی مذہب کے لیے کیوں وقف کردی ؟‘‘ ایک شام اریک نے مارگریٹا سے کہا۔

’’شائد معجزوں کو دیکھ کر۔ میں تو خود صرف 5 سال کی تھی مگر مجھے یاد ہے کہ ہمارا شہر ڈربسڈن خاک میں مل گیا تھا مگر ہم سب زندہ بچ گئے۔ پھرجب اتحادی ہمارے ملک میں داخل ہوئے تو جو ہوا وہ بہت خوفناک تھا۔ انہوں نے نوجوان لڑکیوں اور سابقہ فوجیوں کے ساتھ بہت ظلم کیا تھا۔ مگر ہم معجزاتی طور پر محفوظ رہے۔ تب تمہاری آنٹ کا یسوع پر یقین بہت پختہ ہو گیا۔ جنگ کے تین ماہ بعد ہم لوگ باہر نکل آئے۔ اب فاتحین کاجنون ختم ہو چکا تھا۔ پھر حالات سدھرنے لگے اور زندگی معمول پر آنے لگی۔ تمہاری آنٹ کا اور میرا تعلیمی سلسلہ دوبارہ شروع ہوا۔ میرے پاپا نے ایک بیکری کھول لی۔ تب تمہاری آنٹ نے ایک دن اعلان کیا کہ وہ اپنی زندگی یسوع کے نام کر دینا چاہتی ہے۔ پاپا اور ماما نے اس کی ایک نہ سنی۔ مگر چار سال بعد وہ خود ہی ایک مونسٹری میں گوشہ نشین ہوگئی۔‘‘

’’کتنی عجیب بات ہے۔ آج بھی وہ کتنی خوبصورت ہیں۔ نہ جانے کیوں انہوں نے اپنی زندگی تیاگ دی‘‘۔ اریک نے تاسف سے کہا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

’’اے نیک روح، میرے سوالوں کا سچ سچ جواب دو۔ مجھے ہمیشہ یہ لگتا ہے کہ اس بورڈ پر الگ الگ روحیں نہیں آتیں بلکہ ایک ہی روح ہوتی ہے۔۔

کیا میں صحیح سوچتا ہوں؟‘‘

بورڈ پر رکھا ڈھکن جس پر فرحان کی انگلیاں جمی تھیں، سرکنے لگا اور’’ Yes‘‘ پر آیا۔

’’ٹھیک ہے۔۔ اور تم مجھ سے اتنے سارے جھوٹ کیوں بولتی ہو اے روح؟‘‘

’’کیونکہ سچ تلخ اور ناقابل برداشت ہوتا ہے اور مستقبل کے بارے میں جھوٹ انسان کو جینے کی طاقت دے دیتا ہے۔‘‘

’’اچھا۔۔ اور۔۔ کیا تم سب کچھ جانتی ہو اے روح؟‘‘

’’اتنا ہی جتنا تم جانتے ہو۔ بس فرق یہ ہے کہ تم جانتے ہو مگر ٹھیک سے جاننا چاہتے نہیں اور میں و ہی بات کہہ دینے میں عار محسوس نہیں کرتی‘‘۔

’’تو پھر تم روح کیسے ہوئی؟ تم تو میرے ہی دماغ کا کوئی حصہ ہو!‘‘

’’تم جو سمجھو‘‘

’’تمہارا اصل نام کیا ہے اے روح؟‘‘

’’آننا!‘‘

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: